كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَعَسَى أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
Warfare has been prescribed for you, though it is repulsive to you. Yet it may be that you dislike something, which is good for you, and it may be that you love something, which is bad for you, and Allah knows and you do not know.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:216
[Pooya/Ali Commentary 2:216] Aqa Mahdi Puya says: There cannot be peace without battle against evil. Islam dislikes war, and yet without war against corruption and injustice, the by-products of aggressive infidelity, peaceful existence and freedom of worship of One God cannot be preserved. Love of peace, harmony and freedom is rooted in the hatred of injustice, hypocrisy and chaos, which should be isolated and kept at bay by those who believe in Allah and submit to Him (Hajj: 40). Please refer to the commentary of 190 to 194 of this surah, and verse 39 of al Hajj. Permission to fight has been given to put an end to persecution and mischief-making, in order to establish freedom of worship. The mission of the Holy Prophet was based upon rational doctrines to establish the (divine) rule of law for the welfare of the whole human race. To stop this universal movement, the pagans, the Jews and the Christians left no stone unturned, because they wanted to maintain the status quo of the exploitation of man by man, to serve the interests of the wicked, devilish and brutal ruling classes. But the Holy Prophet could not give up his divinely commissioned mission, so he did not. He had to take steps to liquidate kufr in order to serve the cause of truth. Before him the other messengers of Allah did the same. Even the followers of Christ and Buddha could not do without pre-emptive strike to forestall hostile actions. Of course, this may give licence to the mischief-makers to guise their personal interests in the garb of "the larger interest of the humanity"; therefore, to cancel the misuse of this principle, the Quran has prescribed certain qualifications in a person, or group of persons, who alone are entitled to resort to the right of a pre-emptive strike.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:216
حرام مہینوں میں حرمت جنگ کی خبر دیتاہے
جیسا کہ شان نزول سے ظاہر ہے یہ آیت حرام مہینوں میں جہاد کے بارے میں سوالات کا جواب ہے۔ قرآن صراحت سے حرام مہینوں میں حرمت جنگ کی خبر دیتاہے اور اسے بہت بڑا گناہ شمار کرتاہے (”قل قتال فیہ کبیر“) لیکن قرآن تاکید کرتاہے کہ وہ مسلمان دستہ جس نے اشتباہ سے حرام مہینے میں جنگ کی پر اعتراض کا حق ان مشرکین کو نہیں پہنچتا جو ایسے بڑے بڑے گناہوں سے آلودہ ہیں جیسے خدا سے کفر کرنا، راہ راست کی ہدایت سے لوگوں کو روکنا، مکہ میں ٹھہرے ہوئے اور سکونت پذیر افراد کووہاں سے نکال دینا اور خدا کے حرم امن کے احترام کو پاؤں تلے روند نا جب کہ وہاں حیوانات اور گھاس تک کو محفوظ رہنا چاہئیے۔ علاوہ ازیں مشرکین فتنہ برپا کرتے ہیں یعنی فاسد ما حول پیدا کرنے کے در پے ہیں جس میں کفر اور بت پرستی کی آمیزش ہے وہ حقیقت کے متلاشی لوگوں پر دباؤ ڈال کر انہیں دین توحید کی طرف راغب ہونے سے روکنے کا گناہ کرتے ہیں۔ ان کا یہ عمل ماہ حرام میں جنگ کرنے سے بڑھ کرہے (” و الفتنة اکبر من القتل“۔) اس کے بعد قرآن کا روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے۔ مسلمانوں کو مشرکوں کے پرا پیگنڈا سے بچانے کے لیے قرآن انہیں متنبہ کرتاہے کہ مشرک تو ہمیشہ اس کے در پے ہیں کہ اگر ہوسکے تو تمہیں دین اسلام سے پھیرلے جائیں۔ اس سلسلے میں پیشبندی کے طور پر قرآن الارم دیتاہے کہ جو مسلمان دین حق سے پھرگیا اور حالت کفر میں جامرا، کفر کے سبب اس کے تمام نیک اعمال کا اجر اس جہان میں اور اس جہان میں باطل ہوجائے گا۔ کفر ان اعمال کو ختم کردے گا اور انکی خاصیت کو بدل دے گا۔اس بناپر ایسا شخص ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عذاب الہی میں مبتلا رہے گا۔اس بناپر ایسا شخص ہمیشہ ہمیشہ کے لیے عذاب الہی میں مبتلا رہے گا۔ یہ آیت اس نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ ممکن ہے بعض مجاہدین راہ خدا میں مطلع نہ ہونے کی بناپر یا کافی احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے اشتباہات کے مرتکب ہوں۔ عبد اللہ بن جحش کا واقعہ اس کی نظریر ہے لیکن خدا ان کی بڑی خدمات اور صحیح مجاہدات کی بناء پر انہیں بخش دے گا (”و اللہ غفور رحیم“)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:216
ماہ حرام میں جنگ کرنے کے بارے میں
گذشتہ آیت انفاق اور خرچ کے بارے میں تھی اور یہ آےت خون اور جان کی قربانی پیش کرنے کے بارے میں ہے فداکاری کے میدان میں یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے دوش بدوش ہیں۔ آیت بیان کرتی ہے کہ دشمن سے جنگ کرنا تمہارے لیے حکما ضروری ہے۔ اس عمل کا بجالانا تمہارے لیے لکھ دیاگیاہے اور واجب قرار دے دیاگیاہے لیکن انسان کو فطری طور پر سختی کے مواقع پر تکلیف ہوتی ہے اور وہ شدائد اور مشکلات کو پسند نہیں کرتا۔ اس کی رغبت خوشی اور راحت و آرام کی طرف زیادہ ہوتی ہے۔ عسی ان تکرھوا شیئا و ہو خیر لکم یہ جملہ اسی انسانی مزاج کی طرف اشارہ کررہاہے۔ دشمن سے جنگ اور نبرد آزمائی کا نتیجہ موت۔ جسمانی تکلیف اور مالی نقصان ہوتاہے۔ جنگ بد امنی اور بے آرامی کا باعث بنتی ہے اس لیے اصولی طور پر انسان کی نظر میں یہ سخت اور ناپسندیدہ ہے۔ لیکن ہمیشہ کچھ ایسے فداکار ضرور ہوتے ہیں جو مقدس مقاصد کیلئے کسی قم کی جان کی بازی سے دریغ نہیں کرتے لیکن اکثر لوگ مذکورہ وجوہات کی بناپرجہاد کو پسند نہیں کرتے پروردگار عالم قطعی لب و لہجہ میں اس طرز فکر کی مذمت کرتاہے۔ خدا تعالی ان کے سامنے ایک دریچہ نہاں کھولتاہے۔ وہ کہتاہے کہ تم کاموں کے مسالح سے باخبر نہیں ہو ۔ تمہیں یہ کیسے پتہ چلا کہ تمہاری پسندیدہ چیز کی پیچھے شر اور تمہاری ناپسندیدہ چیز کے پیچھے خیر نہیں ہے۔ خداہی اسرار مخفی سے آشناہے۔ البتہ مسلم ہے کہ محنتی اور زیرک لوگ (نہ کے سطحی نظر رکھنے والے) ان احکام کے بعض اسرار سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ یہ آیت خدا کے تکوینی اور تشریعی قوانین کی ایک بنیاد کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ان قوانین کے پیش نظریہ آیت انسان میں، انضباط اور تسلیم کی روح کی پرورش کرتی ہے۔ آیت کے مطابق انہیں یہ نہیں چاہئیے کہ انسان اپنی تشخیص و دریافت کا دارو مدار قضاوت اور فیصلے پر رکھے۔ یہ مسلم ہے کہ انسان کا علم ہر لحاظ سے محدود اور ناچیز ہے۔ انسانی مجہولات کے مقابلے میں انسانی علم دریا کے سامنے قطرے کی طرح ہے۔ اس لیے وہ قوانین جن کا سرچشمہ علم الہی ہے اور جو ہر لحاظ سے لا متناہی ہے انسان کو اس سے کبھی روگردانی نہیں کرنی چاہئیے ۔ بلکہ انسان کو جان لینا چاہئیے کہ یہ تمام قوانین اس کے فائدے اور منفعت کے لیے ہیں چاہے وہ تشریعی قوانین و احکام ہوں جیسے جہاد اور زکوة و غیرہ یا تکوینی ہوں جو بلا اختیار زندگی میں رونما ہوتے ہیں اور ان سے بچنا ممکن نہیں جیسے موت ، دوستوں اور عزیزوں کی مصیبت یا آئندہ کے اسرار کا انسان سے مخفی ہونا و غیرہ ۔ ۲۱۷۔یَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ قُلْ قِتَالٌ فِیہِ کَبِیرٌ وَصَدٌّ عَنْ سَبِیلِ اللهِ وَکُفْرٌ بِہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ اٴَہْلِہِ مِنْہُ اٴَکْبَرُ عِنْدَ اللهِ وَالْفِتْنَةُ اٴَکْبَرُ مِنْ الْقَتْلِ وَلاَیَزَالُونَ یُقَاتِلُونَکُمْ حَتَّی یَرُدُّوکُمْ عَنْ دِینِکُمْ إِنْ اسْتَطَاعُوا وَمَنْ یَرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِینِہِ فَیَمُتْ وَہُوَ کَافِرٌ فَاٴُوْلَئِکَ حَبِطَتْ اٴَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَاٴُوْلَئِکَ اٴَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیہَا خَالِدُونَ ۲۱۸۔إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَالَّذِینَ ہَاجَرُوا وَجَاہَدُوا فِی سَبِیلِ اللهِ اٴُوْلَئِکَ یَرْجُونَ رَحْمَةَ اللهِ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیم ترجمہ ۲۱۷۔ ماہ حرام میں جنگ کرنے کے بارے میں تم سے سوال کیاجاتاہے۔ کہئیے کہ اس میں جنگ کرنا برا (گناہ) ہے۔ لیکن راہ خدا اور دین حق سے لوگوں کو روکنا، اللہ سے کفر اختیار کرنا، مسجد الحرام کی بے حرمتی کرنا اور اس میں رہنے والوں کو نکال دینا خدا کے نزدیک اس سے بھی بڑھ کے براہے اور فتنہ بر پا کرنا (اور ایسے نامساعد حالات پیدا کرنا جو لوگوں کو کفر کی طرف راغب کریں اور ایمان سے روکیں( قتل سے بدتر ہے مشرکین تم سے ہمیشہ لڑتے ہی رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے بس میں ہوتو تمہیں دین سے برگشتہ کردیں لیکن جو شخص دین سے پھر جائے اور حالت کفر میں مرجائے اس کے (گذشتہ) تمام نیک اعمال دنیا و آخرت میں برباد ہو جائیں گے اور یہی اہل دوزخ ہیں اور اس میں صدار ہیں گے۔ ۲۱۸۔ جو ایمان لے آئے ہیں، جنہوں نے ہجرت کی ہے اور راہ خدا میں جہاد کیاہے وہی رحمت خداوند ی کے امید وار ہیں اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔ شان نزول کہتے ہیں یہ آیت عبد اللہ بن حجش کے سریہ ۱ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے: جنگ بدر سے پہلے پیغمبر اسلام نے عبد اللہ بن جحش کو بلایا۔ اسے ایک خط دیا اور مہاجرین میں سے آٹھ آدمی اس کے ساتھ کئے۔ اُسے حکم د یا کہ دو دن راستہ چلنے کے بعد خط کو کھولنا اور اس کے مطابق عمل کرنا۔ اس نے دو دن کے سفر کے بعد خط کھولا تو اس میں لکھا تھا۔ جب خط کھولو تو نخلہ (مکہ اور طائف کے در میان ایک جگہ) تک آگے جانا۔ وہاں قریش کے حالات پر نظر رکھنا اور جو کچھ صورت حال ہو ہمیں اُس کی اطلاع دینا۔ عبد اللہ نے اپنے ساتھیوں سے واقعہ بیان کیا اور مزید کہا کہ پیغمبر نے راہ پر چلنے کے لیے تمہیں مجبور کرنے سے منع کیاہے اس لیے جو شہادت کے لیے تیارہے وہ میرے ساتھ آئے۔ دوسرے لوگ واپس چلے جائیں۔ سب اس کے ساتھ چل پڑے۔ جب وہ نخلہ پہنچے تو قریش کے ایک قافلے کا سامنا ہوا۔ اس مین عمر و بن حضرمی بھی تھا۔ ماہ رجب (جو ماہ حرام ہے) کا چونکہ آخری دن تھا اس لیے ان پر حملہ کرنے کے سلسلے میں انہوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ بعض کہنے لگے کہ اگر آج ہم ان سے دستبردار رہے تو وہ حدود حرم میں داخل ہوجائیں گے اور پھر ہم ان سے تعرض نہیں کرسکیں گے۔ بالآخر انہوں نے ان پر بڑی بہادری سے حملہ کردیا۔ عمرو بن حضرمی کو قتل کیا اور قافلہ دو قیدیوں کے ساتھ پیغمبر کی خدمت میں لے آئے۔ آنحضرت نے فرمایا میں نے تمہیں یہ حکم تو نہیں دیاتھا کہ حرام مہینوں میں جنگ کرو۔ آپ نے مال غنیمت اور قیدیوں میں کوئی تصرف نہ کیا۔ مجاہدین کو بڑا رنج ہوا۔ دیگر مسلمانوں نے بھی انہیں سرزنش کی ۔ مشرکوں نے بھی زبان طعن کھولی اور کہنے لگے کہ محمد نے حرام مہینوں میں جنگ، خون ریزی اور قید و بند کو حلال شمار کیاہے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جب یہ آیت نازل ہوچکی تو عبداللہ بن حجش اور اس کے ساتھیوں نے یہ اظہار کیا کہ انہوں نے اس راستے میں جہاد کا ثواب حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے پیغمبر سے پوچھا کہ کیا انہیں مجاہدین کا اجر ملے گا؟ اس پر دوسری آیت نازل ہوئی۔ (ان الذین اٰمنوا و الذین ہاجروا“) ۲ ۱ سریہ اسلامی جنگ کرنے والے اس گروہ کو کہتے ہیں جس میں خود پیغمبر شریک نہ ہوں۔ بعض کے نزدیک پانچ سے تین سو افراد تک کے لشکر کو سریہ کہتے ہیں۔ توجہ رہے کہ ”سریہ“ ”سری“ سے ہے جس کا معنی ہے نفیس اور گراں بہاچیز چونکہ جس لشکر کے ذمے یہ امر ہو وہ خصوصی اور منتخب ہوتاہے لہذا اسے یہ نام دیاگیاہے۔ مطرزی کہتاہے ”سریہ“ ”سری“ سے ہے اور اس کا معنی ہے رات کو چلنا۔ ایسے لشکر چونکہ عموما رات کو چلتے تھے اسے اس لیے ”سریہ“ کہتے ہیں۔ ملتقطات میں اس بات کو قبول کرتے ہوئے کہتاہے کہ ”سریہ“ اس دستے کو کہتے ہیں جو رات کے وقت روانہ ہو۔ ۲ سیرة ابن ھشام، جلد ۲، صفحہ ۲۵۲۔