يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ
They ask you as to what they should spend. Say, ‘Let whatever wealth you spend be for the parents, relatives, orphans, the needy, and the traveller.’ Allah indeed knows whatever good you do.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:215
[Pooya/Ali Commentary 2:215] Islam is the only religion which makes spending (in the way of Allah) obligatory. Every Muslim must follow the divine commandments as to how the bounties of Allah, given to him, should be shared with his less fortunate relatives and fellow-creatures. This verse tells us the order in which charity should be given. First, in the list, are the parents, then the near kindred, the orphans, the needy and the wayfarer. There is no reward if parents and the nearer kindred are overlooked in order to meet the demands of others. The needs of the parents should be cared for as a duty without the embarrassment of their having to ask for the same. The Holy Prophet advised his followers to take care of the parents, brothers and sisters, and the nearest relatives first, and then the others. It must also be noted that wars (in self-defence) require funds. To finance such wars is as important as spending for the helpless relatives, because it is in the interest of the whole community that the invaders should not be allowed to destroy the polity of the faithful. Aqa Mahdi Puya says: What should be spent in the way of Allah? Whatever good that may benefit others is the answer. As Zakat (the poor-tax) is compulsory, it cannot be made a part of "whatever good you do", which has no connection with Zakat. Also, Zakat cannot be spent on the members of the family. The word afwa in verse 219 of this surah makes it clear that only surplus should be given. The Holy Prophet has defined the surplus, and how much and to whom it should be given. In all events moderation is the guideline.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:215
بہت سی آیات راہ خدا میں خرچ کرنے
قرآن مجید میں بہت سی آیات راہ خدا میں خرچ کرنے کے بارے میں آئی ہیں پر وردگار عالم مختلف طریقوں سے مسلمانوں کو خرچ کرنے اور محتاج و بے نوا لوگوں کی مدد کرنے کا شوق دلاتاہے لیکن محل بحث آیت کی وضع کچھ اور ہی ہے۔ بعض افراد چاہتے تھے کہ انہیں معلوم ہوجائے کہ کس قسم کا مال خرچ کیاجائے۔ اللہ تعالی فرماتاہے: تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں۔ جواب میں اس سوال کی وضاحت کے علاوہ ایک اور اہم مسئلہ کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے اور وہ ہے مواقع اور اشخاص جن پر خرچ کرنا چاہئیے۔ آیت کی شان نزول سے بھی ظاہر ہوتاہے کہ دونوں مسئلے (کیا کچھ خرچ کریں اور کن کن پر خرچ کریں) محل سوال تھے۔ پہلے معاملے کے ذیل میں خرچ کرنے کے لیے ”خیر“ کا لفظ استعمال کرکے سوال کا ایک کامل ، جامع اور وسیع جواب دیاگیاہے۔ یعنی ہر قسم کا کام، سرمایہ اور موضوع جو خیر ہو اور لوگوں کے لیے سودمند ہو، خرچ کرنے کے قابل ہے۔ اس میں ہر طرح کا مادی و معنوی سرمایہ شامل ہے۔ سوال کے دوسرے رخ کے ضمن میں یعنی کن کن پر خرچ کیاجائے فرمایاگیاہے کہ سب سے پہلے نزدیکی رشتے داروں پر اور ان سے بھی پہلے ماں باپ پر خرچ کیاجائے۔ اس کے بعد یتیم، مساکین اور ابنائے سبیل (وہ مسافر جو دوران سفر میں اپنا زاد راہ خرچ کر بیٹھے ہوں) پر خرچ کیاجائے۔ واضح ہے کہ نزدیکی رشتے داروں پر خرچ کرنا دیگر آثار کے علاوہ صلہ رحمی اور رشتے ناتوں کے استحکام کا بھی باعث بنتاہے۔ ”وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَیْرٍ فَإِنَّ اللهَ بِہِ عَلِیم“ یہ جملہ تو گویا اس مطلب کی طرف اشارہ ہے کہ خرچ کرنے والے اس بات پر اصرار نہ کریں کہ لوگ ان کا کام جان لیں۔ کیاہی عمدہ ہے کہ زیادہ خلوص کی بنا پر اپنی عنایات اور عطیات کو پنہاں رکھیں کیونکہ وہ ذات جو بدلہ اور ثواب دے گی ان سب چیزوں سے آگاہ ہے۔ اسی کے ہاتھ میں جزاہے اور اسی کے پاس سب کا حساب ہے۔ ۲۱۶۔کُتِبَ عَلَیْکُمْ الْقِتَالُ وَہُوَ کُرْہٌ لَکُمْ وَعَسی اٴَنْ تَکْرَہُوا شَیْئًا وَہُوَ خَیْرٌ لَکُمْ وَعَسَی اٴَنْ تُحِبُّوا شَیْئًا وَہُوَ شَرٌّ لَکُمْ وَاللهُ یَعْلَمُ وَاٴَنْتُمْ لاَتَعْلَمُون ترجمہ ۲۱۶۔ را ہ خدا میں جہاد کرنا تم پر فرض کیاجاچکاہے جب کہ تم اس سے اکراہ کرتے ہو اور اسے ناپسند کرتے ہو جب کہ اسی میں تمہاری بھلائی ہوتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ تم جسے پسند کرتے ہو اس میں تمہاری برائی ہوتی ہے اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔