يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَن دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا وَمَن يَرْتَدِدْ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
They ask you concerning warfare in the holy month. Say, ‘It is an outrageous thing to fight in it, but to keep [people] from Allah’s way, and to be unfaithful to Him, and [to keep people from] the Holy Mosque, and to expel its people from it are more outrageous with Allah. And persecution is graver than killing. They will not cease fighting you until they turn you away from your religion, if they can. And whoever of you turns away from his religion and dies faithless—they are the ones whose works have failed in this world and the Hereafter. They shall be the inmates of the Fire, and they shall remain in it [forever].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:217
[Pooya/Ali Commentary 2:217] This verse should be read in continuation of the commentary of the above verse. Also refer to the commentary of verse 194 of this surah. For fitna see commentary of verse 190 and 191 of this surah.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:217-221
1. Crusade by participating in Holy Battles to convert infidels to Islam in company with a Prophet or Imam is commendable as death of a martyr gains him paradise and a conqueror otherwise gives him boot. Similarly, crusade with an inner enemy (passion) gives you paradises if you die in redressing yourself or makes you an exemplary character by controlling your passion in religious ordinances, as per guidance of a “secret Prophet” in your reason. This crusade being of daily requirement is more trying than a crusade in participation with Divine Light and therefore is termed Major. 2. Islam permits limits of reverence for holy months and holy places where they are exceeded and power available, they cannot be tolerated. 3. An apostate is worse than an associator, losing in worldly and eternal gains. 4. “Worldly pleasures are a cause of eternal pains.” The effect of alcohol is to benumb the senses, to impair judgment, to dethrone reason, to becloud memory, to shaken responsibility to (deceive drinkers as to) their true condition. It harms them physically, mentally, morally, spiritually, and economically. Clear instances of which are given in wine and gambling, alike of which has been common nowadays in “crossword puzzles.” This is an awful waste of time, which is itself money and a temptation whereby humans forget their other obligations. 5. Islam suggests raising status of brethren even at their cost if judicially spent e.g. “creating of trust.” 6. God prefers faithful men and faithful women to prefer the companions in marriage from faithful slaves men and women and if they cannot beget among the rich faithful. This is the value of faith before God as without faith, paradise is unlawful to anyone.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:217-218
حبط، احباط اور تکفیر
۱۔ حبط۔۔۔ کا معنی ہے عمل باطل اور بے اثر ہوجانا جیسا کہ قرآن میں آیاہے۔ ”و حبط ما صنعوا فیہا و باطل ما کانوا یعملون“ ۲۔ احباط۔۔۔ جیسا کہ متکلمین ارو علماء عقائد نے کہاہے، اس کا معنی ہے گذشتہ اعمال کا ثواب بعد کے گناہوں کی وجہ سے جاتارہنا۔ ۳۔ تکفیر۔۔۔ اس کے بارے میں بھی کہا گیاہے کہ اسکا مفہوم یہ ہے کہ گذشتہ گناہوں کی سزا نیک اعمال کے اثر سے ختم ہوجاتی ہے کیا حبط صحیح ہے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ کفر و ارتداد حبط عمل کا سبب ہیں۔ قرآن کی دیگر آیات اور محل بحث آیت بھی اس بات کی گواہ ہیں۔ لہذا اگر کوئی شخص حالت کفر میں دنیا سے چل بسے تو اس کے اعمال ختم ہوجاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کفر کا گناہ اتنا زیادہ ہے کہ گذشتہ تمام تر ثواب سے بڑھ جاتاہے۔ اسی طرح اگر ایمان گناہوں کے بعد ہو اور آخر عمر تک باقی رہے تو گذشتہ گناہوں کو ختم کردیتا ہے لیکن بحث اس بات پر ہے کہ وہ صاحب ایمان افراد جنہوں نے گناہ بھی کئے ہیں ارو حکم خدا کی اطاعت بھی کی ہے اور بغیر تو بہ کیئے دنیا سے چلے گئے ہیں ان کے برے اعمال ان کے نیک اعمال کے ثواب کو ختم کرسکتے ہیں یا نہیں۔ اس ضمن میں متکلمین اور علمائے عقائد کے در میان اختلاف ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ احباط باطل ہے۔ اپنے اس نظریے پر علماء عقلی اور نقلی دونوں قسم کی دلیلوں سے استدلال کرتے ہیں عقلی استدلال جیسا کہ خواجہ نصیر الدین طوسی نے کتاب تجرید العقائد میں کہاہے کہ احباط ظلم کی ایک قسم ہے۔ کیونکہ کسی انسان کے پاس ثواب کم ہے اور گناہ زیادہ تو احباط کے بعد اس شخص کی طرح ہوجائے گا جس نے بالکل نیک کام نہ کیاہو اور یہ اس کے لیئے ایک قسم کا ظلم شمار ہوگا۔ نقلی استدلال قرآن مجید کی بہت سی آیات نشاندہی کرتی ہیں کہ انسان اس جہان میں اپنے ہر نیک و بد عمل کا نتیجہ دیکھے گا۔ جب کہ مسئلہ احباط اس سے مختلف صورت پیش کرتاہے۔ سورہ زلزال میں آیاہے۔ ”فمن یعمل مثقال ذرة خیرا یرہ و من یعمل مثقال ذرة شرا یرہ“ سورة زلزل ”یعنی جو شخص جتنی مقدار نیکی یا بدی کی کرے گا اسے دیکھے گا“ دوسرا گروہ معتزلہ کا ہے۔ یہ لوگ احباط کے قائل ہیں۔ انہوں نے آیات قرآن سے استدلال کیاہے۔ سورہ جن کی آیت ۲۳ میں ہے۔ ”وَمَنْ یَعْصِ اللهَ وَرَسُولَہُ فَإِنَّ لَہُ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدِینَ فِیہَا اٴَبَدًا “ ”جو شخص خدا اور رسول کی نافرمانی کرے گا وہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں معذب ہوگا۔ ابو ہاشم معتزلی نے احباط و تکفیر کو ملا کر موازنہ کیاہے۔ اس کے نزدیک گناہ اور ثواب کو ملا کردیکھا جائے گا۔ زیادہ سے کم کو تفریق کرے باقی مقدار دیکھی جائے گی۔ اس سلسلے میں کچھ اور نظریات بھی ہیں جن سے یہاں بحث نہیں ہو سکتی لیکن حق وہی ہے جسے علامہ مجلسی کہتے ہیں۔ ثواب کا سقوط اس کفر کے ذریعے جو آخر عمر تک باقی رہے اور اس طرح سزا کا سقوط اس ایمان کے وسیلے سے جو موت تک ساتھ دے قابل انکار نہیں ہے۔ بہت سی احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ بہت سے ایسے گناہ ہیں جن سے بہت سی اطاعتیں جاتی رہتی ہیں اور بہت سی اطاعتیں ایسی ہیں جو بہت سی برائیوں کو تلف کردیتی ہیں اور اس سلسلے میں متواتر اخبار و احادیث ہیں ۱ توجہ رہے کہ سورہ ہود کی آیت ۱۱۴ بھی اسی مفہوم پر دلالت کرتی ہے۔ وہاں نماز کا حکم دینے کے بعد ایک قانون کلی کی طرف اشارہ کیاگیاہے کہ۔ ”ان الحسنات یذہبن السینات“ ”نیکیاں برائیوں کولے جاتی ہیں“ سورہ حجرات میں آیاہے ” و لا تجہروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم“ جیسے ایک دوسرے کو بلند آوازسے پکارتے ہو پیغمبر کو اس طرح سے آواز نہ دو ورنہ تمہارے سارے اعمال حبط ہوجائیں گے۔ (حجرات ۔۲) پیغمبر اسلام سے منقول ہے کہ آپ نے ابوذر سے فرمایا۔ ”اتقق اللہ حیث کنت و خالق الناس بخلق حسن و ذا عملت سیئة فاعمل حسنة تمحوہا“ جہاں کہیں اور جس حال میں ہو خدا سے ڈرو اور لوگوں سے اچھے اخلاق سے پیش آؤ اور جب کبھی کوئی براکام انجام دے بیٹھو تو بعد ازاں کوئی اچھا کام بجالاؤ جو اُسے محو کردے 2 نیک اعمال بر کے اعمال کے ذریعے نابود ہوجاتے ہیں۔ اس بارے میں بھی پیشوائے اسلام سے روایات پہنچی ہیں مثلا ”ایاکم و الحسد فان الحسد یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب“ 3 حسد سے ڈرو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھاجاتی ہے۔ لیکن یہ تمام گناہوں اور اطاعتوں کے بارے میں کوئی قانوں کلی نہیں صرف ان میں سے بعض سے مخصوص ہے اس طرح سے تمام آیات اور روایات کا مفہوم واضح ہوجاتاہے۔ ۲۱۹۔یَسْاٴَلُونَکَ عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ قُلْ فِیہِمَا إِثْمٌ کَبِیرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُہُمَا اٴَکْبَرُ مِنْ نَفْعِہِمَا وَیَسْاٴَلُونَکَ مَاذَا یُنفِقُونَ قُلْ الْعَفْوَ کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللهُ لَکُمْ الْآیَاتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُونَ ترجمہ ۲۱۹۔ تم سے شراب اور قماربازی کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں بہت بڑا گناہ ہے (مادی نگاہ سے) لوگوں کے لیے ان میں منافع (بھی) ہیں (لیکن) ان کا گناہ ان کے نفع سے زیادہ ہے اور تم سے سوال کرتے ہیں کہ کیا کچھ خرچ کریں۔ کہہ دو کہ تمہاری ضرورت سے جو زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے آیات کو واضح کرتاہے شاید تم فکر کرو۔ شان نزول اصحاب کا ایک گروہ پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کرنے لگا کہ شراب اور قمار کے بارے میں حکم بیان فرمایئے کیونکہ یہ عقل کو زائل اور مال کو تباہ کرنے والی چیزیں ہیں۔ اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔ ۱ بحار، جلد۵ جدید، ص۳۳۳، ۳۳۴ 2 بحار، جلد ۷۱، ص۲۴۲ 3 بحار، جلد ۷۳، ص۲۵۵
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:217-218
خمر کا معنی ہے ”ڈھکنا“
خمر کا معنی ہے ”ڈھکنا“ ۔ ہر وہ چیز جو دوسری کو چھپادے اور مخفی کرے اسے خمار کہتے ہیں۔ اصطلاح شریعت میں ہر بہنے والی مسکر (مست کرنے والی) چیز کو خمر کہتے ہیں، چاہے وہ انگور سے لی جائے یا کشمکش اور کھجور سے ۔ بلکہ ہر قسم کا الکحل مشروب اس کے مفہوم میں شامل ہے۔ البتہ لفظ خمر کا استعمال مائعات مسکر (یعنی بہنے والی نشہ آور چیزوں) پر اس کے لغوی معنی کی مناسبت سے ہوتاہے کیونکہ نشہ آور مائعات عقل پر پردہ ڈال دیتی ہیں اور اچھے برے کی تمیز ختم کردیتی ہیں۔ ”میسر“ کا مادہ ہے ”یسر“ اس کا معنی ہے سہل و آسان اور قمار بازی، بظاہر لگتاہے کہ اس کا حقیقی معنی سہل اور آسان ہے ہے اور چونکہ قمار باز شخص چاہتاہے کہ مال و ثروت آسانی سے حاصل کرلے اس بناء پر قمار کو بھی میسر کہاجاتاہے ”قل فیہما اثم کبیر و منافع للناس و اثمہما اکبر من“ خداوند کریم نے آیت کے اس حصے میں حرمت شراب کے حکم کو نرمی اور مدارات کی آمیزش سے بیان فرمایاہے خدا اپنے پیغمبر کو حکم دیتاہے کہ ان کے جواب میں کہویہ دونوں بڑے گناہ ہیں اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے منفعت بھی ہے لیکن ان کا فائدہ ان کے نقصان کی نسبت بہت ہی کم ہے اور کوئی عقلمند شخص تھوڑے سے نفع کے لیے اتنا بڑا نقصان اٹھانا گوارا نہیں کرسکتاہے۔ اثم کیاہے ”اثم“ اس حالت کو کہتے ہیں جو انسان کی عقل اور روح میں وجود پذیر ہوتی ہے اور اسے نیکیوں اور کمالات تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ اس نکتے کے پیش نظر آیت کا معنی کچھ یوں بنتاہے کہ شراب اور قمار کی بدولت انسانی جسم اور روح بہت زیادہ نقصانات اور ضرر کا سامنا کرتے ہیں۔ ان دونوں برائیوں کے نقصانات کی طرف مزید توجہ دلانے کے لیے ہم علماء نفسیات اور ڈاکٹروں کی تازہ ترین تحقیق قدرے تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔