سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَاهُم مِّنْ آيَةٍ بَيِّنَةٍ وَمَن يُبَدِّلْ نِعْمَةَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
Ask the Children of Israel how many a manifest sign We had given them. Whoever changes Allah’s blessing after it has come to him, indeed Allah is severe in retribution.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:211
[Pooya/Ali Commentary 2:211]
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:211-216
(1) When God has indicated His chosen guides as Divine Lights, sent them with miracles to justify their genuine case – for welfare of public at large and when the latter refused to admit guidance through them, they must be prepared to meet Divine Punishment. (2) The infidels, not having faith in future life, are faced with cash interest, offered to them in this world, gains of which are frail, but the patient faithful will carry the day in futurity. (3) Claiming paradise, on simple statement of being a faithful is not admissible to God who shall get it confirmed on successfully undergoing trials to which everyone shall be subject resulting in loss of life, property, children or health and demanding participation of self sacrifice in virtues, wherever the occasion arises.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:211
کفران نعمت کرتے تھے
یہ آیت بنی اسرائیل کی روش اور طور طریقوں کے بارے میں ہے کہ وہ واضح آیات اور نعمات الہی کے حصول کے بعد کیسے انہیں بدل دیتے تھے۔ کفران نعمت کرتے تھے اور نتیجے کے طور پر وہ عذاب میں گرفتار ہوگئے۔ نعمت کی تبدیلی۔۔ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے پاس موجود وسائل ، توانائیاں اور مادی و معنوی صلاحتیں تخریبی اور انحرافی راستوں، گناہ اور ظلم و ستم میں استعمال کرے۔ خداوند عالم نے بنی اسرائیل کو روحانی مربی بھی عطا فرمائے ، ان میں سے طاقتور سر براہ بنائے اور ہر قسم کے مادی و معنوی اسباب ان کے تصرف میں دیے لیکن وہ نعمت کی تبدیلی میں گرفتار ہوگئے۔ اسی سے ان کی زندگی تباہ و برباد ہوگئی اور قیامت میں بھی دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے۔ نعمت کی تبدیلی کا مسئلہ بنی اسرائیل میں منحصر نہیں ۔ اس زمانے میں بھی دنیا ئے صنعت اس عظیم بدبختی میں مبتلا ہے کیونکہ انسان کے اختیار میں اگرچہ آج بہت سی نعمتیں اور توانائیاںہیں جو تاریخ کے کسی دور میں بھی انسان کو نصیب نہیں ہوئیں لیکن انبیاء و مرسلین کی آسمانی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے وہ تبدیلی نعمت کے عمل میں گرفتار ہے اور ان ہی نعمتوں کو وحشت ناک حد تک اپنی فنا اور نابودی کی راہ میں صرف کررہاہے۔ ”سل بنی اسرآئیل“ ۔۔۔ یہ جملہ حقیقت میں اس لیے ہے کہ ان سے نعمات الہی کا اعتراف کروایا جائے اور اس کے بعد انہیں پوچھا جائے کہ ان وسائل و ذرائع کے باوجود ایسا روز سیاہ تمہیں کیوں نصیب ہوا اور کیوں آج تم دنیا میں پراگندہ و منتشر ہو۔ ۲۱۲۔ زُیِّنَ لِلَّذِینَ کَفَرُوا الْحَیَاةُ الدُّنْیَا وَیَسْخَرُونَ مِنْ الَّذِینَ آمَنُوا وَالَّذِینَ اتَّقَوْا فَوْقَہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَاللهُ یَرْزُقُ مَنْ یَشَاءُ بِغَیْرِ حِسَاب ترجمہ ۲۱۲ دنیاوی زندگی کو کافروں کے لیے مزین کیا گیا ہے (لہذا) وہ صاحب ایمان لوگوں کا (کہ جو کبھی کبھی تہی دست ہوتے ہیں) تمسخر اڑاتے ہیں حالانکہ اہل ایمان قیامت میں ان سے بالاتر ہوں گی (کیونکہ قدریں وہاں آشکار ہوں گی اور وہاں وہ اپنی اصلی صورت میں ہوں گی) اور خدا جسے چاہتاہے بغیر حساب کے روزی دیتاہے۔ شان نزول مشہور اسلامی مفسر ابن عباس کہتے ہیں کہ یہ آیت اشراف اور روسائے قریش کے ایک مختصر گروہ کے بارے میں نازل ہوئی کہ جن کی زندگی بہت شاہ خرچ اور خوشحال تھی۔ وہ صدر اول کے ثابت قدم عمار اور بلال جیسے مومنین کا تمسخر اڑاتے تھے کیونکہ وہ مادی لحاظ سے فقر اور تہی دست تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر پیغمبر کی کوئی شخصیت ہوتی اور وہ خدا کی طرف سے مبعوث ہوتے تو اشراف اور بڑے لوگ ان کی پیروی کرتے۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں ان کی بے بنیاد باتوں کا جواب دیا گیاہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:211
خدا شدید العقاب ہے۔
اس تفسیر کی بناء پر آیت میں کسی قسم کی ”تقدیر“ موجود نہیں اور آیت کے اصل الفاظ کی تفسیر یہی ہے لیکن مفسرین کی ایک جماعت نے اس استفہام انکاری کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا اور اسے گناہگاروں اور شیطانی پروگراموں کی پیروی کرنے والوں کے لیے ایک طرح کی تہدیدد قرار دیا ہے (ان کے نزدیک یہ عذاب دنیا یا عذاب آخرت کی ایک دہمکی ہے) وہ لفظ ’اللہ سے پہلے لفظ ’امر‘ کو مقدر سمجتے ہیں ۔ اس سے آیت کا مجموعی مفہوم اور معنی یہ ہوگا کیا وہ ٹیڑھے اعمال بجالا کرچاہتے ہیں کہ خدا کا حکم اور فرشتے انہیں سزا دینے اور ان پر عذاب نازل کرنے کے لیے آ پہنچیں ، وہ دنیا و آخرت کے عذاب میں گرفتار ہوجائیں اوران کے کام کا خاتمہ ہوجائے۔ جب کہ ان کے اعمال کا اس کے علاوہ اور کوئی نتیجہ بھی نہ ہوگا۔ ۲۱۱۔ سَلْ بَنِی إِسْرَائِیلَ کَمْ آتَیْنَاہُمْ مِنْ آیَةٍ بَیِّنَةٍ وَمَنْ یُبَدِّلْ نِعْمَةَ اللهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَتْہُ فَإِنَّ اللهَ شَدِیدُ الْعِقَابِ ترجمہ ۲۱۱۔ بنی اسرائیل سے پوچھ لو، ہم نے انہیں کیسی واضح نشانیاں دی تھیں (لیکن انہوں نے خدا کی عطا کر دہ مادی و معنوی نعمتوں کو غلط طور پر صر ف کیا ) اور جو شخص اللہ کی نعمت پاکر اسے تبدیل کردے (اور اسے غلط امور میں صرف کرے وہ خدا کے شدید عذاب میں گرفتار ہوگا کہ) خدا شدید العقاب ہے۔