وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ
And among the people is he who sells his soul seeking the pleasure of Allah, and Allah is most kind to [His] servants.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:207
[Pooya/Ali Commentary 2:207] Thalabi, Ghazali, the author of Ahya-ul Ulum, and all the Shia commentators say that this verse was revealed to praise Ali ibna abi Talib, when he slept in the bed of the Holy Prophet, during the night of hijrat. Immediately after the death of Abu Talib, Abu Sufyan, the chief of the branch of Umayyah, succeeded to the principality of Makka. A zealous votary of the idols, a mortal foe of the line of Hashim, he convened an assembly of the Quraysh and their allies. All tribal heads held a conference on the instigation of Abu Sufyan and Abu Jahl. It was resolved that one man from every tribe should go to the Holy Prophet's house in the darkness of the night and kill him jointly, in order to divide the guilt, and baffle the vengeance of the Bani Hashim. In the stupidity of their ignorance, they forgot that Allah is seeing, hearing, and His hand (Ali) was alive, who, from his earliest days, had committed himself to save the Holy Prophet at all costs. In the dark night, the conspirators surrounded the house of the Holy Prophet. Meanwhile, Allah commanded the Holy Prophet to leave Makka at once and go to Madina. The Holy Prophet intimated Ali of the divine plan and asked him to lie down on his bed, in order to lead the enemies into thinking that it was the Holy Prophet himself who was sleeping, thus giving him enough time to go away from Makka (unnoticed). Ali asked the Holy Prophet if his lying down in his bed would save the Holy Prophet's life, to which he answered in the affirmative. So Ali lay down on the Holy Prophet's bed, covering himself with his blanket. Ali made a willing choice of certain death, as the blood-thirsty enemies were lurking around the house to kill the Holy Prophet in his bed at any time during the night. Ali willingly agreed to die because: (1) in his opinion the life of the Holy Prophet was more valuable than his own; he was absolutely certain that it was the duty of a true believer to obtain the pleasure of Allah and His messenger, even if one's life has to be bartered; he had the peace of mind which gave him courage to sleep, while the naked swords were flashing to strike him - a singular example of willing surrender to Allah's will;
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:207
یہ آیت ہجرت کی رات حضرت علی کی شان
جیسا کہ شان نزول میں بیان ہوچکاہے یہ آیت ہجرت کی رات حضرت علی کی شان میں نازل ہوئی لیکن اس کا ایک کلی و عمومی مفہوم بھی ہے۔ یہ آیت چونکہ گذشتہ آیت ”و من الناس من یعجبک“کے مقابلے میں آئی ہے اس سے ظاہر ہوتاہے کہ اس آیت میں انسانوں کے جس گروہ کی طرف اشارہ ہے سابق گروہ کے مقابلے میں ہے اور ان کے صفات بھی ان کی صفات کے مقابل ہیں۔ وہ لوگ خود غرض، خود پسند ، ہٹ دھرم اور بغض و عناد رکھنے والے تھےاور منافقت کے ذریعے لوگوں میں اپنی عزت و آبرو بناتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو دین کا خیرخواہ اور مومن ظاہر کرتے تھے لیکن ان کا کردار اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ وہ زمین میں فساد برپا کرتے تھے اور لوگوں کو ہلاک کرتے تھے جب کہ یہ دوسرا گر وہ صرف خدا سے معاملہ کرتاہے اور اپنا سب کچھ یہاں تک کہ جان بھی خدا کے پاس بیچ دیتا ہے ۔ یہ گروہ اس کی رضا کے سوا کسی چیز کا خریدار نہیں اور خدائی طرز کے علاوہ کسی طریقے سے عزت و آبرو کے حصول کا قائل نہیں۔ انہی انسانوں کی فداکاریاں ہیں جن کی وجہ سے دین و دنیا کے امور کی اصلاح ہوتی ہے، حق و حقیقت زندہ و پائیدار ہے ،حیات انسانی خوش گوار ہے اور شجر اسلام بارآور ہے یہیں سے آیت کے صدر و ذیل کی مناسبت یعنی ”و اللہ رؤف بالعباد“ کا مفہوم آشکار ہوجاتاہے کیونکہ اس قسم کے انسانوں کا لوگوں میں وجود اپنے بندوں پر خدا کی رافت و مہربانی کا مظہر ہے اس لیے کہ اگر ایسے فداکار ، اپنی پرواہ نہ کرنے والے جانباز ان پست عناصر کے مقابلے میں نہ ہوتے تو ارکان دین اور اسلامی معاشرہ پاش پاش ہوجاتا لیکن پروردگار مہربان ہمیشہ ان فداکار اور جانثار دوستوں کے ذریعے دشمنوں کی تباہ کاریوں کا ازالہ اور تلافی کرتا ہے جیسا کہ سورہ حج کی آیہ ۴۰ میں ہے ”و لولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لہدمت صوامع و بیع و صلوات و مساجد“ اگر خدا ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے دفع نہ کرتا تو عبادت خانے، گرجے ، یہودیوں کے عبادت خانے (گھر) اور مسجدیں سب ویران ہوجاتیں۔ یہ نفع بخش معاملہ جو خدا والوں نے اپنے پروردگار کے ساتھ کیاہے ۔ قرآن کی دوسری آیات میں بھی مذکور ہے مثلا سورہ توبہ کی آیہ ۱۱۱ میں ارشاد ہوتاہے۔ ” ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم و اموالہم بان لہم الجنة یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون و یقتلون“ خدا مومنین سے ان کے نفوس اور مال خرید تا ہے تا کہ اس لے بدلے انہیں جنت دے دے، وہ راہ خدا میں جنگ کرنے ، قتل کرتے اور قتل ہوتے ہیں محل بحث آیت حضرت علی کی ایک بہت بڑی فضیلت ہے جس کا ذکر اکثر اسلامی کتب میں آیاہے ، یہ فضیلت اس قدر عظیم اور نگاہوں میں کھنے والی ہے کہ معاویہ جیسا خاندان رسالت کا سخت ترین دشمن بھی اس پر اتنا بے چین ہو کہ اس نے سمرہ بن جندب کو چار لاکھ روپے کی پیش کش کرکے کہا کہ اس آیت کو جعلی حدیث کے ذریعے عبد الرحمن ابن ملجم کی فضیلت میں بیان کرو،اس ظالم منافق نے بھی ایسا کردیا لیکن حسب توقع اس بناوٹی حدیث کو کو ایک شخص نے بھی قبول نہیں کیا۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ اس آیت میں بیچنے والا انسان ہے اور خرید نے والا خداہے ۔ مال و متاع نفس و جان ہے اور اس کی قیمت خوشنودی پروردگار ہے یہ آیت دیگر ان آیات سے مختلف ہے جن میں لوگوں کی خداسے تجارت بیان کی گئی ہے۔ وہاں قیمت بہشت اور دوزخ سے نجات ہے لیکن زیر نظر آیت میں مذکور گروہ جنت کو نظر میں لاتے ہیں نہ دوزخ سے خوف زدہ ہیں اگر چہ یہ دونوں چیزیں بڑی اہم ہیں ) بلکہ ان کی پوری توجہ پروردگار کی خوشنودی کے حصول کی طرف ہے اور یہ سب سے بلند معاملہ ہے جو انسان انجام دے سکتاہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آیت ”من تبعیضیة“ یعنی ”و من الناس“ سے شروع ہوتی ہے۰ اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ افراد ہی ہیں جو یہ فوق العادہ کام کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ جب کہ دوسری آیات جن میں جان کے معاملے کے سلسلے میں جنت کا حصول یا جہنم سے نجات کا ڈرہے او ان میں عمومیت اور ملکیت کے پہلو کو مد نظر رکھا گیاہے۔ اشتری من المؤمنین میں اسی طرف اشارہ ہے۔ ۲۰۸۔یا اٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِی السِّلْمِ کَافَّةً وَلاَتَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّیْطَانِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُبِینٌ ۲۰۹۔ فَإِنْ زَلَلْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَتْکُمْ الْبَیِّنَاتُ فَاعْلَمُوا اٴَنَّ اللهَ عَزِیزٌ حَکِیمٌ ترجمہ ۲۰۸۔ اے ایمان والو! سب کے سب صلح و آشتی میں داخل ہوجاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو کہ وہ تو تمہارا کھلا دشمن ہے۔ ۲۰۹۔ اور اگر (ان سب ) نشانیوں اور واضح پروگراموں کے بعد بھی تم سے لغزش ہوجائے (اور تم گمراہ ہوجاؤ) تو جان لوکہ (تم خدائے عدالت کے چنگل سے فرار اختیار نہیں کرسکتے کیونکہ) خدا توانا اور حکیم ہے۔