يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
O you who have faith! Enter into submission, all together, and do not follow in Satan’s steps; he is indeed your manifest enemy.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:208
[Pooya/Ali Commentary 2:208] Silm means iman, the inner core or depth of the faith. The use of this word in this verse points out that "you who believe" are those who know and believe in the religion but are unaware of the scope and extent of the depth of iman, so they are invited to surrender and submit with perfect belief and thorough conviction; then alone they will not follow the footsteps of Shaytan, who is an open enemy. As reported by Ayashi, Imam Muhammad bin Ali al Baqir had also explained this verse as above and added that it also means that all Muslims are enjoined to believe in imamat and follow its divine guidance after the risalat, which ended with the Holy Prophet. By not following the imamat of Ali, after the Holy Prophet, the Muslim ummah was easily deceived by the whims and fancies of incompetent and selfish leaders, and by not paying attention to the command of Allah to submit, as given in this verse, the ignorant Muslims were caught in the web of sects, sub-sects, and many schismatic schools of thought. The safest way to enter into submission is to follow the Holy Prophet and the holy Imams of his Ahl ul Bayt.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:208-209
عالمی و آشتی صرف ایمان کے سائے میں ممکن ہے
”سلم“ اور ”سلام“ لغت میں صلح و آشتی کے معنی میں ہے۔ یہ آیت تمام لوگوں کو امن و صلح کی دعوت دیتی ہے ۔ آیت کا روئے سخن چونکہ مومنین کی طرف ہے اس لیے اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ صلح و آسائش صرف ایمان کے سائے میں ممکن ہے۔ ایمان کے بغیر یعنی مادی قوانین کے بھر وسے پر دنیا سے جنگ و جدل اور پریشانی اور اضطراب کا ہرگز خاتمہ نہیں ہوسکتا۔ ایمان کی معنوی قوت کے ذریعے اس بات کا امکان ہے کہ انسان تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے آپس میں بھائیوں کی طرح میں بیٹھیں اور عالمی حکومت تشکیل دیں اس طرح ہر دھرتی پر صلح و آشتی کے ٹھنڈے سائے ڈالے جاسکتے ہیں۔ واضح ہے کہ مادی امور مثلا زبان، نسل و دولت، جغرافیائی حدود اور طبقہ بندی سب کی سب جدائی اور پراگندگی کے سرچشمے ہیں۔ ان کے ذریعے حقیقی عالمی امن قائم نہیں ہوسکتا کیونکہ حقیقی امن تو قلوب انسانی میں کسی محکم رشتے کا محتاج ہے اور یہ محکم رشتہ اتصال صرف خدا پر ایمان کا نام ہے ۔ یہی رشتہ تمام اختلافات سے بلند و بالا ہے۔ اسی لیے امن و صلح ایمان کے بغیر ممکن نہیں ہے جیسا کہ خود وجود انسانی میں اور اس کی روح میں اطمینان اور آسودگی ایمان کے بغیر میسر نہیں آسکتی۔ ” و لا تثبعوا خطوات الشیطان“ اسی سورہ کی آیہ ۶۷ میں اشارہ ہوچکاہے کہ کجرویاں اور شیطانی وسوسے تدریجی طور پر رونما ہوتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک قرآنی تعبیر کے مطابق شیطان کے ایک قدم کی پیروی ہے۔ یہاں بھی اسی حقیقت کا تکرار کیاگیاہے کہ انحراف حق ، دشمنی ، عداوت، نفاق، جنگ اور خوں ریزی، انسان کے مزاج میں آہستہ آہستہ داخل ہوتے ہیں ۔ صاحب ایمان افراد کو پہلے سے بیدار رہنا چاہئیے تا کہ وہ ان برائیوں کا مقابلہ کرسکیں۔ عربوں کی ایک مشہور ضر ب المثل ہے۔ ”ان بدو القتال اللطام“ ”ایک تباہ کن جنگ کی ابتدا، ایک تھپڑسے ہوتی ہے۔“ ”انہ لکم عدو مبین“ شیطان کی انسان سے دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ابتدائے آفرینش حضرت آدم علیہ السلام سے وہ انسان کی دشمنی کے لیے کمر بستہ ہے اور اس نے سوگند کھا رکھی ہے کہ وہ اس دشمنی کو اپنے حتمی نتیجے تک پہنچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوشش کرے گا لیکن جیسا کہ اپنے مقام پر ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ تضاد اور عداوت با ایمان لوگوں کو نقصان نہیں پہنچاسکتی۔ بلکہ یہ ان کے تکامل و ارتقاء کے لیے ایک رمز ہے۔ ”فان زللتم من بعد ما جائتکم البینات“ پروگرام ، راستہ اور مقصد سب واضح ہیں تو پھر لغزشوں اور شیطانی وسوسوں کی گنجائش ہونا چاہئیے لیکن اگر تم ان سب چیزوں کے با وصف راستے سے ہٹ جاؤ۔ کجروی اختیار کر لو تو مسلم ہے کہ اس میں تمہاری ہی کوتاہی ہے اور جان لو کہ خدا بھی عزیز (صاحب قدرت اور توانا) ہے اور کوئی شخص اس کی عدالت سے فرار اختیار نہیں کرسکتا اور وہ حکیم بھی ہے، خلاف عدالت کوئی حکم اور فیصلہ صادر نہیں کرتا۔ ۲۱۰۔ہَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ اٴَنْ یَاٴْتِیَہُمْ اللهُ فِی ظُلَلٍ مِنْ الْغَمَامِ وَالْمَلاَئِکَةُ وَقُضِیَ الْاٴَمْرُ وَإِلَی اللهِ تُرْجَعُ الْاٴُمُورُ ترجمہ ۲۱۰ کیا (شیطان کے پیروکار) یہ لوگ (ان تمام نشانیوں اور واضح پر وگراموں کے بعد) پھر بھی منتظر ہیں کہ خدا اور فرشتے بادل کے سائے میں ان کے پاس آئیں (اور انہیں نئے دلائل پیش کریں جب کہ یہ امر محال ہے) اور تمام چیزیں انجام پاچکی ہیں اور تمام معاملات کی بازگشت خدا کی طرف ہے۔