فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ
And when you finish your rites, then remember Allah as you would remember your fathers, or with a more ardent remembrance. Among the people there are those who say, ‘Our Lord, give us in this world,’ but for such there is no share in the Hereafter.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:200
[Pooya/Ali Commentary 2:200] Hajj is a meeting with the Lord . The ignorant Arabs used to boast about the achievements of their fathers. The father is merely a physical source, whereas the real source is Allah. The pilgrims are asked to remember and glorify only Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:200-202
حج رمز وحدت مسلمین جهان
قرآن مجید میں ۶۷ مقامات پر مادہ ”کسب“ اور اس کے مشتقات کا استعمال کیاگیاہے۔ ان کے مطالعہ سے نتیجہ نکلتاہے کہ لفظ کسب جسمانی کاموں کے علاوہ روحانی اور قلبی امور میں بھی استعمال ہوتاہے۔ سورہ بقرہ کی آیت ۲۲۵ مےں ہے: ”ولکن یؤاخذ کم بما کسبت قلوبکم“ لیکن جو تمہارے دل کسب کرتے ہیں اس پر ہم تمہارا مواخذہ کریں گے سورہ نساء کی آیہ ۱۱۱ میں ہے۔ ”وَمَنْ یَکْسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا یَکْسِبُہُ عَلَی نَفْسِہِ “ جو شخص کسب گناہ کرتاہے وہ اپنے ہی نقصان میں کسب کرتاہے اس بناء پر دعا اور خواہش بھی ایک طرح کا کسب و اکتساب ہے ۔ علاوہ ازیں حقیقی دعا صرف زبان سے نہیں بلکہ پورے وجود انسانی سے ہوتی ہے۔ زیر بحث آیت کی تفسیر میں ایک اور احتمال بھی ہے وہ یہ کہ لفظ ”اولئک “ صرف دوسرے گروہ کی طرف اشارہ ہو جو دنیا و آخرت دونوں کے در پے ہے جو مادیت و معنویت کو ایک دوسرسے ملا دیتاہے یہ ان لوگوں کا گروہ ہے جو نہ صرف مادی ہیں اور نہ صرف تارک دنیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی مساعی نتیجہ و ثمر تک پہنچتی ہیں اور وہ ان سے بہرہ ور ہوتے ہیں لیکن دوسرے لوگوں کی زحمتیں اور کوششیں رائیگاں جاتی ہیں۔ ”و اللہ سریع الحساب“ پروردگار کی جانب سے آیت کے آخری حصے میں سرعت حساب کی یاد دہانی کرائی گئی ہے۔ ایک روایت میں آیاہے کہ خدا چشم زدن میں سب کا حساب کردے گا:۔ ”ان اللہ تعالی یحاسب الخلائق کلھم فی مقدار لمح البصر“۱ یہ اس بناء پرہے کہ خداوند عالم مخلوقات کی طرح نہیں ہے۔ مخلوقات کا وجود اور ہستی چونکہ محدود ہے اس لیے جب وہ ایک معاملے میں مشغول ہوں تو دوسرے سے غافل ہوجاتی ہیں جب کہ خدا تعالی یوں نہیں ہے۔ علاوہ ازیں محاسبے کے لیے پروردگار کو کسی زمانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئیے کیونکہ ہمارے اعمال کا اثر جسم و جان ، ہمارے ارد گرد کے موجودات ، زمین اور ہوا کی موجود میں باقی ہے۔ حقیقت میں معاملہ ان خود کار مشینوں کا ساہے جن کی کارکروگی (Out put)ان کے ساتھ ساتھ گھومنے والے نمبر سے ظاہر ہوجاتی ہے۔ ۲۰۳ وَاذْکُرُوا اللهَ فِی اٴَیَّامٍ مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِی یَوْمَیْنِ فَلاَإِثْمَ عَلَیْہِ وَمَنْ تَاٴَخَّرَ فَلاَإِثْمَ عَلَیْہِ لِمَنْ اتَّقَی وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا اٴَنَّکُمْ إِلَیْہِ تُحْشَرُونَ ترجمہ ۲۰۳۔ اور خدا کو معین دنون (۱۱،۱۲ اور ۱۳ ذی الحجہ) میں یاد کرو اور جو لوگ جلدی کریں اور (ذکر خدا کو) دونوں میں انجام دیں ان پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کریں( اور تین دن انجام دیں) ان پر بھی کوئی گناہ نہیں (یہ ان کے لیے ہے) جو تقوی اختیار کریں۔ نیز خدا سے ڈرو اور جان لو کہ تم اس کی طرف محشور ہوگے۔ ۱ مجمع البیان؛ اس آیت کی ذیل میں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:200-202
ارتباط ایات
مزید فرماتا ہے کہ خدا سے طلب مغفرت کرو اور زمانہ جاہلیت کے ان افکار و خیالات سے کنارہ کشی کر لو کیونکہ حج مساوات و برابری کا درس ہے اور یاد دلاتا ہے کہ خدا غفور رحیم ہے۔ ۲۰۰۔ فَإِذَا قَضَیْتُمْ مَنَاسِکَکُمْ فَاذْکُرُوا اللهَ کَذِکْرِکُمْ آبَائَکُمْ اٴَوْ اٴَشَدَّ ذِکْرًا فَمِنْ النَّاسِ مَنْ یَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا وَمَا لَہُ فِی الآخِرَةِ مِنْ خَلاَق ۲۰۱۔وَمِنْہُمْ مَنْ یَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّار ۲۰۲۔ اٴُوْلَئِکَ لَہُمْ نَصِیبٌ مِمَّا کَسَبُوا وَاللهُ سَرِیعُ الْحِسَابِ ترجمہ ۲۰۰۔اور جب اپنے مناسک (حج) انجام دے لو تو ذکر خدا کرو جیسے(زمانہ جاہلیت میں موہوم مفاخر پر فخر و مباھات کرتے ہوئے اپنے آباء کو یاد کرتے (رہے) ہو بلکہ اس سے بڑھ کر یہاں دو طرح کے لوگ ہیں ) بعض کہتے ہیں خدایا ہمیں دینا میں بھلائی عطا کر ، ایسے لوگوں :کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ ۲۰۱۔ بعض کہتے ہیں خداوند ہمیں دینا مےں بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی اچھائی سے نواز اور ہمیں ( جہنم کی ) آگ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ ۲۰۲۔ وہ اپنی کوشش (اور دعا) کاصلہ اور حصہ پائیں گے اور خدا جلد حساب چکا دینے والا ہے۔ تفسیر امام باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ زمانہ جاہلیت میں مراسم حج کی انجام دہی کے بعد ایک اجتماع منعقد ہوا کر تا تھا اور لوگ اپنے باپ وادا کی طرف سے ملنے وا لے موہوم افتخارات خوب بیان کیا کر تے تھے ۔ قرآن متوجہ کرتا ہے کہ اعمال حج بجالا نے کے بعد خدا کو یاد کیا کرو اور اس عظیم اجتماع میں خدا اور اس کی وسیع و بے شمار نعمتوںپر گفتگو کیا کرو اور اپنے دلوں کہ اس کی جانب مائل کرو اور اس یاد خدا میں اتناتو شوق و شغف اور سوز و گداز ہو جتنا زمانہ جاہلیت میں اپنے اباء و اجداد کے فخر و مباہات کے ضمن میں ہو تا تھا بلکہ خدائے بزرگ و برتر کی بار ے میں تو زیادہ جوش و خروش اور گہرائی ہو ناچاہئیے۔ فا ذکروا اللہ کذ کرکم ابآئ کم او اشد ذکرا ضمنی طور پر اس آیت سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ بزرگی اورعظمت خدا سے مربوط رہنے میں ہے نہ کہ اپنے آباء و اجداد کے موہوم مفاخر و مباہات سے وابستگی ہیں۔ فمن الناس من یقول اس کی بعد قرآن دو گروہوں کی کیفیت کو واضح کرتا ہے اور ان کے افکار و فہم کا تذکرہ کرتا ہے ۔ ان میں سے ایک گروہ وہ ہے جو مادی منافع کے سوا کچھ نہیں دیکھتا اور ان کے علاوہ خدا سے کسی چیز کی درخواست نہیں کرتا اور وہ کہتا ہے ربنا اتنا فی الدنیا حسنة ( خدا ہمیں دنیا کی نعمتیں بخش دے۔) ایسے لوگوں کی معنویت و روحانیت میں کوئی حصہ نہیںاور آخرت میں ان کے نصیب میں کچھ نہیں ۔ یہ لوگ اس ابدی و باقی اور ہمیشہ رہنے والے جہاں سے بے بہرہ ہیں ۔ جہاں انسان کو ہر چیز کی ضرورت ہوگی۔ دو سرے گروہ میں وہ لوگ ہیں جن کے افکار و نظریات فقط مادی زندگی تک محدود نہیں بلکہ وہ حیات دنیا کو بھی معنوی تکامل و ارتقا کے لیے مقدمہ سمجھتے ہیں اور آخرت کے گھر کی سعادت کے بھی طلب گار ہیں ۔ یہ آیت در حقیقت اسلامی منطق کو مادی اور معنوی مسائل میںمشخص کر تی ہے اور جولوگ صرف مادیات میں ڈو بے ہو ئے ہیں انہیں ان لوگوں کی طرح مذموم قرار دیتی ہے جو دنیاوی زندگی پر کوئی نظر نہیں رکھتے نیز یہ آیت انسانوں کی اس جہان ہیں دردناک عذاب سے نجات بھی چاہتی ہے۔ و قنا عذاب النار حسنہ کا معنی ہے نیکی ۔ اس کا ایک وسیع مفہوم ہے ۔ اس میں تمام مادی و معنوی نعمتیں شامل ہیں ۔ لیکن بعض احادیث میں حسنہ کے مفہوم کے بارے میں پیغمبر اسلام ﷺسے منقول ہے۔ و من اوتی قلبا شاکرا و لسانا ذاکرا و زوجة مومنة تعینة علی امر دنیا و اخرة فقد اوتی فی الدنیا حسنة و فی الاخرة حسنة و وقی عذاب النار ۔۱۔ جسے خدا شکر گزار دل دے ،یاد حق میں مشغول زبان بخشے اور صاحب ایمان بیوی عطا کرے جو امور دنیا و آخرت میں اس کی مدد گار ہو اسے دنیاو آخرت کی نیکی بخشی ہے اور آتش جہنم کے عذاب سے بچایا ہے۔ واضح ہے کہ اس حدیث میں عام مفہوم کے بعض خاص امور کے حوالے سے تفسیر کی گئی ہے اور ا س میں بعض واضح کی نشاند ہی کی گئی ہے نہ کہ منحصرا اس کا بس یہی مفہوم ہے۔ اولئک لہم نصیب مما کسبوا و اللہ سریع الحساب گذشتہ بحث کے بعد اس آیت میں ہے کہ دو نوں گروہ اپنی کاوشوں کے نتیجے سے بہرہ ور ہوتی ہیں، وہ بھی جو خدا سے صرف دنیا چاہتے ہیں اور وہ بھی جو دنیا و آخرت کے خواستگار ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی محروم نہیں ہوتا البتہ ہر ایک کا صلہ اس کی خواہش تک محدود ہے۔ حقیت میں یہ آیات سورہ اسراء کی آیات ۱۸ اور ۲۰ کی طرح ہیں جن میں فرمایا گیا ہے : جو شخص دنیا کا طالب ہے جتنی مقدار ہم چاہتے ہیں اسے دے دیتے ہیں اور جو آخرت کو چاہتا ہے اور اس کے لیے کوشش کرتا ہے جبکہ ایمان بھی رکھتا ہے تو اس کی سعی نتیجہ بخش ہوگی اور ہر گروہ کو تیرے پروردگار کی عطا و بخشش پہنچ کے رہیگی خلاصہ یہ کہ انسان وہ کچھ چا ہے گا۔ جو نکتہ یہاں باقی رہا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس آیت میں دعا کو کسب سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا دعا کو کسب و اکتساب کہا جا سکتا ہے؟ ۱۔مجمع البیان : آیت مذکورہ کے ذیل ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:200-202
درس یگانگی و اتحاد
ثم افیضوا من حیث الفاض الناس رب جلیل نے اس آیت میں ایک امتیاز اور خصوصت پر خط لبطلان کھینچا ہے جس کے قریش مکہ اپنے بارے میں قائل تھے قریش اپنے تئیں حمس ۔۱ (بروزن خمس ) کہتے تھے اور وہ اپنے آپ کو اولاد ابراہیم اور سرپرست کعبہ قرار دیتے تھے۔ وہ کسی عرب کو اپنے برابر نہ سمجھتے تھے وہ کہتے تھے حریم مکہ سے با ہر رہنے والوں کے برابر نہیں کرنا چاہئیے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم ایسا کریں گے تو عرب ہماری قدر و قیمت کی قائل نہیں ہوں گے۔ اسی بناء پر انہوں نے عرفات میں ٹھہر نے کو ترک کردیا تھا کیونکہ وہ محیط حرم سے با ہر تھا حالانکہ انہیں معلوم تھا کہ یہ فرائض حج اور دین ابراہیم کا جزو ہے۔۲۔ مندرجہ بالا آیت میں قرآن حکم دیتا ہے کہ مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ سب ایک ہی جگہ عرفات میں وقوف کریں اور وہاں سے سب کے سب مشعر کی طرف آجائیں اور پھر وہاں سے سرزمین منی کی طرف کوچ کریں ۔ و استغفروا اللہ ۱۔ حمس کا معنی ہے وہ افراد جو اپنے دین میں مستحکم ہوں۔ ۲۔ سیرت ابن ہشام ج ۱ ص ۲۱۱، ۲۱۲
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:200-202
مشعر الحرام
مشعر الحرام۔۔۔۔۔۔ کے نام بارے میں بھی کہا گیا ہے کہ وہ جگہ شعائر حج کا مر کز ہے اور ان عظیم و پر شکوہ آسمانی مراسم کی نشانی ہے۔ لیکن یہ نہیں بھو لنا چاہئیے کہ مشعر شعور کی مادہ سے ہے۔ اس تاریخی رات( دس ذی الحجہ کی رات) جب زائرین خانہ خدا اور عرفات میں اپنا تربیتی پرواگرام مکمل کر نے کے بعد ادھر کوچ کرتے ہیں ۔ رات ڈھلے سے صبح تک نرم پتھروں پر تاروں بھرے آسمان تلے ، ایک ایسی سرزمین پر جو محشر کبری کا نمونہ اور قیامت عظمی کا ایک مظہر ہوتی ہے۔ لوگ ہر طرف یوں پھیلے ہو تے ہیں جیسے ٹھا ٹھیں مار نے والے سمندر کی طوفانی موجیں ہوں ۔ صبح تک لوگوں کی آوازیں اس سرزمین پرسنائی دیتی رہتی ہیں۔ جی ہاں آلائشوں سے پاک اس پاکیزہ اور ہلا دینے والے ما حول میں ، احرام کے معصومانہ لباس میں ، نرم کنکر یو ں پر بیٹھا انسان اپنے اند یوں محسوس کر تا ہے جیسے فکر و شعور کے تازہ چشمے ابل رہے ہوں اور ان کا پانی دل کی گہرائیوں میں گرر ہا ہو اور وہ اپنے اندر سے ان جھرنوں کی آواز صاف طور پر سن رہا ہو۔ ہاں اسی جگہ کو مشعر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔