يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَن تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِن ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
They question you concerning the new moons. Say, ‘They are timekeeping signs for the people and [for the sake of] hajj.’ It is not piety that you enter houses from their rear; rather, piety is [personified by] one who is Godwary, and enter houses from their doors and be wary of Allah, so that you may be felicitous.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:189
[Pooya/Ali Commentary 2:189] Aqa Mahdi Puya says: Swallowing up other people's rights and usurping unjustly the possessions of others have been declared unlawful (also see Nisa: 29). In Islam religious duties and other prescribed actions like fasts, festivals and pilgrimage, are carried out according to the lunar calculation. The reasons are given below: (1) Even an illiterate person can determine the day of the month and the month of the year according to the different shapes and forms of the moon, which cannot be calculated from the sun. (2) Man can experience the joy and satisfaction of fulfilment in every type of season, which is not possible if solar calendar is followed. (3) Acts of worship do not become seasonal rituals. (4) The lunar year is shorter than the solar year. So the devotee gets more opportunities, in his lifetime, to turn to Allah, and obtain more benefits. The inclination of some to adopt the solar calendar, with reference to acts of worship, under the influence of Christian propaganda, should be discouraged, because it was Paul, who, in order to please the pagan Romans, introduced the solar calendar. On account of superstitious customs before Islam, the Arabs, after putting the 'Ihram' did not enter their houses through the regular doors, but made new back entrances to get into their abodes. This verse put an end to this false belief. The true interpretation of this verse is that every occasion has its own door of approach. Every arena, physical, intellectual, or spiritual, has its natural point of entry. The intelligent man recognises the right door, unsuperstitiously, and in order to enter depends on knowledge. Entering from behind is a figurative expression for rejecting the right course, and entering through the (regular) door means following the right path. The house is the "house of guidance". Righteousness is this that one should approach the "house of guidance" through its door, the right path. "I am the city of knowledge and Ali is its gate", said the Holy Prophet. To know the true guidance one has to turn to Ali as the Shia school (Islam original) rightly does. The Mutazali sect of Sunni school and the sufis also follow the teachings of Imam Ali ibna abi Talib.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:189-196
Pilgrimage consists of “Umrah and Hajj,” when a pilgrim after putting pilgrim garments at mikat is forbidden from certain lawful functions, enters the Holy Sanctuary for perambulation and prayers and walking up and down between Safa and Marwa. He then removes pilgrim garment. on the seventh Dhil Hajj goes to Arafat, spending the ninth until evening, leaves for Mashar, spending the night there and arrives Mina on the tenth morning, sacrifices a goat and throws pebbles for three successive times at Jumrah, goes to Ka‘ba during intervals repeating perambulation with prayer, walking up and down, comes to Mina when 12th and 13th pilgrimage ceremony is finished. After perambulation of legalizing intercourse and parting perambulation with prayer, he goes either to Medina, if he has not gone before or pilgrimage to visit Divine Lights and returns home, invites relation at entertainment in due recognition of Divine Gift.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:189
طبیعی اور فطری میزان اور پیمانے
قوانین اسلام کی ایک خصوصیت اور امتیاز یہ ہے کہ انہیں عموما طبیعی اور فطری میزان کے مطابق قرار دیا گیا ہے کیونکہ طبیعی مقیاس ایک ایسا ذریعہ ہے جو سب لوگوں کے ہا تھ میں دیا گیا ہے اور رفتار زمانہ اس پر اثر انداز نہیں ہو تی جب کہ اس کے برعکس غیر طبیعی نظام ہا ئے مقیاس، سب لوگوں کے اختیار میں نہیں ہیں یہاں تک کہ دور حاضر میں بھی تمام لوگ مصنوعی مقیاسوں سے استفادہ نہیں کر پا تے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیںکہ اسلام کبھی بالشت کو اور کبھی قدم کو، کبھی انگلی کی گر ہوں کو اور کبھی انسان کے طول قامت کو پیمانہ قرار دیتا ہے ۔ اس طرح وقت کے تعین کے لیے غروب آفتاب ، طلوع فجر ، سورج کے نصف النہار سے گذر جا نے اور چاند دیکھ لینے کو مختلف مواقع پر میزان قرار دیتا ہے۔ لیس البربان تاتوا البیوت من ظہور ہا یعنی گھر کی پشت سے گھر میں داخل ہونا کوئی اچھی بات نہیں ہے ۔ یہاں حج کے متعلق گفتگو جاری ہے اوربتا یا گیا ہے کہ حج کے اوقاف کو چاند کے ذریعے معین کیا جا سکتا ہے۔ اب خداوند عالم نے حج کے موقع پر زمانہ جاہلیت کی ایک رسم کی طرف توجہ دلا تے ہو ئے اس سے منع فرمایا ہے ۔ وہ لوگ جب احرام باند ھ لیتے تو عام راستے اور گھر کی ڈیوڑھی سے گھر میں داخل نہیں ہو تے تھے ۔ ان کا عقیدہ تھا کہ احرام باند ھے ہو ئے شخص کو گھر کے دروازہ ے سے داخل نہیں ہو نا چا ہیئے ۔ اس بنا ء پر وہ گھر کی پچھلی طرف نقب لگا تے اور احرام کی حالت میں صرف و ہیں سے داخل ہو تے ۔ وہ اس عمل کو کار نیک سمجھ کر انجام دیتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک یہ عمل ایک طرح سے ایک عادت ترک کرنے کا اظہار تھا ۔ احرام چونکہ عادات ترک کر نے کانام ہے لہذا وہ خیال کرتے تھے کہ اس کی تکمیل اس عادت کے ترک کر نے سے ہونا چاہئیے ۔۱۔ لیکن قرآن صراحت سے کہتا ہے کہ نیکی تقوی میں ہے نہ کہ ایسی بے ہودہ عادات و رسوم میں اور پھر بلافاصلہ حکم دیتا ہے کہ گھروں میں عمومی راستے ہی سے داخل ہوا کرو۔ البتہ آیت کا ایک وسیع تراور زیادہ عام معنی بھی ہے اور وہ یہ جب کسی بھی کام کے لئے ابتداء کی جائے چاہے وہ مذہبی اعمال میں سے ہویا ان کے علاوہ چا ہیئے کہ اس کے صحیح راستے سے اس میں داخل ہوا جا ئے نہ کہ انحرافی ، الٹے اور غیر عادی طریقوں سے یہی مفہوم جابر نے امام باقر کے ارشاد سے نقل کیا ہے ۲ تفاسیر اہل بیت میں اس آیت کے بار ے میں ہے : ہم ابواب خداوندی اور اس تک پہنچے کا راستہ اور جنت الہی کی طرف بلا نے والے ہیں۔۳۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے تمام مذہبی امور میں اس کے اصلی راستے سے داخل ہو نا چاہئیے اور نظام حیات اہل بیت سے حاصل کرنا چاہئیے کیونکہ وحی انہی کے گھر میں اتری ہے اور وہ مکتب وحی الہی کے تربیت یافتہ ہیں۔ لیس البر بان یہ جملہ ہو سکتا ہے ایک اور لطیف نکتے کی طرف بھی اشارہ ہو وہ یہ کہ معارف دینی کے متعلق سوال کرنے کے بجا ئے مہینے کے چاند کے بار ے میں تمہارا سوال کرنا ایسا ہے گویا کوئی شخص گھر کے اصلی دروازہ ے کو چھوڑ کر اس کی پشت پر نقب زنی کر کے اس میں داخل ہو جو کتنا برا کام ہے۔ ۱۹۰۔ وَقَاتِلُوا فِی سَبِیلِ اللهِ الَّذِینَ یُقَاتِلُونَکُمْ وَلاَتَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لاَیُحِبُّ الْمُعْتَدِینَ ترجمہ: ۱۹۰۔ اور راہ خدا میں تم ان لوگوں سے قتال کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو کیونکہ خدا تجاوز کر نے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔ شان نزول: ابن عباس سے منقول ہے کہ یہ آیت صلح حدیبیہ کے موقع پرنازل ہوئی۔ واقعہ یوں ہے کہ رسول خدا اپنی ۱۴۰۰ اصحاب کے ساتھ عمرہ کے لیے تیار ہو ئے ۔ جب سرزمین حدیبیہ پر (جو مکہ کے قریب ایک جگہ ہے)پہنچے تو مشرکین نے انہیں مکہ میں داخل ہو نے اور مناسک عمرہ بجالا نے سے روکا۔ طویل سلسلہ گفتگو کے بعد انہوں نے پیغمبر اکرم سے صلح کر لی اور طے یہ پایا کہ رسول اللہ ﷺا گلے برس عمرہ اداکر نے آئیں اور وہ ان کے لیے تیں دن تک مکہ خالی کردیں گے تا کہ آپ خانہ کعبہ کا طواف کرسکیں اگلے سال جب آپ مکہ کی طرف جانے کہ لئے آمادہ ہو ئے تو ڈر تھا کہ شاید مشرکین وعدہ وفا نہ کریں اور رکاوٹ پیدا کریں ۔ یوں جنگ شروع ہو جانے کا امکان تھا ۔ اور آپ ماہ حرام میں جنگ کرنے پر خوش نہ تھے۔ اس موقع پر یہ آیہ نازل ہوئی او رحکم دیا گیا کہ اگر دشمن جنگ شروع کرد ے تو تم بھی اس کے مقابلے میں کھڑے ہو جاوٴ۔ تفسیر: اس آیت میں قرآن نے ان لوگوں سے قتال کا حکم صادر فرمایا ہے جو آغاز جنگ کریں اور مسلمانوں کے سامنے تلوار نکال لیں۔ قرآن نے اجازت دی ہے کہ دشمن کو خاموش کر نے کے لیے ہتھیارپر ہا تھ رکھا جا ئے اور ہر قسم کے دفاعی ذرائع سے استفادہ کیا جا ئے اور حقیقت میں اب مسلمانوں کے صبر و تحمل کا زمانہ ختم ہو گیا ہے ۔ اوراب وہ صراحت اور جانبازی سے اپنے حقوق کا دفاع کر سکتے ہیں - ۱ تفسیر بیضاوی ۲ مجمع البیان ۳۔ مجمع البیان