وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ
When My servants ask you about Me, [tell them that] I am indeed nearmost. I answer the supplicant’s call when he calls Me. So let them respond to Me, and let them have faith in Me, so that they may fare rightly.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:186
[Pooya/Ali Commentary 2:186] Allah is very near, nearer than the jugular vein. Awareness of this fact serves two purposes-it stops man from drifting towards evil, and secondly it gives him heart and confidence to rely upon Allah alone, independent of all created beings, making him understand the ever-living reality of Allah who alone controls the whole universe and that which takes place in it. He answers the prayer of every sincere supplicant when he calls on Him. Allah hears every cry of help and gives to His devotee that which is best in his interest, known to His infinite wisdom alone. Acceptance of prayer does not mean immediate fulfilment of whatever is sought. "So they should answer My call" means man should carry out Allah's will expressed through His commandments to regulate and discipline the life of this world. "And believe in Me" means awareness of the ever-living presence of the almighty and all-knowing Lord creator, equal to or like unto whom is no one. To get that which is desired man has to make efforts and employ all the means at his disposal, arranged and provided by Allah, and then invoke Him to let the labour bear fruit. To use the available means properly, to apply the native faculties, and to pay close attention he needs guidance for which he invokes the highest authorities from whom nothing is hidden and for whom nothing is impossible. Through prayers guidance is received as to how the efforts should be made to fulfil the desires. The merciful Lord who is also all-wise knows what is profitable (An-am: 41). Sometimes Allah puts His devoted servants to test and trial (Baqarah: 155). In this sense man's efforts and his prayers are inseparable. Aqa Mahdi Puya says: The act of invocation has been recommended by Allah Himself, because it helps to make the efforts of man fruitful. This passage dismisses the fatalist view that man's destiny is predetermined, regardless of his actions; this verse not only recommends prayer but also promises a response, showing that prayer which is a human action, has its effect on determining the destiny. The prayer to which response is promised should be a sincere cry from the depth of the heart. If there is predestination as the fatalists say, then this verse and verse 5 of Al Fatihah become meaningless. Please refer to the commentary of al Fatihah: 5. Imam Ali ibna abi Talib says: Put faith in Allah. Seek His protection. Direct your prayers, requests, solicitations and supplications to Him and Him alone. To give as well as to withhold lies in His (only in His) power. Ask as much of His favours as you can. Know that Allah owns the treasures of the heavens and the earth. Not only He has given permission to ask for His mercy and favours, but also has promised to listen to your prayers. He has not appointed guards to prevent your prayers reaching Him. Invoke His help in difficulties and distress. Implore Him to grant you long life and sound health. Pray to Him for prosperity. Think over it that by simply granting you the privilege of praying for His favours and mercy, He has handed over the keys of His treasures to you. Whenever you are in need, pray, and He gives His favours and blessings. Sometimes you find requests are not immediately granted. Do not be disappointed. Fulfilment of desires rests with the true purpose or intention of the pray-er. More often fulfilment is delayed because the merciful Lord wants to bestow upon you suitable rewards. In the meantime bear patiently hardships, believing sincerely in His help. You will get better favours, because, unknowingly, you may ask for things which are really harmful to you. Many of your requests, if granted, may bring eternal damnation. So, at times, withholding fulfilment is a blessing in disguise.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:186
دعا او ر تضرع و زاری
خدا کے ساتھ بندوں کے ارتباط کا ایک وسیلہ دعا اور تضرع و زاری ہے لہذا گذشتہ آیات میں چند اہم اسلامی احکام بیان کر نے کے بعد زیر بحث آ یت میں اس کے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ دعا خدا سے مناجات کر نے وا لے سب لوگوں کے لئے اپنے اندر ایک عمومی پردگرام لئے ہو ئے ہے لیکن روزے سے آیات کے در میان اس کا ذکر اسے ایک نیا مفہوم عطا کر تا ہے۔ روزہ داروں کی ذمہ داریاں بیان کر نے سے قبل اس آیت کے ذریعے قرآ ن روزے کے ایک اور راز کی طرف اشارہ کرتا ہے جو و ہی قرب الہی ہے اور اس سے راز و نیاز کرناہے ۔ اس آیت کار و ئے سخن پیغمبر کی طرف ہے فرمایا: جس وقت میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو کہد و کہ میں نزدیک ہوں (وَإِذَا سَاٴَلَکَ عِبَادِی عَنِّی فَإِنِّی قَرِیب ) ۔ اس سے زیادہ قریب کہ جس کا تم تصور کر سکتے ہو، تم سے تمہاری نسبت بھی زیاد ہ نزدیک اور تمہاری رگ حیات سے بھی زیادہ قریب (وَنَحْنُ اٴَقْرَبُ إِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِید(ِ اور ہم انسان سے اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ (قٓ۔۱۶)اس کے بعد مزید فرمایا: جب دعا کر نے والا مجھے پکار تا ہے تو میں اس کا جوا ب دیتا ہوں( اجیب دعوة الداع اذا دعان )۔ اس لئے میرے بندوں کو چاہیئے کہ وہ میری دعوت قبول کریں (فلیستجیبوالی) اور مجھ پر ایمان لے آئیں (وَلْیُؤْمِنُوا بِی) ۔ ہو سکتا ہے وہ اپنی راہ پالیں اور مقصد تک جا پہنچیں ( لعلہم یرشدون)۔یہ امر قابل توجہ ہے کہ خدا نے اس مختصر سی آیت میں سات مرتبہ ذات پاک کی طرف اور سات، ہی مرتبہ بندوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس طرح اللہ نے بندوں سے اپنی انتہائی وابستگی، قربت، ارتباط اور ان سے اپنی محبت کی عکاسی کی ہے عبداللہ بن سنان کہتا ہے میں نے امام صادق (ع )سے سنا آپ نے فرمایا: دعا کیا کرو کیو نکہ دہ خدا کی بخشش کی چابی ہے ۔ اور ہر حاجت تک پہنچنے کے لیے وسیلہ کی قوت ہے سب نعمتیں اور رحمتیں پروردگار کے پاس ہیں جن تک دعا کے بغیر نہیں پہنچا جا سکتا۔ کسی در وازے کو کھٹکھٹا تے ہو تو بالآخرہ کھل جا ئے گا۔۱ جی ہاں۔۔۔۔وہ ہم سے نزدیک ہے ۔ کیسے ممکن ہے کہ وہ ہم سے دور ہو حالا نکہ اس کا مقام ہمارے اور ہمارے دل کے در میان ہے۔ و اعملوا ان اللہ یحول بین المرء و قلبہ او ر جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے در میان حائل ہوتا ہے۔ (انفال۔۲۴) ۱ اصول کافی ، ج۲، ۴۶۸
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:186
نتیجه
مندرجہ بالا پانچو ں شرائط یہ واضح کردیتی ہیں کہ نہ صرف یہ کہ طبیعی علل واسباب کی بجائے دعا نہیں ہو تی بلکہ قبولیت دعا کے لئے دعا کرنے والے کی زندگی میں ایک مکمل تبدیلی بھی ضروری ہے ۔اس کی فکر کو نئے سانچے میں ڈاھلنا چاہیئے اور اسے اپنے گذشتہ اعمال میں تجدید نظر کرنا چاہیئے ۔ ان سب کی روشنی میں کیا دعا کو اعصاب کمزور کرنے والی اور کا ہلی کا سبب قرار دینا بے خبری نہیں اور کیا یہ بعض مخصوص مقاصد کو بروئے کارلا نے کی دلیل نہیں۔ ۸۷ ۱۔اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ إِلَی نِسَائِکُمْ ہُنَّ لِبَاسٌ لَکُمْ وَاٴَنْتُمْ لِبَاسٌ لَہُنَّ عَلِمَ اللهُ اٴَنَّکُمْ کُنتُمْ تَخْتَانُونَ اٴَنفُسَکُمْ فَتَابَ عَلَیْکُمْ وَعَفَا عَنْکُمْ فَالآنَ بَاشِرُوہُنَّ وَابْتَغُوا مَا کَتَبَ اللهُ لَکُمْ وَکُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمْ الْخَیْطُ الْاٴَبْیَضُ مِنْ الْخَیْطِ الْاٴَسْوَدِ مِنْ الْفَجْرِ ثُمَّ اٴَتِمُّوا الصِّیَامَ إِلَی اللَّیْلِ وَلاَتُبَاشِرُوہُنَّ وَاٴَنْتُمْ عَاکِفُونَ فِی الْمَسَاجِدِ تِلْکَ حُدُودُ اللهِ فَلاَتَقْرَبُوہَا کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللهُ آیَاتِہِ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَّقُونَ ترجمہ ۱۸۷۔ تمہارے لئے روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا حلا ل کردیا گیاہے ۔ وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو (دونوں ایک دوسرے کی زینت اور ایک دوسرے کی حفاظت کا باعث ہو ) خدا کے علم میں تھا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کرتے تھے ( اور اس ممنوع کام کو تم میں سے انجام دیتے تھے) پس خدا نے تمہاری توبہ قبول کرلی اور تمہیں بخش دیا ۔ اب ان سے ہمبستری کرو اور تمہارے لئے جو کچھ مقرر کیا گیا ہے اسے طلب کرو او ر کھا ؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے نمایان ہو جائے اس کے بعد روزے کورات تک مکمل کرو اور جب تم مساجد میں اعتکاف کے لئے بیٹھو توان سے مباشرت نہ کرو ۔ یہ حدود الہی ہیں ان کے نزدیک نہ جا نا خدا اس طرح اپنی آیات کو لوگو ں کے لئے و اضح کرتا ہے ہو سکتاہے کہ وہ پرہیزگار ہو جائیں۔ شان نزول روایات اسلامی سے پتہ چلتا ہے کہ جب شروع میں روزے کا حکم نازل ہو اتو مسلمان صرف یہ حق رکھتے تھے کہ رات کو سونے سے پہلے کھانا کھا لیں چنانچہ اگر کوئی شخص کھانا کھائے بغیر سوجا تا اور پھر بیدار ہو تا اس کے لئے کھانا پینا حرام تھا ۔ان دنو ں ماہ رمضان کی راتوں میں ان کے لئے اپنی بیو یوں سے ہم بستری کرنا مطلقا حرام تھا ۔ اصحاب پیغمبر میں سے ایک شخص جس کا نام مطعم بن جبیر تھا ایک کمزور انسان تھا ۔ ایک مرتبہ افطار کے وقت گھر گیا ۔ اس کی بیوی اس کے افطار کے لئے کھانا لینے لگی تو تھکان کی وجہ سے وہ سو گیا ۔ جب بیدار ہوا تو کہنے لگا اب افطار کرنے کا مجھے کوئی حق نہیں ۔وہ اسی حالت میں رات کو سوگیا ۔ صبح کو روزے کی حالت میں اطراف مدینہ خندق کھودنے کے لئے (جنگ احزاب کے میدان میں ) حاضر ہو گیا ۔ کام کے دوران میں کمزوری اور بھوک کی وجہ سے بے ہوش ہو گیا ۔ پیغمبر اکرم اس کے سرہا نے تشریف لائے اور اس کی حالت دیکھ متاثر ہو ئے ۔ نیز بعض جوان مسلمان جواپنے آپ پر ضبط نہیںکرسکتے تھے ماہ رمضان کی راتو ں کو اپنی بیو یو ں سے ہم بستری کر لیتے تھے ۔ ان حالات میں یہ آیت نازل ہو ئی اور مسلمانوں کو اجازت دے دی گئی کہ رات بھر کھانا بھی کھا سکتے ہیں اور اپنی بیو یوں سے ہم بستری بھی کرسکتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:186
دعا کا حقیقی مفہوم
ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ دعا کا مقام وہ ہے جہاں قدرت و طاقت جواب دے جائے نہ وہ کہ جہاں طاقت و توانائی کی رسائی ہو۔ دو سر ے لفظوں میں اجابت و قبولیت کے قابل وہ دعا ہے اٴَمَّنْ یُجِیبُ الْمُضطَرَّ إِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوءَ (نمل۔۶۲)اس آیت کامفہوم یہ ہے: کون ہے جو کسی مصیبت زدہ اور بے قرار کی دعا سنتاہے اور اس کی فریاد رسی کرکے اسے مصیبت سے نجات دلاتاہے: مترجم) کے مطابق اضطرار اور تمام کوششوں اور مساعی کے بے کار ہو جا نے پر ہو۔ اس سے واضح ہوا کہ دعا ان اسباب و عوامل کی فراہمی کے لئے کی جاقی ہے جو انسانی بساط سے با ہر ہوں اور ان کا تقاضا اس کی بارگاہ میں کیا جا تا ہے جس کی قدرت لا متناہی ہے اور جس کے لئے ہر فعل ممکن، آسان ہے۔ لیکن چاہیئے کہ یہ درخواست فقط انسان کی زبان سے نہ نکلے بلکہ اس کے تمام وجود سے نکلے اور زبان اس سلسلے میں تمام ذرات ہستی اور اعضا و جوارح کی نمائند گی کرے اور قلب و روح دعا کے ذریعے اس سے قریبی تعلقات پیدا کر لے ۔ اس قطر ے کی طرح جو بے کنار سمند رسے مل جاتا ہے قدرت اس عظیم مبدا کے ساتھ اتصال معنوی حاصل کرلے۔ ہم جلد ہی اس ارتباط اور تعلق کے روحانی اثرات پر بحث کریں گے۔ البتہ متوجہ رہنا چا ہیئے کہ دعا کی ایک قسم وہ بھی ہے جو قدرت و توانائی کے ہو تے ہوئے انجام پاتی ہے تا ہم وہ دعا بھی اسباب ممکنہ کی قائم مقام نہیں ہو سکتی اور وہ دعا وہ ہے جو اس بات کی نشاند ہی کرتی ہے کہ اس جہان کی تمام قدرتیں اور توانائیاں پرودگار عالم کی قدرت کے مقابلے میں استقلال نہیں رکھتیں دو سر ے لفظو ں میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس حقیقت کی طرف متوجہ رہا جائے کہ طبیعی عوامل اور اسباب کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اس ذات با برکت کی طرف سے ہے اور اس کے حکم و فرمان سے ہے۔ اگر کوئی دوا کے ذریعے شفاء کا خواہاںہوتا ہے تو وہ بھی اس لئے کہ اس نے دوا کو یہ تاثیر بخشی ہے یہ یھی ایک قسم کی دعا ہے جس کی طرف احادیث اسلامی میں اشارہ ہوا ہے مختصر یہ کہ یہ دعا کی وہ قسم ہے جسے خودآگاہی او ر فکر و نظر اور ول و دماغ کی بیداری کہا جاسکتا ہے یہ اس ذات سے ایک باطنی رشتہ ہے جوتمام نیکیوں اور خو بیوں کا مبدا و مصد رہے۔ اسی لئے حضرت علی علیہ السلام کے ارشادات میں ہے۔ لا یقبل اللہ عزوجل دعاء قلب لاہ خدا غافل دل کی دعا قبول نہیں کرتا۔1 ایک اور حدیث میں امام صادق سے یہی مضمون مروی ہے: ان اللہ عزوجل لا یستجیب دعا بظہر قلب ساہ)2 یہ خود دعا کے فلسفوں کی ایک اساس ہے جن کی طرف اشارہ ہو چکا ہے۔ 1- اصول کافی، ج۲، ص ۷۴۳ 2- اصول کافی، ج۲، ص ۷۴۳
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:186
دعا کی قبولیت کی شرائط
دعا کی قبولیت کی شرائط کی طرف توجہ کرنے سے بھی بظاہر دعا کے پیچیدہ مسئلے کے سلسلے میں نئے حقائق آشکار ہوتے ہیں اور اس کے اصلاحی اثرات واضح ہوتے ہیں ۔ اس ضمن میں چند احادیث پیش خدمت ہیں: ۱: دعا کی قبولیت کے لئے ہر چیز سے پہلے دل اور روح کی پاکیزگی کی کوشش ، گناہ سے توبہ اور اصلاح نفس ضروری ہے ۔ اس سلسلے میں خدا کے بھیجے ہوئے رہنما ؤں اور رہبر وں کی زندگی سے الہام و ہدایات حاصل کرنا چاہیں امام صادق سے منقول ہے ، آپ نے فرمایا: ایاکم ان یسئل احدکم ربہ شیئا من حوائج الدنیا و الاخرة حتی یبدء بالثناء علی اللہ و المدحة و الصلوة علی النبی و الہ ثم الاعتراف بالذنب ثم المسالة۔ جب تم میں سے کوئی اپنے رب سے دنیا و آخرت کی کوئی حاجت طلب کرنا چاہے تو پہلے خدا کی حمد و ثنا اور مدح کرے ، پیغمبر اور ان کی آل پردرو د بھیجے پھر گناہوں کا اعتراف اور اس کے بعد سوال کرے۔۱ ۲: اپنی زندگی کی پاکیزگی کے لئے غصبی مال اور ظلم و ستم سے بچنے کی کوشش کرے اور حرام غذا نہ کھائے ۔ پیغمبر اکرم سے منقول ہے : من احب ان یستجاب دعائہ فلیطلب مطعمہ و مکسبہ جو چاہتا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو اس کے لیے ضروری ہے اس کی غذا و ر کسب و کار پاک و پاکیزہ ہو۔۲ لتامرون بالمروف و ولتنہن عن المنکر ا و یسلطن اللہ شرار کم علی خیارکم و یدعو اخیارکم فلا یستجاب لہم۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضرور کرو ورنہ خدا تم سے بروں کو تمہارے اچھے لوگوں پر مسلط کردے گا پھر تمہارے اچھے لوگ دعا کریں گے تو وہ ان کی دعا قبول نہیں کرے گا ۔۳ حقیقت میں یہ عظیم ذمہ داری جو ملت کی نگہبانی ہے اسے ترک کرنے سے معاشر ے میں بد نظمی پیدا ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں بد کاروں کے لئے میدان خالی رہ جاتا ہے ۔ اس صورت میں دعا اس کے نتائج کو زائل کرنے کے لئے بے اثر ہے کیونکہ یہ کیفیت ان اعمال کا قطعی اور حتمی نتیجہ ہے۔ ۴: خدائی عہد و پیمان کو وفا کرنا بھی دعا کی قبولیت کی شرائط میں شامل ہے ایمان ، عمل صالح ، امانت او ر صحیح کام اس عہد و پیمان کا حصہ ہیں ۔ جو شخص اپنے پروردگار سے کئے گئے عہد کی پاسداری نہیں کرتا اسے یہ توقع نہیں رکھنی چاہئیے کہ پروردگار کی طرف سے اجابت دعا کا وعدہ اس کے شامل حال ہو گا۔ کسی شخص نے امیرالمؤمنین کے سامنے دعا قبول نہ ہو نے کی شکایت کی ۔وہ کہنے لگا : خدا کہتا ہے کہ دعا کرو تو میں قبول کرتا ہو ں ۔ لیکن اس کے با وجود کیا وجہ ہے کہ ہم دعا کرتے ہیں اور وہ قبول نہیں ہوتی ۔ اس کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا: ان قلوبکم خان بثمان خصال : اولہا انکم عرفتم اللہ فلم تؤدو احقہ کما اوجب علیکم فما اغنت عنکم معرفتکم شیئا۔ و الثانیہ انکم امنتم برسولہ ثم خالفتم بسنتہ و امنتم شریعتہ فاین ثمرة ایمانکم۔ و الثالثہ انکم قراتم کتابہ المنزل علیکم تعملو ا بہ و قلتم سمعنا و اطعنا ثم خالفتم۔ و الرابعہ انکم قلتم تخافون من النار و انتم فی کل وقت تقدمون الیھابمعاصیکم فاین خوفکم۔ و الخامسة انکم قلتم ترغبون فی الجنة و انتم فی کل وقت تفعلون ما یبا عد کم منھا فاین رغبتکم فیھا ۔ و السادسة انکم اکلتم نعمة المولی فلم تشکروا علیھا ۔ و السابعة ان اللہ امرکم بعد اوة الشیطان و قال ان الشیطان لکم عدد فاتخذوہ عدوا فعاد تیموہ بلا تول و والیتموہ بلا مخالفتہ۔ و الثامنة انکم جعلتم عیوب الناس نصب اعینکم و عیوبکم و راء ظھور کم تلومون من انتم احق باللوم منہ فای دعا یستجاب لکم مع ھذا و قد سدد تم ابوابہ و طرقہ فتقوا اللہ و اصلحوا اعمالکم و اخلصوا سرائکم و امروا بالمعروف و انھوا عن المنکر فیستجیب لکم دعا ئکم ۔ تمہارے دل و دماغ نے آٹھ چیزوں میں خیانت کی ہے جس کی وجہ سے تمہاری دعا قبول نہیں ہوتی: پہلی : تم نے خدا کو پیہچان کر اس کا حق ادا نہیں کیا ۔ اس لئے تمہاری معرفت نے تمہیں کو ئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ دوسری: تم اس کے بھیجے ہو ئے پیغمبر پر ایمان تو لے آئے ہو مگر اس کی سنت کی مخالفت کرتے ہو ۔ ایسے میں تمہارے ایمان کا کیا نتیجہ ہو سکتا ہے ۔ تیسری: تم اس کی کتاب کو تو پڑ ھتے ہو مگر اس پر عمل نہیں کرتے ۔ زبانی تو کہتے ہو کہ ہم نے سنا او ر اطاعت کی مگر عملا اس کی مخالفت کرتے ہو ۔ چوتھی: تم کہتے ہو کہ ہم خدا کے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔ اس کے با وجود اس کی نافرمانیوں کی طرف قدم بر ھاتے ہو ۔ تو پھر خوف کہاں رہا۔ پانجویں: تم کہتے ہو کہ ہم جنت کے شائق ہیں حالانکہ کام ایسے کرتے ہو جو تمہیں اس سے دور لے جاتے ہیں تو پھر رغبت و شوق کہاں رہا۔ چھٹی: خدا کی نعمتیں تو کھاتے ہو مگر شکر کا حق ادا نہیں کرتے ہو ۔ ساتویں : اس نے تمہیں حکم دیا کہ شیطان سے دشمنی رکھو ۔۔۔۔۔۔اور تم اس سے دوستی کی طرح ڈالتے ہو۔ آٹھویں: تم نے لوگوں کے عیوب کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہے اور اپنے عیوب پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔ ان حالات میں تم کیسے امید رکھتے ہو کہ تمہاری دعا قبول ہو جب کہ تم نے خو د قبولیت کے دروازے بند کر رکھے ہیں ۔ تقوی و پرہیزگاری اختیار کرو ۔ اپنے اعمال کی اصلاح کرو ۔ امر المعروف اور نہی عن المنکر کرو ، تا کہ تمہاری دعا قبول ہو سکے ۔4 اس سے ظاہر ہے کہ قبولیت دعا کا وعدہ خدا کی طرف سے مشروط ہے نہ کہ مطلق ۔شرط ہے کہ تم اپنے عہد و پیمان کو پورا کرو حالانکہ تم آٹھ طرح سے پیمان شکنی کر چکے ہو ۔ مندرجہ بالا آٹھ احکام جواجابت دعا کی شرائط ہیں انسان کی تربیت ، اس کی توانا ئیوں کو اصلاح یافتہ بنانے اور ثمر بخش راہ پر ڈالنے کے لئے کافی ہیں۔ ۵۔ دعا کی قبولیت کی ایک شرط یہ ہے کہ دعا عمل اور کوشش کے ہمراہ ہو ۔ امیرالمؤمنین کے کلمات قصار میں ہے : الداعی بلا عمل کالرامی بلا وتر عمل کے بغیر دعا کرنے والا بغیر کمان کے تیر چلانے والے کی مانند ہے ۔5 اس طرف توجہ رکھی جائے کہ چلہ کمان تیر کے لئے عامل حرکت اور ہدف کی طرف پھینکنے کا وسیلہ ہے تو اس سے تاثیر دعا کے لئے عمل کی اہمیت و اضح ہو جاتی ہے ۔ ۱ سفینة البحار، ج ۱، ۴۴۸ و ص۴۸۹ ۲ سفینة البحار، ج ۱،۴۴۸ و ص۴۴۹ ۳ سفینة البحار، ج ۱ ص۴۸۹ 4- سفینة البحار، ج ۱ ص۴۸۸و ۴۴۹ 5- نہج البلاغہ، کلمات قصار نمبر ۳۳۷
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:186
دعا اور زاری کا فلسفہ
جولوگ دعا کی حقیقت، اس کی روح، اس کے تربیتی و نفسیاتی اثرات کو نہیںسمجھتے وہ اس پر طرح طرح کے اعتراضات کرتے ہیں۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ یہ اعصاب کو کمزور اور بے حس کردیتی ہے کیونکہ ان کی نظر میں دعا لوگوں کو فعالیت، کوشش، پیش رفت او رکامیابی کے وسائل کے بجا ئے اسی راہ پرلگا دیتی ہے اور انہیں سبق دیتی ہے کہ کوششوں کے بدلے اسی پر اکتفا کرو۔ معترضین کبھی کہتے ہیں کہ دعا اصولی طور پر خدا کی معاملات میں بے کار دخل اندازی ہے۔ خدا جیسی مصلحت دیکھے گا اسے انجام د ے گا ۔ وہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہمارے مصالح کو جانتا ہے پھر کیوں ہر وقت ہم اپنی مرضی اور پسندکے مطابق اس سے سوال کرتے رہےں۔ کبھی کہتے ہیں کہ ان تمام امور کے علاوہ دعا، ارادہ الہی پر راضی رہنے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے منافی ہے۔ جولوگ ایسے سوالات کرتے ہیںوہ دعا اور تضرع و زاری کے نفسیاتی، اجتماعی، تربیتی او ر معنوی و روحانی آثار سے غافل ہیں۔ انسان ارادے کی تقویت اور د کھ در د کے دور ہونے کے لئے کسی سہارے کا محتاج ہے اور دعا انسان کے دل میں چراغ وامید روشن کردیتی ہے۔ جولوگ دعا کو فراموش کئے ہوئے ہیں وہ نفسیاتی اور اجتماعی طور پر ناپسندیدہ عکس العمل سے دوچا رہوتے ہیں۔ ایک مشہور ما ہر نفسیات کا قول ہے کہ کسی قوم میں دعا و زاری کا فقدان ا س ملت کے تباہی کے برابر ہے۔ وہ قوم جو احتیاج دعا کا گلا گھونٹ دے وہ عموما فساد اور زوال سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ البتہ یہ بات بھی فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ صبح کے وقت دعا و زاری کرنا اور باقی ساردان ایک وحشی جانور کی طرح گزارنا بے ہودہ او رفضول ہے ۔ دعا کو مسلسل جاری رہنا چا ہیئے ۔ تا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ انسان اس کے گہر ے اثر سے ہاتھ دھو میٹھے۔۱ جولو گ سمجھتے ہیں کہ دعا کاہلی و سستی کا سبب بنتی ہے وہ دعا کا معنی ہی نہیں سمجھے کیو نکہ دعا کا یہ مطلب نہیں کہ طبیعی وسائل و اسباب سے ہاتھ کھیچ لیا جائے اور ان کے بجا ئے بس دست دعا، بلند رکھا جائے بلکہ مقصو دیہ ہے کہ تمام موجود وسائل کے ذریعہ اپنی پوری کوشش بروئے کار لائی جائے اور جب معاملہ انسان کے بس میں نہ رہے اور وہ مقصدتک نہ بہنچ پا رہا ہو تو دعا کا سہارالے توجہ کے ساتھ خدا پر بھر وسہ کرتے ہوئے اپنے اندر امید اور حرکت کی روح کو بیدار کرے اور اس مبداء عظمی کی بے پناہ نصر توں میں سے اپنے لئے مدد حاصل کرے ۔ لہذا دعا مقصد تک نہ پہنچ پانے اور رکا وٹوں کی صورت میں ہے نہ کہ یہ طبیعی عوامل کے مقابلے میں کوئی عامل ہے۔ مذکور ہ ما ہرنفسیات، مزید لکھتاہے : اس کے علاوہ کہ دعا اطمینان پیدا کرتی ہے یہ انسان کی فکر میں ایک طرح کی شگفتگی پیدا کرتی ہے اور باطنی انبساط کا باعث بنتی ہے۔ بعض اوقات یہ انسان کے لئے بہادری اور دلاوری کی روح بیداری کے لئے تحریک کا کام بھی دیتی ہے دعا کے ذریعے انسان پر بہت سے علامات ظاہر ہوتے ہیں ۔ نگاہ کی پاکیزگی،کردار کی متانت ، باطنی انبساط و مسرت ، پر اعتماد چہرہ ، استعداد ہدایت اور استقبال حوادث سب دعا کے مظاہر ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو دعا کرنے والے کی روح کی گہرائی اور اس کے جسم میں چھپے ہو ئے ایک خزائے کی ہمیں خبر دیتی ہیں۔ دعا کی قدرت سے پسماندہ اور کم استعداد لوگ بھی اپنی عقلی اور اخلاقی قوت کو بہتر طریقے سے کا رآمد بنا لیتے ہیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑ تاہے کہ ہماری دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو دعا کے حقیقی رخ کو پہچان سکیں۔ ۲ جو کچھ ہم نے بیان کیاہے اس سے اعتراض کا جواب بھی مل جاتا ہے کہ دعا تسلیم و رضا کے منانی ہے کیونکہ جیسا کہ مندرجہ بالا سطور میں ہم تشریح کرچکے ہیں دعا پروردگار کے فیض بے پایاں سے زیادہ سے زیادہ کسب کمال کا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں انسان دعا کے ذریعے پروردگار کی زیادہ سے زیادہ توجہ اور فیض کے حصول کی اہلیت پیدا کرلیتا ہے اور واضح ہے کہ تکامل کی کوشش اور زیادہ سے زیادہ کسب کمال کی سعی قوانین آفرینش کے سامنے تسلیم و رضا ہے نہ کہ اس کے منافی۔ علاوہ از ین دعا ایک طرح کی عبادت، خضوع اور بندگی ہے ۔ انسان دعا کے ذریعہ ذات الہی کے ساتھ ایک وابستگی پیدا کر لیتا ہے اور جیسے تمام عبادات تربیتی اثر رکھتی ہیںدعا بھی ایسے اثر کی حامل ہوتی ہے۔ چاہے قبولیت تک پہنچے یا نہ پہنچے۔ جولوگ یہ کہتے ہیں کہ دعا امور الہی میں مداخلت ہے اور جو کچھ مصلحت کے مطابق ہو خدا د یتا ہے وہ اس طرف متوجہ نہیں کہ عطیات خداوندی استعداد اور لیاقت کے مطابق تقسیم ہو تے ہیں، جتنی استعداد و لیاقت زیادہ ہو گی انسان کوعطیات بھی اسی قدر نصیب ہو نگے۔ امام صادق فرماتے ہیں: ان عند اللہ عزوجل منزلة لا تنال الا بمسالة)3 خدا کے ہاں ایسے مقامات و منازل ہیں جومانگے بغیر نہیں مل سکتے ۔ ایک صاحب علم ،کا قول ہے : جب ہم دعا کر تے ہیں تو ہم اپنے آپ کو ایک ایسی لا متناہی قوت سے متصل و مربوط کر لیتے ہیں جس نے ساری کا ئنات کی اشیاء کو ایک دو سر ے سے پیوست کر رکھا ہے۔4 اسی صاحب علم کا کہنا ہے: ٓآج کا جدید ترین علم یعنی علم نفسیات (psychology) بھی یہی تعلیم دیتاہے جو انبیا دیا کر تے تھے چنانچہ نفسیات کے ڈاکٹر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دعااور نماز اور دین پر محکم ایمان ۔۔۔۔اضطراب ، تشویش ہیجان اور خوف کو دور کردیتا ہے جوہمار ے دکھ درد کا آدھے سے زیادہ، حصہ ہے5 ۱ نیائش الکیس کارل 2 نیائش الکیس کارل 3- اصول کافی ، ج۲، ص۳۴۸ 4- آئین زندگی، ص۱۵۶ 5- آئین زندگی، ص۱۵۶