أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَقْرَبُوهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
You are permitted on the night of the fast to go into your wives: they are a garment for you, and you are a garment for them. Allah knew that you would betray yourselves, so He pardoned you and excused you. So now consort with them and seek what Allah has ordained for you, and eat and drink until the white streak becomes manifest to you from the dark streak at the crack of dawn. Then complete the fast until nightfall, and do not consort with them while you dwell in confinement in the mosques. These are Allah’s bounds, so do not approach them. Thus does Allah clarify His signs for mankind so that they may be Godwary.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:187
[Pooya/Ali Commentary 2:187] During the fast eating and drinking, after the whiteness of the day becomes distinct from the blackness of the night, is prohibited until night. (For other conditions see books of fiqh). In the beginning cohabitation between man and wife was not allowed for those who observed fast, whether night or day, but the future second caliph and some other companions confessed to the Holy Prophet that they had transgressed this prohibition (Tafsir Baydawi). Through this verse cohabitation between man and wife during the night was made lawful. Man's actions must follow certain patterns, starting with the gross, and gradually ascending to the subtlest of the subtle. There were very few truly obedient devotees of Allah (the Ahl ul Bayt) who observed every command of Allah, but the merciful Lord also takes into consideration the wishes of the "not so careful Muslims."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:187
اعتکاف
اعتکاف کا اصل معنی ہے محبوس ہو نا اور کسی چیز کے پاس لمبی مدت تک رہنا شریعت کی اصطلاح میں مساجد میں عبادت کے لئے تھہرے نے کو اعتکاف کہتے میں جس کی کم از کم مدت تین دن ہے اور اس کی شرط روزہ دار ہونا اور بعض لذائذ کو ترک کرناہے یہ عبادت روح کی پاکیزگی اور پروردگار کی طرف خصوصی توجہ کے لئے گہرا اثر رکھتی ہے۔ اس کے آداب و شرائط فقہی کتب میں مذکور میں ۔ یہ عبادت ذاتی طور پر تو مستحب ہے لیکن چند ایک استثنائی مواقع پر و جوب کی شرط اختیار کر لیتی ہے۔ بہر حال زیر بحث آیت میں اس کی صرف ایک شرط کی طرف اشارہ ہوا ہے یعنی عورتوں سے مجامعت نہ کر نا۔ (دن اور رات دو نوں میں منع) اور وہ بھی اس لئے کہ اعتکاف کا تعلق بھی روزے کے مسائل سے ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:187
طلوع فجر
فجر کا اصل معنی ہے شگاف کرنا۔ طلوع صبح کو فجر اس لئے کہتے ،میں کہ گویا رات کا سیاہ پردہ پہلی صبح کی سفیدی سے چاک ہو جا تا ہے۔ زیر بحث آیات میں علاوہ از یں (حتی یتبین لکم الخیط الا بیض من الخیط الاسود) کی تعبیر بھی استعمال ہوئی ہے۔ ایک حدیث میں ہے : عدی بن حاتم نے پیغمبر ﷺاکرم کی خدمت میں عرض کیا کہ میں نے سیاہ اور سفید دھا گے رکھے ہوئے تھے اور انہیںدیکھتا تھا تا کہ پہچان کر روزے کے اول دقت کا اندازہ کر سکوں ۔پیغمبر اکرم ﷺاس گفتگو سے اتنے ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک دکھائی دیئے ۔ آپ نے فرمایا: فرزند حاتم! اس سے مراد ہے صبح کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے نمایاں ہو جا ئے جو کہ وجوب روزہ کی ابتداء ہے۔ ۱۔ ضمنا توجہ کرنی چا ہیئے کہ اس تعبیر سے ایک اور نکتہ بھی واضح ہو تا ہے اور وہ ہے صبح صادق کو صبح کاذب سے پہچاننا۔ رات کے آخری حصے میں پہلے ایک بہت کم رنگ کی سفیدی آسمان پر عمودی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ جسے لومڑی کی دم سے تشبیہ وی جاتی ہے۔ اسی کو صبح کاذب کہتے میں۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ایک صاف و شفاف سفیدی افق کے طور پر اور وہ بھی طول افق میں ظاہر ہوتی ہے جو سفید دھاری کی طرح ہوتی ہے۔ یہی صبح صادق ہے جو روزے کے وقت کا آغاز اور ابتدا ئے نماز صبح کا وقت ہے۔ ۱۔مجمع البیان، زیر نظر آیت کے ذیل میں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:187
ابتداء و انتهاء تقوی هی تقوی هے
یہ بات قابل توجہ ہے کہ احکام روزہ سے مربوط پہلی آیت میں بھی ہم نے اس کا آخری مقصد تقوی پڑھا ہے اور بعینہ یہی بات آخری آیت کے آخر میں بھی آئی ہے (لعلہم یتقون) یہ بات نشاند ہی کرتی ہے کہ سا پروگرام روح تقوی کی پرورش اپنے آپ کو گناہ سے بچانے اور ملکہ پرہیزگاری پیدا کرنے کے لئے ہے اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ نوع انسانی میں شرعی ذمہ دار یوں کی ادائیگی کا احساس اجاگر کیا جامرئے ۔ اختتامیہ پروردگارا! ہم تیری بارگاہ میں سپاس گزاری اور نذرانہ شکر پیش کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں اس تفسیر کی جلد اول پر تجدید نظر کی توفیق بخشی تا کہ ہم اس کے نقائص کو امکانی حد تک دور کر سکیں۔ شاید ہم تیری اس عظیم آسمانی کتاب کو جتنا ہو سکے اپنے مسلمان بہن بھایئوں تک پہنچا سکیں۔ خداواندا! تیرا شکر ہے کہ تو نے اپنی عنایت ہمارے شامل حال کی کہ ہم نے تیرے عظیم اور بہت ہی قدر و منزلت والے ارشادات کی تفسیر لئے قدم اٹھایا۔ بارالہا! ہم سے یہ اعزاز و افتخار نہ چھین لینا تا کہ ہم ممکنہ حد تک اس کتاب کے باقی حصے کی تکمیل کر سکیں۔ خداوندا! تو نے اپنے مخصوص بندوں کے دل اس کتاب کی طرف مائل کردئے میں اور نہوں نے اس کاو الہا نہ استقبال کیا ہے اور شاید ہمارے لئے وہ را توں کی تاریکی میں یاد نوں میں دعا ئے خیر کرتے ، میں۔۔۔ہم اس کے لئے تیرے سپاس گزار میں ۔ اور تیرا شکر ادا کرتے میں۔ ۱۳ مرداد ۱۳۶۱ ہجری شمسی مطابق ۱۵ شوال ۱۳۰۲ ہجری قمری اختتام جلد اول تفسیر نمونہ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:187
حدود الهی
جیسا کہ مندر جہ بالا آیت میں ہم نے پڑ ھاہے روزے اور اعتکاف کے کچھ احکام بیان کرنے کے بعد انہیں خدائی سر حدیں قرار دیا گیا ہے۔ حلال و حرام کے در میان سر حد، مجاز و ممنوع کے در میان سر حد۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں کہا گیا کہ سر حدوں کو عبور نہ کرنا بلکہ کہا گیا ہے ان کے قریب نہ جانا کیونکہ سرحد کے قریب ہونے سے کبھی شہوت کی زیادتی کے باعث اور کبھی شک میں مبتلا ہونے کی وجہ سے انسان ان سے آگے گز رجاتا ہے۔ لہذا فرمایا گیا ہے(فلا تقربوھا) اور شاید اسی بناء پر قوانین اسلامی میں ایسی جگہوں میں قدم رکھنے سے منع کیا گیا ہے جو انسان کی لغرش اور گناہ کا موجب اور سبب ہیں مثلا مجالس گناہ میں شرکت حرام ہے چا ہے خود انسان ظاہرا آلودہ گناہ نہ ہو ۔ اسی طرح اجنبی عورت سے خلوت کو حرام قرار دیا گیا ہے (کسی اجنبی خاتون کے ساتھ ایسی تنہائی جو مکمل طور پر علیحدہ ہو اور جہاں دو سرے لوگ آجانہ سکتے ہوں)۔ یہی مفہوم دو سری احادیث میں حمایت کمی (ممنوعہ علاقے کی چار دیواری کی حفاظت) کے عنوان سے بیان ہوا ہے پیغمبر اسلام فرماتے ہیں: ان حمی اللہ محارمہ فمن وقع حود الحمی یوشک ان یقع فیہ محرمات الہی اس کی چار دیواریاں میں اگر کوئی شخص ان حدود خانہ کے گرد اپنی بھیڑ بکریاں لے جائے تو اس کا ڈر ہے کہ وہ ممنوعہ علاقے میں چلی جائیں۔۱ اسی لئے اصول تقوی کی پا بند اور پرہیزگار لوگ نہ صرف یہ محرمات کہ کے مرتکب نہیں ہو تے بلکہ حرام کے نزدیک بھی قدم نہیں رکھتے۔ ۱۔ تفسیر صافی، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔