وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَّا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ وَمَا أَنتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّكَ إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ
Even if you bring those who were given the Book every [kind of] sign, they will not follow your qiblah. Nor shall you follow their qiblah, nor will any of them follow the qiblah of the other. And if you follow their desires, after the knowledge that has come to you, you will be one of the wrongdoers.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:145
[Pooya/Ali Commentary 2:145] Allah informed the Holy Prophet that nothing, not even Allah's signs, would make the Jews and the Christians follow his qiblah, the true religion of Allah - Islam, because, out of their stupidity and arrogance, they did not like a descendant of Ismail to be the promised prophet. Also the Jews and the Christians did not follow each other's qiblah or religion. Allah warns the Muslims (through the Holy Prophet) that if they try to make a compromise with the Jews and the Christians, after the knowledge (Islam) has come to them, then they will certainly be among the disbelievers.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:145
وہ کسی قیمت پر سرتسلیم خم نہیں کریں گے
آپ گذشتہ آیت کی تفسیر میں پڑھ چکے ہیں کہ اہل کتاب جانتے تھے کہ بیت المقدس سے خانہ کعبہ تبدیلی سے نہ صرف یہ کہ پیغمبر اسلام پر کوئی اعتراض نہیں کیاجاسکتا بلکہ یہ آپ کی حقانیت کی دلیل ہے کیونکہ وہ اپنی کتب میں پڑھ چکے تھے کہ پیغمبر موعود د و قبلوں کی طرف نماز پڑھے گا لیکن بے جا تعصب اور سرکشی کے بھوت نے انہیں حق قبول کرنے نہ دیا۔ اصولی طورپر اگر انسان مسائل پر پہلے سے حتمی فیصلہ نہ کرچکا ہو وہ افہام و تفہیم کے قابل ہوتاہے اور دلیل ، منطق یا معجزات کے ذریعے اس کے نظریات میں تبدیلی آسکتی ہے اور اس کے سامنے حقیقت کو ثابت کیاجاسکتاہے لیکن اگر وہ پہلے سے اپنا موقف حتمی طور پرطے کرلے۔ خصوصا لیچڑ متعصب اور نادان لوگوں کو کسی قیمت پر نہیں بدلا جاسکتا۔ اسی لئے قرآن محل بحث آیت میں قطعی طور پر کہہ رہاہے ! قسم ہے کہ اگر تم کوئی آیت اور نشانی ان اہل کتاب کے لئے لے آؤ، یہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے (وَلَئِنْ اٴَتَیْتَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الکِتَابَ بِکُلِّ آیَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَک)۔ لہذا تم اس کام کے لیے اپنے آپ کو نہ تھکاؤ اور ان کی ہدایت کے در پے نہ رہو کیونکہ یہ کسی قیمت پر حق کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کریں گے اور ان میں اصلا تلاش حقیقت کی روح ہی مردہ ہوچکی ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتاہے کہ تمام انبیاء کو کم و بیش ایسے افراد کا سامنا کرنا پڑا جو یا اہل ثروت اور با اثر تھے یا پڑھے لکھے منحرف یا کجرو یا جاہل و متصب عوام تھے۔ اس کے بعد مزید فرمایا: تم بھی ہرگز ان کے قبلہ کی پیروی نہیں کروگے (و ما انت بتابع قبلتھم)۔ یعنی اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے شعور و غوغا، قیل و قال اور طعن و تشنیع سے دوبارہ مسلمانوں کا قبلہ بدل جائے گا تو یہ ان کی جہالت ہے بلکہ یہ قبلہ اب ہمیشہ کے لئے ہے۔ در حقیقت مخالفین کا شور دغل ختم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ انسان پختہ ارادے سے کھڑا ہوجائے اور واضح کردے کہ وہ راہ حق میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کرے گا۔ مزید فرمایا: وہ بھی اپنے معاملے میں ایسے متعصب ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک بھی دوسرے کے قبلہ کا پیرو اور تابع نہیں (وَمَا بَعْضُہُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ) یعنی۔ یہودی عیسائیوں کے قبلہ کی پیروی کرتے ہیں نہ عیسائی یہودیوں کے قبلہ کی پھر بطور تاکید اور زیادہ قطعیت سے پیغمبر سے کہتاہے: اگر علم و آگہی کے بعد، جو خدا کی طرف سے تمہیں پہنچ چکی ہے تم ان کی خواہشات کے سامنے سرنگوں ہوگئے اور ان کی پیروی کرنے لگے تو مسلما ستمگروں اور ظالموں میں سے ہوجاؤگے (وَلَئِنْ اتَّبَعْتَ اٴَہْوَائَہُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ إِنَّکَ إِذًا لَمِنْ الظَّالِمِین )۔ قضیہ و شرطیہ صورت میں پیغمبر سے خطاب، قرآن میں بارہا دیکھنے میں آیاہے۔ در حقیقت ان کے تین مقاصد ہیں: ۱۔ سب لوگ جان لیں کہ قوانین الہی میں کسی قسم کی تبعیض اور فرق و اختلاف قبول نہیں کیاجائے گا۔ عام لوگ تو ایک طرف خود انبیاء بھی ان سے ماوراء نہیں ہیں۔ اس بناء پر اگر بفرض محال پیغمبر بھی حق سے انحراف کرے تو وہ بھی عذاب الہی کا مستحق ہوگا۔ اگر چہ انبیاء کے بارے میں ایسا مفروضہ ان کے ایمان، بے پناہ علم اور مقام تقوی و پرہیزگاری کے پیش نظر ممکن العمل نہیں اور اصطلاح میں اسے یوں کہتے ہیں کہ قضیہ شرطیہ وجود شرط پر دلالت نہیں کرتا۔ ۲۔ تمام لوگ اپنا احتساب کرلیں اور جان لیں کہ جب پیغمبر کے بارے میں یہ معاملہ ہے تو انہیں پوری کوشش سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا چاہئیں اور دشمن کے انحرافی میلانات اور شور و غوغا کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالنا چاہئیں اور شکست تسلیم نہیں کرنا چاہئیے۔ ۳۔ یہ واضح ہوجائے کہ پیغمبر بھی اپنی طرف سے کسی تبدیلی اور الٹ پھیر کا اختیار نہیں رکھتا اور ایسا نہیں کہ وہ جو چاہے کرے بلکہ وہ بھی اللہ کا بندہ ہے اور اس کے فرمان کے تابع ہے۔ ۱۴۶۔الَّذِینَ آتَیْنَاہُمْ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَہُ کَمَا یَعْرِفُونَ اٴَبْنَائَہُمْ وَإِنَّ فَرِیقًا مِنْہُمْ لَیَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَہُمْ یَعْلَمُونَ ۱۴۷۔ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ فَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الْمُمْتَرِینَ ترجمہ ۱۴۶۔ وہ لوگ جنہیں ہم نے آسمانی کتب دی ہیں وہ اس (پیغمبر ) کو ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو اگر چہ ان میں سے ایک گروہ حق کو پہچاننے کے با وجود اسے چھپاتاہے۔ ۱۴۷۔(قبلہ کی تبدیلی کا یہ فرمان) تمہارے پروردگار کا حکم حق ہے لہذا ہرگز تردد و شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجاؤ۔