قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ
We certainly see you turning your face about in the sky. We will surely turn you to a qiblah of your liking: so turn your face towards the Holy Mosque, and wherever you may be, turn your faces towards it! Indeed those who were given the Book surely know that it is the truth from their Lord. And Allah is not oblivious of what they do.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:144
[Pooya/Ali Commentary 2:144] Madina is located between Makka and Jerusalem. Facing Jerusalem, standing in Madina, meant turning the hinder parts of the body towards Makka. Since the Holy Prophet knew that the holy Kabah in Makka was going to be the ultimate qiblah, he did not like to turn his back towards it. The Jews knew that the Holy Prophet was the final messenger of Allah (see verse 40 of this surah) They also knew that the holy Kabah, with the "black stone" set in one of its corners, was destined to be the qiblah of the true believers. "The stone which the builders rejected has become the chief corner-stone." (Psalms: 118 : 22 and Matthew 2 1 : 42). Prophet Isa said: "He will bring those bad men to a bad end, and hand the vineyard over to other tenants, who will let him have his share of the crop when the season comes." It was a parable narrated to the Jews. It happened exactly as the Jews were warned. When the Jews failed to fulfil the covenant, the covenant of Allah was transferred to the descendants of Ismail. Then Jesus said to them, "Have you never read in the scriptures: The stone which the builders rejected has become the main corner-stone. This is the Lord's doing, and it is wonderful in our eyes? Therefore, I tell you, the kingdom of God will be taken away from you, and given to a nation that yields the proper fruit." When the chief priests and Pharisees heard his parables, they saw that he was referring to them. (Matthew 21 :42 to 45). The kingdom of God, the spiritual leadership of mankind, transferred to the descendants of Ismail, remains with the family of the Holy Prophet, the divinely chosen holy Imams. For it was he whom the Lord your God chose from all your tribes to attend on the Lord and to minister in the name of the Lord, both he and his sons for all time. (Deut: 18: 5) Isa said: I will ask the Father, and he will give you another to be your advocate, who will be with you for ever. (John 14: 16). Isa referred to the Holy Prophet as the advocate or the comforter who would succeed him and be with the people for ever. Isa's prophecy is proved true in the Holy Prophet and his descendants, the last of whom is our living Imam.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:144
جہاں کہیں ہو کعبہ کی طرف رخ کرلو
جیسا کہ پہلے اشارہ ہوچکاہے بیت المقدس مسلمانوں کا عارضی قبلہ تھا لہذا پیغمبر اسلام انتظار میں تھے کہ قبلہ کی تبدیل کا حکم صادر ہو خصوصا اس بناء پر کہ پیغمبر اکرم کے ورود مدینہ کے بعد یہودیوں نے اس بات کو اپنے لئے سند بنالیاتھا اور ہمیشہ مسلمانوں پر اعتراض کرتے تھے کہ ان کا اپنا کوئی قبلہ نہیں اور ہم سے پہلے یہ قبلہ کے متعلق کچھ جانتے بھی نہ تھے ، اب ہمارے قبلہ کو قبول کرلیناہمارا مذہب قبول کرلینے کی دلیل ہے۔ یہ اور ایسے دیگر اعتراضات کرتے رہے۔ محل بحث آیت میں اس مسئلے کی طرف اشارہ ہواہے۔ قبلہ کی تبدیلی کا حکم صادر کرتے ہوئے فرماتاہے: ہم دیکھتے ہیں کہ تم منتظر نگاہوں سے مرکز نزول وحی، آسمان کی طرف دیکھتے ہو (قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَاءِ ) اب ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیتے ہیں جس سے تم خوش ہو (فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قبلة ترضھا ) ابھی سے اپنا چہرہ مسجد الحرام اور خانہ کعبہ کی طرف پھیر دو (وَحَیْثُ مَا کُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوہَکُمْ شَطْرَہُ ) جیساکہ بیان کیا جاچکاہے کہ روایات کے مطابق قبلہ کی یہ تبدیلی نماز ظہر کی حالت میں واقع ہوئی جو ایک حساس اور اہم مقام ہے۔ وحی خدا کے قاصد نے پیغمبر کے بازوؤں کو پکڑ کر آپ کا رخ بیت المقدس سے کعبہ کی طرف پھیر دیا اور مسلمانوں نے بھی فورا اپنی صفوں کو پھیر لیا اور مسلمانوں نے بھی فورا اپنی صفوں کو پھیر لیا یہاں تک ایک روایت میں ہے کہ عورتوں نے اپنی جگہ مردوں کو اور مردوں نے اپنی جگہ عورتوں کودے دی (یاد رہے کہ بیت المقدس شمال کی جانب تھا جب کہ کعبہ جنوب میں واقع تھا)۔یہ امر قابل غورہے کہ گذشتہ کتب میں پیغمبر اسلام کی نشانیوں میں سے ایک قبلہ کی تبدیلی بھی تھی ۔ اہل کتاب نے چونکہ پڑھ رکھا تھا کہ وہ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھیں گے (یصلی الی القبلتین) اسی لئے مندرجہ بالا آیت میں اس حکم کے بعد مزید فرمایا: وہ کہ جنہیں آسمانی کتاب دی گئی جانتے ہیں کہ یہ حکم حق ہے اور پروردگار کی طرف سے ہے ( وَإِنَّ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ لَیَعْلَمُونَ اٴَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّہِم)۔ علاوہ ازیں یہ امر کہ پیغمبر اسلام اپنے گردو پیش کی عادات سے متاثر نہیں ہوئے اور کعبہ جو بتوں کا مرکز بنا ہواتھا اور اس علاقے کے تمام عربوں کے احترام کا مرکز تھا ابتداء میں نظر انداز کردیا اور ایک محدود اقلیت کا قبلہ اپنا لیا یہ خود ان کی دعوت کی صداقت اور ان کے پروگراموں کے خدا کی طرف سے ہونے کی دلیل تھا۔ آیت کے آخر میں قرآن کہتاہے: خدا ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے (وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ)۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ بجائے اس کے کہ قبلہ کی تبدیلی کو آپ کی صداقت کی نشانی کے طور پر تسلیم کرلیتے جس کا ذکر گذشتہ کتب میں آچکاتھا، اسے چھپانے لگے اور الٹا پیغمبر اسلام کے خلاف ایک محاذ کھڑا کردیا۔ خدا ان کے اعمال اور نیتوں سے خوب آگاہ ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:144
کیا قبلہ کی تبدیلی پیغمبر کو خوش کرنے کے لئے تھی
قرآن کہتاہے: قبلة ترضھا (یعنی۔ وہ قبلہ جس سے تو خوش ہے) ممکن ہے اس سے یہ وہم پیدا ہو کہ یہ تبدیلی پیغمبر کو خوش کرنے کے لئے تھی۔ لیکن اگر اس بات کی طرف توجہ کی جائے تو یہ وہم دور ہوجائے گا کہ یہ بیت المقدس تو عارضی قبلہ تھا اور پیغمبر اکرم آخری قبلہ کے اعلام کا انتظار کررہے تھے تا کہ یک طرف تو یہودیوں کی زبان بندی ہوجائے اور دوسری طرف اہل حجازآئیں اسلام کی طرف زیادہ مائل ہوں کیونکہ وہ کعبہ سے خصوصی لگاؤ رکھتے تھے۔ ضمنا یہ بھی کہ یہ پہلا قبلہ تھا لہذا اس طرف رخ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام کوئی نسلی دین نہیں ہے ادریہ بھی کہ اس سے خانہ کعبہ میں بت پرستوں کے موجود بتوں کا بطلان بھی ظاہر ہوجاتا
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:144
شطر کا معنی
دوسری بات جو اس مقام پر قابل غورہے یہ کہ مندرجہ بالا آیت میں لفظ کعبہ کی بجائے شطر المسجد الحرام آیاہے۔ یہ شاید اس بناء پر ہو کہ دورکے علاقوں میں نماز پڑھنے والوں کے لئے خانہ کعبہ کا حقیقی تعین بہت ہی مشکل ہے، لہذا خانہ کعبہ کی بجائے جو اصلی قبلہ ہے مسجد الحرام کا ذکر کیاگیاہے جو وسیع جگہ ہے۔ خصوصا لفظ شطر کا انتخاب ہوا جس کا معنی ہے جانب یا سمت۔ یہ اس لئے کہ اسلامی حکم پر عملدر آمد سب لوگوں کے لئے آسان ہو ۔ علاوہ ازیں نماز جماعت کی طویل صفیں اکثر اوقات کعبہ کے طول سے بھی لمبی ہوتی ہیں۔ اس موقع کے لئے بھی شرعی ذمہ داری واضح کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ دور کے رہنے والوں کے لئے صحیح حدود کعبہ یا مسجد الحرام کا تعین بہت مشکل کام ہے لیکن اس سمت منہ کرکے کھڑا ہونا سب کے لئے آسان ہے۔۱ ۱ بعض مفسرین نے کہاہے کہ شطر کا ایک معنی نصف ہے اس مفہوم کی بناء پر شطر المسجد الحرام اور وسط المسجد الحرام ہم معنی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ خاص خانہ کعبہ مسجد حرام کے وسط میں ہے (تفسیر کبیر فخر رازی، زیر بحث آیت کے ذیل ہیں)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:144
پیغمبر اکرم کا کعبہ سے خاص لگاؤ
مندرجہ بالا آیت سے معلوم ہوتاہے کہ پیغمبر اکرم خصوصیت سے چاہتے تھے کہ قبلہ، کعبہ کی طرف تبدیل ہوجائے اور آپ انتظار میں رہتے تھے کہ خدا کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی حکم نازل ہو۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ آنحضرت کو حضرت ابراہیم اور ان کے آثار سے عشق تھا۔ علاوہ ازیں کعبہ توحید قدیم ترین مرکز تھا۔ آپ جانتے تھے کہ بیت المقدس تو وقتی قبلہ ہے لیکن آپ کی خواہش تھی کہ حقیقی و آخری قبلہ جلد معین ہو جائے۔ آپ چونکہ حکم خدا کے سامنے سر تسلیم خم کئے تھے، یہ تقاضا زبان تک نہ لاتے صرف منتظر نگاہیں آسمان کی طرف لگائے ہوئے تھے جس سے ظاہر ہو تا کہ آپ کو کعبہ سے کس قدر عشق اور لگاؤہے۔ آسمان شاید اس لئے کہاگیاہے کہ وحی کا فرشتہ اوپر سے آپ پر نازل ہوتاتھا ورنہ خدا کے لئے کوئی محل و مقام ہے نہ اس کے وحی کے لئے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:144
نظم آیات
زیر بحث آیت کے مفاہیم واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ پہلی آیت سے قبل نازل ہوئی لیکن قرآن میں اس کے بعد موجود ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آیات قرآن، تاریخ نزول کے مطابق جمع نہیں کی گئیں۔ بلکہ بعض اوقات کچھ ایسی مناسبتیں پیدا ہوتی ہیں کہ وہ آیت جو بعد میں نازل ہوئی تھی پہلے آجاتی ہے (ان دجو ہات میں مطالب کی اولیت اور اہمیت بھی شامل ہے)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:144
کعبہ ایک عظیم دائرے کا مرکز ہے
اگر کوئی شخص کرہ زمین سے باہر مسلمان نماز گزاروں کی صفوں کو دیکھے جو کعبہ رخ نماز پڑھ رہے ہیں تو اسے کئی دائرے نظر آئیں گے جن میں ایک دائرہ دوسرے کے اندر ہے یہاں تک کہ دائرے سمٹتے اصل مرکز یعنی کعبہ تک جا پہنچتے ہیں اس سے ایک وحدت و مرکزیت کا اظہار ہوتاہے۔ اسلامی قبلے کا تصور بلا شبہ عیسائیوں کے اس طریقہ کا رسے کہیں معیاری ہے جس کے مطابق تمام عیسائیوں کو حکم ہے کہ وہ جہاں کہیں ہوں مشرق کی طرف رخ کرکے عبادت بجالائیں۔ یہی وجہ ہے کہ علم ہیئت اور علم جغرافیہ ابتدائے اسلام میں مسلمانوں میں تیزی سے ترقی کی کیونکہ زمین کے مختلف حصوں میں قبلہ کا تعین اس علم کے بغیر ممکن نہ تھا۔ ۱۴۵۔ وَلَئِنْ اٴَتَیْتَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الکِتَابَ بِکُلِّ آیَةٍ مَا تَبِعُوا قِبْلَتَکَ وَمَا اٴَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَہُمْ وَمَا بَعْضُہُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ وَلَئِنْ اتَّبَعْتَ اٴَہْوَائَہُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ إِنَّکَ إِذًا لَمِنْ الظَّالِمِین ترجمہ ۱۴۵۔ قسم ہے کہ اگر تم ہر قسم کی آیت (دلیل اور نشانی) ان اہل کتاب کے لئے لے آؤ تو یہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے اور تم بھی اب کبھی ان کے قبلہ کی پیروی نہیں کروگے (اور وہ اب یہ تصور نہ کریں دوبارہ قبلہ کی تبدیلی کا امکان ہے) اور ان میں سے بھی کوئی دوسرے کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتا اور اگر تم علم و آگاہی کے بعد ان کی خواہشات کی پیروی کرو تو مسلما ستمگروں اور ظالموں میں سے ہوجاؤگے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:144
ہمہ گیر خطاب
اس میں شک نہیں کہ قرآن ظاہرا پیغمبر سے خطاب کرتاہے لیکن اس کا مفہوم عام ہے اور سب مسلمانوں کے لئے ہے (سوائے ان چند مواقع کے جن کے پیغمبر سے مخصوص ہونے کی دلیل موجود ہے) اس بات سے یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ مندرجہ بالا آیت میں پیغمبر اکرم کو الگ اور مومنین کو الگ کیوں حکم دیا گیاہے کہ مسجد حرام کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں۔ ممکن ہے یہ تکرار اس لئے ہوکہ قبلہ کی تبدیلی کا مسئلہ شور و غل کا حامل تھا۔ لہذا مکاں تھا کہ نئے مسلمانوں کے ذہن شور و غل اور زہر یلے اعتراضات کیوجہ سے تشویش کا شکار ہوتے اور وہ عذر کرتے کہ (فول وجھک) تو فقط پیغمبر سے خطاب ہے اور اس طرح خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنے سے کتراتے لہذا اس مقام پرایک مخصوص خطاب کے بعد اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں سے ایک عمومی خطاب کیاہے تا کہ انہیں تاکید کرے کہ قبلہ کی تبدیلی کا یہ معاملہ مخصوص نہیں بلکہ یہ حکم سب کے لئے یکساں ہے۔