الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
Those whom We have given the Book recognize him just as they recognize their sons, but a part of them indeed conceal the truth while they know.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:146
[Pooya/Ali Commentary 2:146] As explained in many verses of this surah (40,41,42,75,77,78,79,89,90,91,101,105, 109, 124) the Jews and the Christians knew that the Holy Prophet was the promised prophet as clearly mentioned in their books, but they deliberately concealed the truth.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:146-147
یہ آیت در حقیقت یہودیوں کے جواب میں ہے
ہر گروہ کا ایک قبلہ ہے جسے خدانے معین کیاہے (اور وہ اس کی طرف رخ کرتاہے وَلِکُلٍّ وِجْہَةٌ ہُوَ مُوَلِّیہَا)۔ انبیاء کی طویل تاریخ میں کئی ایک قبلہ تھے اور ان کی تبدیلی کوئی عجیب و غریب چیز نہیں۔ قبلہ کوئی اصولی دین نہیں کہ جس میں تبدیلی و تغیر نہیں ہوسکتا اور نہ یہ کہ امور تکوینی کی طرح ہے کہ آگے پیچھے نہ ہوسکے لہذا قبلہ کے بارے میں زیادہ گفتگو نہ کرو اور اس کی بجائے اعمال خیر اور نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ ( فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ)۔ بجائے اس کے کہ اس انفرادی مسئلے میں دقت صرف کرتے رہو خوبیوں اور پاکیزگیوں کی تلاش میں نکلو اور ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرو کیونکہ تمہارے وجود کی قدر و قیمت نیک اور پاک اعمال ہیں۔یہ مضمون بعینہ اس سورہ کی آیہ ۱۷۷ کی طرح ہے جس میں فرمایا گیاہے۔ لَیْسَ الْبِرَّ اٴَنْ تُوَلُّواوُجُوہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالْکِتَابِ وَالنَّبِیِّین نیکی یہ نہیں اپنے چہرے مشرق و مغرب کی طرف کرلو بلکہ نیکی یہ ہے کہ خدا، روز جزا، ملائکہ، کتاب اور انبیاء پر ایمان لے آؤ (اور نیک اعمال بجالاؤ)۔ اب اگر تم اسلام یا مسلمانوں کو آزمانا چاہتے ہو تو ان پروگراموں میں آزماؤ نہ قبلہ کی تبدیلی کے مسئلہ میں۔ اس کے بعد اعتراض کرنے والوں کو تنبیہ کرنے اور نیک لوگوں کو شوق دلانے کے لئے فرمایا: تم جہاں کہیں ہوگے خدا تم سب کو حاضر کرے گا (اینما تکونوا یات بکم اللہ جمیعا) تا کہ نیک لوگوں کو عمل خیر کی جزا اور برے لوگوں کو عمل بدکی سزادی جاسکے۔ ایسا نہیں کہ ایک گروہ تو بہترین کام انجام دیتاہو اور دوسرا زہرا گلنے ، تخریب کا ری کرنے اور دوسروں کے کاموں کو خراب کرنے کے علاوہ کوئی کام نہ کرتاہو اور پھر دونوں ایک جیسے ہوں اور ان کے لئے کوئی حساب و کتاب اور جزا سزا نہ ہو۔ چونکہ ممکن ہے بعض لوگوں کے لئے یہ جملہ عجیب ہو کہ خدا خاک کے منتشر ذرات کو، وہ جہاں کہیں ہوں جمع کرے گا اور دوبارہ و ہی انسان عرصہ وجود میں قدم رکھے لہذا بلا فاصلہ فرمایا: اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتاہے (ان اللہ علی کل شیی قدیر )در حقیقت آیت کے آخر میں یہ جملہ اس سے پہلے والے جملے (اینما تکونوا یاب بکم اللہ جمیعاء) کی دلیل ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:146-147
وہ پیغمبر اکرم کو پوری طور پر پہچانتے ہیں
گذشتہ ابحاث کے بعد اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی ہٹ دھرمی اور تعصب کے بارے میں زیر نظر آیات میں گفتگو فرمائی گئی ہے۔ ارشاد ہوتاہے: اہل کتاب کے علما پیغمبر کو اپنی اولاد کی مانند اچھی طرح پہچانتے ہیں (الَّذِینَ آتَیْنَاہُمْ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَہُ کَمَا یَعْرِفُونَ اٴَبْنَاء َہُم) اس پیغمبر کا نام، نشانیاںاور خصوصیات یہ اپنی مذہبی کتب میں پڑھ چکے ہیںلیکن اس کے با وجود ان میں سے بعض کوشش کرتے ہیں کہ جان بوجھ کر حق کو چھپائے رکھیں (وَإِنَّ فَرِیقًا مِنْہُمْ لَیَکْتُمُونَ الْحَقَّ وَہُمْ یَعْلَمُونَ)۔ان میں سے ایک گر وہ تو اسلام کی واضح نشانیوں کو دیکھ کر اسے قبول کرچکاہے جیسا کہ عبداللہ بن سلام جو علما یہود میں سے تھا اور بعد میں اس نے اسلام قبول کرلیا۔ منقول ہے کہ وہ کہتاتھا: انا اعلم بہ منی بابنیمیں پیغمبر اسلام کو اپنے فرزند سے بھی بہتر پہچانتا ہوں۔۱ یہ آیت ایک عجیب و غریب حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے وہ یہ کہ پیغمبر اسلام کی جسمانی و روحانی صفات اور ان کے علاقے کی نشانیاں گشتہ کتب میں اس قدر زندہ، روشن اور واضح تھیں کہ جن سے آپ کی پوری تصویر ان لوگوں کے ذہنوں میں موجود تھی جو ان کتب سے وابستہ تھے۔ کیا کسی کو یہ احتمال ہوسکتاہے کہ ان کتب میں پیغمبر اسلام کا کوئی نام و نشان نہ ہو اور پھر بھی پیغمبر اس صراحت سے ان کے سامنے کہیں کہ میری تمام صفات تمہاری کتب میں موجود ہیں، اگر ایسا ہوتا تو کیا اہل کتاب کے تمام علماء پیغمبر سے شدید اور صریح مقابلے پر نہ آتے اور انہیں یہ نہ کہتے کہ یہ تم ہو اور یہ ہیں ہماری کتابیں، کہاںہیں تمہارے وہ نام و صفات ۔ کیا یہ ممکن تھا کہ ان کا ایک عالم فقط اس بناء پر آپ کے سامنے سر تسلیم خم کرے ۔ اس لئے ایسی آیات صرف آپ کی سچائی اور حقانیت کی دلیل ہیں۔ اس کے بعد گذشتہ ابحاث کی تاکید کے طور پر قبلہ کی تبدیلی کے متعلق فرمایا: یہ فرمان تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے، پس تم کبھی بھی تردد و شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا (الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ فَلاَتَکُونَنَّ مِنْ الْمُمْتَرِین)۔ اس طرح اس جملے میں پیغمبر کی دلجوئی کی گئی ہے اور انہیں تاکید کی گئی ہے کہ وہ دشمن کے زہر یلے پرا پیگنڈا کے سامنے ذرہ برابر بھی تردد و شک کو راہ نہ دیں۔ چاہے قبلہ کی تبدیلی کا مسئلہ ہو یا کوئی اور چاہے دشمن اس کے خلاف اپنی تمام قوتیں جمع کرلیں۔ اس گفتگو میں اگر چہ مخاطب پیغمبر اکر م ہیں لیکن جیسا کہ کہا جاچکاہے کہ واقع میں تمام لوگ مرا د ہیں۔ ور نہ مسلم ہے کہ و ہ پیغمبر جس کا وحی سے دائمی تعلق ہو کبھی کسی شک و شبہ میں مبتلا نہیںہوتا کیونکہ وحی اس کے لئے شہود، حس اور یقین کا درجہ رکھتی ہے۔ ۱۴۸۔ وَلِکُلٍّ وِجْہَةٌ ہُوَ مُوَلِّیہَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرَاتِ اٴَیْنَ مَا تَکُونُوا یَاٴْتِ بِکُمْ اللهُ جَمِیعًا إِنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ترجمہ ۱۴۸۔ ہر گروہ کا ایک قبلہ ہے جسے خدا نے اس کے لئے معین کیاہے (اس بنا پر اب قبلہ کے بارے میں زیادہ گفتگو نہ کرو اور اس کی بجائے ) نیکیوں اور اعمال خیر میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرو۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے، خد ا تمہیں (اچھے اور برے اعمال کی جزا یا سزا کے لئے قیامت کے دن) حاضر کرے گا، کیونکہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتاہے۔ ۱ المنار، ج ۲ اور تفسیر کبیر از فخر الدین رازی (ذیل آیت زیر بحث)