وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
Thus We have made you a middle nation that you may be witnesses to the people, and that the Apostle may be a witness to you. We did not appoint the qiblah you were following, but that We may ascertain those who follow the Apostle from those who turn back on their heels. It was indeed a hard thing except for those whom Allah has guided. And Allah would not let your prayers go to waste. Indeed Allah is most kind and merciful to mankind.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:143
[Pooya/Ali Commentary 2:143] To understand this verse it is necessary to know the meanings of some important words and phrases used in it. (1) Ummat does not always mean a community or a nation. In verse 120 of al Nahl it refers to a single individual-Verily Ibrahim was a people (ummat) obedient to Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:143
لنعلم کی تفسیر
لنعلم (تا کہ ہم جان لیں) اور ایسے دیگر الفاظ جو قرآن میں خدا کے لئے استعمال ہوئے اس معنی میں نہیں کہ خدا ایک چیز پہلے سے نہیں جانتا اور اس کا عبد اس سے آشنا ہوتاہے بلکہ اس سے مراد اس چیز کا ثابت ہونا اور خارجی شکل میں ظاہر ہوناہے اس کی توضیح یہ ہے کہ خداوند عالم اول سے تمام حوادث و موجودات سے واقف ہے اگر چہ وہ اشیاء تدریجا عالم وجود میں آتی ہیں لہذا ان حوادث و موجودات کا حدوث اس کے علم و دانش میں کسی قسم کی زیادتی کا باعث نہیں بنتا بلکہ وہ جس چیز کو پہلے سے جانتا تھا اس کے ذریعے سے وہ عملی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے کہ ایک انجنیر ایک بلڈنگ کا نقشہ تیار کرتاہے اور کہتاہے کہ اس کا م کو اس مقصد کے لئے انجام دیتاہوں تا کہ جو نتیجہ میری نظر میں ہے اسے دیکھوں یعنی اپنے علمی نقشے کو عملی جامہ پہناؤں (البتہ خدا کا علم انسانی علم سے بہت مختلف ہے لیکن یہ مثال کسی حد تک مسئلے کو واضح کردیتی ہے)۔ و ان کانت لکبیرة الا علی الذین ہدی اللہ۔۔۔۔ البتہ خلاف عادت قدم اٹھانا اور بے جا احساسات کے زیر اثر نہ آنا بہت مشکل ہے مگر ان لوگوں کے لئے جو واقعا خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔ () قبلہ کا فلسفہ: یہاں ایک سوال پیدا ہوتاہے کہ آخر بنیادی طور پر قبلہ کی طرف منہ کرنے کا مقصد کیاہے کیا خدا زمان و مکاں سے مافوق و بالاتر نہیں۔ کیا قرآن خود نہیں کہتا: فاینما تولوا فثم وجہ اللہ۔ جد ھر رخ کرو خدا کو پالوگے۔ اس بناء پر کسی ایک طرف رخ کرنے کا اثر و نتیجہ کیاہے اور وہ بھی اس اصرار سے کہ جہت قبلہ معلوم نہ ہوسکے تو چاروں طرف نماز پڑھنا چاہئیے تا کہ یہ یقین پیدا ہوجائے کہ ہم اپنی ذمہ داری ادا کرچکے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ۔۔۔۔۔ اسلام کے نزدیک اتحاد کی بہت اہمیت ہے اور اسلام ہر ایسے حکم کو واجب یا کم از کم مستحب قرار دیتاہے جو ہم آہنگی اور وحدت کا سبب بنے۔ اب اگر رخ قبلہ معین نہ ہوتا اور ہر شخص کسی ایک طرف منہ کرکے کھڑاہوجاتا تو عجیب نقشہ پیدا ہوجاتاہے۔ بعض مقامات کا پرستش و عبادت سے بہت پرانا تعلق ہے۔ اس لئے کتنی اچھی بات ہے کہ ایک تو وحدت کی حفاظت کے لئے اور دوسرا عبادت کے اصلی مراکز کی طرف زیادہ توجہ کے لئے ایک ہی نقطے کو قبلہ کے طور پر منتخب کرلیاجائے تا کہ تمام اہل جہان عبادت کے وقت اپنے انکار کو ایک ہی نقطے پر مرکز کرلیں اور اس طرح ایسے لا تعداد دائرے کھینچ دیں کہ جن کا ایک ہی مرکز عبادت ہوتا کہ وہ ان کی وحدت کی رمز بن جائے۔ ۱۴۴۔قَدْ نَرَی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَةً تَرْضَاہَا فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَیْثُ مَا کُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوہَکُمْ شَطْرَہُ وَإِنَّ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ لَیَعْلَمُونَ اٴَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّہِمْ وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ ترجمہ ۱۴۴۔ ہم تمہارے چہرے کو دیکھتے ہیں جسے تم آسمان کی طرف پھیرتے ہو (اور قبلہ نما کے تعیین کے لئے فرمان خدا کے انتظار میں رہتے ہو)۔ اب تمہیں اس قبلہ کی طرف جس سے تم خوش ہو پھیر دیتے ہیں۔اپنا چہرہ مسجد الحرام کی طرف کرلو اور تم (مسلمان) جہاں کہیں ہو اپنے چہرے اس کی طرف پھیردو۔ جنہیں آسمانی کتاب دی گئی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ حکم جو ان کے پروردگار کی طرف سے صادر ہواہے۔ درست ہے (کیونکہ وہ اپنی کتب میں پڑھ چکے ہیں کہ رسول اسلام دو قبلوں کی طر ف نماز پڑھیں گے) اور (وہ جو ایسی آیات مخفی رکھتے ہیں) خداوند عالم ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:143
وہ امت جوہر لحاظ سے نمونہ بن سکتی ہے
وہ تمام چیزیں جو ہم نے اوپر بیان کی ہیں کسی امت میں جمع ہوجائیں تو یقینا وہ حق و حقیقت کاہر اول دستہ بن جائے کیونکہ اس کے پروگرام حق کو باطل سے ممتاز کرنے کے لئے میزان و معیار ہوں گے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ کئی ایک روایات میں منقول ہے کہ اہل بیت نے فرمایا: نحن الامة الوسطی و نحن شہدآء اللہ علی خلقہ و حججہ نی ارضہنحن الشہدآء علی الناسالینا یرجع الغالی و بنایر1 یرجع المقصر ہم امت وسط ہیں ہم مخلوق پر شاہد الہی ہیں اور زمین پر اس کی حجت ہیں ہم ہیں لوگوں پر گواہ غلو کرنے والوں کو ہماری طرف پلٹنا چاہئیے اور تقصیر کرنے والوں کو چاہئیے کہ یہ راہ چھوڑ کر ہم سے آملیں۔2 جیسا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں ایسی روایات آیت کے وسیع مفہوم کو محدود نہیں کرتیں بلکہ اس امت میں نمونہ و اسوہ کے اکمل مصادیق کا تعارف کراتی ہیں اور ایسے نمونوں کی نشاندہی کرتی ہیں جو پہلی صف میں موجود ہیں۔ 1 ظاہرا یہاں یرجع کی بجائے ویلحق ہونا چاہئیے (مترجم)۔ 2 نور الثقلین، ج۱، ص۱۳۴۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:143
امت اسلامی ایک در میانی امت ہے
لغت میں وسط کا معنی ہے دو چیزوں کے در میان حد اوسط ۔ اس کا ایک اور معنی ہے جاذب نظر، خوبصورت ، عالی اور شریف۔ ظاہرا ان دونوں معانی کی ایک ہی حقیقت کی طرف بازگشت ہے کیونکہ شرافت، زیبائی اور عظمت عموما اسی چیز میں ہوتی ہے جو افراط و تفریط سے دور ہو اور مقام اعتدال پرہو۔ قرآن نے امت مسلمہ کے لئے اس مقام پر کیسی عمدہ تعبیر بیان کی ہے کہ اسے در میانی اور معتدل امت کا نام دیاہے۔ یہ امت معتدل ہے۔ عقیدہ کے لحاظ سے کہ راہ غلو اپناتی ہے نہ تقصیر و شرک کی راہ لیتی ہے، جبر کی طرفدار ہے نہ تفویض کی ، صفات الہی کے بارے میں تشبیہ کا عقیدہ رکھتی ہے نہ تعطیل کا۔ یہ امت معتدل ہے۔ معنوی و مادی قدروں کے لحاظ سے۔ نہ کلی طور پر دنیا ئے مادہ میں غرق ہے کہ معنویت اور روحانیت کو بھول جائے اور نہ ہی عالم معنویت و روحانیت میں ایسے ڈوبی ہوئی ہے کہ جہان مادہ سے بالکل بے خبر ہوجائے۔ یہ امت معتدل ہے۔ اور۔ یہودیوں کے اکثر گروہوں کی طرح نہیں کہ جو مادی اغراض کے سوا کچھ نہیں جانتے۔ اور ۔ نہ عیسائی راہبروں کی طرح جو تارک دنیا ہی بنے رہتے ہیں۔ یہ امت معتدل ہے علم و دانش کی نظر سے۔ اس طرح نہیں کہ اپنی معلومات پر جمود کا شکار ہوجائے اور دوسروں کے علوم کی پذیرائی نہ کرے اور نہ اس طرح احساس کمتری میں مبتلا ہے کہ ہر آواز کے پیچھے لگ جائے۔ یہ امت معتدل ہے۔ روابط اجتماعی کی نظر سے اس طرح سے اپنے گرد حصار بنا کر ساری دنیا سے الگ نہیں ہوجاتی اور نہ اپنی اصالت و استقلال کو ہاتھ سے جانے دیتی ہے کہ مشرق و مغرب کے فریب خوردہ لوگوں کی طرح ان اقوام ہی میں گم ہوجائے۔ یہ امت معتدل ہے۔ اخلاقی طور طریقوں میں، عبادت و تفکر کے لحاظ سے۔ غرض یہ امت ہر جہت سے معتدل ہے۔ ایک حقیقی مسلمان صرف ایک جہت کا انسان نہیں ہوتا بلکہ مختلف جہات سے وہ کمال انسانیت کا نمونہ ہوتا ہے گویا۔ صاحب فکر، با ایمان، منصف مزاج، مجاہد، شجاع ، بہادر، مہربان، فعال اور غیر حریص ہوتاہے۔ حد وسط ایسی تعبیر ہے جو ایک طرف امت اسلامی کے گواہ ہونے کا اظہار کرتی ہے کیونکہ خط وسط پر موجود لوگ دائینںبائیں کے تمام منحرف خطوط کو جانتے ہیں اور دوسری طرف اس میں اس مفہوم کی علت و سبب بھی پوشیدہ ہے یعنی فرماتاہے اگر تم پوری دنیا کی مخلوق کے شاہد ہو تو اس کی دلیل تمہارا اعتدال اور امت وسط ہوناہے۔۱ ۱ المنار۔ زیر بحث آیت کے ذیل میں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:143
قبلہ کی تبدیلی کے اسرار
بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف قبلہ کی تبدیلی ان سب کے لئے اعتراض کا موجب بنی جن کا گمان تھا کہ ہر حکم کو مستقل رہنا چاہئیے۔ وہ کہتے تھے اگر ہمارے لئے ضروری تھا کہ کعبہ کی طرف نماز پڑھیں تو پہلے دن یہ حکم کیوں نہ دیاگیا اور اگر بیت المقدس مقدم ہے جو گذشتہ انبیاء کا بھی قبلہ شمار ہوتاہے تو پھر اسے کیوں بدل دیا گیا۔ دشمنوں کے ہاتھ بھی طعن زنی کا میدان آگیا۔ شاید وہ کہتے تھے کہ پہلے تو انبیاء ما سبق کے قبلہ کی طرف نمازپڑھتے تھے لیکن کامیابیوں کے بعد اس پر قبیلہ پرستی نے غلبہ کرلیا ہے لہذا اپنی قوم اور قبیلے کے قبلہ کی طرف پلٹ گیاہے۔ یا کہتے تھے کہ اس نے دھوکا دینے اور یہود و نصاری کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کے لئے پہلے بیت المقدس کو قبول کرلیا اور جب یہ بات کارگر نہ ہوسکی تو اب کعبہ کی طرف رخ کرلیاہے۔ واضح ہے کہ ایسے وسوسے اور وہ بھی ایسے معاشرے میں جہاں ابھی نور علم نہ پھیلا ہو اور جہاں شرک و بت پرستی کی رسمیں موجود ہوں کیسا تذ بذب و اضطراب پیدا کردیتے ہیں۔ اسی لئے زیر نظر آیت میں قرآن صراحت سے کہتاہے کہ یہ مومنین اور مشرکین میں امتیاز پیدا کرنے والی ایک عظیم آزمائش تھی۔ خانہ کعبہ اس وقت مشرکین کے بتوں کا مرکز بنا ہو اتھا لہذا حکم دیاگیا کہ مسلمان وقتی طور پربیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھ لیا کریں تا کہ اس طرح مشرکین سے اپنی صفیں الگ کرسکیں لیکن جب مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد اسلامی حکومت و ملت کی تشکیل ہوگئی اور مسلمانوں کی صفیں دوسروں سے مکمل طور پر ممتاز ہوگئیں تواب یہ کیفیت برقرار رکھنا ضروری نہ رہا۔ لہذا اس وقت کعبہ کی طرف رخ کرلیا گیا جو قدیم ترین مرکز توحید اور انبیاء کا بہت پرانا مرکز تھا۔ ایسے میں ظاہر ہے کہ جو کعبہ کو اپنا خاندانی معنوی اور روحانی سرمایہ سمجھتے تھے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا ان کے لئے مشکل تھا اور اسی طرح بیت المقدس کے بعد کعبہ کی طرف پلٹنا لہذا اس میں مسلمانوں کی سخت آزمائش تھی تا کہ شرک کے جتنے آثار ان میں باقی رہ گئے تھے اس کٹھالی میں پڑکرجل جائیں اور ان کے گذشتہ شرک آلود رشتے ناتے ٹوٹ جائیں۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں اصولی طور پر تو خدا کے لئے مکان نہیں ہے قبلہ تو صرف وحدت اور صفوں میں اتحاد کی ایک رمزہے اور اس کی تبدیلی کسی چیز کودگرگوں نہیں کرسکتی۔ اہم ترین امر تو خدا کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرناہے اور تعصب اور ضد پرستی کے بتوں کو توڑناہے۔