سَيَقُولُ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلَّاهُمْ عَن قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قُل لِّلَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ
The foolish among the people will say, ‘What has turned them away from the qiblah they were following?’ Say, ‘To Allah belong the east and the west. He guides whomever He wishes to a straight path.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:142
[Pooya/Ali Commentary 2:142] For "the east and the west belong to Allah" see commentary of verses 107 and 115 of this surah. Qiblah is the direction towards which the face is turned. In Makka, the Holy Prophet used to face Jerusalem at the time of praying salat, but the holy Kabah was always between him and the first qiblah Even in Madina, he continued to pray towards Jerusalem for seventeen months, after which Allah accepted the Holy Prophet's request to change the qiblah, because the Jews of Madina had been mocking the Muslims for not having their own qiblah. In fulfilment of the divine promise to bless Ibrahim and Ismail, it was necessary to make the house built by them, the final qiblah for the worship of Allah, by the followers of the perfected and completed religion of Allah, for all times. Reference to surah al Fil makes it clear that to keep safe the highly venerated house of Allah, Allah Himself destroyed the army of Abraha who came to demolish the holy Kabah. This change was also a prophecy that Makka would, one day, come into the hands of the Muslims, and that it would be cleared of the false gods, because a centre of idolatry could never have been the qiblah of a thoroughly monotheistic faith.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:142-147
1. In this paragraph, God tested His Creatures, Muslims, Jews and Christians: When Prophet was at Mecca (A), he used to direct his face to (B) Jerusalem, keeping (A) also in view and when he went to Medina (C) he turned, in course of Prayers (at Medina) from (CB) to (CA). Thus God finds out who kept ready during the whole time of prayers (amongst Muslim followers and who among Christians and Jews objected to this action of His, carried out under Divine commands, which have to be carried out, at any cost, should “human reason” accept or turn away, in course of prayers or not. Those objecting are termed “foolish” by God. 2. Palestine is inhabited by Christians who have the Qibla towards Bethlehem, birth place of Christ, by Jews, who have their Qibla towards Jerusalem and Muslims who have now their Qibla towards Mecca, thus Qibla at Palestine for three sects differs. 3. God says, “Although the Prophet’s signs have been distinctly given in the Torah and the Bible (Old Testament) they do recognize their own texts, but out of spite they deny this fact which you Muslims do not do, as I, as God, testify thereto.”
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:142
قبلہ کی تبدیلی کا واقعہ
اس آیت اور اس کے بعد کی چند آیات میں تاریخ اسلام کی ایک اہم تبدیلی کی طرف اشارہ کیا گیاہے جس سے لوگوں میں ایک عظیم طوفان بر پا ہوگیاتھا۔ اس کی کچھ تفصیل یہ ہے کہ بعثت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں اور چند ماہ تک مدینہ میں پیغمبر اسلام حکم خدا سے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے لیکن اس کے بعد قبلہ بدل گیا اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ مکہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں۔ مدینہ میں کتنے ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جاتی رہی اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے۔ یہ مدت سات ماہ سے لے کہ سترہ ماہ تک بیان کی گئی ہے لیکن یہ جتنا عرصہ بھی تھا اس دوران یہودی مسلمانوں کو طعن زنی کرتے رہے کیونکہ بیت المقدس در اصل یہودیوں کا قبلہ تھا وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ان کا اپنا کوئی قبلہ نہیں بلکہ ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہم حق پرہیں۔ یہ باتیں پیغمبر اکرم اور مسلمانوں کے لئے ناگوار تھیں۔ ایک طرف وہ فرمان الہی کے مطیع تھے اور دوسری طرف یہودیوں کے طعنے ختم ہونے کو نہ آتے تھے۔ اسی لئے پیغمبر اکرم آسمان کی طرف دیکھتے تھے گویا وحی الہی کے منتظر تھے۔ اس انتظار میں ایک عرصہ گذر گیا یہاں تک کہ قبلہ کی تبدیلی کا حکم صادر ہوا۔ ایک روز مسجد بنی سالم میں پیغمبر نماز ظہر پڑھارہے تھے۔ دو رکعتیں پڑھ چکے تھے کہ جبریل کو حکم ہوا کہ پیغمبر کا بازو تھام کر ان کا رخ انور کعبہ کی طرف پھیر دیں۔۱ اس واقعے سے یہودی بہت پریشان ہوئے اور اپنے پرانے طریقے کے مطابق ، ڈھٹائی، بہانہ سازی اور طعن بازی کا مظاہرہ کرنے لگے۔ پہلے تو کہتے تھے کہ ہم مسلمانوں سے بہتر ہیں کیونکہ ان کا کوئی اپنا قبلہ نہیں یہ ہمارے پیروکار ہیں۔ لیکن جب خدا کی طرف سے قبلہ کی تبدیلی کا حکم نازل ہوا تو انہوں نے پھر زبان اعتراض دراز کی۔ چنانکہ محل بحث آیت میں قرآن کہتاہے:۔ بہت جلد کم عقل لوگ کہیں گئے ان (مسلمانوں) کو کس چیز نے اس قبلہ سے پھیر دیا جس پر وہ پہلے تھے (سَیَقُولُ السُّفَہَاءُ مِنْ النَّاسِ مَا وَلاَّہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمْ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا) مسلمانوں نے اس سے کیوں اعراض کیاہے جو گذشتہ زبانے میں انبیاء ما سلف کا قبلہ رہاہے۔ اگر پہلا قبلہ صحیح تھا تو اس تبدیلی کا کیا مقصد اور اگر دوسرا صحیح ہے تو پھر تیرہ سال اور چند ماہ بیت المقدص کی طرف رخ کرکے کیوں نماز پڑھتے رہے ہیں۔ خدا اپنے پیغمبر کو حکم دیتاہے: ان سے کہہ دو عالم کے مشرق و مغرب اللہ کے لئے ہیں وہ جسے چاہتاہے سیدھے راستے کی ہدایت کرتاہے (قُلْ لِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ یَہْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ)۔ ان حیلہ بازوں کے جواب میں یہ ایک قطعی اور واضح دلیل تھی کہ بیت المقدس اور کعبہ سب اللہ کی ملکیت ہیں۔ خدا کا ذاتی طور پر تو کوئی گھر نہیں ہے۔ اہم بات تو یہ ہے کہ فرمان خدا کا پاس کیاجائے۔ جس طرف خدا حکم دے ادھر نماز پڑھی جائے وہ مقام مقدس و محترم ہے اور کوئی جگہ حکم خدا کے بغیر ذاتی اہمیت نہیں رکھتی۔ حقیقت میں قبلہ کی تبدیلی آزمائش اور تکامل کے مراحل میں سے ہے ان میں سے ہر ایک ہدایت الہی کا مصداق ہے اور وہی ہے جو انسانوں کو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتاہے۔ ۱ مجمع البیان، ج۱، ص۲۲۴
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:142
قرآن نے انہیں منطقی اور دندان شکن جواب دیئے
رآن نے انہیں منطقی اور دندان شکن جواب دیئے اور وہ مجبور خاموش ہوگئے اس سلسلے کی آیات آپ ابھی ملاحظہ کریں گے۔ ۱۴۳۔وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ اٴُمَّةً وَسَطًا لِتَکُونُوا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُونَ الرَّسُولُ عَلَیْکُمْ شَہِیدًا وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِی کُنتَ عَلَیْہَا إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ یَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ یَنقَلِبُ عَلَی عَقِبَیْہِ وَإِنْ کَانَتْ لَکَبِیرَةً إِلاَّ عَلَی الَّذِینَ ہَدَی اللهُ وَمَا کَانَ اللهُ لِیُضِیعَ إِیمَانَکُمْ إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَئُوفٌ رَحِیم ترجمہ ٌ ۱۴۳۔ (جیسے تمہارا قبلہ در میانی ہے) اسی طرح خود تمہیں بھی ہم نے ایک در میانی امت بنایاہے (جوہر لحاظ سے افراط و تفریط کے در میان حد اعتدال میں ہے) تا کہ لوگوں کے لئے تم ایک نمونے کی امت بن سکو اور پیغمبر تمہارے سامنے نمونہ ہواور ہم نے وہ قبلہ (بیت المقدس) کہ جس پر تم پہلے تھے فقط اس لئے قرار دیا تھا کہ وہ لوگ جو پیغمبر کی پیروی کرتے ہیں جاہلیت کی طرف پلٹ جانے والوں سے ممتاز ہوجائیں اگر چہ یہ کام ان لوگوں کے سوا جنہیں خدانے ہدایت دی ہے دشوار تھا (یہ بھی جان لوکہ کہ تمہاری وہ نماز یں جو پہلے قبلہ کی طرف رخ کرکے ادا کی تھیں صحیح ہیں) اور خدا ہرگز تمہارے ایمان (نماز) کو ضائع نہیں کرتا کیونکہ خدا لوگوں پر رحیم اور مہربان ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:142
امت وسط
پہلے فرمایا: (جس طرح تمہارا قبلہ در میانی ہے)اس طرح تمہیں ہم نے در میانی امت قرار دیا ہے (و کذلک جعلنا کم امة وسطا) ایسی امت جو کندرو ہونہ تندرو، افراط میں ہونہ تفریط میں بلکہ ایک نمونہ ہو۔ رہایہ سوال کہ مسلمانوں کا قبلہ کیسے در میانی قبلہ ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائی تقریبا مشرق کی طرف کھڑے ہوتے ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر عیسائی قومیں مغربی ممالک میں رہتی ہیں اور حضرت عیسی کی جائے ولاد ت (بیت المقدس میں ہے اس لئے وہ مشرق کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہیں اس لحاظ سے مشرقی سمت کلی طور پر ان کا قبلہ شمار ہوتی ہے اور یہودی جو زیادہ تر شامات ، بابل اور دیگر ایسے علاقوں میں رہتے تھے کہ انہیں تقریبا مغرب کی طرف رخ کرنا پڑتاتھا اس لحاظ سے مغربی سمت ان کا قبلہ تھا لیکن اس وقت کے مسلمان جو مدینہ میں رہتے تھے ان کے لئے کعبہ جنوب کی سمت میں اور مشرق و مغرب کے در میان بنتاتھا جو ایک در میانی خط شمار ہوگیا۔ یہ مطالب در اصل لفظ کذلک سے اخذ کئے جاتے ہیں۔ مفسرین نے اس کی دیگر تفاسیر بھی بیان کی ہیں جو بحث و تمحیص کے قابل ہیں۔ بہرحال۔ قرآن چاہتاہے کہ اسلام کے تمام پروگراموں کے باہمی تعلق کا ذکر کرے اور وہ یوں کہ نہ صرف مسلمانوں کا قبلہ در میانی ہے بلکہ اس کے تمام پروگرام اس خوبی کے حامل ہیں۔ اس کے بعد مزید کہتاہے: غرض یہ ہے کہ تم ایک ایسی امت جو گواہ (اور ایک نمونہ کی حامل ہو قرار پاؤ پیغمبر بھی ایک گواہ (اور ایک نمونہ)بن کر تمہارے سامنے موجود ہو (لتکونوا شہدآء علی الناس و علی الناس و یکون الرسول علیکم شہید)۔امت مسلمہ کا ساری دنیا کے لئے گواہ ہونا اور اسی طرح پیغمبر کا مسلمانوں پر گواہ ہونا یہ تعبیر ممکن ہے اسوہ اور نمونہ کی طرف اشارہ ہو کیونکہ گواہوں کا انتخاب ہمیشہ ان لوگوں میں سے کیاجاتاہے جو نمونہ ہوں یعنی ان عقائد، معارف اور تعلیمات کی وجہ سے کے تم حامل ہو ان کے ذریعے ایک ایسی امت بنو جو نمونہ ہو جیسے پیغمبر تمہارے در میان ایک نمونہ، ماڈل اور اسوہ ہیں۔ یعنی تم اپنے عمل اور پروگرام کے ذریعے گواہی دیتے ہو کہ انسان دیندار بھی ہوسکتا ہے اور دنیا کے ساتھ بھی وابستہ رہ سکتاہے۔ انسان معاشرے کا ، فرد ہوتے ہوئے معنوی اور روحانی پہلوؤں کی مکمل حفاظت کرسکتا ہے اور دین و دنیا ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ تم ان عقائد اور پروگراموں کے ذریعے گواہی دیتے ہو کہ دین و علم اور دنیا و آخرت نہ صرف یہ کہ متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کا باعث ہیں۔ اس کے بعد قرآن تبدیلی قبلہ کی ایک اور رمز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتاہے: ہم نے اس قبلہ (بیت المقدس) جس پر تم قبل ازیں تھے صرف اس لئے مقرر کیاتھا کہ پیغمبر کی پیروی کرنے والے جاہلیت کی طرف پلٹ جانے والوں سے ممتاز ہوجائیں ( وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِی کُنتَ عَلَیْہَا إِلاَّ لِنَعْلَمَ مَنْ یَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّنْ یَنقَلِبُ عَلَی عَقِبَیْہ)۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ نہیں فرمایا کہ وہ افراد جو آ پ کی پیروی کرتے ہیں بلکہ فرمایا: وہ لوگ جو رسول خدا کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تم رہبر اور فرستادہ خدا ہو اس لئے انہیں بغیر کسی قید و شرط کے تمہارے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کردینا چاہئیے۔ قبلہ کے سلسلے میں پیروی تو آسان سی بات ہے اگر اس سے بڑھ کر بھی کوئی حکم ملے تو اس میں چون و چرا کرنا شرک اور بت پرستی کے دور کے عادات و رسوم کے ترک نہ کئے جانے کی دلیل ہے۔ مَّنْ یَنقَلِبُ عَلَی عَقِبَیْہ۔ اس کا مطلب ہے پاؤں کے پچھلے حصے پر پلٹ جانا۔ یہ رجعت پسندی اور پسماندگی کی طرف اشارہ ہے۔ مزید فرماتاہے: اگر چہ یہ کام ان لوگوں کے سوا جنہیں خدانے ہدایت کی تھی دشوار تھا ( وَإِنْ کَانَتْ لَکَبِیرَةً إِلاَّ عَلَی الَّذِینَ ہَدَی اللهُ ) واقعا جب تک خدائی ہدایت نہ ہو اس کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی روح پیداہی نہیں ہوتی۔ یہ بات اہم ہے کہ تسلیم حقیقت اس کا نام ہے کہ ایسے احکام جاری ہوں تو کسی سنگینی و سختی کا احساس تک نہ ہو بلکہ چونکہ حکم اس کی طرف ہے لہذا شہد سے شیریں تر معلوم ہو۔ وسوسہ ڈالنے والے دشمن یا نادان دوست خیال کرتے تھے کہ ہوسکتاہے قبلہ بدل جانے سے پہلے اعمال باطل ہوجائیں اور اجر و ثواب بر باد ہوجائے اس کے لئے آیت کے لئے آیت کے آخر میں مزید کہتاہے: خدا ہرگز تمہارا ایمان (نماز) ضائع نہیں کرے گا۔ کیونکہ خداوند تعالی انسانوں کے لئے رحیم و مہربان ہے (وَمَا کَانَ اللهُ لِیُضِیعَ إِیمَانَکُمْ إِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَئُوفٌ رَحِیم)۔ اس کے احکام طبیب کے نسخوں کی طرح ہیں۔ ایک روز ایک نسخہ نجات بخش ہے اور دوسرے دن دوسرا۔ ہر ایک اپنی جگہ درست اور سعادت و تکامل کا ضامن ہے لہذا قبلہ کی تبدیلی تمہاری گذشتہ یا آئندہ نمازوں کے لئے کسی قسم کی پریشانی کا باعث نہ بنے کیونکہ وہ سب کی سب صحیح تھیں اور صحیح ہیں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:142
نسخ احکام
پہلے کہا جا چکاہے کہ مختلف زمانوں میں تنسیخ احکام اور تربیتی پروگراموں کی تبدیلی کوئی نیا مسئلہ یا عجیب و غریب چیز نہیں کہ اس پر اعتراض ہوسکے۔ لیکن اس بات کو یہودیوں نے اسلام سے انکار کرنے کے لئے بڑی بات بنادیا۔ اور اس سلسلے میں بہت پرا پیگنڈاکیا
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:142
سفہار
سفہاء جمع ہے سفیہ کی۔ اصل میں اس کا معنی وہ شخص ہے جس کا بدن ہلکا پھلکا ہو اور آسانی سے ادھر ادھر ہوجائے۔ اہل عرب جانوروں کی کم وزن رسیوں کو جو ہر طرف حرکت کرتی رہتی ہیں سفیہ کہتے ہیں۔ لیکن بعد ازاں یہ لفظ کم ذہن شخص کے معنی میں استعمال ہونے لگا یہ کم عقل امور دین میں ہویا امور دنیا میں۔