أَمْ تُرِيدُونَ أَن تَسْأَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوسَى مِن قَبْلُ وَمَن يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ
Would you question your Apostle as Moses was questioned formerly? Whoever changes faith for unfaith certainly strays from the right way.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:108
[Pooya/Ali Commentary 2:108] Squabbling or hankering after proofs and miracles, as the Bani Israil did for disbelieving in that which a messenger of Allah had said, in order to disobey his orders and as well as to create doubts in the minds of the believers, is the lower nature of man, which is clearly condemned in this verse as losing the right direction of the true path. There is a warning particularly to Muslims who must always remember that the Holy Prophet did not (ever) speak of his own desire, and that whatever he said was nothing but a revelation that was revealed to him (Najm: 3 and 4). According to verse 65 of al Nisa, even in personal matters, the messenger of Allah's orders should be accepted and carried out.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:108
بے بنیاد بہانے
اس آیت کے مخاطب اگر چہ یہودی نہیں ہیں بلکہ کمزور ایمان والے مسلمان یا مشرکین ہیں لیکن جیسا کہ ہم دیکھیں گے کہ یہ یہودیوں کی سرگذشت سے غیر متعلق بھی نہیں۔ غالبا قبلہ کی تبدیلی کے بعد کی بات ہے کہ کچھ مسلمانوں اور مشرکین نے یہودیوں کے پرا پیگنڈا کے زیر اثر پیغمبر اسلام سے چند بے محل اور نامعقول تقاضے کئے جن کے نمونے شان نزول میں بیان ہوچکے ہیں۔ خداوند تعالی انہیں ایسے سوالوں سے منع کرتے ہوئے فرماتاہے: کیاتم چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے وہی نامعقول تقاضے کرو جو اس سے پہلے موسی سے کئے گئے ہیں، تا کہ ان بہانہ سازیوں سے ایمان سے رخ پھیرسکو (ام تریدون ان تسئلوا رسولکم کما سئل موسی من قبل)۔چونکہ ایک طرح سے یہ ایمان سے کفر کا تبادل ہے لہذا مزید فرمایا گیاہے: جو شخص ایمان کی بجائے کفر کو قبول کرے وہ راہ مستقیم سے گمراہ ہوگیاہے ( و من یتبدل الکفر بالایمان فقد ضل سواء السبیل)۔ یہ اشتباہ نہیں ہونا چاہیئے کہ اسلام علمی اور منطقی سوالات سے منع کرتاہے یا دعوت نبی کی حقانیت سمجھنے کے لئے معجزہ طلبی سے روکتاہے کیونکہ فہم و ادراک اور ایمان کے یہی ذرائع ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ایسے تھے جو بہانہ سازی اور دعوت پیغمبر سے بچنے کے لئے بے بنیاد سوالات کرتے تھے اور خو د خواہ معجزات کا ذکر کرتے تھے۔ جبکہ پیغمبر کافی دلائل و معجزات ان کے سامنے پیش کرچکے تھے۔ ان میں سے ہر ایک نئے طور سے آتا اور نئی خارق عادت چیز کا تقاضا کرتا۔ حالانکہ معجزہ اور خارق عادت کوئی بازیچہ اطفال تو نہیں ہے اوہ اس قدر ضروری ہے کہ جس سے پیغمبروں کے کلام کی سچائی کا اطمینان ہوسکے ورنہ پیغمبر معجزات کا کار و بار تو نہیں کرتے کہ وہ ایک طرف بیٹھ جائیں اور ہر آنے والا ان سے معجزہ طلب کرتا رہے۔علاوہ ازیں کبھی تو وہ بالکل نامعقول تقاضے کرتے تھے مثلا خدا کو آنکھ سے دیکھنا یا بت بنا کردینا۔ در حقیقت قرآن لوگوں کو یہ تنبیہ کرنا چاہتا ہے کہ اگر تم اسی طرح کے نامعقول تقاضے کرتے رہے تو تمہارے سر پر بھی وہی عذاب آئے گا جو قوم موسی کے سر پر آیاتھا۔ ۱۰۹۔ وَدَّ کَثِیرٌ مِنْ اٴَہْلِ الْکِتَابِ لَوْ یَرُدُّونَکُمْ مِنْ بَعْدِ إِیمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ اٴَنفُسِہِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمْ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّی یَاٴْتِیَ اللهُ بِاٴَمْرِہِ إِنَّ اللهَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ ۱۱۰۔ وَاٴَقِیمُوا الصَّلاَةَ وَآتُوا الزَّکَاةَ وَمَا تُقَدِّمُوا لِاٴَنفُسِکُمْ مِنْ خَیْرٍ تَجِدُوہُ عِنْدَ اللهِ إِنَّ اللهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیر ترجمہ ۱۰۹۔ بہت سے اہل کتاب اس حسد کی بناء پر جو ان کے وجود میں جڑ پکڑچکاہے یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں اسلام و ایمان کے بعد پہلی حالت کی طرف پھےر لے جائیں۔ حالانکہ ان پر حق مکمل طور پر واضح ہوچکاہے۔ تم انہیں معاف کردو اور ان سے درگذر کرو یہاں تک کہ خدا اپنا فرمان (جہاد) بھیجے ۔ یقینا خدا پرہیز پر قدرت رکھتاہے۔ ۱۱۰۔ نماز قائم کرو اور زکوة ادا کرو اور ان دو ذرائع سے اپنے معاشرے کی روح اور جسم کو طاقتور در بنالو اور جان لوکہ) ہر کار خیر جو اپنے لئے (دار آخرت کی طرف) آگے بھیجتے ہو اسے خدا کے ہاں موجود پاؤگے۔ خدا تمہارے اعمال سے آگاہ ہے۔