أَلَمۡ تَعۡلَمۡ أَنَّ ٱللَّهَ لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ مِن وَلِيّٖ وَلَا نَصِيرٍ
Do you not know that to Allah belongs the kingdom of the heavens and the earth? And besides Allah, you do not have any guardian or helper.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:104-112
1. Addressing equivocally Prophets of God is seriously objected, as sincerity is needed in dealing with the true, being Divine Lights. 2. Hypocrites do not like any good to “Islam.” 3. Once you are sure of the existence of God, His Being Self-sufficient, Omnipotent, Omniscient, do not pry into the Nature of Deity. 4. Avoid Society of humans of revealed religions who are jealous of the true Islam, as also Sunnis. 5. Self praise and false hopes be avoided, what is wanted is “True Faith and its demonstration in sincere acts. (1) Prayers, fast, pilgrimage, self-sacrifice by participating in the crusade and bearing patience and patience and piety. Love of the Prophet and his Ahl al-Bayt (Divine Lights).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:106-107
او مثلہا کی تفسیر
مندرجہ بالا بات کو پیش نظر رکھیں تو فورا سوال پیدا ہوگا کہ (او مثلھا ) سے کیا مراد ہے۔ اگر کوئی حکم پہلے جیسے حکم کی طرح کاہے تو فضول نظر آتاہے۔ اس کی کیا ضرورت ہے کہ ایک چیز منسوخ کرکے اس جیسی ہی دوسری چیز لائی جائے ناسخ کو منسوخ سے بہتر ہونا چاہیئے تا کہ نسخ قابل قبول ہو۔ اس سوال کے جواب میں کہنا چاہیئے کہ مثل سے مراد یہ ہے کہ ایسا حکم اور قانون پیش کیاجائے جس کا اثر بھی گذشتہ زمانے میں گذشتہ قانون کا ساہو۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ ہوسکتاہے ایک حکم آج کئی آثار و فوائد کا حامل ہو لیکن اس سے یہ آثار کھو جائیں۔ اس صورت میں اسے منسوخ ہوجانا چاہئیے اور اس کی جگہ نیا حکم آنا چاہیئے جو اگر اس سے بہتر نہ ہو تو کم از کم اس جیسے آثار کا حامل ہو اور یہ چیز زمانے اور حالات سے وابستہ ہے کہ کبھی گذشتہ حکم کی طرح کا قانون چاہیئے اور کبھی اس سے بہتر۔ اس طرح کسی قسم کا کوئی اعتراض باقی نہیں رہتا۔ ۱۰۸۔ اٴَمْ تُرِیدُونَ اٴَنْ تَسْاٴَلُوا رَسُولَکُمْ کَمَا سُئِلَ مُوسَی مِنْ قَبْلُ وَمَنْ یَتَبَدَّلْ الْکُفْرَ بِالْإِیمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِیلِ ترجمہ ۱۰۸۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے پیغمبر سے اس طرح کے (نا معقول) سوال کرو جو اس سے پہلے موسی سے کئے گئے تھے (اور اس بہانے سے ایمان لانے سے روگردانی کرو) ۔ جو شخص ایمان سے کفر تبادلہ کرے اور ایمان کے بجائے اسے قبول کر لے) وہ (عقل و فطرت کی راہ مستقیم سے گمراہ ہوچکاہے۔ شان نزول کتب تفاسیر میں اس آیت کی شان نزول کے سلسلہ میں مختلف مطالب نظر آتے ہیں اور نتیجہ کے اعتبار سے ایک جیسے ہیں۔ ۱۔ ابن عباس سے منقول ہے کہ وہب بن زید اور رافع بن حرملہ رسول خدا کے پاس آئے اور کہنے لگے خدا کی طرف سے کوئی خط ہمارے نام پیش کیجئے تا کہ ہم اسے پڑھ کر ایمان لے آئیں یا ہمارے لئے نہریں جاری کیجئے تا کہ ہم آپ کی پروری کریں۔ ۲۔ بعض کہتے ہیں کہ عرب کے ایک گروہ نے پیغمبر اسلام سے اسی طرح کے تقاضے کیئے جیسے یہودیوں نے حضرت موسی سے کئے تھے انہوں نے کہا ہمیں ظاہر بظاہر خدا کی نشاندہی کرو کہ ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ اور ایمان لے آئیں۔ ۳۔ بعض نے لکھا ہے کہ ایک گروہ عرب نے پیغمبر اکرم سے تقاضا کیا کہ ان کیلئے ذات افراط سے ایک مخصوص درخت مقرر کردیں۔ تا کہ وہ اس کی پرستش کرسکیں جیسے بنی اسرائیل کے جاہلوں نے حضرت موسی سے کہاتھا: اجعل لنا الھا کما لھم الھة ہمارے لئے ایک بت مقرر کردیں جیسے بت پرستوں کے پاس ہیں۔ (اعراف ۔۱۳۸) مندرجہ بالا آیت ان کے جواب میں نازل ہوئی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:106-107
کیا احکام شریعت میں نسخ جائز ہے
لغت کی نظرسے نسخ کا معنی ہے ختم کرنا اور زائل اور شریعت کی منطق میں نسخ ایک حکم بدل کر اس کی جگہ دوسرا حکم نافذ کرنے کو کہتے ہیں، مثلا: ۱۔ ہجرت کے سولہ ماہ بعد تک مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اس کے بعد قبلہ کی تبدیلی کا حکم صادر ہوا اور انہیں پابند کیا گیا کہ اب نماز کے وقت کعبہ کی طرف رخ کیاکریں۔ ۲۔ سورہ نساء آیہ ۱۵ میں بدکار عورتوں کی سزا کے سلسلے میں حکم دیاگیاتھا کہ چار گواہوں کی شہادت پر انہیں گھر میں بند کردیاجائے یہاں تک کہ وہ مرجائیں یا خدا ان کے لئے کوئی اور راستہ مقرر کردے۔ یہ آیت سورہ نور کی آیت اسے منسوخ ہوگئی اور اس آیت کی روسے ان کی سزا سو تازیانے مقرر ہوئی۔ اس مقام پر یہ اعتراض کیاجاتاہے کہ اگر پہلا حکم مصلحت کا حامل تھا تو پھرا سے منسوخ کیوں کیا گیا اور اگر اس میں مصلحت نہیں تھی تو ابتدا میں نافذ کیوں کیا گیا۔ بہ الفاظ دیگر کیاتھا اگر ابتداء ہی سے ایسا حکم نازل ہوتا کہ تنسیخ اور تغیر کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اس سوال کا جواب علماء اسلام بہت پہلے اپنی کتب میں دے چکے ہیں۔ ہم اس کا خلاصہ کچھ اپنی توضیح کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ زمانے اور علاقے کے لحاظ سے انسان کی ضروریات بدل جاتی ہیں۔ ایک دن ایک پروگرام اس کی سعادت کا ضامن تھا لیکن دوسرے دن ممکن ہے حالات بدل جانے سے وہی پروگرام اس کے راستے کا کانٹا بن جائے۔ ایک دن ایک دوا بیمار کے لئے بہت مفید ہے اور ڈاکٹر اس کے استعمال کا حکم دیتا ہے جب کہ دوسرے دن بیمار کے کچھ صحت مند ہوجانے کی وجہ سے ممکن ہے یہی دوا اس کے لئے نقصان دہ ہو لہذا ڈاکٹر اس دوا کو ترک کرنے اور اس کے بجائے دوسری دوا استعمال کرنے کا حکم دیتاہے۔ ممکن ہے اس سال طالب علم کے لئے کچھ درس اصلاحی اور مفید ہوں لیکن یہی دروس آئندہ سال یا بعد کے چند سال کے لئے بے فائدہ ہوں۔ معلم کو چاہئیے کہ ایسا پروگرام اور نصاب مرتب کرے جو ہر سال کی اپنی ضروریات کے مطابق ہو۔اگر ہم تکامل انسان کی روش اور مختلف معاشروں کی طرف توجہ دیں تو یہ بات زیادہ روشن ہوجاتی ہے کہ کبھی ایک پروگرام مفید اور اصلاحی ہوتاہے اور کبھی و ہی نقصان وہ اور لازمی طور پر قابل تغیر ہوتاہے خصوصا اجتماعی، نظریاتی اور عقائد انقلابات کے آغاز میں پروگراموں کی تبدیلی کی ضرورت مختلف اوقات میں زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔ البتہ یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ احکام الہی کے اساسی ارکان کے اصول بالکل تبدیل نہیں ہوتے وہ ہر جگہ ایک جیسے رہتے ہیں۔ توحید، عدالت اجتماعی کے اصول اور اس قسم کے سینکڑوں احکام ہیں جو تبدیل نہیں ہوتے تغیر تو جزئیات اور دوسرے درجے کے احکام میں ہوتاہے۔ اس نکتے کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئیے کہ ممکن ہے مذاہب کاتکا مل اس مقام پر پہنچ جائے کہ آخری مذہب خاتم ادیان کے عنوان سے نازل ہو اور اس طرح کہ اب احکام کی تبدیلی کی اس میں کوئی گنجائش نہ ہو۔۱ ۱ اس موضوع کی پوری تفصیل انشاء اللہ آپ سورہ احزاب کی آیہ ۴۰ کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں گے۔ مشہور اگر چہ یہی ہے کہ یہودی نسخ کے کلی طور پر منکر ہیں اور وہ اسی بناء پر مسلمانوں کے قبلہ کی تبدیلی پر معترض تھے لیکن وہ مجبور ہیں کہ اپنے مذہب کی بنیادی کتب کی روشنی میں نسخ کو تسلیم کریں کیونکہ تورات کے مطابق جس وقت نوح کشتی کے نیچے اترے تو خدا نے ان کے لئے تمام جانور حلال کردیے لیکن یہی حکم موسی کی شریعت میں منسوخ ہوگیا اور کچھ حیوانات حرام ہوگئے۔ تورات کے سفر تکوین، فصل ۹، شمارہ ۳ میں ہے: ہر حرکت کرنے والا جو زندہ رہے وہ تمہاری خوراک ہوگا اور یہ سب سبزہ زار کی گھاس کی طرح ہم نے تمہیں دیئے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:106-107
لفظ (آیت ) سے کیا مراد ہے
لغت میں (آیت ) نشانی اور علامت کو کہتے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے۔ مثلا ۱۔ قرآن کے جملے اور فقرے جو خاص علامات کے ساتھ ایک دوسرے سے جدا کئے گئے ہیں وہ آیت کے نام سے مشہور ہیں۔ جیسا کہ خود قرآن میں ہے: تِلْکَ آیَاتُ اللهِ نَتْلُوہَا عَلَیْکَ بِالْحَقِّ یہ اللہ کی آیات ہیں جنہیں ہم آپ پر تلاوت کرتے ہیں۔ (بقرہ ۲۵۲) ۲۔ معجزات کا ذکر آیت کے عنوان سے ہواہے۔ چنانکہ حضرت موسی کے مشہور معجزہ ید بیضا کے بارے میں ہے: وَاضْمُمْ یَدَکَ إِلَی جَنَاحِکَ تَخْرُجْ بَیْضَاءَ مِنْ غَیْرِ سُوءٍ آیَةً اٴُخْرَی ہاتھ گریبان میں بغل کے نیچے تک لے جاو جب وہ باہر نکلے گا تو سفید چمکنے والا بے عیب و نقص ہوگا اور یہ ایک اور معجزہ ہے۔ (طہ۔۲۲) ۳۔ خدا شناسی کی دلیل یا قیامت کی نشانی کے لئے بھی لفظ آیات قرآن میں آیاہے۔ ارشاد الہی ہے: و جعلنا الیل و النہار ایتین رات اور دن کو ہم نے (خدا شناسی کے لئے) دو دلیلیں قرار دیا۔ (بنی اسرائیل۔۱۲) قیامت پر استدلال کے موقع پر فرمایا: و من ایتہ انک تری الارض خاشعة فاذا انزلنا علیہا الماء اہتزت و ربت ان الذی احیاھا لمحی الموتی انہ علی کل شی قدیر اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین خشک اور سونی پڑی ہوئی ہے لیکن جب اس پر (بارش کا) پانی برستاہے تو وہ حرکت میں آتی ہے اور اس کے سبزے اگنے لگتے ہیں۔ وہی ذات جس نے زمین کو زندہ کیاہے۔ مردوں کو بھی زندہ کرے گی۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (حم السجدہ۔۳۹) ۴۔ آنکھوں کو متاثر کرنے والی چیزوں کے لئے بھی یہ لفظ آیاہے۔ مثلا اس آیت میں بلند و عالی محلات کے بارے میں ہے: اتبنون بکل ریع ایة تعبثون کیا ہر بلند جگہ پر عمارتیں بناتے ہو تا کہ ان میں مصروف لہو و لعب رہ سکو۔ (شعراء۔۱۲۸) واضح ہے کہ ان مختلف معانی میں ایک قدر مشترک ہے اور و ہ ہے (نشانی)۔ البتہ زیر بحث آیات میں قرآن نے کہاہے(ہم اگر ایک آیت منسوخ کرتے ہیں تو اس جیسی یا اس سے بہتر لاتے، ہیں) یہاں آیت سے مراد حکم سے۔ اگر ایک منسوخ ہوا تو اس سے بہتر نازل ہوگا یا اگر ایک نبی کا معجزہ منسوخ ہوا تو بعد والے نبی کو زیادہ واضح معجزہ دیاجاتاہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ بعض روایات میں مندرجہ بالا آیت کی تفسیر کے ذیل میں ہے کہ نسخ آیت ایک امام کی وفات اور اس کی جگہ دوسرے کی تقرری کی طرف اشارہ ہے۔ تو یہ مفہوم زیر نظر آیت کا ایک مصداق ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:106-107
ننسھا کی تفسیر
(ننسھا) کا لفظ محل بحث آیات میں (ننسخ) پر عطف ہے۔ اس کا مادہ (انساء) ہے۔ یہاں یہ لفظ تاخیر کرنے، حذف کرنے اور اذہان سے زائل کرنے کے معنی میں آیاہے اب یہ سوال پیدا ہوگا کہ (ننسخ) کو سامنے رکھتے ہوئے اس لفظ کا مفہوم کیا ہوگا۔ جواب یہ ہے کہ یہاں مقصد یہ ہے کہ اگر ہم کسی آیت کو منسوخ کریں یا اس کا تنسیخ میں بعض مصالح کے پیش نظر تاخیر کریں تو ہر صورت میں اس سے بہتر یا اس جیسی آیت لے آئیں گے۔ اس بناء پر لفظ (ننسخ) تھوڑی مدت کے نسخ کے لئے اور (ننسہا) دراز مدت کے نسخ کے لئے ہے۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:107
[Pooya/Ali Commentary 2:107] The whole universe is Allah's kingdom, He is the owner, the sovereign. Therefore, it. is a waste of time and energy, serving no purpose, if persons, i.e. polytheists and idol-worshippers, worship imaginary gods or deities.