إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا
Indeed those who have faith and do righteous deeds—the All-beneficent will endear them [to His creation].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 19:96
[Pooya/Ali Commentary 19:96] Those who believe in Allah and do good deeds love Allah, the Holy Prophet and his Ahlul Bayt whose love has been made obligatory in verse 23 of ash Shura; and it is said in it that whoso earns good by loving them Allah multiplies for him more and more good.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:96-98
۲۔ ”یسرناہ بلسانک “ کی تفسیر
۲۔ ”یسرناہ بلسانک “ کی تفسیر : ” یسر ناہ “ ” تیسرا “ کے مادہ سے ” تسہیل “ (سہل اور آسا ن کرنے ) کے معنی میں ہے ۔ْخدااس جملے میں فرماتا ہے : ” ہم نے قرآن کو تیری زبان پر آسان بنادیا تاکہ تو پر ہیز گاروں کو بشارت دے اور سخت قسم کے دشمنو ں کو ڈرائے “ یہ آسانی ممکن ہے کہ مختلف جہات سے ہو : ۱۔اس لحاظ سے کہ قرآن فصیح اور رواں عربی زبان میں ہے کہ جس کا لہجہ اور آواز کانوں کو بھلی لگتی ہے اور زبان کے لیے اس کی تلاوت آسان ہے ۔ ۲۔ اس لحاظ سے کہ خدا نے اپنے پیغمبر کو آیات قر آن کے بارے میں ایسی لیاقت اور گرفت عطاکی تھی کہ آسانی کے ساتھ ہراجگہ پرہرمشکل کے حل کے لیے اس سے استفادہ کرتے تھے اور اہمیشہ مومنین کے سامنے اس کی تلاوت کرتے تھے ۔ ۳۔مطالب ومعنی کے لحاظ سے جو انتہائی گہرے اور پر ہیں وہ سمجھتے میں ” سہل “ سادہ اور آسان ہیں ۔صولی طور پروہ تمام کے تمام عظیم اور اعلیٰ حقایئق جو معانی کو سمجھنے کی سہولت کے ساتھ ان محدود الفاظ کے قابل میں ڈھالے گئے ہیں خود اس بات کی نشانی ہیں کہ جو مذکورہ بالاآیت میں بیا ن ہوا ہے اور جو امداد الہیٰ کے زیر اثر صورت پزیر ہوا ہے ۔ سورہ قمر میں متعدد آیات میں یہ جملہ دہرایاگیاہے : ولقدیّسر ناالقراٰن للذکر فھل من مدّ کر ہم نے قرآن کوتذکّر اور یاد ہانی کے لیے آسان کیاہے ، توکوئی پند و نصیحت لینے والاہے ؟ پروردگار ! ہمارے دل کونور ایمان کے ساتھ اور ہمار ے تمام و جود کو عمل صالح کے نور کے ساتھ کردے ہمیں مومنین و صالحین خصوصا امام المتقین امیرالومنین علی علیہ اسلام کے دوستوں میں سے قرار دے ہماری محبت تمام مومنین کے دلوں میں ڈال د ے ۔ با ر الٰہا ! ہمارا عظیم اسلامی معاشرہ اتنی بڑی تعداد میں ہونے اور اتنے وسیع مادی و معنوی و سائل رکھنے کے باوجود دشمنوں کے پنجے ، میں گرفتار ہے اور آپس کے انتشار اور پھوٹ کی وجہ سے کمزور ہوگیاہے ۔تو مسلما نوں کو ایمان اورعمل صالح کی مشعل کے گرد اکھٹا کردے ۔ خدا وندا ! جس طرح تونے پہلے زمانے کے سرکشوں اور جابروں کو ایسا ہلاک و محور اور نابود کیاہے ان کی بھنک بھی کانوں میں نہیں پڑتی اسی طرح ہمارے زمانہ کی سپرطاقتوں کو بھی نیست و نابود کردے ان کے شر کو مستضعفین کے سروں سے ٹا ل دے اور مستکبر ین کے خلاف مومنین کی جد و جہد کو حتمی کامیاب ہمکنار کردے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:96-98
ایمان محبوبیت کا سرچشمہ ہے
ایمان مجوبیت کاسرچشمہ ہے : مذکورہ بالاتین آیات میں جو سورہ مریم کی آخری آیات ہیں ہھر اہل ایما ن، مومنین اور بے ایمان ستمگر وں کی بات ہورہی ہواور قرآ ن اور اس کی بشارتوں اور ا س کی تمبیوں سے متعلق گفتگوہے ۔در حقیقت یہ پہلی بحثوں کاتازہ نکات کے ساتھ ایک نچوڑ ہے ۔ پہلے فرمایاگیاہے : وہ لوگ جوایمان لائے اور انہونے اعما صالح انجام دیئے ۔خد اوندرحمان ان کی محبت دلوں میں ڈال دے گا (ان الذین آمنوا وعملو الصالحات سیجعل لھم الرحمن ودّا ) ۔ بعض مفسرین اس آیت کوامیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں ،اور بعض اسے تمام مومنین کے لیے عام کہتے ہیں ۔ بعض نے کہاہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ خداان کی دشمنوں کے دلوں ِمیں ان کی محبت ڈال دے گا اور یہ محبت ا ن کے لیے ایک ایسی ڈوری بن جائے گی جو انہیں ایمان کی طرف کھینچ لائے گی ۔ بعض نے اسے مومنین کی ایک دوسرے سے محبت کے معنی میں سمجھا ہے کہ جو قدرت وقوت اور اتحا د کاسبب ہوگی ۔ بعض نےاس سے آخرت میں مومنین کی ایک دوسرے سے دوستی کی طرف اشار ہ خیا ل کیاہے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کاآپس میں اتنا تعلق ہوجائے گا کہ و ہ ایک دوسرے کادیدار کرکے انتہائی خوشی اور سردرخسوں کریں گے ۔ لیکن اگر ہم وسعت نظر کے ساتھ آیت کے وسیع مفاہیم پرغور کریں توہم دیکھیں گے کہ آیت کے مفہوم میں یہ تمام تفسیریں جمع ہیں اور ا ن میں آپس میں کوئی تضاد بھی نہیں ہے ۔ اس کا اصلی نکتہ یہ ہے کہ ”ایمان اور عمل صالح “ ایک غیر معمولی قوت جذبات و کشش رکھتے ہیں ۔خداکی واحدانیت اور ا نبیاء کی دعوت پرایمان واعتقاد کی چمک انسان کے قلب و ر ح ، فکر اور گفتار کردار میں ، اعلیٰ انسانی اخلاق ،تقویٰ ،پاکیز گی ،سچائی ، امابت ، شجاعت ، ایثار درگزر کی صورت میں جلوہ گر ہے اور عظیم مقناطیسی قوتوں کی مانند اپنی طرف کھینچے والی ہے ۔ یہا ں تک کہ ناپاک اور گناہ سے آلودہ لوگ بھی پاک لوگوں سے خوش رہتے ہیں اور اپنے ہی جسیے ناپاک لوگوں سے نفرت کرتے ہیںاس بناپرمثال کے طورپر جب بیوی یاشوہریاکسی شریک کار کاانتخاب کرنا چاہیئے ہیں توتاکید کرتے ہیں کہ وہ پاک و نجیب ، امین اور اچھے کردار کاہو ۔ یہ فطری بات ہے ،اور حقیقت میں یہ پہلی جزا ہے کہ جو خدا مومنین اورصالحین کودیتاہے،تاکہ دامن دنیاسے لی کرآخری جہان تک کھنچا ہواہوتا ہے۔ ہم نے اکثر اپنی آنکھو ں سے دیکھاہے کہ اس قسم کے پاک لوگ جب دنیاسے آنکھ بند کرتے ہیں تو بہت سی آنکھیں ا ن کے لیے رو رہی ہوتی ہیں جاہے وہ ظاہر ی طورپرکم حیثیت دکھائی دیتے ہوں اور کوئی اجتماعی مقام و منزلت نہ رکھتے ہوں تمام لوگ ا ن کاخلاصہ محسوس کرتے ہیں اور سب لوگ اپنے آپ کو ان کے سوگ میں ڈوباہوا پاتے ہیں ۔ اب رہی یہ بات کہ بعض اس آیت کوامیرالمو منین علی علیہ السلام کے بارے میں سمجھتے ہیں اور بہت سی روایات میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہے تو بلاشک وشبہ اس کا اعلیٰ درجہ اور بلندترین مقا م ا س امام متقین کے ساتھ مخصوص ہے (چند اہم نکات کے ذیل میں ہم ان روایات کے بارے میں تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے ) لیکن یہ امر اس بات سے مانع نہیں ہوگا کہ دوسرے مرحلوں میں تمام مومنین او ر صالحین بھی اس محبت و مجوبیت مزہ چکھیں اوراس مودت الہٰی سے کچھ حصّہ حاصل کریں ۔اور یہ امرمیں بھی مانع نہیں ہوگا کہ دشمن بھی اپنے دلوں میں ان کے لیے محبت و احترم محسوس کریں ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایک حدیث میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے کہ :۔ ان اللہ اذاحب عبد ا دعا جبرئیل،فقال یاجبرئیل انی احب فلانافاحبہ ، قال فیحبہ جبرئیل ثم القبول فی الارض ! وان اللہ اذابغض عبد ا دعا جبرئیل ، فقال یاجبرئیل انی ابغض فلانابغضہ ،قال جبرئیل ، ثم یناد ی فی اھل السمآء ان اللہ یبغض فلابا فابغضوہ قال فیبغضہ اھل السمآ ء ثم لوضع لہ البغضاء فی الارض ! ” خداجس وقت اپنے بندوں میں سے کسی سے محبت کرتاہے تو اپنے عظیم فرشتے جبرئیل سے کہتا ہے کہ میںفلاں شخص کو محبوب رکھتاہوں تو بھی اسے دوست رکھ تو جبرئیل اس سے محبت کرنے لگتا ہے پھروہ آسمانوں میں منادی کرتاہے کہ اے اہلا آسمان خداند عالم فلاشخص لو پسند کرتا ہے تم بھی اسے محبوب رکھو تو اس کے بعد تمام اہل آسما ن اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر اس محبت کی قبولیت کاعمل زمین پرجاری ہوتاہے اور جب خدا کسی کو دشمن کرتاہے تو وہ جبرئیل سے کہتاہے کہ میں فلاں شخص سے نفرت کرتا ہوں تم بھی اس سے دشمنی رکھو تو جبرئیل اس سے دشمنی رکھتا ہیں پھر وہ اہل آسما ن میں مبادی کرتے ہیں کہ خدافلاں شخص سے نفرت کرتا ہے تم بھی اس سے دشمنی رکھو تو تمام اہل آسمان اس سے متنفرہوجاتے ہیں اس کے بعد اس تنفرکاعمل زمین پرجاری ہوتاہے ۔(۱) ۔ اس کے بعد قرآن کی طرف جوایمان اور عمل صالح کی ہدایت کاسر چشمہ ہے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیاہے : ہم نے قرآن کو تیری زبان پر آسان کردیاہے تاکہ توپرہیز گاروں کواس کے ذریعہ بشارت دے اور سخت مزاج اور ہٹ دھرم دشمنوں لو ڈرائے (فانمالیسرناہ بلسانک لتبشر بہ المتقین و تنذربہ قومالدا ) ۔ ”لد ّ “ (لام کی پیش اور دال کی شدکے ساتھ ) الد کی جمع ہے (عدد کے وزن پر) جوایسے دشمن کے معنی میں ہے جوسخت دشمنی رکھتا ہو اور ایسے اشخاص کے لیے بولاجاتا ہے جو شمنی کرنے میں متعصب ، ہٹ دھرم اور بے منطق ہوں ۔ زیر بحث آخری آیت میں جناب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مومنین کی دلجوئی کے لیے (خصوصا اس نکتہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ سورہ مکہ میں ناز ل ہوئی اور اس وقت مسلمان انتہائی سخت دباؤ میں تھے ) اور تمام ہٹ دھرم دشمنوں کو تنبیہ اور تہدید کے لیے قرآن کہتا ہے : ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی بے ایمان اور گنہگار قوموں کو ہلاک و نابود کیاہے ،وہ اس طرح بابود اور بھول بسری ہوگیئں کہ ا ن کا نام ونشان تک نہیں باقی نہ رہا ۔ ” اے پیغمبر ! کیا تو ان میں سے کسی کو محسوس اکرتا ہے یاان اکی کوئی خفیف سی آواز سنتا ہے “ (وکم اھلکناقبلھم من قرن ھل تحس منھم من احد و تسمع لھم رکزا ) ۔ ” رکز “ آہستہ آواز کے معنی میں ہے ۔اور جن چیز وں کو زمین میں چھپاتے ہیں انہیں”رکاز ‘ ‘ کہاجاتا ہے یعنی یہ ستمگر قومیں اور حق حقیقت کے سخت دشمن اس طرح سے درہم بر ہم ہوئے کہ ان کی خفیف سی آواز تک بھی سنائی دیتی ہے ۔ ۱۔یہ حدیث بہت سے مشہور منابع حدیث اور اس طرح بہت سی کتب تفسیر میں آئی ہے لیکن ہم نےاس متن کا انتخا ب کیا ہے کہ جو تفسیر فی ظلال کیل پانچویں جلد میں ” احمد “ ” اور مسلم “ اور ” بخاری سے نقل ہوا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:96-98
سوره مریم / آیه 96 - 98
۹۶۔ ان الذین اٰمنوا وعملوالصٰلحٰت سیجعل لھم الرحمن ودا ۹۷۔ فاانمایسر نٰہ بلسانک لتبشر بہ الملتقین و تنذربہ قو ما لد س ۹۸۔ وکم اھلکناقبلھم من قرن تحس منھم من احد او تسمع لھم رکزا ترجمہ ۹۶۔جولوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے خدائے رحمن ان کی محبت دلوں میں ڈال دے گا ۔ ۹۷۔ ہم نے قرآن کوتیری زبان پرآسمان کردیاہے تا کہ اس کے ذریعہ توپرہیز گاروں کوبشارت دے اور سخت قسم کے دشمنوں کو ڈرائے ۔ ۹۸۔ ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی (بے ایمان اور گنہگار ) قوموں کو ہلاکیاہے ۔اور تم ان میں سے کسی کوبھی دکھتے ہویا ان کی خفیف سی آواز بھی سنتے ہو ؟۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:96-98
۱۔ مومنون کے دلوں میں علی (علیه السلام) کی محبت
۱۔ مومنون کے دلوں میں علی (علیه السلام) کی محبت : شیعہ کتب کے علاوہ اہل سنّت کی حدیث و تفسیرکی بہت کتابوں میں متعدد روایات کوجو آیہ : ” ان الذین اٰمنواو عملواالصلحات سیجعل لھم الرحمن ودا “ کی شان نزول میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل ہوئی ہے ،ان سے اس بات کی نشان دہی ہوئی ہے کہ یہ آیت آغاز میںعلی علیہ السلام کے بارے میں ہی نازل ہوئی ہے ا ن میں سے علامہ زمخشرہ نے کشاف میں ‘سبط بن الجوزی شافعی اورقرطبی نے اپنی مشہور تفسیر میں ، محب الدین طبرسی نے ذخائر العقبیٰ میں نیشاپوری نے اپنی تفسیر میں،ابن صباغ مالکی نے فصول المہمہ میں سیوطی نے درالمنثور میں ،ھاشمی نے صواعق المحرقہ میں اور آلوسی نے روح المعانی میںیہی شان نزول نقل کی ہے ۔ان میں سے کچھ اس طرح ہیں :۔ ۱۔” ثعلبی تفسیر میں “ ” براء بن عازب “ سے اس طرح نقل کرتاہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا : قل اللھم اجعل لی عند ک عھد ا ، واجعل لی فی قلوب المومنین مودة ،فانزل اللہ تعالی : ان لذین اٰمنووعملواالصالحات سیجعل لھم الرحمن ودا ۔ کہو خدادندا ! میرے لیے اپنے ہاںعہد قرار دے اور مومنین کے دلوں میں میری محبت ڈال دے تو اس وقت آیہ ان الذین امنوا نازل ہوئی (۲) ۔ عین یہی عبارت یاتھوڑے سے اختلاف کے ساتھ بہت سی دوسری کتابوں میں آئی ہے ۔ ۲۔ بہت سی اسلامی کتابوں میںیہی معنی ابن عباس سے نقل ہو اہے و ہ کہتے ہیں : نزلت فی علی بن ابی طالب ” قال الذن آمنواوعملواالصالحات سیجعل لھم الرحمن ودا “ قال محبة فی قلوب المومنین ، یعنی آیہ ا ن الذین آمنو علی ابن ابی طالب کے بارے،میں بازل ہوئی اوراس کا معنی یہ ہے کہ خدا آپ کی محبت مومنین کے دلوں میں ڈال دے گا (۳) ۔ ۳۔ کتا ب ” صواعق “ میں محمد بن حنفیہ سے اس آیت کی تفسیر میں اس طرح نقل ہوا ہے : لایبقی موئمن الاو فی قلبہ ود لعلی ولاھل بیتہ کوئی مومن ایسا نہ ملے گا کہ جس کے دل میںعلی اور ان کے اہل بیت کی محبت نہ ہو (۴) ۔ ۴۔شاید اسی بناپرصحیح اور معتبرراویت میں خود امیرالمو منین علی علیہ السلام سے اس طرح نقل ہواہے : لوضربت خیشوم المئومن بسیفی ھذا علی ان یبغضی ماابغضی ولو صیت الذین بجماتھا علی المنافق علی ان بحبنی مااحبنی وذالک انہ قضٰی فانقضی علی السان النبی الامی انہ قال لایبغضک موئمن ولایجبک منافق : اگر میں اپنی تلوار مومن کی نا ک پر ماروں کہ وہ مجھ سے دشمنی رکھے تو وہ ہرگز میرادشمن نہیں ہوگااور اگر میں ساری دنیا(اوراس کی نعمتیں ) منافق اکودے ڈالو ں کہ وہ مجھے دوست رکھے تو بھی وہ مجھے دوست نہیں رکھے گا ۔یہ اس بناء پر ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک قطعی حکم کے ساتھ مجھ سے فرمایا ہے : اے علی (علیه السلام) ! کوئی مومن تجھ سے دشمنی نہیں رکھے گا اور کوئی منافق تجھ سے محبت نہ کرے گا (۵) ۔ ۵۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ اسلام سے منقول ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی نماز کے آخر میں ایسی بلند آواز کے ساتھ کہ جسے لوگ سنتے تھے ، امیر المو منین علی علیہ السلام کے حق میں اس طرح دعافرماتے تھے ۔ اللھم ھب لعلی اللمودة فی صدورالمو منین ، والھیة والعظمة فی صدورالمنافقین فانذل اللہ ان الذین اٰمنوا ” خداوند ! علی کی محبت مومنین کے دلوں میں ڈال دے اور اسی طرح ا س کی عظمت و ہیبت منافقین کے دلوں میں بٹھادے ۔تو اس وقت یہ آیت اور اس کے بعد والی آیت ناز ل ہوئی (۶) ۔ بہر حال جیساکہ ہم نے مذکورہ بالاآیت کی تفسیر میں بیان کیاہے ، علی علیہ اسلام کے بارے میں اس آیت کانزول ایک کامل اور اکمل نمونے کے عنوان سے ہے اور یہ تمام مومنین کے لیے ، سلسلہ ء مراتب کے ساتھ ، مفہوم کے اعتبار سے عام ہونے میں مانع نہیں ہوگا ۔ ۱۔یہ حدیث بہت سے مشہور منابع حدیث اور اس طرح بہت سی کتب تفسیر میں آئی ہے لیکن ہم نےاس متن کا انتخا ب کیا ہے کہ جو تفسیر فی ظلال کیل پانچویں جلد میں ” احمد “ ” اور مسلم “ اور ” بخاری سے نقل ہوا ہے ۔ ۲۔ احقاق الحق ، جلد ۳ ، ص ۸۳ تا ۸۶ بحوالہ تفسیر ثعلبی ۔ ۳۔روح المعانی، جلد ۱۶ ، ص ۱۳۰ اور مجمع بیان ، جلد ۶ ، ص ۵۳۳ ، اور نہج الباغہ کلمات قصار ۴۵ ۔ ۴۔ روح المعنی ،جلد ۱۶، ۱۳۰ ،اور مجمع بیان جلد ۶ ، ص ۵۳۳ ، اور نہج بلاغہ کلمات قصار ۴۵ ۔ ۵۔ روح المعنی ،جلد ۱۶، ۱۳۰ ،اور مجمع بیان جلد ۶ ، ص ۵۳۳ ، اور نہج بلاغہ کلمات قصار ۴۵ ۔ ۶۔ نوراثقلین ، جلد ۳ ، ص ۴۶۳۔