لَّقَدْ أَحْصَاهُمْ وَعَدَّهُمْ عَدًّا
Certainly He has counted them [all] and numbered them precisely,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 19:94
[Pooya/Ali Commentary 19:94]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:94-95
۱۔ اب بھی اسے خدا کا بیٹا خیال کرتے ہیں
۱۔ اب بھی اسے خدا کا بیٹا خیال کرتے ہیں : مذکورہ بالاآیت میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ قاطع ترین الفاظ میں خد ا کی اولاد ہونے کی نفی کرتاہے یہ وہ آیات ہیں جو چودہ سوسال پہلے کاوقعہ بنان کررہی ہیں جبکہ آج کے زمانے میں اور علم و دانس کی دنیا میں بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جو حضرت عیٰسی (علیه السلام) کو خدا کابیٹا سمجھتے ہیں ۔مجاز ی بیٹانہیں بلکہ حقیقی بیٹا اور اگر ان کی کچھ تحریر وں میں جو تبلیغی مقصد سے لکھی گئی ہی اور اسلامی علاقو ں کے لیے خاص طور پرترتیب دی گئی ہیں ،اس بیٹے کو اعزاز ی یامجازی بیٹا کہاگیا ہے ۔تووہ ا ن کی کتب اعتقاد ی کے اصلی متون سے کسی طرح بھی موافق نہیں ہے ۔ یہ معاملہ مسی(علیه السلام)ح کے خداکے بیٹا ہونے تک مخصر نہیں ہے بلکہ وہ تثلیث کاعقیدہ رکھتے ہیں کہ جو مسلمہ طورپرتین خداؤ کے معنی ہے اور ان کے حتمی و یقین عقائدمیں سے ہے،مسلمہ جونکہ اس قسم کی شرک آمیزبات سننے سے و حشت کرتے ہیں لہذا انہونےاسلامی علاقوں میں اپنے لب و لہجہ کو تبدیل کردیاہے اور اسے تشبیہ اور مجا ز کی قسم قرار یتے ہیں (مزید و ضاحت کے لیے قاموس کتاب مقدس کی طرف ” مس(علیه السلام)یح “ اور ”تین اقانیم “ کے بارے میں رجو کریں ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:94-95
۲۔آسمان پھٹ کرریزہ ریرہ کیسے ہوں گے ؟
۲۔آسمان پھٹ کرریزہ ریرہ کیسے ہوں گے ؟ مذکورہ بالاآیت میں جو یہ بیان ہوا ہے کہ ”قریب ہے کہ آسمان اس ناردانسنت سے پھت کرریزہ ریزہ ہوجائیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گرپرڑیں“ اس سے کیامراد ہے ؟ اس سے یاتو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن مجید کی تعبیرات کے مطابق ،عالم ہستی کامجموعہ ایک قسم کی حیات اور عقل وشعور رکھتا ہے اور کئی آیات کے مطابق خداتعالیٰ کی شان اقدس کی طرف یہ ناردا نسبت دینے سے پور اعالم سخت و حشت میں پڑ جاتا ہے ۔جیسے سورہ بقرہ کی آیہ ۷۴میں ہے : وان منھالمایھبط من خشیة اللہ بعض پتھر خوف خدا سے پہاڑ وں سے گر پڑتے ہیں ۔ اور جیسے سورئہ حشر کی آیہ ۲۱ میں ہے : ”لوانزلناھذاالقراٰن علیٰ جبل لرائیتہ خاشعا متصد عا من خشیة اللہ “ اگرہم اس قرآن کوپہاڑ وں پرناز ل کردیتے تووہ خداکے خوف سے پھٹ جاتے ۔ یاپھر یہ اس بات کی انتہائی زیادہ قباحت اور برائی کی طرف اشارہ ہے ۔عربی اور فارسی زبان میں ایسی مثالیں عام ملتی ہیں مثلاہم کہتے ہیں تو نے ایسا کام کیاہے کہ گویاآسمانوں اور زمین کومیرے سرپرگرادیاہے ۔ انشاء اللہ ہم اس بارے میں متعلقہ آیات کے ذیل میں پھربھی بحث کریں گے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:94-95
خدا اور اولاد کا ہونا ؟
خدااور اولاد کاہونا ؟ چونکہ گزشتہ آیات میں مشرکین کے انجام کے بارے میں گفتگو تھی لہذابحث کے آخری میں شرک کی ایک شاخ یعنی خداکی اولاد ہونے کے اعتقاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کی قباحت اور برائی کو نہایت قاطع انداز میںواضیح کیاگیاہے : انہونے کیاکہ خدائے رحمن نے کسی کواپنابیٹا بنایالیاہے ۔(قالو ااتخذالرحمن ولد ا) ۔ نہ صرف عیسائی یہ عقید ہ رکھتے تھے کہ حضرت عیسٰی(علیه السلام) خداکے بیٹے ہیں بلکہ یہودی بھی حضرت عزیرکے بارے میں یہی عقیدہ رکھتے تھے نیز بت پرست فرشتوں کے بارے میں اس قسم کاعقیدہ رکھتے تھے اور نہیںخداکی بیٹیاںخیال کرتے تھے (۱) ۔ اس کے بعدانتہائی سخت لہجے میںفرمایاگیا ہے :تم نے یہ کیسی بری او رسخت بات کی ۔(لقد جئتم مشیئااد ) ۔ ”اد “ (بروزن ” ضد “) اصل میں ایسی بر ی اور کریمہ آواز کوکہتے ہیں کہ جو شدید صوتی امواج کی گردش کی وجہ سے اونٹ کے گلے سے نکل کرکان تک پہنچے ۔بعد از اں اس لفظ کا بہت ہی بری اور وحشت ناک کاموں پر اطلاق ہونے لگا ۔ چونکہ یہ نارونسبت اصل توحید کے خلاف ہے ، کیونکہ نہ کوئی اس کامثل و نظیر ہے اور نہ ہی اسے اولاد کی ضرورت ہے اور نہ ہی وہ جسم اور جسمانیت کے عوارض رکھتا ہے ۔گویاتمام عالمی ہستی جس کی بنیاد توحید پرقائم ہے اس ناروانسبت سے وحشت و اضطراب میں ڈوب جائے گا ۔ لہذا بعد والی آیت میں قرآن مزید کہتا ہے : قریب ہے کہ اس بات پر آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ شدّت سے ساتھ گرپڑیں ۔(تکاد السمٰوٰت یتفطومنہ و تنشق الارض و تخرالجبال ھدّا) ۔ پھر تاکید کے لیے اور موضو ع کی اہمیت کے بیان کی خاطرکہتا ہے : اس لیے کہ انہونے خدائے رحمن کے لیے بیٹے کاادعاکیاہے ۔(ان دعواللرحمن ولد ا ) ۔ در حقیقت انہوں نے خدا کو کسی طرح سے پہچاناہی نہیںورنہ وہ یہ جان لیتے کہ ” خدائے رحمن کے لیے پرگز یہ بات سزاوار نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے“ ۔(وماینبغی للرحمن ان یتخذ ولد ا) ۔ انسان چند چیزوں میں سے کسی ایک کے لیے اولاد کی خوہش کرتاہے یاتو وہ اس بناء پرکہ اس کی زندگی ختم ہونے والی ہے لہذا اسے کسی مونس کی تلاش ہے ۔ لیکن خداکے بارے میں ان مطالب کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔نہ تو اس کی قدرت محدود ہے ، نہ اس کی زندگی ختم ہونے والی ہے ، نہ اس کے وجود میں ضعف و کمزوری کانام و نشان ہے ، نہ تنہائی کاکوئی احساس اور نہ ہی اسے کوئی ضرورت و احتجاج ہے ۔ علاوہ ازیں اولاد کاہونا،جسم ہونے اور بیوی رکھنے کی دلیل ہے اور یہ تمام باتیں ا س کی پاک ذات سے بعید ہیں ۔ اسی بناپربعد والی آیت میںفرمایاگیاہے : آسمانوں میں اورزمین میں کوئی بھی ہے سب اس کے بندے ہیں اور اس کے تابع فرمان ہیں (ان کل من فی السمٰوٰت والارض الااٰتی الرحمن عبد ا) ۔ اور باوجود اس کے کہ تمام بعدے اس کے مطیع اور تابع ہیں ،اسے ا ن کی اطاعت و فرمانبرداری کی ضرورت نہیں ہے بلکہ خود وہی اس کے نیاز مند اور محتاج ہیں ۔ وہ ا ن سب پرمحیط ہے اور ان کی تعداد کوپوری طرح سے جانتا ہے ۔(لقد احصاھم وعد ھم عد ا) ۔یعنی اس بات کاہرگز تصور نہ کرنا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اتنے بندوں کااس نے حساب رکھاہوگا ۔اس کاعلم اس قدرت وسیع و عریض ہے کہ نہ صرف وہ ان کے اعداد وشمار جانتاہے بلکہ ا ن کی تمام خصوصیات سے بھی آگاہ ہے اس کی حکومت کی حدودسے بھاگ کرباہرنکل سکتے ہیں ، اور نہ ہی ان کے اعمال میں سے کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی ہے ۔ وہ سب کے سب قیامت کے دن یکہ وتنہااس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے “۔(وکلھم اٰتیہ یوم القیامة فرد ) ۔ اس بناء پرمس(علیه السلام)یح بھی ، عزیربھی م فرشتہ بھی اور تمام کے تمام انسان بھی اس کے اس ہمہ گیرحکم میں شامل ہیں ۔اس حالت میںیہ بات کس قدرنامناسب ہے کہ ہم اس کے لیے اولاد کاعقیدہ رکھ کراور اس کی ذات پاک کوعظمت کی بلندیوں سے اس قدر نیچے لے آئیں اور اس کے صفات جلال و جمال کاانکار کردیں (۲) ۔ ۱۔حضرت عزیرکے بارے میں سورہ توبہ کی آیہ ۳۰ اور فرشتوں کے بارے میں سورہ زخرف کی آیہ ۱۹ میں گفتگو آئی ہے ۔ ۲۔خدابیٹے کی نفی کے بارے میں تفسیر نمونہ جلد او ل سورہ بقر ہ کی آیہ ۱۱۶کے ذیل میں اور آٹھویں جلد سورہ یونس آیہ ۶۸ کے ذیل میں بھی بحث کی گئی ہے ۔