وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَلِكَ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا
[O Gabriel, tell the Prophet,] ‘We do not descend except by the command of your Lord. To Him belongs whatever is before us and whatever is behind us and whatever is in between that, and your Lord does not forget
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 19:64
[Pooya/Ali Commentary 19:64]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:64-65
ہم تو حکم کے بندے ہیں
ہم تو حکم کے بندے ہیں : اگرچہان آیات کی ایک خا ص شان نزول ہے جو اوپربیان ہوئی ہے ، لیکن یہ اس بات کے مانع نہیں ہے کہ اس کا گزشتہ آیات کاساتھ منطقی رابط و تعلق ہو کیونکہ یہ اس بات پر ایک راکید ہے کہ جبرئیل جو کچھ گزشتہ آیات میں لے کر آیا ہے وہ سب کاسب بے کم و کاست خداکی طرف سے ہے اورکوئی بات اس نے خود اپنی طرف سے نہیں کی ہے پہلی آیت قاصد وحی کی زبان کہتی ہے : ہم تیرے پروردگار کے فرمان کے بغیر نازل نہیں ہوتے ۔(ومانتنز ل الابامرربک ) سب کچھ اسی کی طرف سے ہے ،اورہم تو جان و دل برکف بندے ہیں ، جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارت پیچے ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب اسی کاہے ( لہ مابین ایدیناوماخلفنا ومابین ذالک ) ۔ خلاصہ یہ ہے کہ آئندہ وگزشتہ اور زمانئہ حال ،یہا ں اور وہاں اور سب جگہ ،دنیا و آخرت و برزخ سب کچھ پروردگار کی ذات پاک کے ساتھ متعلق ہے اور اسی کاہے ۔ اور یہ بھی جان لو کہ : ” تمہاراپروردگار نہ فراموش کرنے والاتھااور نہ ہے (وماکان ربک نسیا) ۔ بعض مفسرن نے ” لہ مابین ایدینا و ماخلفناومابین ذالک “ کی متعدد تفسیر یں کی ہیں جو تقریبا گیارہ تک پہنچ جاتی ہیں ،لیکن جو کچھ ہم نے اوپر بیان کیاہے وہ سب سے زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے ۔ اس کے بعد مزید فرمایاگیا ہے : یہ سب تیرے پروردگار کے کے حکم سے ہے ” جو آسمان ں ، زمین اور جوکچھ ان کے درمیان ہے کا پروردگار ہے ،(رب السمٰوٰت والارض ومابینھما) ۔ اب جبکہ یہ بات ہے اور تمام ہدایات اسی کے طر سے ہیں ” تو پھر صرف اسی کی عبادت کرو ( فاعبدہ ) ۔ ایسی عبادت کہ جو توحید و اخلاص کے ساتھ ہو ، اور چونکہ اس راہ بندگی و اطاعت کی راہ میں صابر رہ : ( و اصطبر لعبادتہ ) ۔ اور آخر ی جملہ میں ہے : کیاتجھے خداکا کوئی مثل و مانند نظر نہیں آتا ہے : (ھل تعلم لہ سمیا ) ۔ یہ جملہ در حقیقت اس بات پر ایک دلیل ہے جو اس سے پہلے جملے میں بیان ہوئی ہے ، یعنی کیا اس پاک ذات کے لیے کوئی شریک اور مثل و مانندہے کہ جس کی طرف تم سوال دراز کرو اس کی عبات کرو ؟ لفظ ”سمی “ اگر چہ ہمنام کے معنی میں ہے لیکن یہ بات صاف طور پر واضح و روشن ہے کہ اس مقام پر صرف نام مراد نہیں ہے ،بلکہ نام کا معنی و مفہوم مراد ہے ، یعنی کیا خد اک سواکوئی اور خالق ، رازق ، محئی ممیت ،ہر چیز پر قادر تمہیں مل سکتا ہے ؟
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:64-65
شان نزول
شان نزول : بہت سے مفسرین مذکورہ بالاآیت کی شان نزول یہ بیان کرتے ہیں کہ چند دنوں تک وحی منقطع رہی اور خدائی و حی کاپیغام رساں جبرئیل پیغمبر اکرم کے پاس نہ آیا ۔جب یہ مدت ختم ہوگئی اور جبرئیل پیغمبر اکرم پرنازل ہوا، تو آپ نے اس سے فرمایا: تونے دیرکیوں کردی ؟ میں تیرابہت ہی مشتاق رہا تو جبرئیل نے عرض کی ، میں تو آ پ سے بھی زیادہ مشتاق تھا لیکن میں تو حکم کاپابند ہوں ۔ جب مجھے حکم ملتاہے میں تو اس وقت آتاہو ں اور جب مجھے کوئی حکم نہ ہو تو میں نہیں آتا (۱) ۔ ۱۔تفسیر قرطبی ،جلد ۶ ، ص ۴۱۶۸ اور تفسیر مجمع البیان زیر بحث آیہ کے ذیل میں ( تھوڈے سے فرق کے ساتھ ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:64-65
سوره مریم / آیه 64 - 65
۶۴۔ومانتنزل الابامر ربک لہ مابین ایدیناوماخلفناومابین ذٰلک وماکان ربک نسیا ۶۵ ۔رب السمٰوٰت والارض ومابینھمافاعبد ہ و صطبر لعبادتہ ھل تعلم لہ سمیا ترجمہ ۶۴ ۔ ہم تیرے پرور دگار کے حکم بغیر نازل نہیں ہوتے جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچے ہے اور کچھ ان دونوں کے درمیان ہے وہ سب اسی کاہے اور تیرا پروردگار بھولنے والا نہ تھا (اور نہ ہے ) ۔ ۶۵۔ وہ آسمانوں اورزمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے کاپروردگار ہے ۔پس اسی کے عبادت کرو اور اس کی عبادت کرنے میں صبر سے کام لو کیا اس کاکوئی مثل و مانند تمہیں مل سکتا ہے ؟۔