وَوَهَبۡنَا لَهُۥ مِن رَّحۡمَتِنَآ أَخَاهُ هَٰرُونَ نَبِيّٗا
And We gave him out of Our mercy his brother Aaron, a prophet.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 19:51-65
Couplet (65) wither interpolation in bracket is the requisite of the paragraph.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:52-53
موسٰی ایک مخلص و برگریدہ پیغبر
موسٰی ایک مخلص و برگریدہ پیغبر : زیر نظر تین آیات حضرت موسٰی (علیه السلام) کی طرف ایک مختصر سااشارہ کرتی ہیں ،جو حضرت ابراہیم کی ذایّت میں سے ہیں اور ان بزرگوار پر ہونے والی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہیں ،جنہونے ابراہیم (علیه السلام) کے مسلک کی پیروی کرتے ہوئے اس کی تکمیل کی ۔ پہلے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے :اپنی آسمانی کتاب میں موسٰی کو یاد کرو (واذکرفی الکتاب موسی ۔ اس کے بعد نعمتوں میں سے جو اللہ نے اس عظیم پیغمبر کو مرحمت فرمائی ہیں پانچ قسم کی نعمتوں کو بیان کیا گیاہے : ۱۔ وہ خداکی اطاعت اور نبدگی کی وجہ اس مقام کو پہنچاکہ ” پروردگار نے اسے خاص اور پاک بنادیا (انہ کان مخلصا) ۔اوروہ یقینی طورپر جو شخص ایسے مقام پرفائز ہوجا ئے وہ انحراف اور آلودگی کے خطرے سے محفوظ رہتا ہے ، چونکہ شیطان خداکے بندوں کو منحرف کرنے پر اپنے تمام تر اصرار کے باوجود اعتراف کرتاہے کہ وہ -- ” مخلصین “ کو گمرہ کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ۔ ” قال فبعز تک لاغو ینھم اجمعین الاعبادک منھم المخلصین “ اس نے کہا تیری عزّت کی قسم تیرے تیرے مخلص بندوں کے سوا ان سب کوگمراہ کروں گا ۔(ص ٓ۸۲،۸۳) ۲۔وہ بلند مرتبہ پیغمبر اور رسول ہے ۔(وکان رسولابنیا) ۔ حقیقت رسالت یہ ہے کہ کسی کے ذمہ کوئی کام کیا جائے اور وہ اس ماموریت کی تبلیغ اور ادائیگی کا پابند ہوا ور یہ وہ مقام ہے کہ جوان تمام انبیاء کو حاصل تھا ، جو دعوت دینے پر مامور تھے ۔ ” نبیا“ کا یہاں اس پیغمبر کے بلند مقام اور رفعت شان کی طرف اشارہ ہے کیونکہ یہ لفظ در اصل ” نبوہ “ (بروزن نغمہ ) جو مقام کی رفعت و بلندی کے معنی میں ہے ،اسسے لیا گیا ہے البتہ اس کی دوسری اصل بھی ہے کہ جو ” نباء“ سے خبر کے معنی میں ہے ،کیونکہ پیغمبر خداوندتعالی کی طرف سے خبر حاصل کرتا ہے اوردوسروں کو خبردیتا ہے ،لیکن یہاں پہلامعنی زیادہ مناسب ہے ۔ ۳۔بعد والی آیت موسیٰ(علیه السلام) کی رسالت کے آغاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہے : ہم نے اسے کوہ طورکی دائیں طرف سے بلند آواز میں پکارا (ونادیناہ من جانب الطورالایمن ) ۔ اس تاریک اور پروحشت رات میں جبکہ وہ اپنی زوجہ کے ساتھ مدین کے بیان نوں سے گزرکر مصر کی طرف جارہے تھے ، تو ان کی زوجہ کو وضع حمل کی تکلیف شروع ہوگئی او روہ خود ایک شدید سردی کی لپیٹ میں آگیا اورایک آگ کے شعلے کی تلاش میں جارہاتھا کہ یکایک اوراچانک دور سے ایک بجلی چمکی اورایک آواز آئی اور موسیٰ(علیه السلام) کو رسالت کافرمان دیاگیا اوریہ اس کی زندگی کا عظیم ترین افتخار اور شیریں ترین لمحہ تھا ۔ ۴۔علاوہ ازیں ”ہم نے اسے قریب کیا (پناتقرب بخشا) اور اس سے گفتگوکی “ (وقربناہ نجیا)(۱) ۔ خداوندتعالیٰ کی نداایک نعمت تھی اوران سے تکلم و گفتگو دوسری نعمت ۔ اور آخر میں ہم نے اپنی رحمت سے اسے ہارون جیسابھائی عطاکیا کہ جو خود بھی پیغمبر تھا ۔ (ووھبنالہ من رحمتنااخاہ ھارون نبیا) ۱۔”نجی “ ”مناجی “ کے معنی میںوہ شخص ہے کہ جو دوسرے کے کان میں کوئی بات کہے ، یہاں خدانے پہلے موسیٰ کو دورکے فاصلے سے صدادی ، ان کے نزدیک آنے کے بعد ان سے ” بخوی “ (سرگوشی) میں بات کی ۔(یہ بات کہے بغیر وضح ہے کہ خدانہ زبان رکھتا ہے اور انہ مکان بلکہ وہ فضامیں صوتی امواج پیداکردیتا ہے اور موسیٰ(علیه السلام) جیسے بندے کے ساتھ گفتگوکرتا ہے ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:52-53
۱۔مخلص کسے کہتے ہیں ؟
۱۔مخلص کسے کہتے ہیں ؟ اوپر والی آیت میں ہم نے پڑھاہے کہ خدانے موسیٰ(علیه السلام) کو اپنے ”(لام کی زبرکے ساتھ ) بندوں میں سے قراردیااور یہ مقام جیساکہ ہم نے اشارہ کیاہے ۔بہت ہی باعظمت مقام ہے ۔یہ مقام ہے کہ جہاںخداکی طرف سے انسان کے لیے لغزشوں اور انحرفات سے بچنے کاگویاہمیہ ہوجاتا ہے،ایسامقام جہاں شیطان کاکوئی اثر نہیں ،یہ مقام مسلسل نفس کے ساتھ جہاد کرنے اور لگاتار خداوندتعالی کے فرمان کی اطاعت کے بغیر حاصل نہیں ہوتا ۔ علم اخلاق کے بزرگ علماء اس مقام کو بہت اعلیٰ سمجھتے ہیں قرآن کریم کی آیات سے معلوم ہوتاہے کہ ” مخلصین “ خاص صفات اور افتخارات کے حامل ہوئے ہیں جو انشااللہ متعلقہ آیات کے ذیل میں آئیں گی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:52-53
۲۔رسول اور نبی میں فرق
۲۔رسول اور نبی میںفرق :رسول دراصل اس شخص کے معنی میں ہے کہ جو وحی الٰہی سے آگاہ ہے اوراس کی خبر دیتا ہے اوردوسری تفسیر کی بناپر ایک عالی مقام شخص کے معنی میں ہے (دونوں کامادہ اشتقاق بیان ہوچکاہے ) یہ تو لغت کے لحاظ سے ہے ۔ لیکن قرآنی تعبیر ات اورروایات کی زبان کے لحاظ سے بعض کا نظر یہ یہ ہے :۔ رسول وہ شخص ہوتاہے کہ جو صاحب دین و آئیں ہو اور تبلیغ کرنے پر مامور ہو ۔یعنی وحی الہٰی کو حاصل کر کے کو اس کی تبلیغ کرے ، باقی رہا ”نبی “ تو وہ وحی کو حاصل تو کرتاہے لیکن تبلیغ کرنا اس کی ذمّہ داری نہیں ہوتی بلکہ وہ حی صرف اسی کی اپنی ذمہ داری انجام دینے کے لیے ہوتی ہے یا اگر لوگ اس سے سوال کریں تو وہ اس کاجوابا دیتاہے ۔ دوسرے لفظوں میں ”نبی “ اس آگاہ طبیب کی طرح ہے کہ جو اپنے مقام پر بیماروں کی پذیرائی کے لئے آمادہ ہے لیکن وہ بیمار وں کے پیچھے نہیں جاتا لیکن اگر بیماراس کی طرف رجوع کریں تو پھر ان کاعلاج کرنے میں کوتاہی نہیں کرتا ۔ لیکن رسول اس طبیب کی مانند ہے کہ جو سیار ہے (یعنی بیمار کے پاس علاج کرنے کے لیے چل کرجاتا ہے ) اور اس تعبیر کے مطابق جو حضرت علی (علیه السلام) نے نہج البلاغہ میں پیغمبر اسلام کے بارے میں فرمائی ہے (طبیب دوّاربطبہ ) (1) ۔ وہ شہر وں میں ، دیہات میں ، کوہ ودشت بیابان میں ، ہر جگہ جاتا ہے تاکہ بیماروں کو تلاش کرے اور ان کاعلاج کرے ۔وہ ایک ایسا چشمہ ہے کہ پیاسوں کے پیچھے دوڑتا ہے ۔وہ ایساچشمہ نہیں ہے کہ جسے پیاسے تلاش کرتے پھریں ۔ اور ان روایات سے کہ جو اس سلسلے میں ہم تک پہنچ ہیں اور مرحوم کلینی نے کتاب ”اصول کافی “ کے باب ”طبقات الانبیاو الرسل “ اور باب ” الفرق بین النبی والرسول “ میں بیان کی ہیں ، یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی وہ ہوتاہے کہ جو حقائق و حی کو عالم خواب میں دیکھتا ہے (جیسا کہ حضرت ابرہیم (علیه السلام) کاخوب تھا ) یا خواب کے علاوہ بیداری میں بھی وحی کے فرشتہ کی آواز سنتا ہے ۔ لیکن رسول وہ ہوتاہے کہ عالم خواب میںوحی حاصل کرنے اور فرشتہ کی آواز سننے کے علاوہ خوب اس کا بھی مشاہدہ کرتا ہے (2) ۔ البتہ ان رایات میں جو کچھ بیان ہواہے ، اس تفسیر کے منافی نہیں جوہم نے بیان کی ہے کیونکہ ممکن ہے کہ نبی و رسول کی ماموریت کا اختلاف و تفاوت وحی حاصل کرنے کے طریقہ پر بھی اثر انداز پوتا ہو اور دوسرے لفظوں میں ماموریت کاہرمرحلہ و حی کے ایک مخصوص مرحلہ کے ساتھ ہو (غورکیجئے گا ) ۔ 1۔نہج البلاغہ ، خطبہ ۲۰۸۔ 2۔اصول کافی ، جلد اول ، ص ۱۳۴،(چاپ دارالکتب الاسلامیہ ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 19:53
[Pooya/Ali Commentary 19:53] In verse 25 to 35 of Ta Ha prophet Musa prayed to Allah to appoint for him a successor (wazir) from his family, his brother Harun, so as to strengthen by him his back; and associate him in his affairs so that they might glorify Allah much and often. In verse 36 Musa's prayer is granted by Allah. On several occasions the Holy Prophet had said that Ali was to him as Harun was to Musa. See commentary of al Baqarah : 51. He actually prayed to Allah for appointment of Ali as his wazir (successor) as Musa prayed for Harun. See commentary of Ma-idah: 67. Allah granted his prayer also. See commentary of Ali Imran: 52 and 53 and Ma-idah: 67. Aqa Mahdi Puya says: In the state of ascension (refer to verse 52) Allah informed Musa that his prayer (Ta Ha: 25 to 36) had been accepted (Taha: 36), and Harun was made a prophet. Likewise Ali was appointed as the successor of the Holy Prophet at the time of his ascension (see commentary of Bani Israil: 1). Ali was not a prophet because prophethood terminated in the Holy Prophet as the religion of Allah was completed on the day of Ghadir when the Holy Prophet, under the command of Allah, established the wilayah and imamah of Ali ibn abi Talib, so there was no need of any prophet after the Holy Prophet (see commentary of Fatihah: 7). Therefore Ali was an Imam (see commentary of al Baqarah: 124).