فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ قَالُوا يَامَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا
Then carrying him she brought him to her people. They said, ‘O Mary, you have certainly come up with an odd thing!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 19:27
[Pooya/Ali Commentary 19:27] (see commentary for verse 16)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:27-33
۴۔ نوزائیدہ بچہ کس طرح بات کرسکتا ہے؟
۴۔ نوزائیدہ بچہ کس طرح بات کرسکتا ہے؟ یہ بات کچھ کہے بغیر ظاہر ہے کہ معمول یہ ہے کہ کوئی توزائیدہ بچہ تو لہ کے ابتدائی گھنٹوں یا دنوں میں بات نہیں کرتا ، کیونکہ بات دماغ کی کافی نشونمااور اس کے بعد زبان و حنجرہ کے عضلات کابڑ ھنا اورانسان بدن کے مختلف اعضاء کی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کا محتاج ہے ۔اور ان امورکے لیے حسب معمول کئی مہینے گزرنے چاہیں تاکہ یہ بندر یج اور آہستہ آہستہ بچوں میں فرہم ہوں ۔ لیکن پھر کوئی عملی دلیل اس امرکے محال ہونے پر ہمارے پاس نہیں ہے صرف یہ ایک غیرمعمولی کا م ہے اورتمام معجزات اسی قسم کے ہوتے ہیںیعنی سب ہی غیر معمولی کام ہوتے ہیں نہ کہ محال عقلی ،اس عمل کی تشریح ہم نے انبیاء کے معجزات کی بحث میں کردی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:27-33
حضرت مسیح (علیه السلام) کی گہوارے میں باتیں
آخر کار حضرت مریم (علیه السلام) اپنے بچے کو گود میں لیے ہوئے بیابان سے آبادی کی طرف لوٹیں اور اپنی قوم اور رشتہ داروں کے پاس آئیں (فاتت بہ قومھا تحملہ ) ۔ جونہی انہونے ایک نومولود بچہ ان کی گود میں دیکھا تعجب کے مارے ان کا منہ کھلاکا کھلارہ گیا وہ لوگ کہ جو مریم (علیه السلام) کی پاکدامنی سے اچھی طرح واقف تھے اور ان کے تقویٰ و کرمت کی شہرت کو سن چکے تھے سخت پریشان ہوئے ۔یہاں تک کہ ان میں سے کچھ تو شک و شبہ میں پڑ گئے اور بعض ایسے لو گ کہ جو فیصلہ کرنے میں جلد باز تھے انہونے اسے بربھلاکہناشروع کردیا اور کہنے لگے اس بد کاری کے ساتھ تمہارے روشن ماضی کو بہت افسوس ہے اور صد افسوس اس پاک خاندان پر کہ جو اس طرح بد نام ہوا ۔ کہنے لگے اے مریم (علیه السلام) تو نے یقینابہت براکام انجام دیا ہے (قالوایامریم لقد جئت شیئافریا)(۱) ۔ بعض نے ان کی طرف رخ کیااور کہا : ” اے ہارون کے بہن تیراباپ تو کو ئی بڑ اآدمی نہیں تھا اور تیری ماں بھی بدکار نہیں تھی “ ۔ (یااخت ھورن ماکان ابوک امرا سوء وماکانت امک بغیا) ۔ ایسے پاک وپاکیزہ ماں باپ کے ہوتے ہوئے ہم یہ تیر ی کیا حالت دیکھ رہے ہیں تونے اپنے باپ کے طریقہ اور ماں کے چلن میں کونسی بڑائی دیکھی تھی کہ تونے اس سے رو گردانی کی ! یہ بات کہ جو انہونے مریم (علیه السلام)سے کہی کہ ” اے ہارون کی بہن “ مفسرین کے درمیان مختلف تفاسیر کا موجب بنی ہے ، لیکن جو بات سب سے زیادہ صحیح نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہارون ایک ایساپاک و صالح آدمی تھا کہ وہ بنی اسرائیل کے درمیان ضرب المثل ہوگیا تھا ۔ وہ جس شخص کا پاکیز گی کے ساتھ تعارف کروانا چہاتے تھے تو اس کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ ہارون کا بھائی ہے یا ہارون کی بہن ہے مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں اس معنی کو ایک مختصر میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیاہے (۲) ۔ ایک حدیث میں کہ جو کتاب ”سعد العود “ میں آئی ہے اس میں ہے کہ پیغمبر اکرم نے مغیرہ کو (عیسائیوں کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے ) نجران بھیجاتو عیسائیوں کی ایک جماعت نے قرآن پر اعتراض کے طور پر کہا : کیا تم اپنی کتاب میںیہ نہیں پڑھتے ہو ”یااخت ھارون “ حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر ہارون سے مراد حضرت موسیٰ (علیه السلام) کے بھائی ہیں تو مریم (علیه السلام) اور ہاروکے درمیان تو بہت فاصلہ تھا ۔ مغیرہ چونکہ جواب نہ دے سکا ۔لہذاس نے اس بارے میں پیغمبر اکرم سے سوال کیا ، تو آپ نے فرمایا : تو نے ان کے جوب میں یہ کیوں نہ کہا کہ بنی اسرائیل کے درمیان یہ معمول تھا کہ نیک افراد کو انبیاء اور صالحین کے ساتھ نسبت دیاکرتے تھے (۳) ۔ اس وقت جناب مریم (علیه السلام) نے خدا وندتعالیٰ کے حکم سے خاموشی اختیار کی ،صرف ایک کام جو انہونے انجام دیا یہ تھا کہ اپنے نومولود بچے عیسٰی کی طرف اشارہ کیا (فاشارت الیہ) ۔ لیکن اس کام نے ان کے تعجباکو اور بھی بر انگینتحہ کردیا اورشاید ان میں سے بعض نے اس کو ان کے ساتھ ٹھٹھ کرنے پر محمول کیا اور وہ غصے میں آکر بولے : اے مریم ! ایساکام کرکے تو اپنی قوم کا مذاق بھی اڑارہی ہے ۔ بہر حال انہونے اس سے کہا : ہم ایسے بچے کے ساتھ کہ جو ابھی گہوارہ میں ہے کیسے باتیں کریں ۔(قالو اکیف نکلم من کان فی المھدصبیا) ۔ مفسرین نے لفظ ”کان“کے بارے میں کہ جو ماضی پر دلالت کرتا ہے اس مقام پر بہت بحث کی ہے لیکن ظاہر ا یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر یہ لفظ موجودوصف کے ثبوت و لزوم کے لیے ہے اور وہ واضح الفاظ میں انہونے جناب مریم (علیه السلام) سے یہ کہا ہم اس بچے سے کہ جو ابھی تک گہوارے میں ہے کیسے بات کریں ؟ قرآن مجیدکی دوسری آیات اس معنی پر شاہد ہیں مثلا: کنتم خیرامة اخرجت اللناس ” تم بہترین امت ہو کہ جو انسان معاشرے کے فائدہ کے لیے وجود میں آئے ہو (آل عمران ،آےت۱۱۰) ۔ مسلمہ طورپر لفظ” کنتم “ (تم تھے ) یہاں پر ماضی کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یہ اسلامی معاشرے کے لیے ان صفات کے تسلسل اور اثبوت کا بیان ہے ۔ اس کے علاوہ انہونے ” مھد“ (گہوارہ ) کے بار ے میں بھی بحث کی ہے ،کہ ابھی تک حضرت عیسٰی (علیه السلام) گہوارہ تک نہیں پہنچے تھے ، بلکہ آیات کا ظاہریہ ہے کہ حضرت مریم (علیه السلام) کے اس جمیعت کے پاس پہنچتے ہی ، جبکہ حضرت عیسٰی (علیه السلام) ان کی آغوش میں تھے ، ان کہے اور لوگوں کے درمیان باتیں ہوئیں ۔ لیکن لغت عربی میں لفظ -” مھد “ کے معنی کی طرف توجہ کرتے ہو ئے اس کے سوال کا جوب واضح ہوجاتا ہے ۔ لفظ ” مھد “ جیساکہ راغب مفردت میں کہتا ہے ایسی جگہ کے معنی میں ہے کہ جو بچے کے لیے تیار کی جاتی ہے ۔چاہے وہ گہوارہ ہو یا ماں کی گود یابستر اور مھد اور مھاددونوں ہی لغت میں (المکان المھد الموطاء):(آرام اور سونے کے لیے ) تیار کی ہو ئی اور بچھی ہوئی جگہ کے معنی میں ۔ بہر حال وہ لوگ اس کی یہ بات سن کرپریشان ہوگئے ، اور بلکہ شاید غضب ناک ہو گئے ۔جیساکہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ایک دوسرے سے یہ کہا کہ اس کا تمسخر او ر استہزاء کرنا ، جاوئہ عفت و پاکدامنی سے اس کے انحرف کی نسبت ہمارے لیے زیادہ سخت اور سنگین تر ہے ۔ لیکن یہ حات زیادہ دیرتک قائم نہ رہی ۔کیونکہ اس نومولود بچے نے بات کرنے کے لیے زبا ن کھولی اور کہا : میں اللہ کا بندہ ہو ں (قال انی عبداللہ ) اس نے مجھے آسمانی کتاب مرحمت فرمائی ہے ( (اٰتانی الکتاب ) اور مجھے پیغمبر قرار دیا ہے (وجعلنی نبیا ء) ۔ اور خدانے مجھے ایک بابرکت و جود قراردیا ہے ، خواہ میں کہیں بھی ہوں میراوجود بندوں کے لیے ہر لحاظ سے مفید ہے ( وجعلنی مبارکااینماکنت ) اور اس نے مجھے نماز پڑھتے رہنے اور زکوة دینے کی و صیت کی ہے ( واو صانی بالصلوة و الزکوٰة ماد مت حیا) اور اس کے علاوہ اپنی والدہ کے بارے میں نیکوکار ، قدردائی کرنے والااور خیر خوہ قرار دیاہے ( و بر ابولدتی ) (۴) ۔ اور اس نے مجھے جبار وشقی قرار دیاگیا ہے (ولم یجعلنی جبار اشقیا) ا”جبار “ اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے لیے تو لوگوں پر ہر قسم کے حقوق کاقائل ہو ۔لیکن کسی دوسرے کے لیے اپنے اوپر کسی بھی حق کاقائل نہ ہو ۔ اس کے علاوہ ”جبار “ اس شخص کو بھی کہتے ہیں کہ جو غیض و غضب کے عالم میں لوگوں کو مارتا اور نابود کرتاہو ۔اور فرمان عقل کی پیروی کرتا ہے ہو یاوہ یہ چاہتا ہو کہ اپنی کمی اور نقص کو تکبیر اور بڑائی کے دعوے کے ذریعہ پوراکرے ۔یہ ساری کی ساری صفات ایسی ہیں جوہر زمانے کے طاغوتوں اور متکبر ین سے ظاہر ہوتی رہتی ہیں (۵) ۔ ۵۔جبار کے بارے میں مزید و ضاحت اور اس سوال کے جواب کے لیے کہ کس طرح خداکی ایک صفت جبار ہے تفسیرنمونہ کی جلد نہم ص ۱۴۳(اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔ ”شقی “ اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جو مصیبت و بلااور سزاکے اسباب اپنے لیے فراہم کرتا ہے او بعض نے کہا اس سے مراد ایساشخص ہے جو نصیحت قبول نہیں کرتا کہ یہ دونوں معانی ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عیسٰی فرماتے ہیں : میرادل نرم ہے اور میں اپنے آپ کو اپنے نزدیک چھوٹاسمجھتاہوں (۶) ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ دونوںصفات جبارو شقی کا نقطئہ مقابل ہیں ۔ آخرمیںیہ نومولود کہتا ہے : ”خداکامجھ پر سلام و درود ہو اس دن کہ جب میں پید ا ہوا اور اس دن کہ جب میں مروں گا اور اس دن کہ جب میںزندہ کرکے اٹھایا جاؤ گا “۔(والسلام علی یوم ولد ت و یوم اموت و یوم البعث حیا ) ۔ جیساکہ ہم نے حضرت یحییٰ (علیه السلام) سے مربوط آیات کی شرح میں بیان کیا ہے ، یہ تین دن انسان کی زندگی میں ۔زندگی سازااور اخطرناک دن ہیں کہ جن میں سوائے لطف خداکے سلامتی میسر نہیں ہوتی ۔اسی لیے حضرت یحییٰ کے بارے میں بھی یہ جملہ آیاہے اور احضرت عیسٰی (علیه السلام) مسیح (علیه السلام) کے بارے میں بھی ،لیکن اس فرق کے ساتھ کہ پہلے موقع پر خداوندتعالیٰ نے یہ بات کہی ہے اور دوسرے موقع پر حضرت مسی(علیه السلام)ح نے یہ تقاضا کیاہے ۔ ۱۔فری ۔کتاب مغردات میں راغب کے قول کی بناپر عظیم یا عجیب کے معنی میں ہے اور اصل میںفری کے مادہ سے چمڑے کی (چادر خراب کرنے کیلئے )پارہ پارہ کرنے کے معنی میں ہے ۔ ۲۔نوراثقلین ،جلد ۳ ، ص ۳۳۳۔ ۳۔نوراثقلین ، جلد ۳ ، ص ۳۳۳۔ ۴۔”بر“ (باء پر زبر کے ساتھ ) نیکوکار شخص کے معنی میں ہے جبکہ ”بر “ (باء کی زیرکے ساتھ ) نیکوکاری صفت کے معنی میں ہے ۔اور اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ یہ لفط اوپر والی آیت میں مبارکا پر عطف ہے نہ کہ صلوٰة و زکوة پر اور نی الوقع معنی اس طرح ہے ’( جعلنی برابوالدتی “ (مجھے اپنی والدہ کے لیے نیکوکار قراردیا گیا ہے ) ۔ ۶۔تفسیرفخرالدین رازی ذیل آیہ زیربحث ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:27-33
۳۔باکرہ سے بچہ پیداہونا
۳۔باکرہ سے بچہ پیداہونا : مذکورہ بالاآیات سے ایک یہ سوال پیداہوتا ہے کہ کیا علمی لحاظ سے یہ بات ممکن ہے کہ اباپ کے بغیر بچہ پیدا ہو ۔کیا حضرت عیسٰی (علیه السلام) کا صرف اکیلی ماں سے پیداہونے کا مسئلہ اس بارے میں سائنس والوں کی تحقیقات کے مخالف نہیں ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ کام معجزانہ طورپر ظہور پذیر ہو تھا ،لیکن موجووہ زمانے کا علم اور تحقیق اس قسم کے امر کے امکان کی نفی نہیں کرتا بلکہ اس کے ممکن ہونے کی تصریح کرتا ہے ۔ خاص طورپر نرکے بغیربچہ پیداہونا بہت سے جانوروں میں دیکھاگیا ہے اس بات کی طرف ترف توجہ کرتے ہوئے نطفے کے انعقاد کا مسئلہ صرف انسانوں کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے اس امر کے امکان کو عمومی حیثیت سے ثابت کرتا ہے ۔ ”ڈاکٹر الکیس کارل “ مشہور فرانسی فریالوجسٹ اور حیات شناس اپنی کتاب ”انسان موجود ناشناختہ “ میں لکھتا ہے : جس وقت ہم اس بارے میں غورکرتے ہیں کہ تولید مثل میں ماں باپ کاکتنا حصّہ ہے تو ہمیں ” لوب ”اور “ باٹایون “کے تجربوں کو بھی نظر میں رکھنا چایئے کہ قور باغہ کے باردر نہ ہوتے ہوئے چھوٹے سے تخم کو سپر ماٹوز اکے دخل کے بغیر ہی خاص ٹکنیک کے ذریعہ ایک جدید قورباغہ کو وجود میں لایا جاسکتا ہے ۔ اس ترتیب سے کہ ممکن ہے کہ کیمسٹری یافزکس کے ایک عامل کو ” نرسیل “ کاجانشین بنادیا جائے لیکن ہر حالت میں ہمیشہ ایک عامل کا مادہ کاوجود ضروری ہے ۔ اس بناپر وہ چیز کہ جو سائنسی لحاظ سے بچے کے تولد میں قطعیت رکھتی ہے وماں کے نطفہ (اردل ) کاوجود ہے ورنہ نرکے نطفہ (سپرماٹوزا) کی جگہ پردوسراعامل اس کا جانشین بنایا جاسکتا ہے ۔اسی بناپر نرکے بغیر بچے کی پیدائش کا مسئلہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو آج کی دنیا میں ڈاکٹر وں کے نزدیک قابل قبول قرار پاچکی ہے ،اگر چہ ایسااتفاق شاذونادرہی ہوتا ہے ۔ ان سب باتوں سے قطع نظر یہ مسئلہ خداوندتعالیٰ کے قوانین آفرینش کے سامنے ایسا ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے : ان مثل عیسٰی عنداللہ کمثل اٰدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکو ن : عیسٰی (علیه السلام) کی مثال خداک نزدیک آدم جیسی ہے کہ اسے مٹی سے پیداکیا پھر اس کو حکم دیا کہ ہوجاتو وہ بھی ایک کامل موجود ہوگیا ۔(اٰل عمران ۔۵۹) ۔ یعنی یہ خارق عادت اس خارق عادت سے زیادہ نہیں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:27-33
2۔ماں کامقام
2۔ماں کامقام : اگر چہ حضرت عیسٰی پروردگار عالم کے نافذکردہ فرمان سے ماں سے ،بغیر با پ کے پیداہوئے ۔لیکن یہ بات کہ مذکورہ بالاآیت میںوہ اپنے افتخار ات کو گنتے ہوئے ماں کے لیے نیکوکاری کاذکر کرتے ہیں ۔یہ بات ماں کے مقام اور رتبہ کی اہمیت پر ایک روشن دلیل ہے ضمنی طور پر یہ اس بات کی بھی نشان دہی ہے کہ یہ نومولود بچہ ایک معجزہ کے مطابق بول اٹھا ہے اس حقیقت سے اگاہ ہے کہ وہ انسا ن کے لیے ایک نمونہ ہے کہ جو صرف ماں سے پیداہوا ہے اوراس میں باپ کا دخل نہیں ہے ۔ بہر حال اگر چہ آج کی دنیا ں میں ماں کے مقام و مرتبہ کے بارے میں بہت کچھ کہا جاتا ہے ،یہاں تک کہ (سال میں) ایک دن کو روزمادر (ماں کادن ) کے نام سے مخصوص کردیاگیا ہے ،لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مشینی تمدن کی و ضع کچھ ایسی ہے کہ یہ ماں باپ کا اولاد سے ربط بہت ہی جلدی منقطع کردیتا ہے ۔اس طرح سے بڑ اہونے کے بعد ادلاد میں یہ رابطہ احساس بہت کم باقی رہتا ہے ۔ اس سلسلہ میں اسلام میں حیرت انگیز روایا ت ہیں جو مسلمانوں کو ماں کے مقام و مرتبہ کی اہمیت کے بارے میں بہت زیادہ و صیت کرتی ہیں ۔تاکہ صرف زبانی طورپر ہی نہیں بلکہ عملی طورپر بھی وہ اس سلسلہ میں کوشش کریں ۔ ایک حدیث ۔امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ : یارسول اللہ من ابر؟ قال امک ،قال ثم من؟ قال اماک ،قال ثم من قال امک ،قال ثم من قال اباک ۔ اے پیغمبر خدا ! ئیں کس کے ساتھ نیکی کروں ۔آپ نے فرمایا :اپنی ماں سے عرض کیا اس کے بعد کس سے ؟ پھر فرمایا اپنی اماں سے ۔تیسری مرتبہ اس نے پھر عرض کیا اس کے بعد کس سے ؟ فرمایااپنی ماں سے ۔چوتھی مرتبہ جب اس سوال کودہرایا تو آپ نے فرمایا : اپنے باپ سے (1) ۔ ایک اور حدیث میںیہ منقول ہے کہ ایک نوجوان جہاد میں شرکت کے لیے پیغمبر کی خد مت میں حاضر ہو ا (شونکہ جہاد واجب عینی نہیں تھا اس لیے ) رسول اللہ نے فرمایا : الک والد ة قال نعم قال فالذمھافان الجنةتحت قدمھا کیا تیری ماں زندہ ہے ؟ نے عرض کیا : جی ہاں ۔فرمایا : ماں کی خد مت میں رہو کیونکہ جنت ماؤں کے پاؤ کے قدموں کے نیچے ہے (2) ۔ اس میں شک نہیں کہ اگر ہم ان بے شمار زحمتوں کو ، جوماں حمل کے زمانے میں، وضع حمل تک پھر دودھ پلانے کے زمانے میں اور ۔دیکھ بھال کرنے میں اس کے بڑے ہونے تک ،برداشت کرتی ہے اورطرح طرح کے رنج اور دکھ میں راتوں کے جاگنے اوراس کی بیماریوں میںفرزند کے لیے کھلی آغوش کے ساتھ لگی رہنے کو دیکھیں تو ہمیں معلوم ہو جا ئے گا کہ انسان اس راہ میں جس قدربھی وہ ماں کے حقوق کے بارے میں قرضدار ہے ۔ جاذب نظر بات یہ ہے کہ ایک حدیث میں ہے کہ جناب ام سلمہ پیغمبر اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اورعرض کیا : تمام افتخار ات تو مردوں کے حصے میں آگئے بیچاری عورتوں کااناعزازات میں کیا حصہ ہے ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بلی اذاحملت المرئة کانت بمنذلةالصائم القائم المجاھد بنفسہ ومالہ فی سبیل اللہ فاذاو ضعت کان لھا من الایدری احد ما ھوالعظمتہ، فاذارضعت کان لھا بکل مصةکعدل عتق محرومن ولد اسمٰعیل فاذافرغت من رضاعہ ضرب ملک کریم علی جنبھا وقال استئانفی العمل فقدغفرلک : ہاں( عورتیں بھی بہت سے اعزاز رکھتی ہیں) جس وقت عورت حاملہ ہوتی ہے تو وہ تمام مدت حمل میں روزہ دار ،شب زندہ داراورجان ومال کے ساتھ خداکی راہ میں جہاد کرنے والے کی منزلت میں ہوتی ہے او ر جس وقت اس اکاحمل وضع حمل ہوتا ہے ، اللہ اس قدر اجر دیتا ہے کہ کوئی شخص عظمت کی بناپر اس کی حدکو نہیں جانتا اور جس وقت وہ اپنے بچے کو دودھ پلاتی ہے تو خداوند تعالیٰ بچے کی طرف سے ہر چوں سنے کے مقابلے میں اولاد ادسمعیل (علیه السلام) میں سے ایک خداکے مکرم فرشتوں میں سے ایک اس کے پہلوپر ہا تھ مارتاہے اور کہتا ہے کہ اپنے اعمال کونئے سرے سے شروع کرکیونکہ خداوند تعالیٰ نے تیرے سب گناہ بخش دیئے ہیں ۔(گویا تیرانامئہ عمل نئے سرے سے شروع ہورہاہے )(3) ۔ تفسیر نمونہ کی بار ہویں جلد میں سورئہ بنی اسرائیل کی آیہ ۲۳کے ذیل میں بھی ہم نے اس سلسلہ کی کچھ بحثیں کی ہیں ۔ ۳۔باکرہ سے بچہ پیداہونا : مذکورہ بالاآیات سے ایک یہ سوال پیداہوتا ہے کہ کیا علمی لحاظ سے یہ بات ممکن ہے کہ اباپ کے بغیر بچہ پیدا ہو ۔کیا حضرت عیسٰی (علیه السلام) کا صرف اکیلی ماں سے پیداہونے کا مسئلہ اس بارے میں سائنس والوں کی تحقیقات کے مخالف نہیں ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ یہ کام معجزانہ طورپر ظہور پذیر ہو تھا ،لیکن موجووہ زمانے کا علم اور تحقیق اس قسم کے امر کے امکان کی نفی نہیں کرتا بلکہ اس کے ممکن ہونے کی تصریح کرتا ہے ۔ خاص طورپر نرکے بغیربچہ پیداہونا بہت سے جانوروں میں دیکھاگیا ہے اس بات کی طرف ترف توجہ کرتے ہوئے نطفے کے انعقاد کا مسئلہ صرف انسانوں کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے اس امر کے امکان کو عمومی حیثیت سے ثابت کرتا ہے ۔ ”ڈاکٹر الکیس کارل “ مشہور فرانسی فریالوجسٹ اور حیات شناس اپنی کتاب ”انسان موجود ناشناختہ “ میں لکھتا ہے : جس وقت ہم اس بارے میں غورکرتے ہیں کہ تولید مثل میں ماں باپ کاکتنا حصّہ ہے تو ہمیں ” لوب ”اور “ باٹایون “کے تجربوں کو بھی نظر میں رکھنا چایئے کہ قور باغہ کے باردر نہ ہوتے ہوئے چھوٹے سے تخم کو سپر ماٹوز اکے دخل کے بغیر ہی خاص ٹکنیک کے ذریعہ ایک جدید قورباغہ کو وجود میں لایا جاسکتا ہے ۔ اس ترتیب سے کہ ممکن ہے کہ کیمسٹری یافزکس کے ایک عامل کو ” نرسیل “ کاجانشین بنادیا جائے لیکن ہر حالت میں ہمیشہ ایک عامل کا مادہ کاوجود ضروری ہے ۔ اس بناپر وہ چیز کہ جو سائنسی لحاظ سے بچے کے تولد میں قطعیت رکھتی ہے وماں کے نطفہ (اردل ) کاوجود ہے ورنہ نرکے نطفہ (سپرماٹوزا) کی جگہ پردوسراعامل اس کا جانشین بنایا جاسکتا ہے ۔اسی بناپر نرکے بغیر بچے کی پیدائش کا مسئلہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو آج کی دنیا میں ڈاکٹر وں کے نزدیک قابل قبول قرار پاچکی ہے ،اگر چہ ایسااتفاق شاذونادرہی ہوتا ہے ۔ ان سب باتوں سے قطع نظر یہ مسئلہ خداوندتعالیٰ کے قوانین آفرینش کے سامنے ایسا ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے : ان مثل عیسٰی عنداللہ کمثل اٰدم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکو ن : عیسٰی (علیه السلام) کی مثال خداک نزدیک آدم جیسی ہے کہ اسے مٹی سے پیداکیا پھر اس کو حکم دیا کہ ہوجاتو وہ بھی ایک کامل موجود ہوگیا ۔(اٰل عمران ۔۵۹) ۔ یعنی یہ خارق عادت اس خارق عادت سے زیادہ نہیں ہے ۔ ۴۔ نوزائیدہ بچہ کس طرح بات کرسکتا ہے؟ یہ بات کچھ کہے بغیر ظاہر ہے کہ معمول یہ ہے کہ کوئی توزائیدہ بچہ تو لہ کے ابتدائی گھنٹوں یا دنوں میں بات نہیں کرتا ، کیونکہ بات دماغ کی کافی نشونمااور اس کے بعد زبان و حنجرہ کے عضلات کابڑ ھنا اورانسان بدن کے مختلف اعضاء کی ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی کا محتاج ہے ۔اور ان امورکے لیے حسب معمول کئی مہینے گزرنے چاہیں تاکہ یہ بندر یج اور آہستہ آہستہ بچوں میںفرہم ہوں ۔ لیکن پھر کوئی عملی دلیل اس امرکے محال ہونے پر ہمارے پاس نہیں ہے صرف یہ ایک غیرمعمولی کا م ہے اورتمام معجزات اسی قسم کے ہوتے ہیںیعنی سب ہی غیر معمولی کام ہوتے ہیں نہ کہ محال عقلی ،اس عمل کی تشریح ہم نے انبیاء کے معجزات کی بحث میں کردی ہے ۔ ۱۔ وسائل اشیعہ ، جلد ۱۵، ص ۲۰۷۔ 2۔ جامع السعادات ،جلد ۲ص ۲۶۱۔ 3 ۔ وسائل اشیعہ ،ج۱۵، ص ۱۸۵۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:27-33
۱۔قرآن کا حسن بیان اور ولادت عیسی(علیه السلام)
۱۔قرآن کا حسن بیان اور ولادت عیس(علیه السلام)ی : قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت اس قسم لے اہم مسائل میں خصوصیت کے ساتھ دیکھی جاسکتی ہے دیکھیئے کس طرح قرآن اس قدر خرافات سے مخلوط اہم مسئلہ کو مختصر ، گہری ، زندہ ، پر معنی ، منہ بولتی اور ناطق عبارتوں کے ساتھ پیش کرتا ہے اس طرح کہ ہر قسم کی خرافات او ر بیہودہ باتوں کو اس سے علیحدہ اور ادورکردیتا ہے ۔ جاذب نظر بات یہ ہے کہ مذ کورہ بالاآیات میں سات صفات ، دواعمال اور ایک دعا کاذکر ہوا ہے ۔ سات صفات کی تفصیل یہ ہے : پہلی صفت : خداکا بندہ ہونا کہ جس کاذکر تمام اوصاف کی ابتدامیں ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آدمی کا عظیم ترین مقام مقام عبودیت ہے ۔ دوسری صفت : اس کے بعد کتا ب آسمانی کاحامل ہونا ہے ۔ تیسری صفت : مقام نبوت ہے ( البتہ ہم جانتے ہیں کہ مقام نبوت کے لیے یہ بات لازم نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ آسمانی کتاب کا حامل ہو ) ۔ چوتھی صفت : مقام عبودیت ہے ( و رہبری کے بعد مبارک ہونے کا بیان ہے یعنی معاشرے کی حالت کے لیے مفید ہونے کو پیش کیاگیا ہے ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ مبارک کا معنی نفاع ہے (یعنی ازیادہ نفع مند ہونا ) ۔ پانچویں صفت :ماں کے لیے نیکو کار ی بیان کی گئی ہے ؛ چھٹی اور ساتویں صفت : جبار شقی نہ ہونا اور ان کے بجائے متواضع ، حق شناس اور سعادت مند ہونا ہے ۔ تمام کاموں میں سے صرف دو یعنی پر وردگار عالم کی طرف سے نماز و زکوة کی و صیت کے بیان پر انحصار کرتے ہیں اور یہ ان دونوں پر و گراموں اور کاموں کی انتہائی اہمیت کی وجہ سے ہے کیونکہ یہ دونوں کام خالق و مخلوق کے ساتھ ارتباکی رمز ہیں ۔ایک لحاظ سے تمام مذہبی پروگراموں کو انہیں دو میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے ۔کیونکہ ان میں سے بعض انسان کارشتہ مخلوق سے اور بعض خالق سے جوڑ تے ہیں ۔ اب ر ہ گئی وہ دعا کہ جو وہ اپنے لیے کرتے ہیں اور وہ التجاجو وہ اپنی زندگی کے آغاز میںخداسے کرتے ہیں یہ ہے : بارے خدایا ! ان تین دنوں کو میرے لیے سلامتی والاقرار دے اول ولادت کا دن ،دوسرت موت کا دن ، تیسرے وہ دن جبکہ قیامت میں مجھے زندہ ہونا ہے اور مجھے ان تینوں حساس مرحلوں میں امن وامان مرحمت فرما ۔)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:27-33
سوره مریم / آیه 27 - 33
۲۷۔فاتت بہ قومھا تحملہ قال یمریم لقد جئت شیئا فریا ۲۸۔یاخت ھرون ماکان ابواک امراسوء و ماکانت امک بغیا ۲۹۔فاشارت الیہ قال کیف نکلم من کان فے المھد صبیا ۳۰۔قال انی عبد اللہ اٰتینی الکتب وجعلنی نبیا ۳۱۔وجعلنی مبرکااین ماکنت و اوصنی بالصلوة و الزکاة مادمت حیا ۳۲۔وبرابوالدتی ولم یجعلنی جبار شفیا ۳۳۔والسلم علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا ترجمہ ۲۷۔مریم (علیه السلام) اسے گود میں لیے ہوئے اپنی قوم کی طر آئیں تو انہوں نے کہا کہ اے مریم (علیه السلام) تو نے تو بہت عجیب اور بہت بڑاکام انجام دیا ہے ۔ ۲۸۔ اے ہارون کی بہن ! نہ تو تیراباپ ہی براآدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں کو ئی بدکار عورت تھی ۔ ۲۹۔ (مریم نے )اس کی طرف اشارہ کیا تو وہ کہنے لگے کہ ہم اس بچے کے ساتھا کہ جو ابھی گہورہ میں ہے کیسے بات کریں ۔ ۳۰۔(اچانک عیسٰی بول اٹھے ) اور کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہو ں ،اس نے مجھے آسمانی کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے ۔ ۳۱۔اور میں جہاں کہیں بھی ہوں مجھے برکتوںوالابنایا ہے اور مجھے تاحیات نماز پڑھتے رہنے اور زکوةاداکرنے کی وصیت کی ہے ۔ ۳۲۔اور مجھے میری ماں کے لیے نیکوکار قراردیاہے اورجباروشقی قرارنہیں دیا ہے ۔ ۳۳۔اور مجھ پر (خداکا )سلام ہے اس دن جبکہ میں پیداہوااس دن جبکہ میں مروں گا اور اس دن جب کہ میںزندہ ہوکر اٹھایا جاؤں گا ۔