قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّا
She said, ‘I seek the protection of the All-beneficent from you, should you be Godwary!’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 19:18
[Pooya/Ali Commentary 19:18] (see commentary for verse 16)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:18-21
حضرت عیسٰی (علیه السلام) کی ولادت :
حضرت عیسٰی (علیه السلام)کی ولادت : حضرت یحییٰ (علیه السلام)کا قصہ بیان کرنے کے بعد حضرت عیسٰی (علیه السلام) کی ولادت کی دوستان اور ان کی ولدہ حضرت مریم (علیه السلام) کا قصہ شروع کیا گیا ہے کیونکہ ان دونوں قصوں کے درمیان بہت قریبی تعلق ہے اگر حضرت یحییٰ (علیه السلام) کی پیدائش ایک ایسے بوڈھے اورضعیف باپ سے اور ایک ایسی ماں سے جو بانجھ تھی تو حضرت عیسٰی کا بغیر باپ کے ماں سے پیدا ہو جانا اس سے بھی زیادہ تعجب خیز ہے ۔ اگر بچپن میں عقل اور نبوت کے مقام تک پہنچنا حیرت انگیز ہے ۔ تو گہوارے میں گفتگوکرنا اور وہ بھی کتاب نبوت کے بارے میں ،اس سے بھی زیادہ تعجب خیز ہے ۔ بہر حال یہ دونوں خداوند تعالیٰ کی ایسی نشانیاں ہیں جو ایک دوسرے سے بڑ ی ہیں اور اتفاق کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں ایسے اشخاص کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جو نسب کی حیثیت سے بہت ہی قریبی ر شتہ کھتے تھے ۔کیونکہ حضرت یحییٰ (علیه السلام) کی والدہ اور حضرت مریم (علیه السلام) کی والدی کی بہن تھی اور یہ دونوں خواتین بانجھ اور عقیم تھی اور دونوں صالح اورنیک فرزند کی آرزو میں زندگی بسر کرہی تھیں ۔ پہلی زیر بحث آیت کہتی ہے : آسمانی کتاب قرآن مجید میں مریم کی بات کرو کہ جس وقت اس نے اپنے گھر والوں سے جداہوکر مشرقی حصہ میں قیام کیا ۔ اواذکرفی الکتاب مریم اذانتبذمن اھاھامکانا شرقیا درحقیقت وہ ایک ایسی خالی اورفاغ جگہ چاہتی تھی جہان پر کسی قسم کا کو ئی شوروغل نہ ہو تاکہ وہ اپنے خداسے رازو نیاز میں مشغول رو سکے اور کوئی شیز اسے یاد محبوب سے خالی غافل نہ کرے ، اسی مقصد کے لیے اس نے عظیم عبادت گاہ بیت المقدس کی مشرق سمت کو جوشاید زیادہ آرام و سکون کی جگہ تھی یا سورج کی روشنی کے الحاظ زیادہ پاک صاف اور زیادہ مناسب تھی ،انتخاب کیا ۔ لفظ” انتبذت“ نبذ کے مادہ سے ہے راغب کے قول کے مطابق ، جو چیزیں ناقابل ملاحظ ہوں انہیں دور پھینکے کے معنی میں ہے اور مذکورہ بالاآیت میںیہ تفسیر شاید اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مریم نے متو اضعانہ اور گنامی کی صورت میں اور ہر قسم کے ایسے کام سے خالی ہو کر ، جو تو جہ کو اپنی طرف لے جائے ،سب سے زیادہ کشی اختیار کی اور اخانہ خداکی اس جگہ کو عبادت کے لیے چنا ۔ اس وقت مریم (علیه السلام) نے ”اپنے اور دوسروں کے درمیان ایک پردہ ڈال لیا “ تاکہ اس کی خلوت گاہ ہر لحاظ سے کامل ہو جائے ۔ (فاتخذ ت من دونھم خجابا) اس جملے میںیہ بات صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوئی کہ پروہ کس مقصد کے لیے کیا گیا تھا آیا اس مقصد کے لیے تھا کہ زیادہ یکسوئی کے ساتھ شوروغل سے یکسوئی کے ساتھ پروردگار کی عبادت اور اس سے رازو نیاز کرسکے یااس لیے تھا کہ نہائیں دھوئیں اور غسل کریں ، آیت اس لحاظ سے خاموس ہے ۔ بہر حال اس وقت ہم نے اپنی ”روح “ (جو بزرگ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے ) اس کی طرف بھیجی اور وہ بے عیب خوبصورت اور کامل انسان کی شکل میں مریم (علیه السلام) کے سامنے ظاہر ہو ئی (فارسلنا الیھا روحنا فتمثل الھابشراسویا ) ۔ ظاہر ہے ایسی موقع پر مریم (علیه السلام) کی کیا حالت ہو گی ۔وہ مریم (علیه السلام)کہ جس نے ہمیشہ پاکدامنی کی زندگی گزاری ، پاکیزہ افراد کے دامن میں پرورش پائی اور تمام لوگو ں کے درمیان عفت و تقویٰ کی ضرب المثل تھی اس پر اس قسم کے منظر کو دیکھ کر کیا گزری ہوگی ایک خوبصورت اجنبی آدمی اسکی خلوت گاہ میں ہنچ گیا تھا اس پر بڑی وحشت طاری ہوئی فورا پکاری کہ میں خدائے ر حمان کی پناہ چاہتی ہو ں ک مجھے تجھ سے بچائے اگر تو پرہیز گار ہے ۔ (قالت انی اعوذ باالرحمن منک ان کنت تقیا) اور یہ خوف ایساتھا کہ جس نے مریم کے سارے وجود کو ہلاکر رکھدیا خدائے رحمن کا نام لینا اور اس کی رحمت عامہ کے ساتھ تو صیف کرنا ایک طرف اور اسے تقویٰ اور پر ہیز گاری کی تشویق کرنا دوسری طرف ، یہ سب کچھ اس لیے تھا کہ اگر وہ اجنبی آدمی کوئی بڑاارادہ رکھتا ہو تو اس پر کنڑو ل کرے اور سب سے بڑھ کر خداکی طرف پناہ لینا ، وہ خداکہ جو انسان کے لیے سخت ترین حلات میں سہارا اور جائے پناہ ہے اور کوئی قدرت اس کی قد رت کے سامنے کچھ حیثیت نہیں رکھتی ۔ حضرت مریم (علیه السلام) یہ بات کہنے کے ساتھ ا س اجنبی آدمی کے ردّ عمل کی منتظر تھیں ۔ایسا انتظار جس میں بہت پریشانی اور وحشت کا رنگ تھا ، لیکن یہ حالت زیادہ دیر تک باقی نہ رہی ، اس اجنبی نے گفتگو کے لیے زبان کھولی اور اپنی عظیم ذمہ داری اور مامورت کو اس طرح سے بیان کیا اس نے کہا کہ میں تیرے پروردگار کا بھیجا ہو ا ہوں (قال انما انارسول ربک ) ۔ اس جملہ نے اس پانی کی طرح جو آگ پر چھڑ کاجاتا ہے حضرت مریم (علیه السلام) کے پاکیزہ دل کو سکون بخشا لیکن یہ سکون زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا کیونکہ اس نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا : میں اس لئے آیا ہو ں کہ تمیں ایک ایسالڑکا بخشوں جوجسم و روح اور اخلاق و عادلت کے لحاظ سے پاک و پاکیزہ ہو ( لاھب نک غلامازکیا ) یہ بات سنتے ہی مریم (علیه السلام)کا نپ اٹھیں وہ پھر ایک گہری پریشانی میں ڈوب گئیں اور ” کہا کہ یہ بات کیسے ممکن ہے کہ میرے کوئی لڑکاہو حالانکہ کسی انسان نے اب تک مجھے چھواتک نہیں اور میں ہر گز کوئی بدکار عورت بھی نہیں ہو ں ”قالت انی یکون لی غلام ولم یمسنی بشرو لم بغیا) ۔ وہ اس حالت میں صرف معمول کے اسباب کے مطابق سو چ رہی تھیں کیونکہ کوئی عورت صاحب اولاد ہو ، اس کے لیے صرف دوہی راستے ہیں یا تو وہ شادی کرے یا بدکاری اور انحرف کا راستہ اختیار کرے میں تو خود کو کسی بھی دوسرے شخص سے بہتر طور پر جانتی ہوں ، نہ تو ابھی تک میراکوئی شوہر ہے اور نہ ہی میں کبھی منحرف عورت رہی ہوں اب تک تو یہ بات ہر گز سننے میں نہیں آئی کوئی عورت ان دونوں صورتوں کے سواصاحب اولاد ہوئی ہو ۔ لیکن جلدی ہی اس نئی پر یشانی کا طوفان بھی پروردگار عالم کے قاصد کی ایک دوسری بات سننے سے تھم گیا اس نے مریم سے صراحت کے ساتھ کہا : ” مطلب تو یہی ہے کیونکہ تیرے پروردگار نے فرمایا ہے کہ یہ کام میرے لیے سہل اور آسان ہے “ (قال کذالک قال ربک ھوعلی ھین ) تو تو اچھی طرح میری قدرت سے آگا ہ ہے ، تونے تو بہشت کے وہ پھل جو دنیا میں اس فصل میں ہوتے ہی نہیں اپنے محراب عبادت کے پاس دیکھے ہیں ، تو نے تو فرشتوں کی وہ آوا ز یں سنی ہیں جو تیری پاکیزگی کی شہادت کے لیے تھیں تجھے تو یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ تیرے جد امجد آدم مٹی سے پیداہوئے ۔پھر یہ کیسا تعجب ہے جو تجھے اس خبرسے ہو رہا ہے ۔ ٓ اس کے بعد اس نے مزید کہا : ہم چاہتے ہیں کہ اسے لوگوں کے لیے آیت اور ایک معجزہ قرار دیں ( ولنجعلہ اٰیة للناس ) ۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ اسے اپنے بندوں کے لیے اپنی طرف رحمت قرار دیں (ورحمةمنا) ۔ بہر حال یہ فیصلہ شدہ امرہے اور اس میں گفتگو کی گنجائش نہیں ہے (وکان امراء قضیا) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:18-21
۲۔”تمثل “ کیا ہے ؟
۲۔”تمثل “ کیا ہے ؟ ”تمثل “ اصل میں مادہ مثول سے اسی شخص یا چیز کے سانے کھڑاہونے کے معنی میں ہے ، اس ممثل اس چیز کو کہتے کہ جو کسی دوسرے کی شکل میں ظاہر ہو ۔ اس بناپر ’تمثل لھا بشراٰسویا‘ کامفہوم یہ ہے کہ وہ خدائی فرشتہ انسانی شکل میںظاہر ہوا ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ اس گفتگو کایہ معنی نہیں ہے کہ جبرئیل صورت اور سیرت کے اعتبار سے بھی ایک انسان میں بد ل گیا تھا کیونکہ اس قسم کا انقلاب اور تبدیلی ممکن نہیں ہے ، بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ (ظاہر ) انسان کی شکل میں نمود ار ہوا ، اگر چہ اس کی سیرت وہی فرشتے جیسی تھی ،لیکن حضرت مریم (علیه السلام) کو ابتدائی امر میںچونکہ یہ خبرنہیں تھی لہذاانہوں نے یہی خیال کیا تھا کہ ان کے سامنے ایک انسان ہے جو باعتبار صورت بھی انسان ہے ۔ اور بااعتبار سیرت بھی انسان ہے ۔ اسلامی روایات اور تواریخ میں ” تمثل “ اس لفظ کے وسیع معنی میں بہت نظر آتا ہے ۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ : جس دن مشرکین مکہ وارالندرہ میں جمع ہوئے تھے اور پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نابود کربے کے لیے سازش کررہے تھے ابلیس ایک خیراندایش و و خیرخواہ بوڑھے آدمی کے لباس میںظاہر ہوااور سردار ن قریش کو بہکانے میں مشغول ہو گیا ۔ یادوسری روایات یہ ہے کہ دنیا اور اس کی باطنی حالت حضرت علی علیہ السلام کے سامنے ایک حسین و جمیل دلربا عورت کی شکل میں ظاہر ہوئی ، لیکن وہ آپ پر کچھ بھی اثر نہ کرسکی یہ واقعہ مفصل اور مشہور ہے ۔ تیسری روایات میں یہ بھی ہے کہ انسان کامال ع اولاد اور عمل موت کے وقت مختلف اور مخصوص چہروں میں اس کے سامنے مجسم ہوتے ہیں ۔ چوتھے یہ کہ انسان کے اعمال قبرمیں اور قیامت کے دن مجسم ہو کر ظاہر ہوں گے اور ہر عمل ایک خاص شکل میںظاہر ہوگا ان تمام مواقع پر تمثل کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی چیز یا کوئی شخص ظاہری طورپر دوسرے کی شکل میں نمودارپو تا ہے نہ یہ کہ اس کاباطن یا اس کی ماہیت ہی تبدیل ہوجاتی ہے (۱) ۔ ۱۔تفسیرالمیزان ، جلد ۱۴، ص ۳۷ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:18-21
۱۔روح خداسے کیا مراد ہے ؟
۱۔روح خداسے کیا مراد ہے ؟ تقریبا تمام مشہور مفسریں نے یہا ں پر روح کی خداندتعالیٰ کے بزرگ فرشتے جبرائیل سے تفسیر کی ہے اور اسے روح سے تعبیر کرنے کی و جہ یہ ہے کہ وہ روحانی ہے ۔وہ ایک ایسا وجود ہے جو حیات بخش ہے چونکہ وہ انبیاء و مرسلین کے پاس خداوند تعالیٰ کی رسالت کا پہچان نے ولاہے لہذ تمام لائق انسانوں کے لیے حیات بخش ہے اور یہاں پر روح کی خد اکی ضافت اس روح کی عظمت و شرافت کی دلیل ہے ۔ ضمنی طورپر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جبرئیل کا نازل ہونا ابنیاء کے ساتھ مخصوص ہے ، البتہ شریعت اور کتب آسمانی لانے کے لیے و حی کے عنوان سے صرف انہیں کے اوپر نازل ہو اکرتا تھا لیکن دوسر ے پیغام پہنچانے کے لیے (جیساکہ مذکورہ بالاپیغام حضرت مریم (علیه السلام) کو پہنچایا ) کوئی معنی نہیں ہے کہ ابنیاء کے علاوہ دوسروں کے سامنے بھی اظاہر ہو۔