يَا يَحْيَى خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا
‘O John!’ [We said,] ‘Hold on with power to the Book!’ And We gave him judgement while still a child,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 19:12
[Pooya/Ali Commentary 19:12] (see commentary for verse 2)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:12-15
۲۔انسان کی سرنوشت کے تین مشکل دن
۲۔انسان کی سرنوشت کے تین مشکل دن : ”سلام علیہ یوم ولد ویوم یمو ت ویوم یبث حیاً“کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسان کی زندگی تاریخ میں اور اس کے ایک عالم سے دوسرے عالم کی طرف منتقل ہونے میں تین دن بہت سخت ہیں : ا ۔اس دنیامیں قد م رکھنے کادن (یوم ولد ) ب۔موت اور عالم برزخ کی طرف منتقل ہونے کا دن (یوم یموت ) ج۔اور دوبارہ زندہ کرکے اٹھائے جانے کا د ن (یوم یبعث حیا) اور چونکہ ان تین انتقالی دنوں میں فطرتاکئی طرح کے بحرانوں کا سامناکرنا پڑتاہے ۔لہذاخداوند تعالیٰ ان میں اپنے مخصوص بندوں کو سلامتی اور عافیت فرماتا ہے اور انہیں ان تینوں طوفانی مرحلوں میں اپنی حمایت کے جلومیں لے لیتا ہے ۔ اگر چہ قرآن مجید میںیہ تعبیر صرف وہ مقام پر آتی ہے ایک حضرت یحییٰ (علیه السلام) کے بارے میں اور دوسرے حضرت عیس(علیه السلام)ی کے بارے میں لیکن حضرت یحییٰ کے بارے میں قرآن مجید کی یہ تعبیر ایک خاص امتیاز رکھتی ہے ، کیوں کہ یہاں اس بات کا کہنے والاخداہے جب کہ حضرت عیس(علیه السلام)ی کے لئے کہنے والے حضرت عیس(علیه السلام)ی ہیں ۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ امام علی بن موسیٰ رضاعلیہم السلام سے منقول ایک روایت میں ہے کہ : ان اوحش مایقوم علی ھذالخلق فی ثلاث مواطن :یوم یلد و یخرج من بطن امہ فیرالدنیا ،ویوم یموت فیعاین الاٰخرةواھلھا،ویوم یبعث حیا،فیری احکامالم یرھافی دارالدیناو قد سلم اللہ علی یحییٰ فی ھذہ المواطن الثلاث ومن روعتہ فقال وسلام علیہ انسان کے لئے وحشت ناک ترین مرحلے تین ہیں :۔ ”اول “ وہ دن کے جس دن وہ پیداہوتاہے اور اس کی نظر دنیاپر پڑتی ہے ۔ ”دوسرے “ وہ دن جس دن وہ مرتا ہے اور آخرت اور اہل آخرت کو دیکھتا ہے ۔ ”تیسرے “ وہ دن کہ جس دن وہ قبر سے زندہ کرکے اٹھایا جائے گا اور وہ ایسے احکام اور قوانین دیکھے گا کہ جو اس جہان میں حکم فرمانہیں تھے ۔خداوندتعالیٰ نے ان تینوں مرحلوں میں سلامتی کو حضرت یحییٰ کے شامل حال کیا ہے اور انہیں وحشتوں کے مقابلے میں امن و امان اور راحت و آرام دیا اور فرمایا : وسلام علیہ ۔ بار الٰہا ! ان تینوں حساّس اور بحرانی مراحل میں ہمیں بھی سلامتی مرحمت فرماں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:12-15
۳۔بچپن میں نبوت
۳۔بچپن میں نبوت :یہ درست ہے کہ انسا ن کی عقل کے ارتقاء کا دروعام طورپر ایک خاص حد پر ہوتا ہے لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ انسانوں میں ہمیشہ ہی بعض مستثنی افراد موجودرہے ہیں تو اس بات میں کونساامرمانع ہے کہ خداندے تعالیٰ (عقل کے ارتقاء کے ) اس دور کو بعض بندوں کے لئے کچھ امصالح کی بناپر زیادہ مختصر کردے اور کم سے کم عرصہ میں اسے مکمل کردے جیساکہ بچوں کے لیے بولناسیکھنے کے لیے عام طور پر ایک دو سال کا گزرنا ضروری ہوتا ہے جبکہ ہم جانتے ہیں کہ حضرت عیس(علیه السلام)ی نے بالکل ابتدائی دنوں میں بات کی ،اور وہ ایسی بات تھی جو بہت ہی پور معنی تھی ،اور معمول کے مطابق بڑی عمر کے شایان شان تھی جیساکہ ، انشااللہ ،آنیدہ آیات کی تفسیر میں بیان ہو گا ۔ یہاں سے یہ بات واضح جاتی ہے ،کہ وہ اشکال جو کچھ افراد نے شیعوں کے بعض کے بعض آئمہ کے بارے میں کیا ہے ،کہ ان میں سے بعض کم عمرہی میں مقام امامت پر کیسے پہنچ جاتے گئے ،درست نہیں ۔ ایک روایت میں امام جواد حضرت محمد بن علی انقی علیہ السلام کے ایک صحابی سے کہ جس کا نام علی بناسباط تھا منقول ہے ک : میں حضرت کی خد مت میں حاضرہو (جب کہ آپ کا سن بہت چھوٹاتھا ) میں ان کے قدو قامت میں گم ہو گیا تاکہ اسے اپنے ذہن میں بیٹھالوں اور جب میں واپس مصر لوٹ کر جاؤ تو اپنے دوستوں سے اس بات کے کم و کیفت کو بیان کروں عین اسی وقت جب کہ میں یہ سو چ ہی رہاتھا ک حضرت بیٹھ گئے (گویاآپ نے میری تمام سوچ کا مطالعہ کرلیا تھا ) میری طرف رخ کیا اور فرمایا اے علی بن اسباط ! خداتعالیٰ نے مسئلہ امامت میں جو کام کیا ہے و ہ اسی کام کی طرح ہے کہ جو نبوٹ میں کیا ہے وہ فرماتاہے :۔ واٰتیناہ الحکم صبیاً ہم نے یحییٰ کو بچپن میںفرمان نبوت و عقل و دانش عطاکی اور کبھی انسانوں کے بارے میں فرمایاہے : حتّی اذابلغ اشدہ ع بلغ اربعین سنة ”جس وقت انسان کامل “ عقل کی حد بلوغ ‘چالس سال کو پہنچ گیا -- - بنابر یں جس طرح یہ بات ممکن ہے کہ خداوند تعالیٰ کسی انسان کو حکومت و دانائی بچپن میں عطا فرمادے اسی طرح اس کی قدرت میں ہے ہے کے چالس سال کی عمر میں دے ۔ ضمنی طور پر یہ آیت ان اعتراض کرنے والوں کے لیے ایک دندان شکن جواب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام مردوں میں سے پیغمبر اکرم پر ایمان لانے والے پہلے شخص نہیں تھے کیونکہ وہ تو اس وقت دس سال کے تھے اور دس سالہ بچہ کا ایمان قابل قبول نہیں ہے ۔ اس نکتے کا ذکر کرنا بھی یہاں پر غیر مناسب نہیں ہوگا کہ ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام ک بارے میں منقول ہے : آپ نے فرمایا :کے بچپن کے زمانہ میں کچھ بچے آپ ک پاس آئے اور آپ سے کہا : اذھب بنانلعب ہمارے ساتھ آؤ تا کہ ہم مل کر کھیلیں تو آپ نے جواب فرمایا: ماللعب خلقنا ہم کھیلنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے ۔ اسی سلسلہ میں اللہ نے فر مایا ہے : واٰ تیناہ الحکم صبیاً البتہ یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں ” لعب “ سے مراد بیہودہ اور فضول قسم کی سرگر میاں ہیں دوسرے لفظوں میں بیہودو مشاغل میں مشغول ہوتا ہے لیکن کھبی ایسابھی ہوتا ہے کہ کھیل کود کا کو ئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے ۔ایسا مقصد کہ جو منطقی و عقلی ہوتو مسلّہ طور پر ایسے کھیل کود اس حکم سے مستثنی ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:12-15
۴۔حضرت یحییٰ کی چہادت
۴۔حضرت یحییٰ کی چہادت :نہ صرف حضرت یحییٰ کی پیدائش تعجب خیز تھی بلکہ ان کی موت بھی کئی لحاظ سے عجیب تھی اکثر مسلمان مئورخین اور اسی طرح مشہور مسیح منابع ان کی شہادت کے واقعہ کو اس طرح نقل کرتے ہیں (اگر چہ اس کی خصوصیات میں کچھ تھوڑا بہت تفاوت دکھائی دیتا ہے ): حضرت یحییٰ اپنے زمانے کے ایک طاغوت کے اپنی ایک محرم سے غیرشرعی روابط کے خلاف آواز کی بناپر شہیدہوئے ہوایہ کہ ” ہیروویس “ فلسطین کا ہوس پر ست بادشاہ تھا وہ اپنے بھائی کی بیٹی ”ہیرودیا“ پر عاشق ہو گیا وہ بہت خوبصورت تھی اس کے حسن نے ا س کے دل میں عشق کی آگ بھڑ کا دی بادشاہ نے اس سے شادی کرنے کا پکا ارادہ کرلیا ۔ یہ خبرجب خداند تعالیٰ کے پیغمبر حضرت یحییٰ کو پہنچی تو انہوں نے صراحت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ یہ شادی نا جائز ہے اور تورات کے احکام کے خلاف ہے اور مین ایسے کام کی اپنی پوری طاقت کے ساتھ مخالفت کروں اگا ۔ اس مسئلہ کی تمام شہرمیں شہرت ہوگئی ،اور یہ خبر اس لڑکی ” ہیرودیا “ کے کانوں تک بھی پہنچ گئی وہ حضرت یحییٰ کو اپنے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھنے لگی اس نے مصمم ارادہ کرلیا کہ کسی مناسب موقع پر ان سے انتقام لے گی اور اپنی ہواد ہوس کی رہ سے اس کو رکاوٹ کو ہٹادے گی اس نے اپنے چچاکے ساتھ اپنے راہ و رسم میں اضافہ کردیا اور اپنے حسن و جمال کو اس کے لیے جال بنادیا اور اس پر اس طرح سے اثر اندازہو گئی کہ ایک دن ہیرودیس نے ان سے کہا کہ تیری جو بھی آرزو ہے مجھ سے مانگ تو جو چاہے گی وہ تجھے ملے گا ہیرودیس نے کہا میں یحییٰ کے سرکے سوااور کچھ نہیں چاہتی کیونکہ اس نے مجھے اور تجھے بدنام کرکے رکھ دیا ہے تمام لوگ ہماری عیب جوئی کررہے ہیں اگر تو یہ چاہتاہے میرے دل کو سکون حاصل ہو اور میرادل خش ہو توتجھے یہ کا م انجام دیناچاہیئے ۔ ہیرودیس جو اس عورت کا دیوانہ تھا انجام پر غور کیے بغیر یہ کام کرنے پر تیار ہو گیا اور ابھی دیر نہ گزری تھی کہ حضرت یحییٰ کا سر اس بدکار عورت کو پیش کردیا لیکن آخر کا ر اس کے لیے اس کا م کے ہولناک تنائج نکلے (1) ۔ اسلامی روایات میں ہے کہ سالار شہید اں نے امام حسین علیہ السلام فرماتے تھے : دنیاکی پستیوں میں سے یہ امر ہے کہ یحییٰ بن زکریا (علیه السلام) کاسر بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت کے لئے ہد یہ کے طور پر لے جایا گیا تھا ۔ یعنی میرے اور یحییٰ کے حالات اس لحاض بھی ایک دوسرے سے مشابہہ ہیں کیونکہ میرے قیام کا ایک ہدف میرے زمانے کے طاغوت یزید کے شرمناک اعمال کے خلاف قیام ہے ۔ ۱۔ ۔بعض اناجیل اور کچھ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہیرودیس نے اپنے بھائی کی بیوی کے ساتھ کہ جو تورات کے مطابق ممنوع تھی شادی کرلی تھی اور حضرت یحییٰ نے اسے اس کام پر سخت لعنت ملامت کی اس کے بعد اس عورت نے اپنی بیٹی کے حسن جمال کے ذریعے ہیرودیس کو حضرت یحییٰ کے قتل کرنے پر اگیا ( انجیل متی با ب ۱۴ ،انجیل مرقس باب ۶ بند ۱۷،اور اس کے بعد تک ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:12-15
سوره مریم / آیه 12 - 15
۱۲۔یحییٰ خذالکتب بقوة و اٰتینٰہ الحکم صبیا ۱۳ ۔ و حنانامن لدنا و زکوة و کان تقیّا ۱۴۔ وبر بوالدیہ ولم یکن جباراعصیا ۱۵۔ وسلم علیہ یوم و لد ویوم یموت ویوم یبعث حیا ترجمہ ۱۲۔اے یحییٰ ! (اللہ کی ) کتاب کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو اور ہم نے فرمان نبوت ( اور کافی عقل و شعور ) اسے بچپن میں عطا کیا ۔ ۱۳۔اور اسے بارگاہ سے رحمت و محبت عطاکی اور (روح وعمل کی پاکیزگی بھی اور وہ پر ہیز گاری ۱۴۔اپنے ماں باپ کے لیے نیکوکا ر تھا اور جبار (و متکبّر ) اور عاصی و نافرمان نہیں تھا ۱۵۔ اور اس پرسلا م ہے اس دن جبکہ وہ پیدا ہو اور اس دن جبکہ وہ مرے گا اور دن جبکہ وہ زندہ کرکے اٹھایا جائے گا
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:12-15
حضرت یحییٰ کی عمدہ صفات
حضرت یحییٰ کی عمدہ صفات : گزشتہ آیات میں ہم نے دیکھا کہ خداوندتعالیٰ کس طرح حضرت زکریا (علیه السلام) کو بڑھاپے میں حضرت یحییٰ کا سافرزند سعید مرحمت فرمایا اس کے بعد ہم ان آیات میں خداوندتعالیٰ کا اہم فرمان یحییٰ (علیه السلام) سے خطاب کی صورت میں پڑھتے ہیں : اے یحییٰ (علیه السلام) ! کتاب خداکو مضبوطی سے پکڑ لو (یا یحییٰ خذالکتاب بقرة) ۔ مفسرین کے درمیان مشہور یہ ہے یہا کتاب سے مراد ”تورات “ ہے یہاں تک کہ انہونے اس سلسلہ میں اجماع و اتفاق کا دعویٰ کیا ہے (۱) لیکن بعض نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ وہ خود ایک مخصوص کتاب رکھتے تھے ۔(داؤد کی زبور کی طرح ) البتہ وہ ایسی کتاب نہیں تھی کہ جو کسی نئے دین یا جدیدمذہب کو پیش کرتی ہو ۔(۲) بہرحال کتاب کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ نے سے مراد یہ ہے کہ آسمانی کتاب تورات اور اس کا مطالب و احکام کا اجراء مکمل اور قطعی صورت میں عزم راسخ اور آہنی ارادہ کے ساتھ کریں ، اس ساری کتا ب پر عمل کریں ،اسے عام کرنے کے لئے ہرقسم کی مادی و روحانی اور انفرادی و اجتماعی قوّت سے فائداٹھائیں ۔ اصولی طور پر کسی کتاب اور اکسی مکتب و مسلک کو اس کے پیروکا روں کی قوت ، طاقت اور قابلیت کے بغیر جاری نہیں کیاجاسکتا ہے یہ تمام مومنین اور اللہ کی راہ کے تمام راہیوں کے لیے ایک درس ہے ۔ اس حکم بعد ان دس نعمات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو خدانے حضرت یحییٰ عطافرمائی تھیں یا انہونے تو فیق الہٰی سے کسب کی تھیں : ۱۔ ہم نے اس کو بچپن میں فرمان نبوت اور عقل و ہوش و روایت عطاکی (واٰتینہٰالحکوصبیّا) ۔ ۲۔ ہم نے اسے اپنی طرف سے بندوں کے لیے رحمت و محبت بخشی (و حنانامن لدنا) ”حنان“ اصل میں حمت شفقت محبت اور لوگوں کے ساتھ تعلق و میلان کے اظہار کے معنی میں ہے ۔ ۳۔ ہم نے اسے روح و جان اور عمل کی پاکیزگی عطاکی (و زکوٰة) ۔ مفسرین نے --” زکوة“ کے مختلف معانی کیے ہیں بعض نے اس کے عمل صالح سے بعض نے اطاعت و اخلاق سے بعض نے ماں باپ سے نیکی کرنے سے ، بعض نے حسن شہرت سے اور بعص نے پیروکاروں کی پاکیزگی سے تفسیر کی ہے ، لیکن ظاہر یہ ہے کہ لفظ زکوة ایک وسیع معنی رکھتا ہے کہ جس میں یہ تمام پاکیزگیاشامل ہیں ۔ ۴۔وہ پرہیز گارتھے اور جو بات فرمان پر ودردگار کے خلاف ہوتی تھی اس سے دوری اختیار کرتے تھے ۔(وکان تقیّا) ۵۔ اسے ہم نے اپنے ماں باپ کے ساتھ خوش گفتار نیکوکاراور محبت کرنے والاپایا(وبرّابوالدیہ) ۔ ۶۔وہ خلق خداسے خدد کو برتر سمجھنے والااور ظالم و متکبرنہیں تھا (ولم یکن جباراً) ۔ ۷۔وہ معصیت کار اور گناہ سے الودہ نہیں تھا (عصیا) ۔ ۸،۹،۱۰۔اور چونکہ وہ ان عظیم افتخارات اور عمدہ صفات کا مالک تھا ، لہذاجس دن پیداہوااس دن بھی اور اجس دنااس کو موت آئے اس دن بھی اور جس دن وہ دوبارہ زندہ کرکے قبرسے اٹھایا جائے گا اس دن بھی ،اس پر ہمارادرودوسلام ہو ، (وسلام علیہ یوم ولدویوم یموت ویوم یبعث حیا) ۔ ۱۔ تفسیر ”آلوسی “ اوتفسیر”قرطبی“ کی طرفزیربحث آیہ کی ذیل میں رجوع کریں ۔ ۲۔تفسیر” المیزان “ کی طرف زیربحث آیہ کے ذیل میں رجوع کریں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:12-15
۱۔ اسمانی کتاب قوت و طاقت کے ساتھ پکڑ لو
۱۔ اسمانی کتاب قوت و طاقت کے ساتھ پکڑ لو : جیسا کہ ہم کہ چکہ ہیں ۔یا یحییٰ” خذالکتاب بقوة“ کے جملے میں لفظ ”قوة“ مکمل طور پر ایک وسیع معنی ر کھتا ہے جس میں تمام مادی معنوی اور روحانی و جسمانی قوتیں جمع ہیں اور یہ چیز خود اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ دین الہٰی اور اسلام و قرآن کی حفاظت کمزوری سستی و کاہلی ، لنگڑے لولے بن کر پڑ ے رہنے اور غفلت شعاری کے ساتھ ممکن نہیں ہے ، بلکہ یہ قوت و طاقت اور قابلیت کے طاقتور قلعے کے اندر ہی ہو سکتی ہے ۔ اگر چہ یہاں پر مخاطب حضرت یحییٰ(علیه السلام) ہیں لیکن قرآ ن مجید کے دوسرے مواقع پر تعمیر دوسرے لوگوں کے لیے ربھی صادق آتی ہوئی نظر آتی معلو م ہو تی ہے ۔ سورہ اعراف کی آیہ ۱۴۵میں حضرت موسیٰ کو یہ حکم دیا جارہاہے کہ وہ تورات کو قوّت کے ساتھ پکڑ یں ۔ فخذھا بقرة اور سورہ بقرہ کی آیہ ۶۲ اور ۹۳ میں یہی خطاب تمام بنی اسرئیل کے لیے ۔ خذوامااٰتیناکم بقوْاّة اسے معلوم ہو تا ہے کہ یہ ایک عا م حکم ہے جو سب کے لیے ہے نہ ک کسی خاص شخص یا اشخاص کے لیے۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہی مفہوم دوسرے لفظوں میں سورہ انفال کی آ یہ ۶۰ میں تمام مسلمانوں کے لے بیا ن کیا ہو اہے : واعدوالھم مااستطعتم من قوّة جس قدر قوّت و طاقت تمہارے بس میں ہو دشمنوں کو مرعوب کرنے کے لیے فراہم کرو ۔ بہر حال یہ آیہ ا ن سب لوگوں کا جواب ہے کہ جو یہ گمان کرتے ہیں کہ کمزوری اور ضعف کے ساتھ کوئی کام سرانجام دیا جاسکتا ہے یا جو یہ چاہتے ہیں کہ تمام حلات میں حلات کے ساتھ سمجھوتہ کرتے کرتے ہوئے مشکلات کو حل کریں ۔