ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا
Thereafter he directed another means.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:92
[Pooya/Ali Commentary 18:92] (see commentary for verse 83)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:92-98
۱۔ اس داستان کے تاریخی اور تربیتی نکات
۱۔ اس داستان کے تاریخی اور تربیتی نکات: ذوالقرنین کون تھے، مشرق و مغرب کی طرف انھوں نے کس طرح سفر کیا اور ان کی بنائی ہوئی دیوار کہاں ہے؟ اس سلسلے میں ہم انشاء الله بعد میں بحث کریں گے ۔ قطع نظر اس کی تاریخ مطابقت کے، خود داستان بہت سے تربیتی اور تعمیری نکات کی حامل ہے ۔ سب سے زیادہ ان نکات پر غور کیا جانا چاہیے اور یہی د رحقیقت قرآن کا اصل مقصد ہے ۔ ۱۔ اسباب کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں : پہلا درس کہ جو ہمیں یہ داستا ن سکھاتی ہے یہ ہے کہ اسباب و وسائل سے کام لیے بغیر عالم میں کچھ نہیں ہوسکتا لہٰذا الله تعالیٰ نے حضرت ذوالقرنین کا کام کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے اسباب و وسائل عطا کیے ۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے: و اٰتیناہ من کل شیءٍ سبباً ہم نے اسے ہر طرح کے اسباب عطا کیے ۔ نیز فرمایا: فاَتبع سببا اُس نے بھی ان اسباب سے استفادہ کیا ۔ لہٰذا جو لوگ تو قع رکھیں کہ درکار اسباب و وسائل مہیا کیے بغیر کامیابی تک پہنچ جائیں وہ کہیں نہیں پہنچ سکتے، چاہے وہ ذوالقرنین ہی کیوں نہ ہوں ۔ ۲۔ گاہی بڑے شخصیت بھی غروب ہوجاتی ہے: سورج کا کیچڑ آلود چشمے میں غروب ہوجانا اگر چہ فریبِ نظر کا پہلو رکھتا ہے لیکن اس کے باوجودیوں لگتا ہے جیسے ہوسکتا ہے سورج اتنا بڑا ہونے کے باد وجود کیچڑ بھرے چشمے میں چھپ سکتا ہے جیسے ایک با عظمت انسان اور ایک بلند مقام شخصیت بعض اوقات کسی ایک بڑی لغزش کی وجہ سے اپنے اپنے مقام سے گرجاتی ہے اور اس کی شخصیت نگاہوں سے غروب ہوجاتی ہے ۔ ۳۔ تحسین اور سزادونوں کی ضرورت ہے: کوئی حکومت اپنے اچھے لوگوں کی تحسین و تشویق کے بغیر اور خطا کاروں کو سزا دیئے اور باز پرس کیے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی ۔یہی وہ اصول ہے جس سے حضرت ذوالقرنین نے استفاہ کیا اور کہا: جنھوںنے زیادتی اور ظلم کیا ہے انھیں ہم سزا دیں گے اور جو ایمان لائے ہیں اور اچھے عمل کرتے ہیں انھیں ہم اچھی جزا دیں گے ۔ حضرت علی علیہ السلام نے مالک اشتر کے نام ایک فرمان جاری کیا ۔ یہ فرمان نظامِ مملکت کا ایک جامع دستور العمل ہے ۔ اس مشہور حکم میں آپ(ع) فرماتے ہیں: ولا یکونن المحسن والمسیء عندک بمنزلة سواء فان فی ذٰلک ترھیداً لا ھل الاحسان فی الاحسان، و تدریبا لا ھل الاسائة علی الاسائة۔(2) تیری نگاہ میں نیک اور بد کبھی ایک نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ اس طرح تو نیک لوگ اپنے کام سے بد دل ہوجائیں گے اور بُرے بے پرواہ۔ ۴۔ اتنا بوجھ ڈالنا جو قابل برداشت ہو: عدل الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ کسی پر اتنا بوجھ اور ذمہ داری ڈالی جائے کہ جو اس کے لیے تکلیف دہ نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ذوالقرنین نے تصریح کی،میں ظالموںکو سزا دوں گااور نیک لوگوں کو اچھی جزادوں گا اور پھر فرمایا:میں ان کے سامنے آسان پروگرام رکھوں گا ۔یعنی ان کے ذمہ آسان کام لگاوٴں گا تا کہ وہ شوق اور رغبت سے یہ کام سرانجام دے سکیں ۔ ۵۔ مختلف علاقے، مختلف حالات اور مختلف تقاضے: ایک وسیع اور ہمہ گیر مملکت مختلف علاقوں میں لوگوں کے مختلف حالات سے بے اعتناء نہیں رہ سکتی ۔ ذوالقرنین کہ جو ایک حکومتِ الٰہی کے سر براہ تھے ۔ ان کی مملکت کے مختلف خطوں مختلف قومیں بستی تھیں ۔ ہرقوم کا اپنا رہن سہن اور تمدن تھا ۔ ذوالقرنین ان میںسے ہر ایک کے ساتھ اس کے حسب حال سلوک کرتے اور ان سب کو گویا اپنے پروں کے نیچے رکھتے ۔ ۶۔ ہر قوم کے مسائل حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے: ایک قوم کہ جو قرآن کے بقول: <لَایَکَادُونَ یَفْقَھُونَ قَوْلً یعنی ۔ بات تک نہ سمجھتی تھی ۔ حضرت ذوالقرنین نے اسے بھی اپنی نگاہ کرم سے دور نہیں رکھااور جیسے بھی ممکن ہوٴا ن کا درد دل سنا اور ان کی احتیاج کو پورا کیا ۔آپ نے ان کے اور ان کے دشمن کے د رمیان مضبوط دیوار بنادی، ظاہراً نظر نہیں آتا کہ حکوت کے لیے ایسی قوم کوئی فائدہ مند تھی اس کے باوجود حضرت ذوالقرنین نے ان کے ساتھ یہ حسن سلوک روارکھا اور ان کے مسائل حل کیے ۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: اسماع الاصم من غیر تصخر صدقة ھنیئة اتنی بلند آواز سے بات کرنا کہ بہرہ شخص بھی سن لے، اچھے صدقے کی مانند ہے ۔بشر طیکہ یہ بلند آواز غصے کے طور پر نہ ہو ۔(3) ۷۔ امن صحیح معاشرے کے لئے بنیادی شرط ہے: ایک صحیح معاشرے کی زندگی کے لیے امن اولین اور اہم ترین شرط ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قیام امن اور مفسدین کو روکنے کے لیے حضرت ذوالقرنین نے بہت باعثِ زحمت کام اپنے ذمے لیا نہایت مضبوط دیوار کھڑی کردی ۔ ایسی دیوار جو تاریخ میں ضرب المثل ہوگئی ۔ جیسے کہتے ہیں ”دیوار سکندر کی طرح“ (اگر چہ ذوالقرنین سکندر نہ تھے) ۔ اسی بناء پر حضرت ابراہیم(ع) نے تعمیر کعبہ کے وقت اس سرزمین کے لئے جو چیز سب سے پہلے الله سے مانگی وہ نعمت امن و امان ہی تھی ۔ آپ(ع) نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا: <رَبِّ اجعَل ہٰذَا البَلَدَ اٰمِناً بار الٰہا! اس شہر کو امن کا گہوارہ بنادے ۔ (ابراہیم۔ ۳۵) اسی لیے فقہ اسلام میں ان لوگوں کے لیے سخت ترین سزا مقرر کی گئی ہے جو معاشرے کے امن و امان کو خطرے میں ڈال دیں (سورہٴ مائدہ۔آیہ ۳۳ کی طرف رجوع کریں) ۔ ۸۔ صاحب مسئلہ کو خود بھی شریک کار ہونا چاہیے: اس تاریخی واقعے سے ایک اور سبق یہ لیا جاسکتا ہے کہ جن کا کوئی مسئلہ ہے اور جو کسی درد میں مبتلا ہیں انھیں بھی اپنے مسئلے کے حل اور درد کے علاج میں شریک ہونا چاہیے کیونکہ: آہِ صاحبِ درد را باشد اثر جو خود درد میں مبتلا ہو اس کی آہ اثر رکھتی ہے ۔ اسی لیے جنھوں نے وحشی قوموں کے حملے کی شکایت کی تھی سب سے پہلے حضرت ذوالقرنین نے انھیں حکم دیا کہ وہ لو ہے کی سلیں لے آئیں ۔ اس کے بعد آپ نے انھیں لو ہے کی دیوار کے گردآگ روشن کرنے کا حکم دیا ۔ پھر پگھلا ہوٴا تا نبا لا نے کے لیے کہا تا کہ اسے لو ہے پر لیپ دیا جائے ۔ اصولی طور پر جنھیں کوئی مسئلہ در پیش ہو، جب کام ان کی شراکت سے انجام پاتا ہے تو ان کی اصلاحتیں بھی ابھر تی ہیں، کام کی کوئی قدر و قیمت بھی ہوتی ہے اور پھر وہ اس کی حفاظت بھی کرتی ہیں کیونکہ اس میں ان کی زحمتیں بھی شامل ہوتی ہیں ۔ ضمنی طور پر اس سے یہ بھی اچھی طرح واضح ہوتاہے کہ ایک پسماندہ قوم کو بھی جب کوئی صحیح سرپرست اور منصوبہ بندی میسر آجائے تو وہ بھی بڑے اہم اور محیر العقول کام کرسکتی ہے ۔ ۹۔ خدائی رہبر کی مادیات سے بے اعتنائی: ایک سبق اس داستان سے یہ حاصل ہوتا ہے کہ ایک خدائی رہبر کو مال دنیا اورمادیات سے بے پرواہ اور بے اعتناء ہونا چاہیے اور جو کچھ الله نے اسے عطا کیا ہے اسی پر قناعت کرنا چاہیے ۔ بادشاہ ہر طرف سے اور ہر کسی سے عجیب عجیب ہٹکنڈے استعمال کر کے مال جمع کرنے کی لالچ کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ذوالقرنین کو جب مال کی پیشکش کی گئی تو آپ نے یہ کہہ کر قبول نہ کی کہ: ما مکنی فیہ ربی خیر جو کچھ میرے رب نے مجھے دیا ہے وہ بہتر ہے ۔ قرآن مجید میں واقعاتِ انبیاء میں ہم بارہا دیکھتے ہیں کہ ان کی یہ بات بنیادی ہوتی تھی کہ ہماری دعوت تم سے کسی اجر وصلہ کے لیے نہیں اور ہم تم سے اجر کی خواہش نہیں کرتے ۔ یہ بات قرآن مجید میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور دیگر انبیاء کے بارے میں گیارہ مرتبہ دکھائی دیتی ہے ۔ کبھی اس جملے کے ساتھ یہ فرمایا گیا ہے کہ: ہماری جزا تو خدا کے ذمہ ہے ۔ اور کبھی فرمایا گیا ہے: <قُلْ لَااٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْرًا إِلاَّ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبیٰ میں تم سے اپنے اقرباء سے محبت وموٴدت کے علاوہ کسی چیز کا تقاضانھیں کرتا ۔ اہل بیت(ع) سے موٴدت و محبت کا یہ تقاضا بھی دراصل آئندہ رہبری کی بنیاد کے طور پر ہے ۔ ۱۰۔ کام ہر لحاظ سے ٹھوس اور مضبوط ہونا چاہیے: کام کو ہر لحاظ سے ٹھوس اور پائدار کرنا، اس داستان کا ایک اور سبق ہے ۔ ذوالقرنین نے دیوار تعمیر کرنے کے لیے لو ہے کی بڑی بڑی سلیں استعمال کیں اور انھیں آپس میں ملانے اور جوڑنے کے لیے آگ میں پگھلایا ۔ نیز دیوار کو ہَوا، رطوبت، بارش وغیرہ کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے پر تانبے کالیپ کردیا تا کہ لو ہا بوسیدہ اور زنگ زدہ نہ ہو ۔ ۱۱۔تکبر۔ انسان کو زیبا نہیں: انسان کتنا بھی طاقتور اور صاحب قدرت ہو اور بڑے بڑے کام کر گزرے پھر بھی اسے ہرگز اپنے اوپر غرور اور ناز نہیں کرنا چاہیے ۔ یہ وہ درس ہے حضرت ذوالقرنین نے سب کو دیا ہے ۔ وہ ہر مقام پر قدرت پر بھروسہ کرتے تھے ۔ جب دیوار مکمل ہوگئی تو انھوں نے کہا: ھٰذا رحمة من ربی یہ میرے رب کی رحمت ہے ۔ جب انھیں مالی کمک کی پیش کش ہوئی تو کہا: ما مکنی فیہ ربی خیر جو کچھ الله نے مجھے بخشا ہے وہ اس سے بہتر ہے ۔اور جب آپ نے اس مضبوط دیوار کے درہم برہم ہوجانے کی بات کی تو بھی پروردگار کے وعدہٴ حق کا سہارا لیا ۔ ۱۲۔ اس جہان کی ہر چیز فنا پذیر ہے: آخرکار تمام چیزیں زائل ہوجائیں گی ۔ اس جہان کی مضبوط ترین عمارتیں بھی آخر کار تباہ ہوجائیں گی،اگر چہ وہ لو ہے اور فولاد کی بنی ہوں ۔ یہ اس داستان کا آخری درس ہے ۔ یہ ان تمام لوگوں کے لیے درس ہے جو عملی طور پر دنیا کو جاودانی سمجھتے ہیں اور مال جمع کرنے، منصب و مقام حاصل کرنے کے لیے کسی قانون اور قاعدے کی پرواہ نہیں کرتے اور دنیا کے لیے ایسی حریصانہ کوشش کرتے ہیں کہ گویا موت اور فنا ہے ہی نہیں ۔ جبکہ دیوارِ ذوالقرنین تو معمولی چیز ہے، سورج اتنا بڑا ہونے کے باوجود خاموش اور فنا ہوجائے گا ۔ پہاڑ اپنی اتنی مضبوطی کے با وجود دھنی ہوئی روئی کی مانند اڑجائیں گے ۔ان سب چیزوں میں انسان تو بہت ہی کمزور سی مخلوق ہے ۔ کیا اس حقیقت کے بارے میں غور و خوض انسان کو خود غرضیوں اور پرستیوں سے روکنے کے لیے کافی نہیں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:92-98
۴۔ یا ٴجوج ماٴجوج کون ہیں؟
۴۔ یا ٴجوج ماٴجوج کون ہیں؟ قرآن مجید کی دوسورتوں میں یاجوج ماجوج کا ذکر آیا ہے ۔ ایک زیرِ بحث آیات میں اور دوسرا سورہٴ انبیاء کی آیت ۹۴ میں ۔ آیاتِ قرآن واضح طور پر گواہی دیتی ہیں کہ یہ دو وحشی خو نخوار قبیلوں کے نام تھے ۔ وہ لوگ اپنے ارد گرد رہنے والے پر بہت زیادتیاں اور ظلم کرتے تھے ۔ تورات کی کتاب حز قیل فصل ۳۸ اور ۳۹ میں نیز کتاب ”رویائے یوحنا“کی بیسویں فصل میں انہیں ”گوگ“ اور ”ماگوگ“کہا گیا ہے کہ عربی میں جنہیں ”یاجوج ماجوج “ہی کہا جائے گا ۔ عظیم مفسر علامہ طباطبائی نے المیزان میں لکھا ہے کہ تورات کی ساری باتوں سے مجموعی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ماٴجوج یا یاٴجوج و ماٴجوج ایک یاکئی بڑے بڑے قبیلے تھے ۔ یہ شمالی ایشیا کے دور دراز علاقے میں رہتے تھے ۔ یہ جنگجو، غارت گر اور ڈاکو قسم کے لوگ تھے ۔ بعض کا نظریہ ہے کہ یہ عبرانی زبان کے الفاظ ہیں لیکن در اصل یونانی زبان سے عبرانی میں منتقل ہوئے ہیں، یونانی میں ان کا تلفظ ”گاگ“ اور ”ماگاگ“ تھا دیگر یوروپی زبانوں میں بھی یہ الفاظ اسی شکل میں منتقل ہوئے ہیں ۔ تاریخ کے بہت سے دلائل کے مطابق زمین کے شمال مشرق مغولستان کے اطرافمیں گزشتہ زمانوں میں انسانوں کا گویا جوش مارتا ہوٴا چشمہ تھا ۔ یہاں کے لوگوں کی آبادی بڑی تیزی سے پھلتی اور پھولتی تھی ۔آبادی زیادہ ہونے پر یہ لوگ مشرق کی سمت پا نیچے جنوب کی طرف چلے جاتے تھے اور سیلِ رواں کی طرح ان علاقوں میں پھیل جاتے تھے اور پھر تدریجاً وہاں سکونت اختیار کر لینے تھے ۔ تاریخ کے مطابق سیلاب کی مانند ان قوموں کے اٹھنے کے مختلف دور گزرے ہیں ۔ ان میں ایک جملہ ان وحشی قبائل نے چوتھی صدی عیسوی میں آتیلا کی کمان میں کیا ۔ اس حملے میں روم کا شاہی تمدن خاک میں مل گیا ۔ ایک اور دور کہ جو ان کے حملوں کا تقریباً آخری دور شمار ہوتا ہے، وہ بار ہویں صدی ہجری میں چنگیز خان کی سرپرستی میں ہوٴا ۔ انہوں نے مسامان اور عرب ممالکت پر حملہ میں بغداد سمیت بہت سے شہر تباہ و برباد ہوگئے ۔ کورش کے زمانے میں بھی ان کی طرف سے ایک حملہ ہوٴا ۔ یہ تقریباً پانچ قبل مسیح کی بات ہے لیکن اس زمانے میں ماد اور فارس کی متحدہ حکومت معرضِ وجود میں آچکی تھی لہٰذا حالات بدل گئے اور مغربی ایششا ان قبائل کے حملوں سے آسودہ خاطرہوگیا ۔ لہٰذا یہ زیادہ صحیح لگتا ہے کہ یاجوج و ماجوج انہی وحشی قبائل میں سے تھے ۔ جب کورش ان علاقوں کی طرف گئے تو قفقاز کے لوگوں نے درخواست کی کہ انہیں ان قبائل کے حملوں سے بچایا جائے ۔ لہٰذا اس نے وہ مشہور یوار تعمیر کی ہے جسے دیوار ذوالقرنین کہتے ہیں(1) ۱۔المیزان، ج ۱۳ ، ص۴۱۱․
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:92-98
۳ ۔ دیوار ذوالقرنین کہاں ہے؟
۳ ۔ دیوار ذوالقرنین کہاں ہے؟ بعض لوگ چاہتے ہیں کہ اسے مشہور دیوارِ چین پر منطبق کریں کہ جو اس وقت موجود ہے اور کئی سوکلومیٹر لمبی ہے لیکن واضح ہے کہ دیوارِ چین لوہے اور تانبے سے نہیں بنی ہوئی اور نہ وہ کسی چھوٹے کوہستانی درّے میں ہے ۔ وہ تو ایک عام مصالحے سے بنی ہوئی دیوار ہے ۔ اور جیسا کہ ہم نے کہا ہے کئی سوکلومیٹر لمبی ہے اور اب بھی موجود ہے ۔ بعض کا اصرار ہے کہ یہ وہی دیوارِ ماٴرب ہے کہ جو یمن میں ہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ دیوارِ ماٴرب ایک کوہستانی درّے میں بنائی گئی ہے لیکن وہ سیلاب کو روکنے کے لیے اور پانی ذخیرہ کرنے کے مقصد سے بنائی گئی ہے اور ویسے بھی وہ لو ہے اور تانبے سے بنی ہوئی نہیں ہے ۔ جبکہ علماء و محققین کی گواہی کی مطابق سرزمین قفقاز میں دریائے خزر او ردریائے سیاہ کے درمیان پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے کہ جوایک دیوار کی طرح شمال او رجنوب کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے اس میں ایک ہی دیوار کی طرح کا درّہ موجود ہے جو مشہور درّہ داریال ہے ۔ یہاں اب تک ایک قدیم تاریخی لو ہے کی دیوار نظر آتی ہے ۔ اسی بناء پربہت سے لوگوں کا نظریہ ہے کہ دیوارِ ذوالقرنین یہی ہے ۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ وہیں قریب ہی”سائرس“ نامی ایک نہر موجود ہے اور” سائرس“ کا معنی” کورش“ ہی ہے( کیونکہ یونانی”کورش“ کو ”سائرس“کہتے تھے) ۔ ارمنی کے قدیم آثارمیں اس دیوار کو” بھاگ گورائی“ کے نام سے یاد کیا گیا ہے ۔ اس لفظ کا معنی ہے” درہ کوروش“ یا”معبرِ کورش“(کوروش کے عبور کرنے کی جگہ) ۔یہ سند نشاندہی کرتی ہے کہ اس دیوار کا بانی کوروش ہی تھا ۔(1) 1۔ مزید و ضاحت کے لیے کتاب ”ذوالقرنین یا کوروش کبیر“ اور ”فرہنگ قصصِ قرآن“کی طرف رجوع فرمائیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:92-98
سوره کهف / آیه 92 - 98
۹۲ ثُمَّ اٴَتْبَعَ سَبَبًا ۹۳ حَتَّی إِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِھِمَا قَوْمًا لَایَکَادُونَ یَفْقَھُونَ قَوْلًا ۹۴ قَالُوا یَاذَا الْقَرْنَیْنِ إِنَّ یَاٴْجُوجَ وَمَاٴْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِی الْاٴَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلیٰ اٴَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا ۹۵ قَالَ مَا مَکَّنَنِی فِیہِ رَبِّی خَیْرٌ فَاٴَعِینُونِی بِقُوَّةٍ اٴَجْعَلْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھُمْ رَدْمًا ۹۶ آتُونِی زُبَرَ الْحَدِیدِ حَتَّی إِذَا سَاوَی بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انفُخُوا حَتَّی إِذَا جَعَلَہُ نَارًا قَالَ آتُونِی اٴُفْرِغْ عَلَیْہِ قِطْرًا ۹۷ فَمَا اسْتَطَاعُوا اٴَنْ یَظْھَرُوہُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَہُ نَقْبًا ۹۸ قَالَ ھٰذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَبِّی فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّی جَعَلَہُ دَکَّاءَ وَکَانَ وَعْدُ رَبِّی حَقًّا ترجمہ ۹۲ ۔ اس نے پھر ان وسائل سے اسفادہ کیا ( کہ جو اس کے اختیار میں تھے) ۔ ۹۳۔ ( اور اسی طرح اپنا سفر جاری رکھا) یہاں تک کہ وہ دو پہاڑوں کے در میان پہنچا اور وہاں ان دو سے مختلف ایک ایسا گروہ پایا جس کے لوگ کوئی بات نہیں سمجھ سکتے تھے ۔ ۹۴۔ ( وہ لوگ) کہنے لگے: اے ذوالقرنین! یا جوج و ماجوج اس سرزمین پر فساد برپا کرتے ہیں کیا ممکن ہے کہ اخراجات تجھے ہم فراہم کریں اور تمھارے او ران کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنادے ۔ ۹۵۔ ( ذوالقرنین نے) کہا: الله نے جو میرے اختیار میں دیا ہے وہ ( اس سے) بہتر ہے (کہ جس کی تم پیشکش کرتے ہو) قوت و طاقت سے میری مدد کرو تا کہ تمھارے اور ان کے درمیان دیوار بنادوں ۔ ۹۶۔ لو ہے کی بڑی بڑی سِلیں میرے پاس لے آوٴ ( اور انھیں ایک دوسرے پر چن دو) تا کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان کی جگہ پوری طرح چھپ جائے ۔ اس کے بعد اس نے کہا اس کے اطراف میں آگ روشن کرو اور) آگ کو دھونکو یہاں تک کہ (دھونکتے دھونکتے انھوں نے لو ہے کی سلوں کو سرخ انگارہ بنا کر پگھلا دیا اس نے کہا (اب) پگھلا ہوٴا تانبا میرے پاس لے آوٴ تا کہ اسے اس کے اوپر ڈال دوں ۔ ۹۷۔ (آخر کار اس نے ایسی مضبوط دیوار بنای کہ) اب وہ اس کے اوپر نہیں جاسکتے تھے اور نہ ہی اس میں نقب لگا سکتے تھے ۔ ۹۸ ۔ اس نے کہا: یہ میرے رب کی رحمت ہے لیکن جب میرے رب کا وعدہ آپہنچا تو اسے درہم برہم کردے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ حق ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:92-98
ذوالقرنین نے دیوار کیسے بنائی؟
ذوالقرنین نے دیوار کیسے بنائی؟ زیر نظر آیات میں حضرت ذوالقرنین کے ایک اور سفر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے:اس کے بعد اس نے حاصل وسائل سے پھر استفادہ کیا ( ثُمَّ اٴَتْبَعَ سَبَبًا) اور اس طرح اپنا سفر جاری رکھا یہاں تک کہ وہ دو پہاڑوںکے درمیان پہنچا وہاں ان دو گروہ ہوں سے مختلف ایک دور گروہ کو دیکھا ۔ یہ لوگ کوئی بات نہیں سمجھتے تھے ۔ (حَتَّی إِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِھِمَا قَوْمًا لَایَکَادُونَ یَفْقَھُونَ قَوْلً) ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ کوہستانی علاقے میں جاپہنچے ۔ مشرق او رمغرب کے علاقے میں وہ جیسے لوگوں سے ملے تھے یہاں ان سے مختلف لوگ تھے ۔ یہ لوگ انسانی تمدن کے اعتبار سے بہت ہی پسماندہ تھے کیونکہ انسانی تمدن کی سب سے واضح مظہر انسان کی گفتگوہے ۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ” لَایَکَادُونَ یَفْقَھُونَ قَوْلًا“ ۔ سے یہ مراد نہیں کہ وہ مشہور زبانوں میں سے کسی کو جانتے نہیں تھے بلکہ وہ بات کا مفہوم نہیں سمجھ سکتے تھے یعنی فکری لحاظ سے بہت پسماندہ تھے ۔ اوریہ کہ وہ پہاڑ کہاں تھے؟ اس سلسلے میں ہم اس واقعے کے دیگر تاریخی اور جغرافیائی پہلووٴں کا جائزہ لیتے ہوئے تفسیری بحث کے آخر میں گفتگو کریں گے ۔ اس وقت یہ لوگ یا جوج و ماجوج نامی خونخوار او رسخت دشمن سے بہت تنگ او رمصیبت میں تھے ۔ ذوالقرنین کہ جو عظیم قدرتی وسائل کے حامل تھے، ان کے پاس پہنچے تو انھیں بڑی تسلی ہوئی ۔ انھوں نے ان کا دامن پکڑلیا اور ” کہنے لگے: اے ذوالقرنین! یا جوج و ماجوج اس سرزمین پر فساد کرتے ہیں ۔کیاممکن ہے کہ خرچ آپ کو ہم دے دیں اور آپ ہمارے او ران کے درمیان ایک دیوار بنادیں“ ( قَالُوا یَاذَا الْقَرْنَیْنِ إِنَّ یَاٴْجُوجَ وَمَاٴْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِی الْاٴَرْضِ فَھَلْ نَجْعَلُ لَکَ خَرْجًا عَلیٰ اٴَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ سَدًّا ) ۔ وہ ذوالقرنین کی زبانی تو نہیں سمجھتے تھے اس لیے ہوسکتا ہے یہ بات انھوں نے اشارے سے کی ہویا پھر ٹوٹی پھوٹی زبان میں اظہار مدعا کیا ہو ۔ یہ احتمال بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ان کے درمیان مترجمین کے ذریعے بات چیت ہوئی ہو یا پھر خدائی الہام کے ذریعے حضرت ذوالقرنین نے ان کی بات سمجھی ہو جیسے حضرت ذوالقرنین بعض پرندوں سے بات کرلیا کرتے تھے ۔ بہرحال اس جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی اقتصادی حالت اچھی تھی لیکن سوچ بچار،منصوبہ بندی، اور صنعت کے لحاظ سے وہ کمزور تھے ۔لہٰذاوہ اس بات پر تیار تھے کہ اس اہم دیوار کے اخرجات اپنے ذمہ لے لیں اس شرط کے ساتھ کہ ذوالقرنین اس کی منصوبہ بندی اور تعمیر کی ذمہ قبول کرلیں ۔ یاجوج و ماجوج کے بارے میں انشاء اللهاس بحث کے آخر میں گفتگو کی جائے گی ۔ اس پر ذوالقرنین نے انھیں جواب دیا:یہ تم نے کیا کہا؟ اللهنے مجھے جو کچھ دے رکھا ہے،وہ اس سے بہتر ہے کہ جو تم مجھے دینا چاہتے ہو اور میں تمھارے مالی امداد کا محتاج نہیں ہوں (قَالَ مَا مَکَّنَنِی فِیہِ رَبِّی خَیْر) ۔ تم قوت و طاقت کے ذریعے میری مدد کرو تا کہ میں تمھارے اور ان دو مفسد قوموں کے درمیان مضبوط اور مستحکم دیوار بنادوں (فَاٴَعِینُونِی بِقُوَّةٍ اٴَجْعَلْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَھُمْ رَدْمًا) ۔ ”رَدْم“ (بروزن ”مرد“) بنیادی طور پر پتھر کے ذریعے بھرنے کے معنی میں ہے لیکن بعد ازاں یہ لفظ وسیع معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ اب ہر قسم کی رکاوٹ اور دیوار کو ”رَدْم“ کہتے ہیں یہاں تک کہ اب کپڑے میں پیوند کے لیے بھی بولا جاتا ہے ۔ بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ”رَدْم“ مضبوط او رمستحکم”سَد“ کو کہتے ہیں ۔(۱) ا س تفسیر کے مطابق ذوالقرنین نے ان سے وعدہ کیا وہ ان کی توقع سے زیادہ مضبوط دیوار بنادیں گے ۔ ضمناً تو جہ رہے کہ ”سَد“بر وزن ”قد“ اور’ ’سَد“( بروزن’ ’خود“) کا ایک ہی معنی ہے اور وہ ہے”دو چیزوں کے درمیان کوئی رکاوٹ“ لیکن مفردات میں راغب نے لکھا ہے کہ ان دونوں لفظوں کے درمیان فرق ہے ۔”سَد“ کو وہ انسان کی بنائی ہوئی رکاوٹ یا دیوار سمجھتے ہیں اور” سَد“ کو فطری اور طبعی رکاوٹ خیال کرتے ہیں ۔ پھر ذوالقرنین نے حکم دیا: لو ہے کی بڑی بڑی سلیں میرے پاس لے آوٴ (آتُونِی زُبَرَ الْحَدِید) ۔ ”زُبَر“ ”زُبَرة“ (بروزن’ ’غرفة“) کی جمع ہے ۔ یہ لو ہے کے بڑے اور ضخیم ٹکڑے کے معنی میں ہے ۔ جب لو ہے کی سلیں آگئیں تو انھیں ایک دوسرے پر چننے کا حکم دیا” یہاں تک کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان کی جگہ پوری طرح چھپ گئی“ (حَتَّی إِذَا سَاوَی بَیْنَ الصَّدَفَیْن) ۔ ”صدف“ یہاں پہاڑ کے کنارے کے معنی میں ہے ۔ اس لفظ سے واضح ہوتاہے کہ پہاڑوںکے دوکناروں کے درمیان ایک کھلی جگہ تھی اور یہیں سے سے یاجوج ماجوج داخل ہوئے تھے ۔ ذوالقرنین نے پروگرام بنایا کہ اس خالی جگہ کو پھر دیا جائے ۔ بہرحال تیسرا حکم ذوالقرنین نے یہ دیا کہ آگ لگانے کا مواد ( ایدھن وغیرہ) لے آوٴ اور اسے اس دیوار کے دونوں طرف رکھ دو اور اپنے پاس موجود وسائل سے آگ بھڑکاوٴ اور اس میں دھونکو یہاں تک کہ لو ہے کی سلیں انگاروں کی طرح سرخ ہو کر آخر پگھل جائیں (قَالَ انفُخُوا حَتَّی إِذَا جَعَلَہُ نَارًا) ۔ در حقیقت وہ اس طرح لو ہے کے ٹکروں کو آپس میں جوڑ کر ایک کردینا چاہتے تھے ۔ یہی کام آج کل خاص مشینوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے ۔لو ہے کی سلوںکو اتنی حرارت دی گئی کہ وہ نرم ہوکر ایک دوسرے سے مل گئیں ۔ پھر ذوالقرنین نے آخری حکم دیا: کہا کہ پگھلا ہوٴا تا بتالے آوٴ تا کہ اسے اس دیوار کے آوپر ڈال دوں (قَالَ آتُونِی اٴُفْرِغْ عَلَیْہِ قِطْرًا) ۔ اس طرح اس لو ہے کی دیوار پر تابنے کالیپ کر کے اسے ہوا کے اثر سے اور خراب ہونے سے محفوظ کردیا ۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ موجودہ سائنس کے مطابق اگر تا نبے کی کچھ مقدار لو ہے میں ملادی جائے تو اس کی مضبوطی بہت زیادہ ہوجاتی ہے ۔ ذوالقرنین چونکہ اس حقیقت سے آگاہ تھے اس لیے انھوں نے یہ کام کیا ۔ ضمناً یہ بھی عرض کردیا جائے کہ”قِطْر“ کا مشہور معنی ”پگھلا ہوا تانبا“ ہی ہے لیکن بعض مفسرین نے اس کے معنی” پگھلا ہوا جست“ کیا ہے جبکہ یہ خلاف مشہور ہے ۔ آخر کار یہ دیوار اتنی مضبوط ہوگئی کہ اب وہ مفسد لوگ نہ اس کے اوپر چھڑھ سکتے تھے اور نہ اس میں نقب لگا سکتے تھے ( فَمَا اسْتَطَاعُوا اٴَنْ یَظْھَرُوہُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَہُ نَقْبًا) ۔ ذوالقرنین نے بہت اہم کام انجام دیا تھا ۔ مستکبرین کی روش تو یہ ہے کہ ایسا کام کرکے وہ بہت فخر و ناز کرتے ہیں یا احسان جتلاتے ہیں لیکن ذوالقرنین چونکہ مرد خدا تھے لہٰذا انتہائی ادب کے ساتھ” کہنے لگے: یہ میرے رب کی رحمت ہے“ ( قَالَ ھٰذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَبِّی) ۔ اگر میرے پاس اہم کام کرنے کے لیے علم و آگاہی ہے تو یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگرمجھ میں کوئی طاقت ہے اور میں بات کرسکتا ہوں تو وہ بھی اس کی طرف سے ہے اگر یہ چیزیں او ران کا ڈھالنا میرے اختیار میں ہے تو یہ بھی پروردگار کی وسیع رحمت کی برکت ہے میرے پاس کچھ بھی اپنی طرف سے نہیں ہے کہ جس پر میں فخر و ناز کروں اور میں نے کوئی خاص کام بھی نہیں کیا کہ الله کے بندوں پر احسان جتاتا پھروں ۔ ا س کے بعد مزید کہنے لگے: یہ نہ سمجھنا کہ کوئی دائمی دیوار ہے” جب میرے پروردگار کا حکم آیا تو یہ درہم و برہم ہو جائے گی اور زمین بالکل ہموار ہوجائے گی“ ( فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّی جَعَلَہُ دَکَّاءَ ) ۔ اور میرے رب کا، وعدہ حق ہے( وَکَانَ وَعْدُ رَبِّی حَقًّا ) ۔ یہ کہہ کر ذوالقرنین نے اس امر کی طرف اشارہ کیا کہ اختتام دنیا اور قیامت کے موقع پر یہ سب کچھ درہم و برہم ہوجائے گا ۔ البتہ بعض مفسرین نے وعدہٴ الٰہی کو انسانی علم کی ترقی کی طرف اشارہ سمجھا ہے یعنی علمی ترقی کے بعد پھر نا قابل عبور دیوار کا کوئی مفہوم نہیں رہے گا مثلاً ہوائی جہاز اور ہیلی کاپڑ کے ذریعے ایسی رکاوٹوں کو ختم کردیں گے لیکن یہ تفسیر بعید معلوم ہوتی ہے ۔ ۱۔ یہ بات آلوسی نے روح المعانی میں، فیض کاشانی نے صافی میں اورفخر رازی نے تفسیر کبیر میں کہی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:92-98
۲۔ ذوالقرنین کون تھا؟
۲۔ ذوالقرنین کون تھا؟ جس ذوالقرنین کا قرآن مجید میں ذکر ہے، تاریخی طور پر وہ کون شخص ہے، تاریخ کی مشہور شخصیتوں میں سے یہ داستان کس پر منطق ہوتی ہے، اس سلسلے میں مفسرین کے ما بین اختلاف ہے ۔ اس سلسلے میں جو بہت سے نظریات پیش کیے گئے ہیں ان میں سے یہ تین زیادہ اہم ہیں: پہلا:بعض کا خیال ہے کہ اسکندر مقدونی ہی ذوالقرنین ہے لہٰذا وہ اسے سکندر ذوالقرنین کے نام سے پکارتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ اس نے اپنے باپ کی موت کے بعد روم، مغرب اور مصر پر تسلط حاصل کیا ۔ اس نے اسکندر یہ شہر بنایا ۔ پھر شام اور بیت المقدس پر اقتدار قائم کیا ۔ وہاں سے ارمنستان گیا ۔ عراق و ایران کو فتح کیا ۔پھر ہندوستان اور چین کا قصد کیا وہاں سے خراسان پلٹ آیا، اس نے بہت سے نئے شہروں کی بنیاد رکھی، پھر وہ عراق آگیا اس کے بعد وہ شہر زور میں بیمار پڑا اور مرگیا ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی عمر چھتیس سال سے زیادہ نہ تھی ۔ اس کا جسدِ خاکی اسکندر یہ لے جا کر دفن کردیا گیا ۔ (1) دوسرا:مورخین میں سے بعض کا نظریہ ہے ذوالقرنین یمن کا ایک بادشاہ تھا ۔ (یمن کے بادشاہ کو ”تبع“ کے نام سے پکارا جاتا تھا) ۔ اصمعی نے اپنی تاریخ ”عرب قبل از اسلام“ میں،ابن ہشام نے اپنی مشہور تاریخ”سیرة“میں اور ابوریحان بیرونی نے”الآثار الباقیہ“ میں یہی نظریہ پیش کیا ہے ۔ یہاں تک کہ یمن کی ایک قوم” حمیری“ کے شعراء اور زمانہٴ جاہلبیت کے بعض شعراء کے کلام میں دیکھا جا سکتا ہے انھوں نے ذوالقرنین کے اپنے میں سے ہونے پر فخر کیا ہے ۔(2) اس نظریہ کی بناء پر ذوالقرنین نے جو دیوار بنائی وہ دیوار ماٴرب ہے ۔ تیسرا:یہ جدید ترین نظریہ ہے جو ہندوستان کے مشہور عالم ابوالکلام آزاد نے پیش کیا ہے ۔ ابوالکلام آزاد کسی دَور میں ہندوستان کے وزیر تعلیم تھے ۔ اس سلسلے میں انھوں نے ایک تحقیقی کتاب لکھی ہے ۔ (3) اس نظریے کے مطابق ذوالقرنین، کورش کبیر بادشاہ ہخامنشی ہے ۔ پہلے اور دوسرے نظریے کے لیے کوئی خاص تاریخی مدرک نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ قرآن نے ذوالقرنین کی جو صفات بیان کی ہیں ان کا حامل اسکندر مقدونی ہے نہ کوئی بادشاہ یمن۔ اس پر مستزاد یہ کہ اسکندر مقدونی نے کوئی معروف دیوار بھی نہیں بنائی ۔ رہی وہ یمن کی دیوار ماٴرب، تو اس میں ان صفات میں سے ایک بھی نہیں جو قرآن کی ذکر کردہ دیوار میں ہیں ۔ کیونکہ قرآن کے مطابق دیوارِ ذوالقرنین لو ہے اور تانبے سے بنائی گئی ہے اور یہ دیوار وحشی اقوام کو روکنے کے لیے بنائی گئی تھی جبکہ دیوارِمارب عام مصالحے سے بنائی گئی ہے اور اس کی تعمیر کا مقصدپانی کا ذخیرہ کرنا اور سیلابوں سے بچانا تھا ۔ اس کی وضاحت خود قرآن نے سورہٴ سبا میں کی ہے ۔ لہٰذا ہم اپنی بحث کو زیادہ تر تیسرے نظریے پرمرتکز کرتے ہیں ۔ یہاں ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ چند امور کی طرف خوب توجہ د ی جائے : (ا) ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ” ذولقرنین“ کا معنی ہے” دوسینگوں والا“ ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انھیں اس نام سے کیوں موسوم کیا گیا ۔ بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ نام اس لیے پڑا کہ وہ دنیا کے مشرق و مغرب تک پہنچے کہ جسے عرب” قرنی الشمس“ ( سورج کے دوسینگ) سے تعبیر کرتے ہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ نام اس لیے ہوا کہ انھوں نے دو قرن زندگی گزاری یا حکومت کی ۔ پھر یہ کہ قرن کی مقدار کتنی ہے، اس میں بھی مختلف نظریات ہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کے سر کے دونوں طرف ایک خاص قسم کا ابھار تھا اس وجہ سے ذوالقرنین مشہور ہوگئے ۔ بعض کا نظریے یہ ہے کہ ان کا خاص تاج دوشاخوں والا تھا ۔ اس کے علاوہ بھی نظریات ہیں، جن کا ذکر بات کو طویل کرے گا ۔ بہر حال ہم دیکھیں گے کہ ذوالقرنین کی شخصیت کے بارے میں تیسرا نظریہ پیش کرنے والے یعنی ابوالکلام آزادنے اپنے نظریے کے اثبات کے لیے اس لقب”ذوالقرنین“ سے بہت استفادہ کیا ہے ۔ (ب) قرآن مجید سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین ممتاز صفات کے حامل تھے ۔ اللهتعالیٰ نے کامیابی کے اسباب ان کے اختیار میں دیئے تھے ۔ انھوں نے تین اہم لشکر کشیاں کیں ۔ پہلے مغرب کی طرف، پھر مشرق کی طرف اور آخر میں ایک ایسے علاقے کی طرف کہ جہاں ایک کہستانی درّہ موجود تھا ۔ ان مسافرت میں وہ مختلف اقوام سے ملے ۔ ان کی تفصیل آیات کی تفسیر میں گزر چکی ہے ۔ وہ ایک مردِ مومن موحّد اور مہربان شخص تھے ۔ وہ عدل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے تھے ۔ اسی بناء پر الله کا لطف خاص ان کے شاملِ حامل تھا ۔ وہ نیکوں کے دوست اور ظالموں کے دشمن تھے ۔ انھیں دنیا کے مال و ولت سے کوئی لگاوٴنہ تھا ۔ وہ الله پر بھی ایمان رکھتے تھے اور روزِ جزاء پر بھی ۔ انھوں نے ایک نہایت مضبوط دیوار بنائی، یہ دیوار انھوں نے اینٹ اور پتھر کی بجائے لو ہے اور تا بنے سے بنائی ( اور اگر دوسرے مثالحے بھی استعمال ہوئے ہوں تو ان کی بنیادی حیثیت نہ تھی) ۔ اس دیوار بنانے سے ان کا مقصد مستضعف اور ستم رسیدہ لوگوں کی یاجوج وماجوج کے ظلم وستم کے مقابلے میں مدد کرنا تھا ۔ وہ ایسے شخص تھے کہ نزول قرآن سے قبل ان کا نام لوگوں میں مشہور تھا ۔لہٰذا قریش اور یہودیوں نے ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا تھا ، جیسا کہ قرآن کہتا ہے : <یسئلونک عن القرنین ََََ”تجھ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں“۔ البتہ قرآن سے کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جو صراحت سے ان کے نبی ہونے پر دلادت کرے اگرچہ ایسی تعبیرات قرآن میں موجود ہیں کہ جو اس مطلب اشارہ کرتی ہیں، جیسا کہ آیات کی تفسیر میں گزر چکا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے بہت سی ایسی روایات منقول ہیں جن میں ہے کہ: وہ نبی نہ تھے بلکہ الله کے ایک صالح بندے تھے ۔ (۱) (ج) یہ نظریہ کہ ذولقرنین۔ کورش کبیر۔ کو کہتے ہیں، اس کی دوبنیادیں ہیں: پہلی: یہ کہ اس کے بارے میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے والے یہودی تھے یا یہودیوں کی تحریک پر قریش تھے ۔ جیسا کہ ان آیات کی شان نزول کے بارے میں منقول روایات سے ظاہر ہوتا ہے ۔ لہٰذا اس سلسلے میں کتبِ یہود کو دیکھا جانا چاہیے ۔ یہودیوں کی مشہور کتابوں میں سے کتاب دانیال کی آٹھویں فصل میں ہے: ”بل شصّر“ کی سلطنت کے سال مجھ دانیال کو خواب دکھایا گیا ۔ جو خواب مجھے دکھا یا گیا اس کے بعد اور خواب میں، مَیں نے دیکھا کہ میں ملک ”عیلام“ کے” قصر شوشان“ میں ہوں ۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں” دریائے ولادی“ کے پاس ہوں ۔ میں نے آنکھیں اٹھا کر دیکھا کہ ایک مینڈھا دریا کے کنارے کھڑا ہو گیا ہے ۔ اس کے دوسینگ تھے اور یہ بلند سینگ تھے ۔ اور اس مینڈھے کو میں ن مغرب، مشرق اور جنوب کی سمت سینگ مارتے ہوئے دیکھا ۔ کوئی جانور اس کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتا تھا اور کوئی اس کے ہاتھ سے بچانے والانہ تھا ۔ وہ اپنی رائے پر ہی عمل کرتا تھا اور وہ بڑا ہوتا جاتا تھا اس کے بعد اسی کتاب میں دانیال کے بارے میں ہے: جبریل اس پر ظاہر ہوا اور اس کے خواب کی یوں تعبیر کی: دوشاخوں والا مینڈھا جو تو نے دیکھا ہے وہ مدائن اور فارس(یا ماد اور فارس) کے بادشاہ ہیں ۔ یہویوں نے دانیال کے خواب کو بشارت قرار دیا ۔ وہ سمجھے کہ ماد و فارس کے کسی بادشاہ کے قیام اور بابل کے حکمرانوں پر ان کی کامیابی سے یہویوں کی غلامی اور قید کا دور ختم ہوگا اور وہ اہلِ بابل کے چنگل سے آزاد ہوں گے ۔ زیادہ دیر نہ گزری کہ” کورش“ نے ایران کی حکومت پر کنٹرول حاصل کرلیا ۔ اس نے ماد اور فارس کو ایک ملک کر کے دونوں کو ایک عظیم سلطنت بنادیا ۔ جیسے دانیال کے خواب میں بتایا گیا تھا کہ وہ اپنے سینگ مغرب، مشرق اور جنوب کی طرف مارے گا، کورش نے تینوں سمتوں میں عظیم فتوحات حاصل کیں ۔ اس نے یہویوں کو آزاد کیا اور فلسطین جانے کی اجازت دی ۔ یہ بات لائقِ توجہ ہے کہ تورات کی کتاب اشعیا، فصل ۴۴، شمارہ ۲۸ میں ہے: اس وقت خصوصیات سے کورش کے بارے میں فرماتا ہے کہ میرا چرواہا وہی ہے، میری مشیت کو اس نے پورا کیا ہے ۔ اور شلیم سے کہے گا کہ تو تعمیر ہوگا ۔ کتاب دانیال، فصل ششم، پہلے سے چو تھے جملے تک۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ تورات کی بعض تعبیرات میں” کورش“ کے بارے میں ہے کہ: عقاب مشرق اور مردِ تدبیر کہ جو بڑی دور سے بلایا جائے گا ۔ (2) دوسری:بنیاد یہ ہے کہ انیسویں عیسوی صدی میں استخر کے قریب دریائے مرغاب کے کنارے کورش کا مجسمہ دریافت ہوا ہے ۔ یہ ایک انسان کے قدر و قامت کے برابر ہے ۔ اس میں کورش کے عقاب کمی طرح کے دو پر بنائے گئے ہیں اور اس کے سر پر ایک تاج ہے ۔ اس میں مینڈھے کے سینگوں کی طرح کے دو سینگ نظر آتے ہیں ۔ یہ مجسمہ بہت قیمتی ہے اور قدیم فن سنگ سازی کا نمونہ ہے ۔ اس نے ماہرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے ۔ جر منی کے ماہر ین کی ایک حماعت نے صرف اسے دیکھنے کے لیے ایران کا سفر کیا ۔ تورات کے مندرجات کو جب اس مجسمے کی تفصیلات کے ساتھ ملاکر دیکھا تو ابوالکلام آزاد کو مزید یقین ہوا کہ کورش کو ذوالقرنین( دو سینگوں والا) کہنے کی وجہ کیا ہے ۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہوگیا کہ کورش کے مجسمے میں عقاب کے دو پر کیوں لگائے گئے ہیں ۔ اس سے علماء کے ایک گروہ کے لیے ذوالقرنین کی تاریخی شخصیت پوری طرح واضح ہوگئی ۔ ایک چیز کہ جو اس نظریے کی تائید کرتی ہے وہ کورش کے تاریخ میں لکھے گئے اخلاقی اوصاف ہیں ۔ یونانی موٴرخ ہر و دوت لکھتا ہے: کورش نے حکم جاری کیا کہ اس کے سپاہی سوائے جنگ کرنے والوں کے کسی کے سامنے تلوار نہ نکالیں اور دشمن کا جو سپاہی اپنا نیزہ خم کردے اسے قتل نہ کریں ۔ کورش کے لشکر نے اس کے حکم کی اطاعت کی ۔ اس طرح سے کہ ملت کے عام لوگوں کو مصائبِ جنگ کا احساس تک نہ ہوا ۔ ہر و دوت اس کے بارے میں مزید لکھتا ہے: کورش کریم، سخی، بہت نرم دل اور مہربان بادشاہ تھا ۔ اسے دوسرے بادشاہوں کی طرح مال جمع کرنے کی حرص نہ تھی بلکہ اسے یہ لالچ تھاکہ وہ زیادہ سے زیادہ کرم و عطا کرے ۔ وہ ستم رسیددہ لوگوں کے ساتھ عدل و انصاف کرتا تھا او ر جس چیز سے زیادہ خیر اور بھلائی ہوتی اسے پسند کرتا تھا ۔ ایک اور موٴرخ ذی نو فن لکھتا ہے: کورش عاقل اور مہربان بادشاہ تھا ۔ اس میں بادشاہ ہوں کی عظمت، حکماء کے فضائل کے ساتھ ساتھ تھی ۔ اس کی ہمت بلند تھی اور اس کا جود و کرم زیادہ تھا ۔ اس کا شعار انسانیت کی خدمت تھا اور عدالت اس کی عادت تھا ۔ وتکبر کی بجائے انکساری کا مرقع تھا ۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ کورش کی اس قدر تعریف و توصیف کرنے والے موٴرخین غیر ہیں، کورش کی قوم اور وطن سے ان کا تعلق نہیں ہے بلکہ اہل یونان کے لوگ کورش کی طرف دوستی اور محبت کی نظر سے نہ دیکھتے تھے کیونکہ کورش نے لید یا کو فتح کر کے اہل یونان کو بہت بڑی شکست دی تھی ۔ اس نظریے کے حامی کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں ذوالقرنین کے جو اوصاف بیان کیے گئے ہیں وہ کورش کے اوصاف سے مطابقت رکھتے ہیں ۔ ان تمام باتوں سے قطع نظر، کورش نے مشرق، مغرب اور شمال کی طرف سفر بھی کیے ہیں ۔ ان سفروں کا حال اس کی تاریخ میں تفصیلی طور پر مذکورہ ہے ۔ یہ سفر قرآن میں ذکر کیے گئے ذوالقرنین کے سفروں سے مطابقت رکھتے ہیں ۔ کورش نے پہلی لشکر کشی لید یا پر کی ۔ یہ ایشیائے کوچک کا شمالی حصہ ہے ۔ یہ ملک کورش کے مرکزِ حکومت سے مغرب کی طرف تھا ۔ ایشیائے کوچک کے مغربی ساحل کا نقشہ سامنے رکھیں تو ہم دیکھیںگے کہ ساحل کے زیادہ تر حصے چھوٹی چھوٹی خلیجوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ خصوصاً ازمیر کے قریب کہ جہاں خلیج ایک چشمے کی صورت دھار لیتی ہے ۔ قرآن کہتا ہے کہ ذوالقرنین نے اپنے مغرب کے سفر میں محسوس کیا کہ جیسے سورج کیچڑ آلود چشمے میں ڈوب رہا ہے ۔ یہ وہی منظر ہے جو کورش نے غروب آفتاب کے وقت ساحلی خلیجوں میں دیکھا تھا ۔ کورش کی دوسری لشکر کشی مشرق کی طرف تھی ۔ جیسا کہ ہرودوت نے کہا ہے کہ کورش کا یہ مشرقی حملہ لید یا کی قتح کے بع ہوا خصوصاً بعض بیابانی وحشی قبائل کی سرکشی نے کورش کو اس پر اکسایا ۔ قرآن کے الفاظ میں: <حَتَّی إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَھَا تَطْلُعُ عَلیٰ قَوْمٍ لَمْ نَجْعَلْ لَھُمْ مِنْ دُونِھَا سِتْرًا پھر وہ سورج کے مرکز طلوع جا پہنچا ۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایسے لوگوں پر طلوع کر رہا ہے کہ جن کے پاس سورج کی کرنوں سے بچنے کے لئے کوئی سایہ نہ تھا ۔ یہ الفاظ کورش کے سفرِ مشرق کی طرف اشارہ کررہے ہیں ۔ جہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایسی قوم پر طلوع کررہا ہے کہ جن کے پاس اس کی تپش سے بچنے کیلئے کوئی سایہ نہ تھا ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ قوم صحرا نور تھی اور بیابانوں میں رہتی تھی ۔ کورش نے تیسری چڑھائی شمالی کی طرف قفقاز کے پہاڑوں کی جانب کی ۔ یہاں تک کہ وہ پہاڑوں کے درمیان ایک درّے میں پہنچا ۔ یہاں کے رہنے والوں نے وحشی اقوام کے حملوں اور غاتگری کو روکنے کی درخواست کی ۔ اس پر کورش نے اس تنگ درّے میں ایک مضبوط دیوار تعمیر کردی ۔ اس درّے کو آج کل درّہ داریال کہتے ہیں ۔ موجود نقشوں میں یہ” ولادی کیوکز“ اور” تفلیس“ کے درمیان دکھایا جاتا ہے وہاں اب تک ایک آہنی دیوار موجود ہے ۔ یہ وہی دیوار ہے جو کورش نے تعمیر کی تھی ۔ قرآن نے ذوالقرنین کی دیوار کے جو اوصاف بتائے ہیں وہ پوری طرح اس دیوار پر منطبق ہوتے ہیں ۔ تیسرے نظریے کی تقویت کے لیے ہم نے خلاصے کے طور پر یہ کچھ بیان کیا ہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس نظریے میں بھی ابہام کے ابھی بہت سے پہلو موجود ہیں لیکن عملاً ذوالقرنین کی تاریخ کے بارے میں ابھی تک جتنے نظریے پیش کیے گئے ہیں اسے ان میں سے بہترین کہا جاسکتا ہے ۔ ۱۔ تفسیر فخر رازی، زیر بحث آیات کے ذیل میں اور کامل، ابن اثیر ، ج ۱، ص ۲۸۷۔ بعض کہتے ہیں کہ سب سے پہلے بوعلی سینا نے اپنی کتاب الشفاء میں اس نظریے کا اظہار کیا ۔ 2۔ المیزان، ج ۱۳ ص ۴۱۴ - 3۔ فارسی میں اس کتاب کے ترجمہ کا نام”ذوالقرنین یا کورش کبیر“ رکھا گیا ہے ۔ بہت سے معاصر مفسرین اور موٴرخین نے اپنی کتب میں اس نظریے کی موافقت کی ہے اور اس پر اپنے خیالات کا تفصیل سے اظہار کیا ہے ۔