أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحَابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ كَانُوا مِنْ آيَاتِنَا عَجَبًا
Do you suppose that the Companions of the Cave and the Inscription were among Our wonderful signs?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:9
[Pooya/Ali Commentary 18:9]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:9-12
”اوی الفتیة“ کا مفہوم
۱۔ ”اوی الفتیة“ کا مفہوم: ۱۔ ”اوی “ ماٴوی“ کے سے لیا گیا ہے، اس کا معنی ہے ”امن وامان کی جگہ“ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ فاسد اور بُرے ماحول سے بھاگ کر یہ جوان جب غار میں پہنچے تو انھیں سکون وآرام محسوس ہوا ۔ ۲۔ ”فتیة“ ”فتیٰ“ کی جمع ہے، در اصل یہ نوخیز وسرشارجو ان کے معنی میں ہے البتہ کبھی کبھار بڑی عمر والے ان افراد کے لئے بھی بولا جاتا ہے کہ جن کے جذبے جوان اور سرشار ہوں، اس لفظ میں عام طور پر جوانمردی حق کے لئے ڈٹ جانے اور حق کے حضور سرِ تسلیم خم کرنے کا مفہوم بھی ہوتا ہے ۔ اس امر کی شاہد وہ حدیث ہے جو امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے ۔ امام(علیه السلام) نے اپنے ایک صحابی سے پوچھا: ”فتی“ کس کو کہتے ہیں؟ اُس نے جواباً فرمایا: ”اما علمت اٴن اصحاب الکھف کانوا کلھم کھوٴلاء فسماھم الله فتیة بایمانھم“ کیا تجھے نہیں پتہ کہ اصحاب کہف پکی عمر کے آدمی تھے لیکن الله نے انھیں ”فتیہ“ کہا ہے اس لئے کہ وہ الله پر ایمان رکھتے تھے ۔ اس کے بعد مزید فرمایا: مَن آمَنَ بِاللهِ واتقیٰ فھو الفتیٰ جو الله پر ایمان رکھتا ہو اور تقویٰ اختیار کئے ہو وہ ”فتی“ (جوانمرد) ہے ۔(۱) روضة الکافی میں امام صادق علیہ السلام سے ایسی ہی ایک اور حدیث بھی منقول ہے ۔(۲) 2۔ ”من لدنک رحمة“ کا مفہوم اس کا معنی ہے: ”تیری طرف سے رحمت“ یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ جب انھوں نے غار میں پناہ لی تو دیکھا کہ کچھ ان کے بس میں نہیں رہا اور تمام ظاہری اسباب بیکار ہوگئے ہیں، ایسے میں انھیں صرف رحمت الٰہی کی امید تھی۔ 3۔ ”ضربنا علیٰ اٰذانھم“ کا مطلب ”ہم نے ان کے کانو ںپر پردہ ڈال دیا“ عربی میں یہ سُلانے کے لئے ایک لطیف کنایہ ہے ۔ کسی شخص کے کان پر پردہ ڈالنا ۔ گویا وہ کسی کی بات نہ سُنے اور اس پردے سے مراد نیند ہی کا پردہ ہے ۔ اسی بناپر حقیقی نیند وہی ہے جو انسان کے کانوں کو گویا بیکار کردے، یہی وجہ ہے کہ سوئے ہوئے کسی انسان کو بیدار کرنا ہو تو اسے آواز دیتے ہیں تاکہ قوتِ شنوائی پر اثر ہو اور وہ بیدار ہوجائے ۔ 4۔ ”عدد سنین“ کا مطلب اس کا معنی ہے ”متعدد سال“ یہ تعبیر اس طرف اشارہ ہے کہ وہ سالہا سال سوئے رہے، جیسا کہ اس واقعے کی تفصیل انشاء الله آئندہ آیات کی تفسیر میں آئے گی۔ 5۔ ”بعثناکم“ کا مطلب یہ تعبیر ان کے بیدار ہونے کے بارے میں آئی ہے، شاید یہ لفظ اس لئے آیا ہے کہ ان کی نیند لمبی ہوگئی تھی کہ گویا موت کی طرف تھی اور ان کی بیداری قیامت اور بعد از موت اٹھنے کی مانند تھی ۔ 6۔ ”لنعلم“ کا مطلب اس کا معنی ہے : تاکہ ہم جان لیں اس کا یہ مفہوم نہیں کہ خدا کوئی نیا علم حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ ایسی تعبیریں قرآن میں بہت آئی ہیں ۔ ان کا مطلب ہے کہ خدا کو جو کچھ معلوم ہے وہ عملاً رونما ہوجائے یعنی ہم نے انھیں نیند سے بیدار کیا تاکہ یہ معنی عملی صورت اختیار کرلے کہ وہ اپنی نیند کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کریں گے ۔ 7۔ ”ای الحزبین“ کا مفہوم اس سلسلے کی وضاحت آئندہ آیات سے ہوجائے گی۔ بات یہ ہے کہ جب وہ جاگے تو انھوں نے سونے کی مقدار کے بارے میں اختلاف کیا، بعض سمجھتے تھے کہ وہ ایک دن سوئے ہیں، بعض کا خیال تھا وہ آدا دن سوئے ہیں حالانکہ وہ سالہا سال تک سوئے رہے تھے ۔ بعض نے کہا ہے کہ ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ”اصحاب رقیم“ اور تھے اور ”اصحاب کہف“ اور تھے ۔ یہ خیال بہت بعید ہے کہ اس کے بارے میں زیادہ گفتگو کی ضرورت نہیں ۔(3) ۱۔ و۲۔ نور الثقلین، ج۳، ص۲۴۴ ، ۲۴۵ 3۔ یہ نظریہ ”اعلام القرآن“ کے صفحہ ۱۷۹ پر ذکر کیا گیا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:9-12
اصحاب کہف کا واقعہ شروع ہوتا ہے
اصحاب کہف کا واقعہ شروع ہوتا ہے گزشتہ آیات میں اس دنیا کی زندگی کے بارے میں بتایا گیا تھا اور یہ واضح کیا گیا تھا کہ یہ دنیا انسان کے لئے ایک آزمائش ہے، قرآن چونکہ عمومی حساس مسائل کے لئے کئی ایک مثالیں پیش کرتا ہے یا گزشتہ تاریخ سے نمونے پیش کرتا ہے لہٰذا یہاں بھی پہلے اصحابِ کہف کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور ان کا ذکر نمونہٴ عمل کے پر کیا گیا ہے ۔ چند بیدار فکر اور نوجوانوں تھے، وہ ناز ونعمت کی زندگی بسر کررہے، انھوں نے اپنے عقیدے کی حفاظت اور اپنے زمانے کے طاغوت کے لئے ان سب نعمتوں کو ٹھوکر ماردی پہاڑ کے ایک غار میں پناہ لی، وہ غار کہ جس میں کچھ بھی نہ تھا ۔ یہ اقدام کرکے انھوں نے راہِ ایمان میں اپنی استقامت اور پامردی ثابت کردی۔ یہ بات لائق توجّہ ہے کہ اس مقام پر قرآن فنِ فصاحت وبلاغت کے ایک اصول سے کا م لیتے ہوئے پہلے افراد کی سرگزشت کو اجمالی طور پر بیان کرتا ہے تاکہ سننے والوں کا ذہن مائل ہوجائے، اس سلسلے میں چار آیات میں واقعہ بیان کیا گیا ہے اور اس کے بعد چودہآیات میں تفصیل بیان کی گئی ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے: کیا تم سمجھتے ہو کہ اصحابِ کہف ورقیم ہماری عجیب آیات میں سے تھے (اٴَمْ حَسِبْتَ اٴَنَّ اٴَصْحَابَ الْکَھْفِ وَالرَّقِیمِ کَانُوا مِنْ آیَاتِنَا عَجَبًا)۔ زمین وآسمان میں ہماری بہت سی عجیب آیات ہیں کہ جن میں ہر ایک عظمتِ تخلیق کا ایک نمونہ ہے ۔ خود تمھاری زندگی میں عجیب اسرار موجود ہیں کہ جن میں سے ہر ایک تمھاری دعوت کی حقانیت کی نشانی ہے اور اصحابِ کہف کی داستان مسلماً ان سے عجیب تر نہیں ہے ۔ ”اصحاب کہف“ (اصحاب غار)کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنی جان بچانے کے لئے غار میں پناہ لی تھی جس کی تفصیل ان کی زندگی کے حالات بیان کرتے ہوئے آئے گی۔ لیکن ”رقیم“ در اصل ”رقم“ کے مادہ سے لکھنے کے معنی میں ہے ۔ زیادہ تر مفسّرین کا نظریہ ہے کہ یہ اصحابِ کہف کا دوسرا نام ہے کیونکہ آخرکار اُس کا نام ایک تختی پر لکھا گیا اور اسے غار کے دروازے پر نصب کیا گیا ۔ بعض اسے پہاڑ کا نام سمجھتے ہیں کہ جس میں یہ غار تھی اور بعض اس زمین کا نام سمجھتے ہیں کہ جس میں وہ پہاڑ تھا، بعض کا خیال ہے کہ یہ اُس شہر کا نام ہے جس سے اصحاب کہف نکلے تھے لیکن پہلا معنی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے ۔ رہا بعض کا یہ احتمال کہ اصحابِ کہف اور تھے اور اصحابِ رقیم اور تھے ۔ بعض روایات میں ان کے بارے میں ایک داستان بھی نقل کی گئی ہے، یہ ظاہر آیت سے ہم آہنگ نہیں ہے کیونکہ زیرِ نظر آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اصحابِ کہف ورقیم ایک ہی گروہ کا نام ہے یہی وجہ ہے کہ ان دو الافظ کے استعمال کے بعد صرف ”اصحاب کہف“ کہہ کر داستان شروع کی گئی ہے اور ان کے علاوہ ہر گز کسی دوسرے گروہ کا ذکر نہیں کیا گیا، یہ صورتِ حال خود ایک ہی گروہ ہونے کی دلیل ہے ۔ جو افراد غار میں بند ہوگئے تھے ان میں سے تین کے بارے میں تفسیر نور الثقلین میں مشہور روایات ذکر ہوئی ہیں، ان میں سے ہر ایک نے خدا کو اپنے خالص عمل کا واسطہ دیا جس کی وجہ سے انھیں اس تنگ وتاریک مقام سے رہائی ملی، ان روایات میں ”اصحاب کہف ورقیم“ ایک ہی گروہ کی طرف اشارہ ہے اور آیات کی شانِ نزول میں بھی اسی حقیقت کی تائید کرتی ہے ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اس وقت کا سوچو جب چند جوانوں نے ایک غار میں جاپناہ لی(إِذْ اٴَوَی الْفِتْیَةُ إِلَی الْکَھْفِ)۔ جب وہ ہر طرف سے مایوس تھے، انھوں نے بارگاہِ خدا کا رُخ کیا ”اور عرض کی: پروردگارا! ہمیں اپنی رحمت سے بہرہ ور کر“ (فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً وَھَیِّءْ لَنَا مِنْ اٴَمْرِنَا رَشَدًا)۔ ایسی راہ کہ جس میں ہمیں اس تاریک مقام سے چھٹکارا مل جائے اور تیری رضا کے قریب کردے، ایسی راہ کہ جس میں خیر وسعادت ہو اور ذمہ داری ادا ہوجائے ۔ ہم نے ان کی دعا قبول، ان کے کانوں پر خواب کے پردے ڈال دیئے اور وہ سالہا سال تک غار میں ہوئے رہے (فَضَرَبْنَا عَلیٰ آذَانِھِمْ فِی الْکَھْفِ سِنِینَ عَدَدًا)۔ پھر ہم نے انھیں اٹھایا اور بیدار کیا تاکہ ہم دیکھیں کہ ان میں سے کون لوگ اپنی نیند کی مدّت کا بہتر حساب لگاتے ہیں (ثُمَّ بَعَثْنَاھُمْ لِنَعْلَمَ اٴَیُّ الْحِزْبَیْنِ اٴَحْصَی لِمَا لَبِثُوا اٴَمَدًا)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:9-12
سوره کهف / آیه 9 - 12
۹ اٴَمْ حَسِبْتَ اٴَنَّ اٴَصْحَابَ الْکَھْفِ وَالرَّقِیمِ کَانُوا مِنْ آیَاتِنَا عَجَبًا ۱۰ إِذْ اٴَوَی الْفِتْیَةُ إِلَی الْکَھْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً وَھَیِّءْ لَنَا مِنْ اٴَمْرِنَا رَشَدًا ۱۱ فَضَرَبْنَا عَلیٰ آذَانِھِمْ فِی الْکَھْفِ سِنِینَ عَدَدًا ۱۲ ثُمَّ بَعَثْنَاھُمْ لِنَعْلَمَ اٴَیُّ الْحِزْبَیْنِ اٴَحْصَی لِمَا لَبِثُوا اٴَمَدًا ترجمہ ۹۔ کیا تم خیال کرتے ہو کہ اصحابِ کہف و رقیم ہماری عجیب نشانیوں میں سے تھے ۔ ۱۰۔ وہ وقت یا کرو جب جوانوں کے اس گروہ نے نماز میں جاپناہ لی اور کہا: پروردگارا! ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ہمیں راہ نجات فراہم کر۔ ۱۱۔ ان کے کانوں پر ہم نے (نیند کا)پردہ ڈال دیا اور وہ سالہا سال سوئے رہے ۔ ۱۲۔ پھر ہم نے اٹھایا تاکہ واضح ہوجائے کہ ان دو گروہوں میں سے کسے اپنی نیند کی مدت خوب یاد ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:9-12
شان نزول
مندرجہ بالا آیات کی مفسرین نے ایک شانِ نزول نقل کی ہے ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قریش کے سرداروں نے انپے دوساتھی پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی دعوت کی تحقیق کے لیے علماء یہود کے پاس مدینہ بھیجے ۔ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا گزشتہ کتب میں اس سلسلے میں کوئی چیز ملتی ہے ۔ انہوں نے مدینہ پہنچ کر علماء یہود سے رابطہ کیا ۔ ان سے ملے اور قریش کی بات بیان کی، تو یہودی علماء نے کہا: تم محمّد سے تین مسائل کے بارے میں سوال کرو ۔ اگر اس نے سب کا کافی و دانی جواب دے دیا تو وہ خدا کی طرف سے رسول ہے ۔ (بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ اگر محمّد نے دوسوالوں کا جواب کافی و دانی اور ایک سوال کا جواب اجمالی دیا تو پھر وہ رسول ہے)۔ انہوں نے بات جاری رکھی: سب سے پہلے پوچھنا کہ بہت مدت پہلے جو چند جوان اپنی قوم سے جدا ہوگئے تھے ۔وہ کون تھے؟ کیونکہ ان کی داستان اور جو ان کے ساتھ گزی بہت عجیب و غریب ہے ۔ علماء یہود کہنے لگے: پھر سوال کرنا کہ وہ کون ہے جس نے پوری زمنی کا چکر لگایا اور زمین کے مشرق و مغرب تک جا پہنچا ۔ اس کا واقعہ کس طرح ہے ۔ انہوں نے کہا: نیز یہ بھی پوچھنا کہ روح کی حقیقت کیا ہے؟ قریش کے نمائندے واپس مکہ سرداران قریش کے پاس پہنچ گئے اور کہا : ہم نے محمّد کے سچی اور جھوٹ کی پہنچان کا معیار پالیا ہے ۔ پھر انہوں نے اپنا سارا واقعہ سنایا ۔ اس کے بعد وہ رسول اللہ کی خدمت میں پہنچے او ر اپنے سوالات آپ کی خدمت میں پیش کیے ۔ رسول اللہ نے فرمایا: میں تمھیں کل جواب دوں گا ۔ لیکن آپ(علیه السلام) نے انشاء اللہ نہ کہ۔ پندرہ دن گزرگئے لیکن اللہ کی طرف سے رسول اللہ پر کوئی وحی نازل نہ ہوئی اور جبرائیل آپ(علیه السلام) کے پاس نہ آئے ۔ اس پر اہلِ مکہ پر اپیگنڈا کرنے لگے اور ہر طرح طرح کی غلط باتیں بنانے لگے ۔ رسول اللہ پر یہ بات بہت گراں گزری۔ آخر کار جبرائیل آئے اور خدا کی طرف سے سورہ کہف لائے ۔ اس میں ان جوانوں کی داستان بھی تھی اس سیاحِ عالم کا واقعہ بھی تھا ۔ علاوہ ازیں آپ پر یہ آیہ ”ویسئلونک عن الروح“بھی نازل ہوئی۔ آنحضرت نے جبرئیل(علیه السلام) سے پوچھا: اتنی تاخیر کیوں کی تھی؟ انھوں نے کہا: مَیں آپ کے رب کے حکم کے علاوہ نازل نہیں ہوسکتا، مجھے اجازت نہیں دی گئی۔ یاددہانی ضروری ہے کہ مذکورہ تین سوالوں میں سے دو کے جواب اسی سورہ میں آئے ہیں لیکن روح سے متعلق آیت سورہٴ بنی اسرائیل میں گزر چکی ہے ۔ اور ایسی مثالی قران میں اور بھی ہیں کہ ایک آیت ایک خاص مطلب کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور رسول الله کے حکم پر اسے خاص سورت میں خاص مقام پر جگہ دی گئی۔