وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا
Draw for them the parable of two men for each of whom We had made two gardens of vines, and We had surrounded them with date palms, and placed crops between them.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:32
[Pooya/Ali Commentary 18:32] Here is a parable of the contrast between two men. One had much wealth from the gardens and plantations he owned. All this wealth made him very arrogant and proud. The other had nothing. His trust was in Allah. The worldly wealth of the first was destroyed because he had forgotten Allah who gave him the physical strength and intelligence to exploit the land and animals for his own advantage. The second was happier in the end because he believed that Allah was his Lord, and did not associate any one with his Lord. It was not wealth that ruined the wealthy man, but the attitude of his mind. In his love of the material possessions he forgot the spiritual share and openly defied the bestower of all bounties. The poor man remonstrates against the proud man who denied Allah. From his own spiritual experience he tells the proud man that Allah is good and the better way of enjoying His bounties is to remember Him and give thanks to Him. He warns him of the fleeting nature of worldly possessions and of the certainty of Allah's punishment for inordinate vanity. Man should always safeguard himself against the arrogance he builds up within his conscious soul when he enjoys prosperity and authority over less fortunate fellow-beings, because what the Almighty Lord has given him can be taken away from him in a flash of an eyelid. Those who safeguard themselves against evil with full awareness of the laws made by Allah never yield to the lure of wealth, pomp and power. They shall abide in the land of eternal bliss for ever. Those who surrender to evil, wickedness and pride shall have nothing but torment of the fire, after the day of judgement, for ever and ever.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 18:32-44
Ingratitude calls for Divine Wrath. Be ever grateful to Him. No amount spent on welfare of the State will counter-act Divine Disasters consequent on countenancing false tenets, e.g. Divine Incarnations and Cults having no religious sanction.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:32-36
سوره کهف / آیه 32 - 36
۳۲ وَاضْرِبْ لَھُمْ مَثَلًا رَجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاٴَحَدِھِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اٴَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاھُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَیْنَھُمَا زَرْعًا ۳۳ کِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ آتَتْ اٴُکُلَھَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِنْہُ شَیْئًا وَفَجَّرْنَا خِلَالَھُمَا نَھَرًا ۳۴ وَکَانَ لَہُ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِہِ وَھُوَ یُحَاوِرُہُ اٴَنَا اٴَکْثَرُ مِنْکَ مَالًا وَاٴَعَزُّ نَفَرًا ۳۵ وَدَخَلَ جَنَّتَہُ وَھُوَ ظَالِمٌ لِنَفْسِہِ قَالَ مَا اٴَظُنُّ اٴَنْ تَبِیدَ ھٰذِہِ اٴَبَدًا ۳۶ وَمَا اٴَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِنْ رُدِدْتُ إِلَی رَبِّی لَاٴَجِدَنَّ خَیْرًا مِنْھَا مُنقَلَبًا ترجمہ ۳۲۔ ان سے مثال بیان کرو کہ دو شخص تھے ۔ ایک کو ہم نے قسم قسم کے انگوروں کے دو باغ دے رکھے تھے ان کے گردا گردکھجور کے درخت تھے او ران دونوں کے د رمیان اچھی با برکت کھیتی تھی ۔ ۳۳۔ دونوں باغ پھلتے تھے او ران کے بار آور ہونے میں کوئی کمی نہ تھی ۔ ان دونوں کے بیچوں بیچ ایک نہر گزرتی تھی ۔ ۳۴۔اس باغ کے مالک کو خوب پیدا وار ملتی تھی لہٰذا جب وہ اپنے دو ست سے بات کرنے لگا تو اس نے کہا: میں دولت کے لحاظ سے تجھ سے برتر ہوں اور میرے پاس زیادہ طاقتور افراد ہیں ۔ ۳۵۔اور مجھے نہیں توقع کہ قیامت برپا ہوگی اور اگر میں اپنے رب کی طرف پلٹ بھی گیا (اور قیامت آبھی گئی)تو مجھے اس سے بہتر جگہ ملے گی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:32-36
مستضعفین کے مقابلے میں مستکبرین کا موٴقف
گزشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا پرست کس طرح سے کوشش کرتے ہیں کہ وہ تہی دست اور غریب مردانِ حق سے دور دور رہیں ۔ ہم نے یہ بھی پڑھا ہے کہ دوسرے جہاں میں ان کا انجام کیا ہوگا ۔ زیر بحث آیتوں میں دو دوستوں یادو بھائیوں کی داستان مثال کے طور پر بیان کی گئی ہے ۔ ان میں سے ہر ایک مستکبرین اور مستضعفین کا ایک نمونہ تھا ۔ ان کی طرزِ فکر اور ان کی گفتار کردار ان دونوں گروہوں کے موقف کا ترجمان تھا ۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اے رسول! ان سے دو شخصوں کی مثال بیان کرو کہ جن میں سے ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ دیئے تھے ۔ ان میں طرح طرح کے انگور تھے ۔ ان کے گردا گرد کھجور کے درخت تھے آسمان سے باتیں کررہے تھے ۔ ان دونوں باغوں کے درمیان ہری بھری کھیتی تھی (وَاضْرِبْ لَھُمْ مَثَلًا رَجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاٴَحَدِھِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اٴَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاھُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَیْنَھُمَا زَرْعًا) ۔ ایسے باغ اور کھیتیاں جن میں ہر چیز خوب تھی ۔ انگور بھی تھے، کھجوریں بھی تھیں ۔ درخت پھلوں سے لدے ہوئے تھے اور کھیتیوں کے پودے خوب خوشہ دار تھے ۔ ان دونوں باغوں میں کسی چیز کی کمی نہ تھی (کِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ آتَتْ اٴُکُلَھَا وَلَمْ تَظْلِمْ مِنْہُ شَیْئًا) ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پانی جو ہر چیز کے لیے مایہٴ حیات ہے، خصوصاً باغات و زراعت کے لئے، انھیں فراہم تھا ۔ کیونکہ دونوں کے درمیان ہم نے ایک نہر جاری کی تھی (وَفَجَّرْنَا خِلَالَھُمَا نَھَرًا) ۔ اس طرح سے ان باغات اور کھیتیوں کے مالک کو خوب پیدا وار ملتی تھی (وَکَانَ لَہُ ثَمَرٌ) ۔ دنیا کا مقصد پورا ہو رہا اور تُو کم ظرف اور بے وقعت انسان اپنی دنیاوی مراد پاکر غرور و تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے اور سرکشی کرنے لگتا ہے ۔ پہلے پہلے وہ دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے ۔ باغات کے اس مالک نے بھی اپنے دوست سے بات کرتے ہوئے کہا: میں دولت اور سرمائے کے لحاظ سے تجھ سے برتر ہوں، میری آبرو، غزت اور حیثیت تجھ سے زیادہ ہے (فَقَالَ لِصَاحِبِہِ وَھُوَ یُحَاوِرُہُ اٴَنَا اٴَکْثَرُ مِنْکَ مَالًا وَاٴَعَزُّ نَفَرًا) ۔اور افرادی قوت بھی میرے پاس بہت زیادہ ہے ۔ مال و دولت اور اثر و رسوخ میرا زیادہ ہے ۔ معاشرے میں میری حیثیت زیادہ ہے ۔ تو میرے مقابلے میں کیا ہے اور تُو کس کھاتے میں ہے؟ آہستہ آہستہ اس کے خیالات بڑھتے چلے گئے اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ دنیا کو جاودان، مال و دولت کو ابدی اور مقام و حشمت کو دائمی خیال کرنے لگا ۔ وہ مغرور تھا حالانکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کررہا تھا ۔ ایسے میں اپنے باغ میں داخل ہوا اس نے ایک نگاہ سر سبز درختوں پر ڈالی جن کی شاخیں پھلوں کے بوجھ سے خم ہوگئی تھیں ۔ اس نے اناج کی ڈالیوں کو دیکھا، نہر کے آبِ رواں کی لہروں پر نظر کی کہ جو چلتے چلتے درختوں کو سیراب کررہا تھا ۔ ایسے میں وہ سب کچھ بھول گیا اور کہنے لگا ”میرا خیال نہیں کہ میرا باغ بھی کبھی اجڑے گا“(وَدَخَلَ جَنَّتَہُ وَھُوَ ظَالِمٌ لِنَفْسِہِ قَالَ مَا اٴَظُنُّ اٴَنْ تَبِیدَ ھٰذِہِ اٴَبَدًا) ۔ پھر اس نے اس سے بھی آگے کی بات کی ۔ اس جہان کا دائمی ہونا چونکہ عقیدہٴ قیامت کے منافی ہے لہٰذا وہ انکارِ قیامت کا سوچنے لگا ۔ اس نے کہا:میرا ہر گز نہیں خیال کہ کوئی قیامت بھی ہے (وَمَا اٴَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً) ۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو بعض لوگوں نے جی بہلانے کے لیے بنا رکھی ہیں ۔ پھر مزید کہنے لگا: فرض کیا قیامت ہو بھی اور میں اپنی اس حیثیت اور مقام کے ساتھ اپنے رب کے پاس جاؤں بھی تو یقینا اس سے بہتر جگہ پاؤں گا (وَلَئِنْ رُدِدْتُ إِلَی رَبِّی لَاٴَجِدَنَّ خَیْرًا مِنْھَا مُنقَلَبًا) ۔ وہ ان خام خیالوں میں غرق تھا اور ایک کے بعد دوسری فضول بات کرتا جاتا تھا کہ اس کا با ایمان ساتھی بول اٹھا ۔ (اس نے جو باتیں کیں ان کا ذکر آئندہ آیات میں آرہا ہے) ۔