وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِينَ وَازْدَادُوا تِسْعًا
They remained in the Cave for three hundred years, and added nine more [to that number].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:25
[Pooya/Ali Commentary 18:25] In reply to a Jew's query Ali ibn abi Talib said: "They stayed in the cave 309 years according to lunar calendar." It is Allah's computation that is given here. He is the knower, seer and hearer of all that which is taking place in the heavens and the earth. He protected them (ashab ul kahf) from the tyranny of the heathen ruler. He does not share His authority with any one whatsoever.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:25-27
۱۔ داستانِ اصحابِ کہف احادیث کی روشنی میں
۱۔ داستانِ اصحابِ کہف احادیث کی روشنی میں: اصحابِ کہف کے بارے میں منابعِ اسلامی میں بہت زیادہ روایات دکھائی دیتی ہیں ۔ ان میں سے بعض اسناد کے لحاظ سے قابل اعتماد نہیں ہیں ۔اسی لیے ان میں بعض میں باہم تضاد و اختلاف نظر آیا ہے ۔ ایک روایت جو علی بن ابراہیم قمی نے اپنی تفسیر میں ذکر کی ہے وہ متن، مضمون اور آیاتِ قرآن سے ہم آہنگی کے اعتبار سے بہتر معلوم ہوتی ہے ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے اصحابِ کہف و رقیم کے بارے میں فرمایا: وہ ایک جابر اور ظالم بادشاہ کے زمانے میں تھے ۔ وہ بادشاہ اپنے ملک کے باسیوں کو بت پرستی کی دعوت دیتا تھا ۔ جو شخص اس کی یہ دعوت قبول نہ کرتا اسے قتل کردیتا تھا ۔ اصحابِ کہف با ایمان افراد تھے اور خدائے بزرگ کی عبادت کرتے تھے (البتہ اس ظالم بادشاہ سے اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھے) ۔ اس ظالم بادشاہ نے اپنے پایہٴ تخت کے دروازے پر کچھ لوگ مامور کر رکھے تھے ۔ ان کے ذمہ تھا کہ شہر سے جانے والا ہر شخص وہاں پڑے ہوئے بتوں کو سجدہ کرنے پر مجبور تھا ۔ جیسے بھی ہوسکا یہ با ایمان افراد شکار کھیلنے کے بہانے شہر سے باہر آئے (ان کا پکا ارادہ تھا کہ اپنے اس شہر میں واپس نہ جائیں کہ جہاں کا ماحول بہت آلودہ تھا) ۔ راستے میں ان کی ملاقات ایک چروا ہے سے ہوگئی انھوں نے اسے خدائے واحد کی طرف دعوت دی ۔ اس نے قبول نہ کی لیکن تعجب کی بات ہے کہ چروا ہے کا کتا ان کے پیچھے ہو لیا اور پھر ان سے بالکل جدا نہ ہوا ۔ وہ بت پرستی سے بھاگ کر نکلے تھے ۔ دن ڈھل رہا تھا کہ ایک غار کے پاس پہنچے ۔ وہ اس میں کچھ دیر استراحت کے لیے ٹھہر گئے ۔ اللہ نے ان پر نیندد مسلط کردی جیسا کہ قرآن فرماتا ہے: ہم نے انھیں سالہا سال نیند میں مستغرق رکھا ۔ وہ ایسے محوِ خواب رہے کہ وہ ظالم بادشاہ مرگیا ۔ شہر کے لوگ بھی یکے بعد دیگرے دنیا سے چل بسے ۔ دَور بدل گیا اور لوگ بھی بدل گئے ۔ اس طویل نیند کے بعد اصحاب کہف جاگے تو ایک دوسرے سے اپنی نیند کی مدت کے بارے میں پوچھنے لگے ۔ ان کی نظر سورج پر پڑی تووہ اونچا ہوچکا تھا تو کہنے لگے کہ ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ سوئے ہیں ۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے میں سے ایک سے کہا: یہ چاندی کا سکّہ لے جاوٴ اور چپکے سے شہر چلے جاوٴ، وہاں سے ہمارے لیے کھانا لے آوٴ لیکن خیال رکھنا کوئی تمھیں پہنچان نہ لے کیونکہ انھیں ہمارے بارے پتہ چل گیا تو ہمیں قتل کردیں گے یا اپنے دین کی طرف لے جائیں گے ۔ وہ شخص شہر میں جاپہنچا لیکن شہر کا منظر تو اس کے خیال سے بالکل مختلف تھا اور لوگ بھی اس کے دیکھے بھالے نہ تھے ۔ و ہ ان کی زبان بھی اچھی طرح نہ سمجھتا تھا اور وہ بھی اس کی زبان پوری طرح نہ سمجھتے تھے ۔ وہ پوچھنے لگے: تو کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟۔ آخر کار اس نے اپنا بھید بتادیا(اس زمانے میں اس شہر کا حکمران خدا پرست) بادشاہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس شخص کے ہمراہ غار کی طرف آیا ۔ یہ لوگ غار کے دہانے پر پہنچے تو اندر دیکھنے لگے ۔ بعض کہتے، کہ یہ تین افراد سے زیادہ نہیں ہیں اور ایک کتا ہے ۔ بعض کہتے کہ یہ پانچ افراد ہیں اور چھٹا ان کا کتا ہے اور بعض کہتے کہ سات ہیں اور آٹھواں ان کا کتا ہے ۔ اس وقت ان پر خدا کی طرف سے ایک رعب ساچھا گیا ۔ کوئی شخص غار میں داخل ہونے کی جرئت نہیں کرتا تھا سوائے اس شخص کے کہ جو انہی میں سے تھا ۔ جب وہ غار میں گیا تو اس نے دیکھا کہ وحشت زدہ ہیں کیونکہ وہ سمجھ رہے تھے کہ ظالم بت پرست بادشاہ دقیانوس کے آدمی غار کے دروازے پر آپہنچے ہیں ۔ لیکن ان کے ساتھی نے انھیں ان کی طویل نیند سے آگاہ کیا اور ان سے کہا کہ خدا نے تمھیں لوگوں کے لیے ایک نشانی قرار دیا ہے ۔ یہ بات سنی تو وہ بہت خوش ہوئے ۔ خوشی کے مارے ان کے آنسوں نکل آئے ۔ انھوں نے الله سے در خواست کی کہ ہمیں پہلی حالت کی طرف لوٹا دے ۔ اس زمانے کے بادشاہ نے کہا بہتر ہے ہم یہاں ایک مسجد بنائیں کیونکہ وہ باایمان افراد تھے ۔ امام علیہ السلام نے یہاں اضافہ فرمایا: سال میں دو مرتبہ ان کے پہلو بدلتے تھے اور ان کے کتے نے غار کے دہانے پر اپنے گلے پاوٴں پھیلائے ہوئے تھے(اور ان کی حفاظت کررہا تھا) ۔ اصحاب کہف کے بارے میں ایک تفصیلی حدیث حضرت علی(ع) سے منقول ہے ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے: پہلے وہ چھ افراد تھے ۔ دقیانوس نے انھیں اپنا وزیر بنا رکھا تھا ۔ وہ ہر سال ان کے لئے ایک دن عید کے طور پر مناتا تھا ۔ ایک برس جبکہ عید کا دن تھا ۔ اس کے بڑے بڑے فوجی افسراس کی دائیں طرف اور خاص مشیر بائیں بیٹھے تھے ۔ ایک فوجی کمانڈرنے اسے بتایا کہ ایران کا لشکر سر حدوں میں داخل ہوگیا ہے ۔ یہ سن کر اسے بہت دکھ ہوا ۔ وہ اتنا پریشان ہوا کہ کانپنے لگا اور تاج اس کے سر سے گر پڑا ۔ اس کے وزیروں میں سے ایک جس کانام تلمیخا تھا، اس نے دل میں سوچا کہ اس شخص کو گمان تھا کہ یہ خدا ہے ۔ اگر ایسا ہے تو پھر یہ اس قدر غمزدہ کیوں ہوا ہے ۔ علاوہ ازیں اس میں تمام بشری صفات موجود ہیں ۔ اس کے چھ کے چھ وزیر روزانہ ایک وزیر کے گھر جمع ہواکرتے تھے ۔ اس روز تلمیخا کی باری تھی ۔ اس نے دوستوں کے لیے اچھا کھانا تیار کیا لیکن وہ پریشان دکھائی دیتا تھا ۔(کھانے کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا تھا اس کے دوست اس کی اس حالت کی طرف متوجہ ہوئے تو) اس نے کہا:میرے دل میں ایک بات ہے کہ جس کے باعث میرا کھانا پینا اور آرام جاتا رہا ہے ۔ انھوں نے واقعہ پوچھا تو اس نے کہا: اس بلند آسمان پر میں نے بہت غور کیا ہے کہ یہ بغیر کسی ستون کے قائم ہے ۔ جس نے اس میں سورج اور چاند کی صورت میں دو روشن نشانیاں رواں رواں کر رکھی ہیں اور اس کی سطح ستاروں سے سجارکھی ہے اس کے بارے میں میں نے بہت غور کیا ہے ۔ پھر میں نے اس زمین کی طرف دیکھا ہے اور اپنے آپ سے پوچھا ہے کہ کس نے اسے پانی سے باہر نکالا اور پھیلا یا ہے اور کس نے اس کی بے قراری کو پہاڑوں کے ذریعے قرار بخشا ہے ۔ پھر میں نے اپنی حالت کے بارے میں سوچا ہے اور اپنے آپ سے پوچھا ہے کہ کس نے مجھے رحم مادر سے باہر بھیجا ہے، کس نے مجھے پستان مادر سے خوشگوار دودھ بخشا ہے اور غذا دی ہے ۔ الغرض کس نے مجھے پروان چڑھایا ہے ۔ ان سارے مسائل کے بارے میں مَیں نے تو یہی سمجھا ہے کہ کوئی ہے جس نے یہ سب کچھ بنایا ہے، یہ سب کچھ پیدا کیا ہے اور وہ ان کے نظام چلاتا ہے ۔ اور یہ دقیانوس نہیں کوئی اور ہے ۔ وہ کہ جو مالک المولک بھی ہے، آسمانوں پر حاکم بھی ، اس نے یہ باتیں جب صراحت اور خلوص سے کیں ۔ جو کچھ اُس کے دل سے نکلا اُس کے دوستوں کے دل میں اتر گیا ۔ اچانک وہ سب اس کے پاوٴں پر گر پڑے اور اس کی قدم بوسی کرنے لگے ۔ انھوں نے کہا: الله نے تیرے ذریعے ہمیں گمراہی سے نکال کر ہدایت کی طرف دعوت دی ہے ۔ اب بتاوٴ ہم کیا کریں؟ تلمیخا اٹھا ۔ اس نے اپنے باغ کی کھجوریں تین ہزار درہم میں بیچیں ۔ وہ رقم اٹھائی اور پھر وہ سب گھوڑوں پر سوار ہوگئے اور شہر سے باہر کی طرف چل پڑے ۔ جب وہ تین میل کا راستہ طے کرچکے تو تلمیخا نے کہا: بھائیو!بادشاہی اور وزارت تو گئی ۔ اب خدا کی راہ کو ان قیمتی گھوڑوں کے ذریعے طے نہیں کیا جاسکتا ۔ ان سے اتر آوٴ تا کہ اب اس راستہ کو پیدل طے کریں شاید خدا ہماری مشکلیں آسان کردے ۔ انھوں نے گھوڑے چھوڑدیے اور پیدل چل پڑے ۔ اس روز انھوں نے تیزی سے سات فرسخ راستہ طے کرلیا مگر ان کے پاوٴں زخمی ہوگئے ۔ ان کے پاوٴں سے خون بہہ رہا تھا کہ ان کی ملاقات ایک چروا ہے سے ہوئی ۔ انھوں نے کہا: اے چرواہے! تمھارے پاس دودھ یا پانی کا گھونٹ ہے تو کچھ ہماری مہمانی کرو ۔ چرواہے نے کہا: جو تمھیں پسند ہو وہ حاضر ہے لیکن تمھارے چہرے مجھے بادشاہوں والے لگتے ہیں ۔ تم یہاں کس لیے آئے ہو میرا خیال ہے تم دقیانوس بادشاہ سے بھاگ کر آئے ہو ۔ انھوں نے کہا: اے چرواہے! حقیقت یہ ہے کہ ہم جھوٹ نہیں بول سکتے لیکن اگر ہم سچ کہیں تو کیا تو ہمارے لیے کوئی مصیبت کھڑی تو نہیں کردے گا؟ اس کے بعد انھوں نے چرواہے کو اپنی ساری کہانی سنائی ۔ چرواہا ان کے ہاتھ پاوٴں چومنے لگا ۔ اس نے کہا: بھائیو! جو کچھ تمھارے دل میں اتر گیا ہے وہ میرے دل میں بھی سما گیا ہے لیکن اتنی اجازت دو کہ یہ بھیڑ بکریاں میں ان کے مالکوں کے سپرد کر آو!ں اور تم سے آملوں ۔ وہ کچھ دیر رک گئے ۔ چرواہا بھیڑ بکریاں پہنچا آیا ۔ اس کا کتا اس کے ساتھ ہی تھا ان جوانوں نے کتے کو دیکھا تو بعض نے کہا: ڈر ہے کہ کہیں یہ بھونک کر ہمارا راز فاش نہ کردے ۔ لیکن انھوں نے جتنی بھی کوشش کی کہ اسے دور کریں وہ نہ مانا ۔ گویا وہ کہتا تھا: مجھے رہنے دو میں دشمنوں سے تمھاری حفاظت کروں گا(میں بھی تمارے راستہ کا مسافر ہوں) ۔ یہ ساتوں اپنی راہ پر چلتے رہے ۔ کتا ان کے پیچھے پیچھے تھا یہاں تک کہ ایک پہاڑ پر چڑھ گئے ۔ ایک غار کے پاس پہنچ کر وہ رک گئے ۔ غار کے پاس انھوں نے چشمے اور پھلدار درخت دیکھے ۔ انھوں نے پھل کھائے، پانی پیا اور سیراب ہوئے ۔ رات کی تاریکی چھا گئی تو وہ غار میں پناہ گزیں ہوئے ۔ کتے نے غار کے دہانے پر اپنے اگلے پاوٴں پھلادئیے اورپہرہ دینے لگا ۔ یہ حالت تھی کہ خدا نے موت کے فرشتہ کو قبضِ الرواح کا حکم دیا(اور ان پر موت کی سی گہری نیند مسلط ہوگئی) ۔(1) دقیانوس کے بارے میں بعض مفسرین کہتے ہیں کہ وہ شہنشاہ روم تھا اس نے ۲۴۹ سے ۲۵۱ عیسوی تک حکومت کی ۔ وہ عیسائیوں کا سخت دشمن تھا اور انھیں بہت اذیت پہنچاتا تھا ۔ یہ حکومتِ روم کے عیسوی دین قبول کرنے سے پہلے کا زمانہ تھا ۔ 1۔ سفینة البحار، ج۲، ص۳۸۲ (مادہٴ فکر)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:25-27
۲۔”غار“ کہاں ہے؟
۲۔”غار“ کہاں ہے؟: یہ کہ اصحابِ کہف کس علاقہ میں رہتے تھے اور یہ غار کہاں تھی، اس سلسلے میں علماء اور مفسرین کے در میان بہت اختلاف ہے ۔ البتہ اس واقعے کے مقام کو صحیح طور پر جاننے کا اصل داستان، اس کی تربیتی پہلووٴں اور تاریخی اہمیت پرکوئی خاص اثر نہیں پڑتا ۔ یہ کوئی واحد واقعہ نہیں کہ جس کی اصل داستان تو ہمیں معلوم ہے لیکن اس کی زیادہ تفصیلات معلوم نہیں ہیں لیکن مسلّم ہے کہ اس واقعے کا مقام جاننے سے اس کی خصوصیات کومزید سمجھنے کے لیے مفید ہوسکتا ہے ۔ بہر حال اس سلسلے میں جو احتمالات ذکر کیے گئے او رجو اقوال نظر سے گزرے ہیں ان میں سے دور زیادہ صحیح معلوم ہوتے ہیں ۔ پہلا یہ کہ یہ واقعہ شہر”افسوس“ میں ہوا اور یہ غار اس شہر کے قریب واقع تھی ۔ ترکی میں اب بھی اس شہر کے کھنڈرات ازمیر کے قریب نظر آتے ہیں ۔وہاں قریب ایک قصبہ ہے جس کا نام”ایاصولوک“ ہے اس کے پاس ایک پہاڑ ہے’ینایر داغ“ اب بھی اس میں ایک غار نظر آتی ہے جو ”افسوس“ شہر سے کوئی زیادہ فاصلے پر نہیں ہے ۔ یہ ایک وسیع غار ہے ۔کہتے ہیں اس میں سینکڑوں قبروں کے آثار نظر آتے ہیں ۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اصحابِ کہف کی غار یہی ہے ۔ جیسا کہ جاننے والوں نے بیان کیا ہے کہ اس غار کا دہانہ شمال مشرق کی جانب ہے ۔ اس وجہ سے بعض بزرگ مفسرین نے اس بارے میں شک کیا ہے کہ وہی غار ہے حالانکہ اس یہی کیفیت اس کے اصلی ہونے کی موٴید ہے کیونکہ طلوع کے وقت سورج کا دائیں طرف اور غروب کے وقت بائیں طرف ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ غار کا دہانہ شمال یا کچھ شمال شمال کی جانب ہو ۔ اس وقت وہاں کسی مسجد یا عبادت خانہ کا نہ ہونا بھی اس کے وہی غار ہونے کی نفی نہیں کرتا کیونکہ تقریباً سترہ صدیاں گزرنے کے بعد ممکن ہے اس کے آثار مٹ گئے ہوں ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ وہ غار ہے کہ جو اُردن کے دار الحکومت عمان میں واقع ہے ۔ یہ غار ”رجیب“نامی ایک بستی کے قریب ہے ۔ اس غار کے اوپر گرجے کے آثار نظر آتے ہیں ۔ بعض قرائن کے مطابق ان کا تعلق پانچویں صدی عیسوی سے ہے ۔ جب اس علاقے پر مسلمانوں کو غلبہ ہوا تو اسے مسجد میں تبدیل کرلیا گیا تھا اور وہاں محراب بنائی گئی تھی اور اذان کی جگہ کا اضافہ کیا گیا تھا ۔ یہ دونوں اس وقت موجود ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:25-27
۳۔ اس واقعے کے تربیتی اور تعمیری پہلو
۳۔ اس واقعے کے تربیتی اور تعمیری پہلو: اس عجیب و غریب تاریخی واقعے کو قرآن نے تمام طرح کے خرافات اور بے بنیاد باتوں سے پاک کرکے ٹھیک ٹھیک بیان کردیا ہے ۔ یہ واقعہ بھی قرآن کے دیگر تمام واقعات کی طرح تربیتی اور تعمیری نکات سے معمور ہے ۔ تفسیر بیان کرتے ہوئے ہم نے ان نکات کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجموعی طور پر ان نکات کی طرف اشارہ کیا جائے تاکہ ہم قرآن کے اصلی مقصد کے زیادہ قریب ہوجائیں ۔ الف۔ اس داستان کا پہلا سبق تقلید کے بند توڑنا ہے ۔ اس داستان کا تقاضا ہے کہ فاسد ماحول کے رنگ میں نہیں رنگے جانا چاہیے ۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ معاشرے کی اکثریت گمراہ تھی لیکن اس کے مقابلے میں جوانمرد اصحابِ کہف نے اپنی آزادی فکر کو گنوایا نہیں اور یہی امران کی نجات و فلاح کا سبب بن گیا ۔ اصولی طور پر انسان کو معاشرہ ساز ہونا چاہیے نہ کہ اس کی برائیوں کا شریکِ کار سست، کمزور اور بے حیثیت لوگ وہ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں: خواہی نشوی رسوا ہم رنگِ جماعت شو اگر تم ذلیل نہیں ہونا چاہتے تو جیسے لوگ ہیں ویسے ہوجاؤ۔ جبکہ اہلِ ایمان اور حریتِ فکر رکھنے والے افراد کہتے ہیں:لوگوں کا ہم رنگ ہونا تیرے لیے باعثِ ننگ و عار ہے ۔ ب۔ اس عبرت انگیز واقعے کا دوسرا سبق بُرے ماحول سے ہجرت اختیار کرنا ہے ۔ ان کا شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ تھا، خوشحال زندگی تھی، مادی نعمتیں ان کے لیے فراواں تھیں ان کے گھر بھرے پُرے تھے ۔ ایسی زندگی کو انھوں نے ٹھکرادیا اور اس غار میں جا ڈیرہ کیا کہ جہاں طرح طرح کی محرومیاں تھیں ۔ یہ سب کچھ انھوں نے اس لیے کیا تاکہ اپنے ایمان کی حفاظت کرسکیں اور ظلم و جور اور کفر و شرک کی تقویت کا باعث نہ بنیں ۔ (1) ج۔ اس داستان کا تیسرا درس تقیہ ہے ۔ وہ تقیہ کہ جو تربیتی ، اصلاحی اور تعمیری ہے ۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ شہر والوں کو ان کے بارے میں پتہ نہ چلے اور وہ اسی طرح پروہ اسرار میں رہ جائیں کہ مبادا ان کے جان بے کار ہیں ضائع چلی جائے یا انھیں جبری طور پر اس بُرے ماحول کی طرف پلٹا دیا جائے ۔ ہم جانتے ہیں کہ تقیہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ انسان اپنے حقیقی مقام یا موقف کو ایسے مقام پر مخفی رکھے کہ جہاں ظاہر کرنا بے نتیجہ ہوتا کہ مقابلے کے لیے اور دشمن پر ضرب لگانے کے موقع کے لیے اپنی قوت کو محفوظ رکھا جاسکے ۔(2) د۔ اللہ کی راہ میں سب انسان برابر ہیں ۔ وزیرا اور چرواہا اکھٹے ہیں ۔ بلکہ ان کی حفاظت کرنے والا کُتّا بھی ان کے ساتھ ہے ۔ یہ بھی اس واقعے کا ایک درس ہے ۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مادی دنیا کے امتیازات اور مقام و منصب راہِ حق کے مسافروں کو ایک وسرے سے جدا نہیں کرتے اور راہِ توحید تمام انسانوں میں مساوات کا راستہ ہے ۔ ھ۔ اس داستان کا ایک درس یہ بھی ہے کہ مشکلات کے مواقع پر اللہ کی طرف اس کے بندوں کی تعجب انگیز طور پر امداد کی جاتی ہے ۔ ہم نے دیکھا ہے کہ کیسے، جب معاشرے کے حالات ناساز گار تھے تو اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کو سالہا سال سُلائے رکھا اور جب حالات سازگار ہوئے تو انھیں بیدار کر دیا ۔ اور لوگوں نے ان کا توحید پرستوں کی حیثیت سے احترام کیا ۔ نیز ہم نے دیکھا کہ کس طرح اس طویل مدت میں ان کے جسموں کو ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رکھا اور ان کے اندر ایک ایسا رعب پیدا کردیا کہ جس نے حملہ آوروں کے مقابلے میں ڈھال بن کر ان کی حفاظت کی ۔ و ۔ اصحابِ کہف نے ان سخت ترین حالات میں بھی ہمیں پاکیزہ غذا کھانے کا درس دیا کیونکہ جسم انسان کی غذا کا انسانی روح، فکر اور دل پر گہرا اثر ہوتا ہے ۔ انسان جب حرام اور ناپاک غذا سے آلودہ ہوتا ہے تو وہ راہِ خدا سے دور ہوجاتا ہے ۔ ز۔ مشیتِ خداپر بھروسہ اور اعتماد ضروری ہے ۔ اس کے لطف و کرم سے مدد طلب کرنا اور آئندہ کے امور کے لیے انشاء اللہ کہنا ۔ یہ درس بھی ہم نے اس کے ضمن میں سیکھا ہے ۔ ح۔ ہم نے دیکھا ہے کہ قرآن انھیں جوانمرد (فتیة)کہہ کریاد کررہا ہے حالانکہ بعض روایات کے مطابق عمر کے لحاظ سے وہ جوان نہیں تھے ۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ پہلے وہ اس دَور کے ظالم بادشاہ کے وزیر تھے تو ماننا پڑے گا کہ وہ اچھی خاصی عمر کے تھے ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ قرآن جوانی کو جوانمردی کے اصول پر دیکھتا ہے یعنی قرآن پاکیزگی، جراٴت و ایثار کے حوالے سے جوانی کو ماپتا ہے ۔ ط۔ اس واقعے سے ایک اور اصلاحی سبق یہ ملتا ہے کہ مخالفین سے سابقہ پڑے تو ضروری ہے کہ بحث منطقی بنیاد پر کی جائے ۔ کیونکہ جب اصحاب کہف اس شرک آلودہ ماحول پر تنقید کرتے تو منطقی دلائل کا سہارا لیتے ۔ اس کے کچھ نمونے ہم نے اسی سورہ کی آیات ۱۵ اور ۱۶ میں دیکھے ہیں ۔ اصولی طور پر تمام انبیاء اور ہادیانِ الٰہی کا طریقِ کار یہ تھا کہ وہ مخالفین سے مقابلے اور آمنا سامنا ہونے کی صورت میں آزاد اورمنطقی بنیاد پر گفتگو کرتے تھے ۔ طاقت وہ صرف اسی صورت میں استعمال کرتے جب فتنہ و فساد کے خاتمے کے لیے منطقی بحث موٴثر نہ رہتی تھی یا یہ کہ جب مخالفین منطقی گفتگو میں رکاوٹ بن جاتے تھے ۔ ی ۔ دسواں درس اس داستان کا معادِ جسمانی اور قیامت کے دن انسان کی حیاتِ نو کے امکان کا ہے ۔ اس تشریح آئندہ مباحث میں تفصیل کے ساتھ آئے گی ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ اس داستان کے تربیتی، اصلاحی اور تعمیری نکات انھیں میں منحصر ہیں لیکن ان دس درسوں میں سے ایک بھی ہو تو ایسی داستان بیان کرنے کے لیے کافی ہے چہ جائیکہ یہ سب موجود ہوں ۔ بہر حال مقصد خواہ مخواہ کی مشغولیت اور داستان گوئی نہیں ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو مجاہد، بہادر، یا ایمان، آگاہ اور شجاع بنانا ہے اور ان کی اصلاح کرنا ہے ۔ اس کے لیے دیگر تبلیغی طریقوں کے علاوہ ایک یہ ہے کہ انسان کی گزشتہ تاریخ سے حقیقی نمونے پیش کیے جائیں ۔ اصحابِ کہف کا واقعہ علمی اعتبار سے یہ بات مسلّم ہے کہ اصحاب ِ کہف کا واقعہ کسی گزشتہ آسمانی کتاب میں نہیں تھا (چاہے وہ اصلی ہو یا موجودہ تحریف شدہ) اور نہ اسے ان کتابوں میں ہونا ہی چاہیے تھا کیونکہ تاریخ کے مطابق یہ واقعہ ظہورِ حضرت مسیح(ع) کے صدیوں بعد کا ہے ۔ یہ واقعہ ”دکیوس“ کے دور کا ہے، جسے عرب ”دقیانوس“کہتے ہیں ۔ اس کے زمانے میں عیسائیوں پر سخت ظلم ہوتا تھا ۔ یورپی موٴرخین کے مطابق یہ واقعہ ۴۹ تا ۲۵۱ عیسوی کے درمیان کا ہے ۔ ان موٴرخین کے خیال میں اصحابِ کہف کی نیند کی مدتت ۱۵۷ سال ہے ۔ یورپی موٴرخین انھیں ”افسوس کے سات سونے والے“کہتے ہیں (3)جبکہ ہمارے ہاں انھیں ”اصحابِ کہف “کہا جاتا ہے ۔ اب دیکھتے ہیں کہ ”افسوس“شہر کہاں ہے؟ سب سے پہلے کن علماء نے ان سونے والوں کے بارے میں کتاب لکھی اور وہ کس صدی کے تھے؟ ”افسوس“ یا اُفْسُس ایشیائے کوچک کا ایک شہر تھا (موجودہ تر کی جو قدیم مشرقی روم کا ایک حصہ تھا)یہ دریائے کا ستر کے پاس ”ازمیر“شہر کے تقریباً چالیس میل جنوب مشرق میں واقع تھا ۔ یہ ”الونی“بادشاہ کا پایہٴ تخت شمار ہوتا تھا ۔ افسوس اپنے مشہور بُت خانے ارطامیس کی وجہ سے بھی عالمی شہرت رکھتا تھا ۔ یہ دنیا کے سات عجائبات میں تھا ۔ (4) کہتے ہیں کہ اصحابِ کہف کی داستان پہلی مرتبہ پانچویں صدی عیسوی میں ایک عیسائی عالم نے لکھی ۔ اس کا نام ”ژاک“تھا ۔ وہ شام کے ایک گرجے کا متولی تھا ۔ اس نے سریانی زبان کے ایک رسالے میں اس کے بارے میں لکھا تھا ۔ اس کے بعد ایک اور شخص نے اس کا لا طینی زبان میں ترجمہ کیا ۔ اس کا نام ”گوگویوس“تھا ۔ ترجمے کا نام اس نے ”جِلال شہداء“ کا ہم معنی رکھا ۔(5) اس سے ظاہر ہوتا ہے ظہورِ اسلام مصادر میں اس کی جو تفصیلات آئی ہیں وہ مذکورہ عیسائیوں کے بیانات سے کچھ مختلف ہیں ۔ جیسے ان کے سونے کی مدت۔ کیونکہ قرآن نے صراحت کے ساتھ یہ مدت ۳۰۹ سال بیان کی ہے ۔ یاقوت حموی نے اپنی کتاب ”معجم البدان“ج ۳ ص ۸۰۶ پر، ابنِ خرداد بہ نے اپنی کتاب ”المسالک و الممالک“ ص ۱۰۶ تا ص ۱۱۰ میں اور ابوریحان بیرونی نے اپنی کتاب ”الآثار الباقیہ“ص ۲۹۰ پر نقل کیا ہے کہ قدیم سیاحوں کی ایک جماعت نے شہر ”آبس“میں ایک غار دیکھی ہے جس میں چند انسانی ڈھانچے پڑے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ ہوسکتا ہے یہ بات اسی داستان سے مربوط ہو ۔ سورہٴ کہف میں قرآن کے لب و لہجہ سے اور اس سلسلے میں اسلامی کتب میں منقول شانہائے نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ داستان یہودی علماء میں بھی ایک تاریخی واقعے کے طور پر مشہور تھی ۔ اس سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ طولانی نیند کا یہ واقعہ مختلف قوموں کے تاریخی ماخذ میں موجود رہا ہے ۔ (6) شہر افسوس میں سالہا سال تک سوئے رہنے والے اصحابِ کہف کی اس طویل نیند کے بارے میں ہوسکتا ہے کچھ افراد شک کریں کہ یہ بات سائنسی معیار پر پوری نہیں اترتی لہٰذا وہ اسے ایک افسانہ قرار دیں کیونکہ: اولاً: اس قسم کی طولانی عمر تو جاگتے افراد کے لیے بعید معلوم ہوتی ہے چہ جائیکہ سوئے ہوئے افراد کے لئے ۔ ثانیاً: اگر یہ قبول کرلیا جائے کہ بیداری کے عالم میں ایسی عمر ممکن ہے تب بھی سوئے ہوئے تو ممکن معلوم نہیں ہوتی کیونکہ کھائے پیٴے بغیر اتنا طویل عرصہ انسان کیونکر زندہ رہ سکتا ہے ۔ اگر فرض کیا جائے کہ ایک انسان کو ہر روز کے لیے ایک کلو کھانا اور ایک لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو اصحابِ کہف کی عمر کے لیے سوٹن غذا اور ایک لاکھ لیٹر پانی کی ضرورت ہے اور اتنا ذخیرہ ایک بدن میں ممکن نہیں ۔ ثالثاً: اگر ان تمام چیزوں سے صرف نظر بھی کر لیا جائے تو بھی انسانی بدن طویل عرصہ ایک جیسا کیسے رہ سکتا ہے انسانی آرگانزم Organism کے لیے اتنی طولانی مدت یقینا نقصان وہ ہے اور جسم کے اعضاء و اجزاء کا بہت سا حصّہ اتنے طویل عرصے میں ضرور ضائع ہوتا ہے ۔ ہوسکتا ہے پہلی نظر میں ان اشکالات اور موانع کے باعث ایسا ہو نا قابلِ عمل دکھائی دے ۔ لیکن ایسا نہیں کیونکہ: اولاً: لمبی عمر کا مسئلہ کوئی غیر سائنسی نہیں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیںکہ کسی زندہ موجود کی عمر کی طوالت کے لئے سائنسی حوالے سے کوئی ایسا معیار نہیں ہے کہ جس کے باعث موت حتمی اور یقینی ہو ۔ دوسرے لفظوں میں یہ صحیح ہے کہ انسان کے جسمانی قویٰ جس قدر بھی ہوں آخر محدود اور اختتام پذیر ہیں لیکن اِس کا یہ معنی نہیں کہ ایک انسانی بدن یا کسی اور زندہ شے کا بدن معمول سے زیادہ زندہ رہنے کی توانائی نہیں رکھتا ۔ اس کی مثال پانی کی سی نہیں کہ جب اس کا درجہٴ حرارت سو تک پہنچ جاتا ہے تو وہ ابلنے لگتا ہے اور صفر تک پہنچ جاتا ہے تو برف بن جاتا ہے ۔ ایسا نہیں کہ جب انسان سو ، یا ڈیڑھ سو سال تک پہنچ جائے تو ضروری ہے کہ اس کے دل کی دھڑکن بند ہوجائے اور اس پر موت طاری ہوجائے ۔ بلکہ زندہ موجودات کی عمر کا تعلق زیادہ تر اس کی کیفیتِ زندگی اور اندازِ بودو باش سے ہے اور حالات کی تبدیلی سے مکمل طور پر قابلِ تغیّر ہے ۔ اس بات کا زندہ شاہد یہ امر ہے کہ ایک طرف تو دنیا کے کسی سائنسدان نے انسانی عمر کے لیے کوئی معین معیار مقرر نہیں کیا جبکہ دوسری طرف تجربہ گاہوں میں یہ ثابت کی جاچکی ہے کہ بعض زندہ موجودات کی عمر دوگنا، کئی گنایہاں تک کہ بارہ گنا اور اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے ۔ بلکہ اب تو امید بھی دلائی جارہی ہے کہ بعض نئے عملی طریقے پیدا ہونے سے انسان کی عمر کی نسبت کئی گنا بڑھ جائے گی ۔ یہ تو طولِ عمر کے بارے میں گفتگو تھی ۔ ثانیاً: اس طولانی نیند میں آب و غذا کے بارے میں اگر تو معمول کی نیند ہو تو ہوسکتا ہے کہ اعتراض کرنے والے کو حق بجانب سمجھا جائے کہ یہ بات سائنسی اصول سے ہم آہنگ نہیں کیونکہ انسانی بدن میں اجزاء کی کمی بیشی نیند کی حالت میں عام حالت کی نسبت اگر چہ کم ہے پھر بھی اتنی طویل مدت میں تو بہت زیادہ ہوگی لیکن توجہ رہے کہ مادی دنیا میں ایسی نیندیں بھی ہیں کہ جن میں بدن کی غذا کا مصرف بہت کم ہوتا ہے اس کے لیے ان جانوروں کی مثال پیش کی جاسکتی ہے جو موسم سرما میں سوجاتے ہیں ۔ اس مسئلے کو ہم ذرا تفصیل سے دیکھتے ہیں: بعض جانوروں کی سردیوں کی نیند: بہت سے جانور اایسے ہیں جو سارے موسم سرمامیں سوئے رہتے ہیں ۔ اسے سائنسی اصطلاح میں ”سردیوں کی نیند“کہتے ہیں ۔ ایسی نیند میں علاماتِ حیات تقریباً ختم ہوجاتی ہیں ۔ زندگی کا معمولی سا شعلہ روشن رہتا ہے ۔ دل کی دھڑکن تقریباً رُک جاتی ہے اور اتنی خفیف ہوجاتی ہے کہ بالکل محسوس نہیں ہوتی ۔ ایسے مواقع پر بدن کو ایک ایسے بڑے بھٹے سے تشبیہ دی جاسکتی ہے کہ جسے بجھا کر چھوٹا سا شعلہ بھڑکتا رہے ۔ واضح ہے کہ آسمان سے باتیں کرتے ہوئے شعلوں کے لیے بھٹے کو جتنے تیل یا گیس کی خوراک کی ایک دن کے لیے ضرورت ہوتی ہے ایک خفیف سے شعلے کے لیے اتنی برسہا برس یا صدیوں کے لیے ضرورت ہوتی ہے ۔ البتہ اس میں جلتے ہوئے بھٹے کی مقدار اور خفیف سے شعلے کی مقدار کے لحاظ سے فرق ہوسکتا ہے ۔ سائنس دان بعض جانوروں کی سردیوں کی نیند کے بارے میں کہتے ہیں: کوئی مینڈک جب سردیوں کی نیند میں ہو تو اسے اگر اس جگہ سے باہر نکال لیں تو مردہ معلوم ہوگا ۔ اس کے پھیپھڑوں میں ہوا نہیں ہوتی ۔ اس کے دل کی حرکت اس قدر کمزور ہوتی ہے کہ اس کا پتہ نہیں چلایا جاسکتا ۔ خون سرد جانوروں Cool Blooded Animal میں سے بہت سے ایسی سردیوں کی نیند سوتے ہیں ۔ اس سلسلے میں کئی طرح کے کیڑے مکوڑوں، حشرات الارض، گھونگھوں اور رینگنے والے جانوروں کے نام لیے جاسکتے ہیں ۔ بعض خون گرم جانوروں Warm Blooded Animal کی بھی سردیوں کی ایسی نیند ہوتی ہے ۔ اس نیند کے عالم میں حیاتی فعالیتیں بہت سست پڑجاتی ہیں اور بدن میں ذخیرہ شدہ چربی آہستہ آہستہ صرف ہوتی رہتی ہے ۔(7) مقصد یہ ہے کہ ایک ایسی نیند بھی ہے کہ جس میں غذا کی انتہائی کی ضرورت ہوجاتی ہے اور حیاتی فعالیتیں تقریباً صفر تک پہنچ جاتی ہیں ۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہی صورتِ حال اعضا کو فرسودگی سے بچانے اور جانوروں کی طوالتِ عمر میں مدد کرتی ہے ۔ اصولی طور پر جو جاندار احتمالاً سردیوں میں اپنی غذا حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ان کے لیے سردیوں کی نیند بہت غنیمت چیز ہے ۔ ایک اور نمونہ۔ یوگا کے ماہرین: یوگاکے ماہرین کے بارے میں دیکھا گیا ہے کہ ان میںسے بعض کو یقین نہ کرنے والے حیرت زدہ افراد کی آنکھوں کے سامنے بعض اوقات تابوت میں رکھ کر ہفتہ بھر کی مدت کے لیے مٹی کے نیچے دفن کردیتے ہیں اور مذکورہ مدت ختم ہونے کے بعد انھیں باہر نکالتے ہیں ۔ ان کی ما لش کی جاتی ہے اور مصنوعی سانس دی جاتی ہے اور وہ رفتہ رفتہ معمولی کی حالت میں پلٹ آتے ہیں ۔ لتنی مدت کے لیے اگر ضرورت غذا کا مسئلہ اہم نہ ہو بھی آکسیجن کا مسئلہ تو بہت اہم ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ دماغ کے خلیے آکسیجن کے معاملے اتنے حساس اور ضرورت مند ہوتے ہیں کہ اگر چند سیکنڈ بھی اس سے محروم ہوو جائیں ۔ لہٰذا سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک یوگی پورا ہفتہ کس طرح آکسیجن کی اس کمی کو برداشت کر لیتا ہے ۔ ہم جو وضاحت کرچکے ہیں اس کی طرف تو جہ کرنے سے ایک سوال کا جواب زیادہ مشکل نہیں رہتا ۔ بات یہ ہے کہ یوگی کے بدن کی حیاتی فعالیت اس عرصہ میں تقریباً رک جاتی ہے ۔ اس دوران میں خلیے کو آکسیجن کی ضرورت اور اس کا مصرف بہت کم ہوجاتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہی ہوا جو تابوت کے اندر والے حصے میں ہوتی ہے بدن کے خلیوں کی ہفتہ بھر کی غذا کے لیے کافی ہوتی ہے ۔ زندہ انسان کے بدن کو منجمد کردینا: جانداروں بلکہ انسان کو منجمد کرکے ان کی عمر بڑھانے کے بارے میں آج تو بہت سے نظریے اور بحثیں چل پڑی ہیں ۔ ان میں بعض تو عملی جامہ بھی پہن چکی ہیں ۔ ان نظریوںTheories کے مطابق یہ ممکن ہے کہ ایک انسان یا حیوان کے بدن کو ایک خاص طریقے کے تحت صفر سے کم درجہ حرارت پر رکھ کر اس کی زندگی کو ٹھہرا دیا جائے، اس طرح سے کہ وہ واقعاً مر نہ جائے پھر ایک ضروری مدت کے بعد اسے مناسب حرارت دی جائے اور وہ حالت معمولی پر لوٹ آئے ۔ ایسے کُرّے جو بہت دُور ہیں ان تک کا فضائی سفر جو کئی سو یا کئی ہزار سال تک کی مدت کا ہوسکتا ہے، کے لیے کئی منصوبے پیش کیے جا چکے ہیں ۔ ان میں سے ایک یہی ہے کہ خلانورد کے بدن کو ایک خاص تابوت میں رکھ دیا جائے اور اسے منجمد کردیا جائے اور جب سالہا سال کی مسافت کے بعد وہ مقررہ کُرّات کے قریب پہنچے تو ایک خودکار نظام کے تحت ایک تابوت میں حرارت پیدا ہوجائے اور خلانورد حالتِ معمولی پر لوٹ آئے بغیر اس کے کہ اس کی عمر ضائع ہو ۔ ایک سائنسی مجلے میں ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ حال ہی میں انسانی بدن کو لمبی عمر کے لیے منجمد کرنے کے بارے میں رابرٹ نیلسن نے کتاب لکھی ہے ۔ سائنسی دنیا میں یہ کتاب بھی اہمیت اختیار کر گئی ہے اور اس کے مندرجات کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے ۔ مجلے کے اس مقالے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ حال ہی میں اس عنوان کے تحت ایک خاص سائنسی شعبہ قائم ہوگیا ہے ۔ مذکورہ مقالے میں لکھا گیا ہے:حیات جاوداں پوری تاریخ انسانی میں ہمیشہ انسان کا سنہرا خواب رہی ہے لیکن اب یہ خواب حقیقت میں بدل گیا ہے ۔ یہ امر ایک نئے علم کی خوشگوار او رحیرت انگیز ترقی کا مرہونِ منت ہے اس علم کا نام کر یانک ہے ۔(یہ علم انسانی بدن کو منجمد کر کے زندہ رکھنے کے بارے میں ہے ۔اس کے مطابق انسان کے بدن کو منجمد کرکے اسے بچایا جاسکتا ہے یہاں تک کہ سائنسدان اسے پھر سے زندہ کردیں) ۔ کیا یہ بات قابلِ یقین ہے؟ بہت سے اہم او رممتاز سائنسدان کئی پہلووٴں سے اس مسئلے پر غور کر رہے ہیں ۔ اس کے بارے میں کئی کتا بیں مثلاً”لائف“ اور”اسکوایر“ چھپ چکی ہیں ۔ پوری دنیا کے اخبارات پوری شد ومد سے اس مسئلے پر بحث کر رہے ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں اب تجربات شروع ہوچکے ہیں ۔(8) واضح ہے کہ حالت انجماد میں علامات حیات موت کی طرح بالکل ختم نہیں نہیں ہوجائیں کیونکہ اس صورت میں بھی تو پھر زندگی نہیں مل سکتی بلکہ اس عالم میں حیاتی فعالیتیں بہت سست رفتار ہوجاتی ہیں ۔ ان تمام باتوں سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ انسانی زندگی کو ٹھہرایا یا بہت ہی سست کیا جاسکنا ممکن ہے اور مختلف سائنسی تحقیقات اس امکان کی کئی حوالوں سے تائید کرتی ہیں ۔اس حالت میں غذا کا مصرف بدن میں تقریباً صفر تک جا پہنچتا ہے اور غذا کا تھوڑا سا ذخیرہ جو بدن میں موجود ہوتا ہے اس کی سست زندگی کے لئے طویل برسوں تک کافی ہوسکتا ہے ۔(9) غلط فہمی نہیں ہونا چاہیے ہم ان باتوں کے ذریعے اصحاب کہف کی نیند کے اعجاز کے پہلوکا انکار نہیں کرنا چاہتے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ سائنسی حوالے سے اس واقعے کوہم ذہن کے قریب کردیں کیونکہ تسلیم شدہ امر ہے کہ اصحاب کہف ہماری طرح نہیں سوئے ۔ جیسے ہم معمول کے مطابق رات کو سوتے ہیں ان کی نیند ایسی نہ تھی بلکہ وہ استثنائی پہلو رکھتی تھی ۔ ہوسکتا ہے کہ اصحابِ کہف کے واقعے سے انسان کے ذہن میں منجمد کرنے کی ایجاد ہو یا قدرت نے اسے منجمد کرنے کا اشارہ دیا ہو ۔ لہٰذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں کہ وہ ارادہٴ الٰہی کے ما تحت ایک طویل زمانے تک سوئے رہے ۔ اس دوران نہ انھیں غذا کی کمی لاحق ہوئی اور نہ ان کے بدن کے اجزاء Organism کو کوئی نقصان پہنچا ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ سورہٴ کہف کی آیات سے ان کی سر گزشت کے بارے میں یہ نتیجہ بر آمد ہوتا ہے کہ ان کی نیند عام طریقے کی نیند اور معمول کی نیند سے بہت مختلف تھی ۔ ارشاد ہوتا ہے: <وَتَحْسَبُھُمْ اٴَیْقَاظًا وَھُمْ رُقُودٌ ۔۔۔ِ لَوْ اطَّلَعْتَ عَلَیْھِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْھُمْ فِرَارًا وَلَمُلِئْتَ مِنْھُمْ رُعْبًا ”وہ ایسے لگتے تھے جیسے جاگ رہے ہوں(ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں) اگر تو انھیں دیکھتا تو گھبرا کے بھاگ اٹھتا اور تیرے پورے وجود پر خوف چھا جاتا“۔(کہف۔۱۸) یہ آیت اس بات کی گواہ ہے کہ ان کی نیند عام کی سی نہ تھی بلکہ ایسی نیند تھی جو حالت موت کے مشابہ تھی ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں ۔ علاوہ ازیں قرآن کہتا ہے:سورج کی روشنی ان کے غار کے اندر نہیں پڑتی تھی ۔ نیز اگر اس امر کی طرف توجہ کی جائے کہ ان کی غار احتمالاً ایشیائے کوچک کے کسی بلند اور ٹھنڈے مقام پر واقع تھی ان کی نیند کے استثنائی حالات اور زیادہ واضح ہوجاتے ہیں ۔ دوسری طرف قرآن کہتا ہے: <وَنُقَلِّبُھُمْ ذَاتَ الْیَمِینِ وَذَاتَ الشِّمَالِ ”ہم دائیں بائیں ان کے پہلو بدلتے رہتے تھے“۔(کہف۔۱۸) یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ وہ بالکل ایک ہی حالت میں نہیں رہتے تھے ایسے عوامل کہ جو ابھی تک ہمارے لیے راز ہیں ان کے تحت شاید سال میں ایک مرتبہ انھیں دائیں بائیں پلٹایا جاتا تھا تاکہ ان کے بدن کے آرگا نزمOrganism میں کوئی نقص نہ پڑجائے ۔ اب جبکہ اس سلسلے میں کافی واضح علمی بحث ہوچکی ہے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے معاد اور قیامت کے بارے میں زیادہ گفتگو کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ ایسی طویل نیند کے بعد بیداری، موت کے بعد زندگی کے غیر مشابہ نہیں ہے ۔ اس سے ذہن معاد اور قیامت کے امکان کے قریب ہوجاتا ہے ۔ 1۔ اسلام میں ہجرت کی اہمیت اور اس کے فلسفے کے بارے میں ہم تفسیرِ نمونہ جلد چہارم ص ۸۵ (اردو ترجمہ)پر تفصیلی گفتگو کرچکے ہیں ۔ 2۔ تقیہ کے بارے میں ”تقیہ ایک حفاظتی ڈھال ہے“کے زیرِ عنوان ہم تفسیرِ نمونہ کی جلد ۲ ص ۲۹۵ (اردو ترجمہ)پر گفتگو کرچکے ہیں اور اس کے فقہی مدارک ”’القواعد الفقہیہ“ میں ہم نے بیان کیے ہیں ۔ 3۔ اعلامِ قرآن ص ۱۵۳- 4۔ قاموسِ مقدس ص ۸۷ سے ایک اقتباس۔ 5۔اعلامِ قرآن ص ۱۵۴- 6۔ معاد و جہان پس از مرگ ص ۱۶۳ تا ص ۱۶۵- 7۔ مجلّہ ”دانشمند“ بہمن ماہ ۴۷، ص۴- 8-کچھ عرصہ ہوا کہ جرائد میں یہ خبر چھپی تھی کہ برفانی قطبی علاقے سے چند ہزار سال پہلے کی ایک منجمد مچھلی ملی ہے جسے خود وہاں کے لوگوں نے دیکھا ہے ۔ اس مچھلی کو جب مناسب پانی میں رکھا گیا تو لوگ حیرت زدہ رہ گئے کہ وہ پھر سے جی اٹھی اور چلنے پھر نے لگی ۔ 9۔ ایک پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انسان نے قدرت کی بہت سی چیزیں دیکھ کر ویسی ہی ایجادات کی ہیں ۔ لہٰذا
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:25-27
سوره کهف / آیه 25 - 27
۲۵ وَلَبِثُوا فِی کَھْفِھِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِینَ وَازْدَادُوا تِسْعًا ۔ ۲۶ قُلْ اللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا لَہُ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ اٴَبْصِرْ بِہِ وَاٴَسْمِعْ مَا لَھُمْ مِنْ دُونِہِ مِنْ وَلِیٍّ وَلَایُشْرِکُ فِی حُکْمِہِ اٴَحَدًا ۔ ۲۷ وَاتْلُ مَا اٴُوحِیَ إِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ لَامُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِہِ مُلْتَحَدًا ۔ ترجمہ ۲۵۔ وہ اپنی غار میں تین سو سال سے نو سال اوپر ٹھہرے رہے ۔ ۲۶۔ کہہ دے: ان کے قیام کی مدت سے خدا زیادہ آگاہ ہے، آسمانوں اور زمین کے پوشیدہ امور سے وہی واقف ہے واقعاً وہ کیا خوب دیکھنے والا اور سننے والا ہے ۔ اس کے علاوہ ان کا کوئی ولی و سرپرست نہیں ہے اور کوئی شخص اس کے حکم میں شریک نہیں ہے ۔ ۲۷۔ جو کچھ کتاب میں سے تیرے رب کی طرف سے تجھ پر وحی کیا گیا ہے اس کی تلاوت کر، کوئی اس کے فرمودات بدل نہیں سکتا اور اس کے علاوہ تجھے کوئی پناہ گاہ نہیں ملے گی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:25-27
اصحابِ کہف کی نیند
اصحابِ کہف کی نیند گزشتہ آیات میں موجود قرائن سے اجمالاً معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ کہف کی نیند بہت لمبی تھی ۔ یہ بات ہر شخص کی حس جستجو کو ابھارتی ہے ۔ ہر شخص جاننا چاہتا ہے کہ وہ کتنے برس سوئے رہے ۔ زیرِ نظر آیات اس داستان کی قرآنِ حکیم میں آخری آیات ہیں ۔ ان آیات میں تردد ختم کرتے ہوئے اس سوال کا جواب دیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ اپنی غار میں تین سوسے نو برس زیادہ سوئے رہے ( وَلَبِثُوا فِی کَھْفِھِمْ ثَلَاثَ مِائَةٍ سِنِینَ وَازْدَادُوا تِسْعًا) ۔ اس لحاظ سے وہ کل تین سو نو سال غار میں سوئے رہے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تین سو نو سال کہنے کے بجائے یہ جو کہا ۔کہ نو سال اس سے زیادہ۔ یہ شمسی اور قمری سالوں کے فرق کی طرف اشارہ ہے ۔ کیونکہ شمسی حساب سے وہ تین سوسال رہے اور کہ جو قمری حساب سے تین سو نو سال ہوئے اور یہ تعبیر کا ایک لطیف پہلو ہے کہ ایک جزوی تعبیر کے ذریعے عبارت میں ایک اور وضاحت طلب حقیقت بیان کری جائے ۔(۲) اس کے بعد اس بارے میں لوگوں کے اختلاف ِ آراء کو ختم کرنے کے لیے فرمایا گیا ہے: کہہ دے: خدا ان کے قیام کی مدت کو بہتر جانتا ہے (قُلْ اللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوا) ۔کیونکہ آسمانوں اور زمین کے غیب کے احوال اس کے سامنے ہیں اور وہ ہر کس کی نسبت انھیں زیادہ جانتا ہے (لَہُ غَیْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ) ۔ اور جو کُل کائنات ہستی سے باخبر ہے کیونکر ممکن ہے کہ وہ اصحابِ کہف کے غار میں قیام کی مدت سے آگاہ نہ ہو ۔ واقعاً وہ کیا خوب دیکھنے والا اور سننے والا ہے ( اٴَبْصِرْ بِہِ وَاٴَسْمِعْ ) ۔(۳) لہٰذا آسمانوں اور زمین کے باسیوں کا اس کے علاوہ کوئی اور سرپرست نہیں ہے (مَا لَھُمْ مِنْ دُونِہِ مِنْ وَلِیٍّ) ۔ یہ کہ ”مَا لَھُم“کی ضمیر کِن لوگوں کی طرف لوٹتی ہے، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے ۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ آسمان و زمین کے ساکنین کی طرف اشارہ ہے ۔ بعض دوسرے کہتے ہیں کہ یہ اصحابِ کہف کی طرف اشارہ ہے یعنی اصحابِ کہف کا اس کے علاوہ کوئی ولی و سرپرست نہیں تھا ۔ وہی تھا کہ جو اس ساری صورتِ حال میں ان کے ساتھ تھا اور ان کی حمایت کرتا تھا ۔ البتہ اس سے پہلے جملے کی طرف توجہ کریں تو اس میں آسمانوں اور زمین کے پوشیدہ احوال کی طرف اشارہ کیا گیاہے ۔ اس سے زیر بحث جملے کے بارے میںپہلی تفسیر زیادہ صحیح دکھائی دیتی ہے ۔ آیت کے آخر میں مزید فرمایا گیا ہے: اور کوئی شخص حکمِ خدا میں شریک نہیں ہے (وَلَایُشْرِکُ فِی حُکْمِہِ اٴَحَدًا) ۔ در حقیقت یہ اللہ کی ولایت مطلقہ کے بارے میں تاکید ہے کہ نہ کوئی اور عالمین پر ولایت رکھتا ہے اور نہ کوئی ولایت میں شریک ہے ۔ یعنی استقلال و اشتراک دونوں لحاظ سے کوئی دوسرا اس عالمِ امکان کی ولایت میں نفوذ نہیں رکھتا ۔ زیرِ نظر آخری آیت میں روئے سخن پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی طرف کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جو کچھ کتاب خدا میں سے تجھ پر وحی کیا گیا ہے اس کی تلاوت کر ( وَاتْلُ مَا اٴُوحِیَ إِلَیْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ) ۔ اورادھر اُدھر کی دروغ آمیز اور بے بنیاد باتوں کی پرواہ نہ کر۔ ان امور میں تجھے صرف وحی خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے ۔ کیونکہ کوئی چیز اس کی باتوں کو بدل نہیں سکتی ۔ اور اس کی بات (اور اس کی معلومات)میں تبدیلی ممکن نہیں ہے(لَامُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ) ۔ اس کا علم اور کلام بندوں کے علم اور کلام کی طرح نہیں ہے کہ جو ہر روز نئے انکشافات اور آگاہی کی وجہ سے تبدیل ہوتا رہے ۔ اسی لئے بندوں کے علم اور کلام پر سو فیصد اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ اسی وجہ سے تجھے اس کے علاوہ کوئی اور پناہ نہیں ملے گی (وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِہِ مُلْتَحَدًا) ۔ ”مُلْتَحَدً“”لحَد“ (بروزنِ ”مھد“)اس گڑھے کے معنی میں ہے جو درمیان سے کسی ایک جانب جھکا ہو (اس لحد کی طرح جو قبر کے لیے بنائی جاتی ہے)اسی لیے ”مُلْتَحَد“ اس جگہ کو کہتے ہیں جس کی طرف انسان مائل ہو ۔ بعد ازاں یہ لفظ ملجاء اور پناہ گاہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ زیرِ بحث آخری دو آیات میں کئی لحاظ سے تمام موجوداتِ عالم پر خدا کا احاطہٴ علمی بیان کیا گیا ہے ۔پہلے فرمایا گیا ہے: آسمانوں اور زمین کے پوشیدہ امور اس کے سامنے ہیں لہٰذا وہ ان سب سے آگاہ ہے ۔ پھر یہ فرمایا گیا ہے: صرف وہی ولی و سرپرست ہے اور وہ سب سے زیادہ آگاہ ہے ۔ نیز اضافہ کیا گیا ہے: کوئی بھی اس حکم میں سریک نہیں ہے کہ جس کے باعث اس کا علم محدود ہو ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے: اس کے علم اور کلام میں تبدیلی نہیں ہوتی کہ اس کی قدرو قیمت اور ثبات میں کمی واقع ہو ۔ آخری جملے میں ہے: ”عالم میں واحد پناہ گاہ اسی کی ذات ہے“لہٰذا واضح ہے کہ وہ تمام پناہ لینے والوں سے آگاہ ہے ۔ ۱۔ قواعد نحو کے مطابق یہاں ”سنین“ (جمع)کی بجائے ”سنہ“ (مفرد)آنا چاہیے لیکن چونکہ یہ بہت طویل نیند تھی اور برسوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اس بات کو ظاہرکرنے کے لیے جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے تاکہ اس سے کثرت ظاہر ہو ۔ ۲۔ شمسی اور قمری سال کا فرق گیارہ دن کا ہے ۔ اگر گیارہ کو تین سے ضرب دیں اور پھر جواب کو قمری سال کے دنوں یعنی ۳۵۴ پر تقسیم کریں تو نتیجہ نو ہی ہوگا (البتہ جو کچھ باقی بچے گا وہ چونکہ ایک سال سے کم مدت ہے لہٰذا نظر انداز کرنے کے قابل ہے) ۔ ۳۔ ”ابصر بہ واسع“یہ تعجب کے صیغے ہیں اور عظمتِ خدا ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوئے ہیں یعنی وہ اس قدر بینا اور شنوا ہے کہ انسان حیرت میں ڈوب جاتا ہے ۔