ذَلِكَ جَزَاؤُهُم بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا وَقَالُوا أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا
That is their requital because they defied Our signs and said, ‘What, when we have become bones and dust, shall we really be raised in a new creation?’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:98
[Pooya/Ali Commentary 17:98] (see commentary for verse 90)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:98-100
معاد کیونکر ممکن ہے؟
معاد کیونکر ممکن ہے؟ گزشتہ آیات میں بتایا گیا ہے کہ دوسرے جہان میں کیسا برا انجام مجرموں کے انتظار میں ہے، ایسا انجام کہ جو ہر عقلمند انسان کو سوچنے پر مجبور کردیتا ہے ۔زیر نظر آیات میں اس کی علت کو ایک اور حوالے سے واضح کیا گیا ہے ۔ ارشا ہوتا ہے: یہ ان کی سزا ہے، کیونکہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا جس وقت ہم بوسیدہ ہڈیوں میں بدل چکے ہوں گے اور ہمارا جسم پراگندہ مٹی کی صورت اختیار کرچکا ہوگا کیا اس وقت ہماری خلقت نو ہوگی ( ذٰلِکَ جَزَاؤُھُمْ بِاٴَنَّھُمْ کَفَرُوا بِآیَاتِنَا وَقَالُوا اٴَئِذَا کُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا اٴَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِیدًا)۔ جیسا کہ راغب نے مفردات میں کہا ہے”رفات“ گھاس کے تنکوں کو کہتے ہیں جو ٹوٹتے نہیں اور بکھر جاتے ہیں ۔ بنا کہے واضح ہے کہ تہ زمین پہلے انسان بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوتا ہے اور پھر خاک میں بدل جاتا ہے اور خاک کے یہ ذرے بھی بکھر جاتے ہیں ۔ جو لوگ معاد جسمانی کے مسئلہ پر تعجب کرتے ہیں یا اسے ناممکن سمجھتے ہیں قرآن حکیم نے فوراً ہی انہیں جواب دیا ہے: کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ ان کی نظیر بھی پیدا کرسکتا ہے(اٴَوَلَمْ یَرَوْا اٴَنَّ اللهَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ قَادِرٌ عَلیٰ اٴَنْ یَخْلُقَ مِثْلَھُمْ )۔ لیکن انہیں جلدی نہیں کرنا چاہئے، قیامت اگر چہ دیر سے آئے مگر آکے رہے گی۔خدا نے ان کے لیے ایک قطعی مدت مقرر کی ہے او رجب تک وہ وقت معین نہ آجائے قیامت برپا نہیں ہوگی(وَجَعَلَ لَھُمْ اٴَجَلًا لَارَیْبَ فِیہ)۔ لیکن اہل ستم یہ باتیں سننے کے باوجود اپنی کج روی پر باقی رہتے ہیں اور کفرو انکار کے سوا کوئی راستہ اختیار نہیں کرتے(فَاٴَبَی الظَّالِمُونَ إِلاَّ کُفُورًا)۔ انہیں اصرار تھا کہ رسول کو نوع بشر میں سے نہیں ہونا چاہئے لہٰذا یہ باور کرنے میں انہیں کچھ حسد او رکم ظرفی مانع تھی کہ ہوسکتا ہے خدا یہ نعمت کسی انسان کو عطا کرے، لہٰذا زیر بحث آخر آیت میں فرمایا گیا ہے:ان سے کہہ دو : اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے بھی تمہارے ہاتھ میں ہوتے تو بھی اپنی تنگ دلی کی وجہ سے تم انہیں روکے رکھتے کہ انہیں خرچ کرنے میں تم تنگ دست نہ ہوجاوٴ(قُلْ لَوْ اٴَنتُمْ تَمْلِکُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّی إِذًا لَاٴَمْسَکْتُمْ خَشْیَةَ الْإِنفَاقِ )۔اور انسان طبعاً بخیل ہے(وَکَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورًا)۔ ”قتور“کا مادہ”قتر“(بروزن”قتل“) ہے ۔ یہ خرچ کرنے میں بخل سے کام لینے کے معنی میں ہے اور ”قتور“ چونکہ مبالغہ کا صیغہ ہے لہٰذا سخت تنگ دلی کا معنی دیتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:98-100
سوره اسراء / آیه 98 - 100
۹۸ ذٰلِکَ جَزَاؤُھُمْ بِاٴَنَّھُمْ کَفَرُوا بِآیَاتِنَا وَقَالُوا اٴَئِذَا کُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا اٴَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِیدًا ۹۹ اٴَوَلَمْ یَرَوْا اٴَنَّ اللهَ الَّذِی خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ قَادِرٌ عَلیٰ اٴَنْ یَخْلُقَ مِثْلَھُمْ وَجَعَلَ لَھُمْ اٴَجَلًا لَارَیْبَ فِیہِ فَاٴَبَی الظَّالِمُونَ إِلاَّ کُفُورًا ۱۰۰ قُلْ لَوْ اٴَنتُمْ تَمْلِکُونَ خَزَائِنَ رَحْمَةِ رَبِّی إِذًا لَاٴَمْسَکْتُمْ خَشْیَةَ الْإِنفَاقِ وَکَانَ الْإِنْسَانُ قَتُورً ترجمہ ۸۹۔یہ ان کی سزا ہے کیونکہ وہ ہماری آیات کے منکر ہیں تاور وہ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم بوسیدہ ہٹدیاں اور پراگندہ خاک ہوجائیں گے کیا اس وقت ہماری تخلیق نو ہوگی؟ ۹۹۔کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ ان جیسے اور بھی پیدا کرنے پر قادر ہے( اور انہیں حیات نو عطا کرسکتا ہے) اور اس نے ان کے لیے قطعی مدت مقرر کی ہے لیکن اہل ستم سوائے کفر و انکار کے کچھ نہیں کرتے ۔ ۱۰۰۔ان سے کہہ دو: اگر تمہارے پاس میرے رب کی رحمت کے خزانے بھی ہوتے تو بھی تنگ دلی کی وجہ سے تم انہیں روکے رکھتے اس خوف سے کہ کہیں خرج کرنے سے تم تنگ دست نہ ہوجاوٴ اور انسان ہے ہی بہت تگ دل۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:98-100
معاد جسمانی
۱۔ معاد جسمانی: زیر نظر آیات معاد جسمانی کے اثبات کے لیے نہایت واضح آیات میں سے ہیں کیونکہ مشرکین اس بات پر تعجب کرتے تھے کہ کیسے ممکن ہے کہ خدا بوسیدہ او رخاک شدہ ہڈیوں کو پھر حیات نو سے آراستہ کرے ۔ قرآن جواب بھی اسی حوالے سے دیتا ہے اور کہتا ہے: وہ خدا کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے یہ قدرت رکھتا ہے کہ انسان کے منتشر اجزاء کو جمع کر کے اسے حیات نو عطا فرما دے ۔ معلوم نہیں کہ ان واضح آیات کے باوجود اور ان جیسی اور بہت سی آیات کے ہوتے ہوئے اسلام کے بعض دعویدار معاد کو معادِ روحانی میں کیوں منحصر سمجھتے ہیں ۔ ضمناً ، مسئلہ معاد کے اثبات کے لیے اللہ کی ہمہ گیر قدرت کے حوالے سے قران نے بارہا استدلال کیا ہے ۔ سورہٴ یٰسین کے آخر میں معاد جسمانی کے لیے جو چند دلیلیں پیش کی گئی ہیں ان میں سے بھی ایک یہی اللہ کی ہمہ گیر قدرت ہے ۔(۱) ۱۔ مزید تشریح کے لیے اس سلسلے کی کتاب ”معاد و جہان پس از مرگ“کا مطالعہ کیجئے ۔ ۲۔ ”آیات “سے مراد: اس سلسلے میں کہ ”کفروا باٰیاتنا“میں ”آیات“سے مراد آیات توحید ہیں یا دلائلِ نبوت یا معاد سے مربوط آیات؟ اس بارے میں مختلف احتمالات ذکر کیے گئے ہیں لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہ جملہ معاد کی بحث میں آیا ہے، یوں معلوم ہوتا ہے کہ معاد کی آیات کی طرف اشارہ ہے اور در حقیقت منکرینِ معاد کو جواب دینے کے لیے تمہید کے طور پر آیا ہے ۔ ۳۔ ”مثلہم“کا مفہوم: قاعدتاً کہنا چاہیٴے کہ اللہ اپنی قدرت کے ذریعے ان انسانوں کو روز قیامت پھر سے زندگی عطا کرسکتا ہے جبکہ زیر بحث آیات میں ہے کہ وہ ان کی ”مثل“خلق کرے گا ۔ اس تعبیر سے بعض لوگوں کو اشتباہ ہوتا ہے یا کم از کم ان کے ذہن میں سوال ابھرتا ہے کہ کیا قیامت والے انسان یہی نہیں ہوں گے؟ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ”مثل“سے ”عین“ مراد لیا ہے کیونکہ بعض اوقات ہم کہتے ہیں: تیری مثل (تجھ جیسے) کو یہ کام نہیں کرنا چاہیےٴ۔ حالانکہ ہماری مراد یہ ہے کہ ”تجھے یہ کام نہیں کرنا چاہیےٴ“۔ لیکن یہ تفسیر بہت ہی بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ ایسے جملے ہم اور مواقع پر استعمال کرتے ہیں کہ جو ہمارے زیر بحث موقع سے مناسبت نہیں رکھتے ۔ ظاہری مفہوم کے اعتبار سے زیر بحث آیت میں ”مثل“سے مراد وہی اعادہ اور تجدیدِ حیات ہے کیونکہ دوسری خلقت مسلماً پہلی خلقت کا ”عین“نہیں ہے کیونکہ اور نہیں تو کم از کم دوسرے زمانے اور دوسرے حالات میں وجود میں آئی ہے اگر چہ مادہ وہی پرانا پہلے والا ہے ۔ جیسے ہم کسی ریزہ ریزہ ہوجانے والی اینٹ کو نئے سرے سے نئے قالب میں ڈھالیں، کہ جو پہلے قالب کی طرح ہوتو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ بعینہ وہی اینٹ ہے اگر چہ اس کی غیر بھی نہیں ہے بلکہ اس کی ”مثل“ہے ۔ یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ قرآن کی تعبیرات کس قدر گہری اور دقیق ہیں ۔(غور کیجئے گا) البتہ تسلیم شدہ ہے کہ انسان کی شخصیت اس کی روح کے ساتھ ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہی پہلی روح روز قیامت قبروں سے اٹھنے کے وقت پلٹ آئے گی لیکن معاد جسمانی کا تقاضا ہے کہ روح اسی پہلے قالب میں ہوگی یعنی وہی بکھرے ہوئے اجزائے مادہ جمع ہو کر وجود ِنو پائیں گے اور روح اس کے ساتھ ہم آہنگ ہوگی ۔ معاد کی بحث میں ہم نے یہ بات ثابت کی ہے کہ اصولی طور پر انسانی روح کسی ایک شکل میں متشکل ہونے کے بعد کسی اور بدن کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوسکتی سوائے اپنے اصلی بدن کے کہ جس کے ساتھ اس نے پرورش پائی ہے ۔ قبا صرف اسی بدن پر فٹ آتی ہے اور اسی کے لیے موزوں ہے (اسی سے معادِ جسمانی و روحانی ثابت ہوتی ہے)۔ ۴۔ ”اجل“ کیا ہے؟: ہم جانتے ہیں کہ ”اجل“کسی چیز کی عمر کی حد کو کہتے ہیں لیکن کیا زیر بحث آیات میں ”اجل“انسان کی عمر کے خاتمے کی طرف اشارہ ہے یا دنیا کی عمر کے خاتمے اور قیامت کی ابتداء کی طرف اشارہ ہے؟ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ گفتگو معاد کے بارے میں ہے دوسری بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔ بعض بزرگ مفسرین نے کہا ہے کہ یہ بات ”لا ریب فیہ“سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ معاد کے منکرین مسلماً معاد کے بارے میں شک رکھتے ہیں ۔ ہمیں یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ایسی تعبیرات کا مفہوم یہ ہے کہ اس قسم کے مسئلہ میں شک نہیں کرنا چاہیےٴ اور اصولی طور پر اس میں جائے تردّد نہیں ہے ۔ نہ یہ کہ اس میں کسی کو شک نہیں ہے ۔ لہٰذا آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ خدا کہ جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے یقیناً انسانوں کو دوبارہ لباس حیات عطا کرسکتا ہے البتہ اگر یہ کام جلدی نہ ہو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ سنتِ الٰہی نے اس کیلئے ایک قطعی وقت مقرر کیا ہے کہ جس میں جائے تردّد نہیں ہے ۔ نتیجہ گفتگو یہ ہے کہ یہاں منکرین معاد کے سامنے وہی قدرتِ الٰہی کے حوالے سے دلیل پیش کی گئی ہے ۔ باقی رہا ”جعل لہم اجلاً لا ریب فیہ“کا جملہ تو یہ ایک سوال کا جواب ہے کہ جو تاخیر قیامت کے بارے میں کیا جاتا تھا (غور کیجئے گا) ۵۔ زیر نظر آیات کا باہمی ربط: زیر نظر آیات کے مطالعے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخری زیرِ بحث آیت میں انسان کے بخیل ہونے کاذکر آیا ہے ۔ اس بات کا گزشتہ مباحث سے کیا تعلق ہے؟ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ جملہ ایک مطلب کی طرف اشارہ ہے جو قبل کی چند آیات میں بت پرستوں کے حوالے سے ذکر کیا گیا تھا اور وہ یہ کہ ان کا تقاضا تھا کہ رسول اسلام سرزمین مکہ کو چشموں اور باغات سے مالا کردیں ۔ قرآن ان کے جواب میں کہتا ہے کہ اگر تمہیں تمام خدائی خزانے بھی دے یئے جائیں پھر بھی تم بخل کو ترک نہیں کرو گے ۔ لیکن یہ تفسیر بہت بعید معلوم ہوتی ہے کیونکہ وہ ان باغوں اور چشموں کی مالکیت کے بارے میں بات نہیں کررہے تھے بلکہ وہ معجزے کا تقاضا کررہے تھے ۔ مفسرین نے اس ارتباط کے بارے میں ایک تفسیر اور بھی کی ہے اور وہ صحیح بھی معلوم ہوتی ہے اور وہی ہے جس کی طرف ہم نے سطور بالا میں اشارہ کیا ہے ۔ یعنی بخل اور تنگ دلی کی بناپر انہیں اس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ کسی انسان کو نبوت عطا کی گئی ہے ۔ یہ آیت درحقیقت انہیں جواب دیتی ہے کہ اگر تم سارے جہاں کے بھی مالک بن جاؤ تو بھی اپنی بری روش کو ترک نہیں کرو گے ۔ ۶۔ کیا سب انسان بخیل ہیں: ہم نے بارہا کہا کہ قرآن کی بہت سی آیات میں مطلق طور پر انسان کی مختلف حوالے سے ملاومت کی گئی ہے ۔ اس کے لیے بخل، جہل، ظلم، عجلت اور ان جیسی کئی صفات بیان کی گئی ہیں لیکن یہ تعبیر اس بات کے منافی نہیں کہ مومنین اور تربیت یافتہ افراد ان صفات کی بالکل مخالفت جہت میں ہیں ۔ یہ تعبیرات اس طرف اشارہ ہیں کہ انسان کی طبیعت ایسی ہوتی ہے ۔ اگر انسان ہادیاں الٰہی سے تربیت حاصل نہ کرے اور گھاس پھونس کی طرح اسے اس کی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو انسان یہ تمام منفی صفات قبول کرسکتا ہے نہ یہ کہ وہ ذاتاً اس طرح پیدا کیا گیا ہے اور نہ یہ کہ سب کا انجام یہی ہوگا ۔(۱) ۷۔ ”خشیة الانفاق“کا مفہوم: یہ تعبیر فقر سے خوف کے معنی میں ہے، فقر کہ جوان کے خیال میں کثرتِ انفاق کا نتیجہ ہوگا ۔ ۱۔ گزشتہ مباحث میں بھی اس سلسلے میں تفصیلی گفتگو کرچکے ہیں ۔