وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن يُؤْمِنُوا إِذْ جَاءَهُمُ الْهُدَى إِلَّا أَن قَالُوا أَبَعَثَ اللَّهُ بَشَرًا رَّسُولًا
Nothing has kept these people from believing when guidance came to them, but their saying, ‘Has Allah sent a human as an apostle?!’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:94
[Pooya/Ali Commentary 17:94] (see commentary for verse 90)
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 17:94-100
1. Angels, being socially unfit, cannot be prophets. 2. God suffices to testify prophetship. 3. Guidance is with God and bestows on one who is worthy of accepting leadership of Divine Lights. 4. Disbelievers of Divine Lights shall be raised in Eternity blind, deaf, and dumb with head over heels.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:94-95
”ما منع الناس“ اور ملائکة یمشون مطمئنین“ کا مفہوم
۱۔ ”ما منع الناس“ کا مفہوم: یہ جملہ کہتا ہے کہ ان کے ایمان کے لئے واحد رکاوٹ ان کی یہی بنانہ جوئی تھی البتہ یہ تعبیر انحصار کی دلیل نہیں ہے بلکہ مسئلے کی اہمیت کے اظہار کے لئے اور تاکید کے طور پر ہے ۔ ۲۔ ”ملائکة یمشون مطمئنین“ کا مفہوم: اس کے بارے میں مفسرین نے بحث کی ہے اور انھوں نے اس کی متعدد تفسیریں بیان کی ہیں ۔ بعض نے اسے زمانہ جاہلیت کے عربوں کی گفتگو کی طرف اشارہ سمجھا ہے ۔ وہ کہتے تھے کہ ہم اس جزیرہ میں رہتے تھے اور اطمینان کی زندگی بسر کررہے تھے ۔ محمد (ص) آیا اس نے ہمارا امن و سکون تباہ کردیا ۔ قرآن کہتا ہے کہ اگر فرشتے بھی اس طرح کے امن و سکون سے زمین میں رہ رہے ہوتے تو ہم انہی کی نوع میں سے ان کے لیے پیغمبر بھیجتے ۔ بعض دیگر نے کہا ہے کہ اس سے مراد دنیا اور اس کی لذات پر مطمئن ہونا ہر دین و مذہب سے لا تعلق ہونا ہے ۔ بعض نے اس سے زمین میں ”سکونت و توطن“ مراد لیا ہے ۔ البتہ یہ احتمال قوی معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد ہ ہے کہ اگر فرشتے بھی زمین میں بس رہے ہوتے اور زندگی تصادم، دشمنی اور کشمکش سے پاک ہوتی پھر بھی ان کی اپنی نوع سے ایک رہبر کی ضرورت ہوتی کیونکہ انبیاء کو فقط بے سکونی اور بے اطمینانی ختم کرنے کے لیے اور آرام و سکون پیدا کرنے کے لیے نہیں بھیجا جاتا بلکہ یہ سب کچھ تو تکامل و ارتقاء کا مقدمہ ہے اور مختلف پہلوؤں سے روحانی و انسانی تربیت کی تمہید ہے اصل اس کام کے لیے خدائی رہبر کی ضرورت ہے ۔ ۳۔ لفظ ”ارض“ سے ایک استفادہ: زیر نظر آیت میں جو لفظ ”ارض“ آیا ہے اس سے استفادہ کرتے ہوئے علامہ طباطبائی تفسیر المیزان میں لکھتے ہیں: روئے زمین پر مادی زنگی کا مزاج وجودِ پیغمبر کا محتاج ہے اور اس کے بغیر زندگی ہرگز پنپ نہیں سکتی ۔ علاوہ ازیں علامہ طباطبائی اس لفظ کو زمین کی کشش ثقل کی طرف ایک لطیف اشارہ سمجھتے ہیں کیونکہ اس کے بغیر امن سکون و اطمینان سے چلا پھر ا نہیں جاسکتا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:94-95
پھر وہی بہانے
پھر وہی بہانے گزشتہ آیات میں توحید کے بارے میں مشرکین کی بہانہ تراشیوں کے حوالے سے گفتگو کی گئی تھی زیرِ بحث آیات میں بھی ان سے ملتے جلتے ایک بہانے کا ذکر کیا گیاہے، ارشاد ہوتا ہے:ہدایت آجانے کے بعد وہ تنہا چیز جو لوگوں کے ایمان لانے میں حائل ہوئی یہ تھی کہ کہتے تھے کہ خدا نے انسان کو نبی بنا کر کیوں بھیجاہے ( وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اٴَنْ یُؤْمِنُوا إِذْ جَائَھُمَ الْھُدیٰ إِلاَّ اٴَنْ قَالُوا اٴَبَعَثَ اللهُ بَشَرًا رَسُولًا)۔ وہ کہتے کی کیا یہ باور کیا جاسکتا ہے کہ یہ بلند مقام اور بہت اہم منصب کسی انسان کے سپرد کیا جائے ، یہ عظیم رسالت کسی افضل مخلوق مثلا فرشتوں کے سپرد کیوں نہ ہوتا کہ وہ اس سے اچھی طرح سے عہدہ برآ ہوں، خاکی انسان کہاں اور رسلات الٰہی کہاں ، اس مقام کے اہلِ افلاک کے باسی ہیں نا کہ خاکی انسان۔ یہ کمزور سی منطق کسی ایک یا دو گروہوں نے ہی پیش نہیںکی بلکہ پوری تاریخ میں اکثر بے ایمان افراد نے انبیاء کے سامنے یہ بات کی ۔ قومِ نوح،اس عظیم پیغمبر کی مخالفت میں کہتی تھی: < مَا ھٰذَا إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُکُمْ۔ یہ تو ہماری طرح کا ایک انسان ہے ۔(مومنون:۲۴) حضرت ہود (علیه السلام) کی بے ایمان قوم کہتی تھی۔ <مَا ھٰذَا إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُکُمْ یَاٴْکُلُ مِمَّا تَاٴْکُلُونَ مِنْہُ وَیَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ یہ تو تمہاری طرح کا ایک انسان ہے، جو کچھ تم کھاتے ہو یہ بھی کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہو یہ بھی پیتا ہے ۔(مومنون:۳۳) یہاں تک کہ وہ یہ بھی کہہ گزرتے: < وَلَئِنْ اٴَطَعْتُمْ بَشَرًا مِثْلَکُمْ إِنَّکُمْ إِذًا لَخَاسِرُونَ۔ اگر تم نے اپنے جیسے بشر کی اطاعت کی تو نقصان اٹھاؤ گے ۔(مومنون:۳۴) بعینہ یہی اعتراض پیغمبر اسلام ﷺپر بھی کیا جاتا تھا، مخالفین ہتے تھے ۔ <مَالِ ھٰذَا الرَّسُولِ یَاٴْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِی فِی الْاٴَسْوَاقِ لَوْلَااٴُنزِلَ إِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُونَ مَعَہُ نَذِیرًا یہ رسول کھاتا پیتا کیوں ہے اور بازاروں میں کیوں چلتا پھرتا ہے، کم از کم اس کے ساتھ ایک فرشتہ کیوں نازل نہیں ہوا جو اس کے ساتھ مل کر لوگوں کو ڈراتا(فرقان:۷) قرآن ایک نہایت مختصر سا معنی خیز اور واضح جواب دیتا ہے :کہہ دو اگر روئے زمین پر فرشتے ہوتے کہ جو آراموسکون سے رہ رہے ہوتے تو ہم ان پر آسما ن سے فرشتے کو پیغمبر کے طور پرنازل کرتے( قُلْ لَوْ کَانَ فِی الْاٴَرْضِ مَلَائِکَةٌ یَمْشُونَ مُطْمَئِنِّینَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْھِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَکًا رَسُولاً)۔ یعنی رہبرہمیشہ اس نوع میں سے ہونا چاہیئے جس میں اس کے پیروکار ہوں، انسان انسانوں کے لئے اور فرشتہ فرشتوں کے لئے، رہبر اور پیروکاروں کے ایک جیسے ہونے پر دلیل بھی واضح ہے کیونکہ کسی رہبر کی تبلیغ کا اہم ترین حصہ اس کی عملی تبلیغ ہے، ایس کو نمونہ اور اسوہ ہونا چاہیئے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ وہی احساسات وجذبات اور طبیعت وفطرت رکھتا ہواور اس کی جسمانی وروحانی ساخت بھی وہی ہو، ایک فرشتہ کہ جو شہوتِ جنسی سے پاک ہوتا ہے ، جسے مکان کی ضروت ہے نہ لباس کی اور جو غذا کی احتیاج بھی نہ رکھتا ہو اور جس میں انسانی مزاج اور غرئض کی باقہی چیزیں بھی موجود نہیں وہ انسانوں کے کے لئے نمونہ اور اسوہ کیسے بن سکتا ہے بلکہ وہ رہبر ہو تو لوگ کہیں کہ اسے ہمارے دل کی کیا خبر؟ اسے کیا معلوم کہ ہماری روح پر شہوت اور غضب کس طرح سے اثر انداز ہوتے ہیں، وہ تو صرف اپنے دل کی بات کرتا ہے، اس کے احساسات وجذبات ہماری طرح کے ہوتے تو وہ ہم جیسا ہی ہوتا یا ہم سے بھی برتر، لہٰذا اس کی باتوں کی کیااہمیت ہے ۔ لیکن جب علی علیہ السلام جیسا ہادی کہے: انما ھی نفسی اروضھا بالتقویٰ لتاتی اٰمنة یوم الخوف الاکبر۔(۱) میرا نفس بھی تمہاری طرح کا ہے لیکن مَیں نے اسے تقوی ٰ کی لگام دی ہے تاکہ روزِ قیامت امن میں رہے ۔ دوسری طرف رہبر ایسا ہونا چاہیئے کہ جو اپنے پیروکاروں کی مشکلات، احتیاجات اور خواہشات کو اچھی طرح سے سمجھ سکے تاکہ ان کے حل اور انہیں پورا کرنے کے لئے آمادہ رہے، اور اس مصرعے کا مصداق نہ بنے: آگہ نئی از حال من مشکل ہمین است مشکل یہ ہے کہ تجھے میری حالت کی خبر ہی نہیں ۔ خاص طور پر یہی وجہ ہے کہ انبیاء عام انسانوں میں سے تھے اور انہوں نے عموماً نہایت اور مشکل اور کٹھن زندگی گزاری ہوتی تھی، یہ اس لئے تھا تاکہ وہ زندگی کی تمام تلخیوں کو چکھیں اور دردناک حقیقتوں کو چھوئیں اور ان کے ھل کے لئے اپنے آپ کوتیار کریں ۔ ۱۔ نہج البلاغہ، نامہ۴۵
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:94-95
سوره اسراء / آیه 94 - 95
۹۴ وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اٴَنْ یُؤْمِنُوا إِذْ جَائَھُمَ الْھُدیٰ إِلاَّ اٴَنْ قَالُوا اٴَبَعَثَ اللهُ بَشَرًا رَسُولًا ۔ ۹۵ قُلْ لَوْ کَانَ فِی الْاٴَرْضِ مَلَائِکَةٌ یَمْشُونَ مُطْمَئِنِّینَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْھِمْ مِنَ السَّمَاءِ مَلَکًا رَسُولا ۔ ترجمہ ۹۴۔ہدایت آنے کے بعد وہ تنہا چیز جس نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا یہ تھی کہ(نادانی اور جہالت کی بنا پر)انہوں نے کہا کہ کیا اللہ نے اسی بشر کو رسول کو بنا کر بھیج دیا ہے ۔ ۹۵۔کہہ دو اگر روئے زمین پر فرشتے (بھی زندگی بسر کررہے ہوتے )اور اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم آسما ن سے فرشتے کو رسول بنا کر ان کے پاس بھیجتے(کیونکہ ہر نوع کا رہبر انہی کی نوع سے ہونا چاہیئے )۔