وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا
They say, ‘We will not believe you until you make a spring gush forth for us from the ground.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:90
[Pooya/Ali Commentary 17:90] Refer to al Baqarah: 55 and 60; Nisa: 153 and Anam: 7,8,9 and 35 to know about the true nature of the desire of the unbelievers, like Jews, for witnessing miracles. Miracles are shown by the prophets of Allah when Allah wills. Refer to the commentary of al Baqarah: 118 and 243. Miracles greater than any that the ignorant unbelievers could think were before them. The Holy Prophet, his Ahl ul Bayt and the Quran were such miracles, and they are the everlasting miracles that endure through all ages. The Quran (and the Ahl ul Bayt-refer to hadith al thaqalayn on page 6, and commentary of Rad: 43 and Shura: 17) are the witnesses between the Holy Prophet and the people. Refer to the commentary of verse 49 of this surah for the raising up of people as a new creation, but the unjust ungratefully refuse to accept it. Refer to Rad: 43 and al Baqarah: 18 for verse 97. The denial of the life of hereafter is the cause of the disbelievers' attitude towards the messengers of Allah. See commentary of Araf: 103 to 145 to know similarities between the Holy Prophet and Prophet Musa. After comparing the repulsive attitude of the unbelievers with Firawn and his people, Allah vouchsafe the truth of the Quran and the success of the Holy Prophet's mission and assures the Holy Prophet that whether or not the unbelievers accept the truth, the people gifted with knowledge (see commentary of Ali Imran: 7; Nisa: 162) will submit to it with utmost devotional humility. This surah ends with the glory and praise of Allah and the assertion of His unity.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:90-93
طرح طرح کے بہانے
طرح طرح کے بہانے گزشتہ آیات میں قرآن حکیم کی عظمت اور اعجاز کے بارے میں بات کی گئی ہے، اب زیرِ نظر آیات میں مشرکین کے کچھ بہانوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ، وہ ایسی بہانہ تراشیاں کرتے تھے کہ جن سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ ان کافروں کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہ تھا کہ رسول اللہ کی حیات آفریں دعوت کے جواب میں ہٹ دھرمی ، عناد، سرکشی اور غرور کا مظاہرہ کریں کیونکہ وہ پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی منطقی بات اور زندہ سند کے جواب میں نہایت نامعقول تقاضے کرتے تھے ۔ مندرجہ بالا آیات میں ان کے کچھ مختلف تقاضے بیان ہوئے ہیں: ۱۔پہلے ارشاد ہوتا ہے :اور انہوں نے کہاکہ ہم اس وقت تک تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تُو ہمارے لئے اس زمین سے پانی کا چشمہ نہ جاری کردکھائے( وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَکَ حَتَّی تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاٴَرْضِ یَنْبُوعًا)۔ ”فجور“ اور ”تفجیر“ شگافتہ کرنے اور چیرنے کے معنی میں ہے ، چاہے زمین کو چشمہ کے ذریعے شگافتہ کیا جائے یا نورِ سحر کے ذریعے افق کو ، البتہ”تفجیر“ ”فجور“ کی نسبت زیادہ کو ظاہر کرتا ہے ۔ ”ینبوع“ ،”نبع“ کے مادہ سے ہے، یہ پانی کے جوش مارنے کو اور پھوٹنے کی جگہ کے معنی میں ہے، بعض کہتے ہیں کہ ”ینبوع“ پانی کے اس چشمے کو کہتے ہیں کہ جو کبھی خشک نہ ہوتا ہو ۔ ۲۔ یا تمہارے پاس کجھور اورا نگور کاباغ ہو کہ جس کے درختوں کے درمیان تُو نہریں جاری کردے( اٴَوْ تَکُونَ لَکَ جَنَّةٌ مِنْ نَخِیلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاٴَنھَارَ خِلَالَھَا تَفْجِیرًا“۔ ۳۔ یا جیسا تو کہتا ہے آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے سروں پر گرا دے ( اٴَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفًا)۔ ۴۔ یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آ( اٴَوْ تَاٴْتِیَ بِاللهِ وَالْمَلَائِکَةِ قَبِیلًا)۔ ”قبیل“ کا معنی بعض اوقات کفیل اور ضامن کیا گیا ہے اور کبھی یہ اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کے سامنے ہو ، بعض نے اسے ”قبیلة“ کی جمع سمجھا ہے جس کا معنی ہے جماعت۔ پہلے معنی کے مطابق آیت کی تفسیر اس طرح ہوگی:تو اللہ اور فرشتوں کو اپنی بات کی صداقت کے ضامن کے طور پر لے آ۔ دوسرے معنی کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہوگا:گروہ گروہ کر کے ہمارے پاس لے آ۔ توجہ رہے کہ ان تینوں مفاہیم کا آپس میں کوئی تضاد نہیں ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ سب مفاہیم آیت میں جمع ہوں کوینکہ ہمارے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں کہ ایک لفظ ایک سے زیادہ معانی کے ساتھ استعمال ہو ۔ ۵۔ یا پھر تیرے پاس سونے کاگھر ہو، نقش ونگار اورمزین گھر( اٴَوْ یَکُونَ لَکَ بَیْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ)۔ ”زخرف“اصل میں زینت کے معنی میں ہے، اور چونکہ سونا مشہور زینت بخش دھاتوں میں سے ہے لہٰذا اسے ”زخرف“ کہا جاتا ہے، نقش ونگار سے مزین گھروں کو بھی ”زخرف“ کہا جاتا ہے، اسی طرح دلفریب اور پُرفریب باتوں کو بھی ”مزخرف“ کہتے ہیں ۔ ۶۔ یا پھر آسمان پر چڑھ کر دکھاؤ لیکن ہم تمہارے صرف آسمان پر چڑھنے سے ایمان نہیں لائیں گے بلکہ اپنے ساتھ واپسی پر کو ئی خط بھی لے کرآؤ جسے ہم پڑھیں( اٴَوْ یَکُونَ لَکَ بَیْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ اٴَوْ تَرْقَی فِی السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتَّی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتَابًا نَقْرَؤُہ)۔ ان آیات کے آخر میں ہے کہ خدا نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ ان ایک دوسرے کی ضد، مہمل اور مضحکہ خیز تجاویز کے جواب میں ”کہو:میرا پروردگار ان اوہام سے پاک اور منزہ ہے( قُلْ سُبْحَانَ رَبیِّ) ، کیا میں خداکافرستادہ ایک انسان کے سوا کچھ اورہوں(قلْ کُنتُ إِلاَّ بَشَرًا رَسُولًا)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:90-93
سوره اسراء / آیه 90 - 93
9۰ وَقَالُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَکَ حَتَّی تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاٴَرْضِ یَنْبُوعًا ۹۱ اٴَوْ تَکُونَ لَکَ جَنَّةٌ مِنْ نَخِیلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاٴَنھَارَ خِلَالَھَا تَفْجِیرًا ۹۲ اٴَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا کِسَفًا اٴَوْ تَاٴْتِیَ بِاللهِ وَالْمَلَائِکَةِ قَبِیلًا ۹۳ اٴَوْ یَکُونَ لَکَ بَیْتٌ مِنْ زُخْرُفٍ اٴَوْ تَرْقَی فِی السَّمَاءِ وَلَنْ نُؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتَّی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتَابًا نَقْرَؤُہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّی ھَلْ کُنتُ إِلاَّ بَشَرًا رَسُولًا ترجمہ ۹۰۔اور انہوں نے کہاہم تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے جب تُو ہمارے لئے اس (خشک اور بنجر) زمین سے ایک چشمہ جاری نہ کردے ۔ ۹۱۔یا تیرے لئے کجھور اورا نگور کاباغ پیدا ہو اور تُو اس میں نہریں جاری کردے ۔ ۹۲۔یا جیسا تیرا دعویٰ ہے تُوآسمان سے (پتھروں کے ٹکڑے ہمارے سروں )ٹکڑے ہمارے سروں پر گرا دے یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آ۔ ۹۳۔یا تیرے لئے سونے کا ایک مزین گھر ہو یا تو آسمان پر چڑھ جائے( لیکن )ہم تیرے آسمان پر چڑھ جانے پر بھی ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک تو ہمارے لئے ایسا نامہ نہ لے آئے جسے ہم پڑھیں ۔ان سے کہہ دے(ان بے قیمت مہمل باتوں سے )پاک ہے جب کہ میں اس کے فرستادہ ایک انسان کے سوا کچھ نہیں ہوں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:90-93
۳۔ معجزے کے منکرین کی ایک اور دستاویز۔
۳۔معجزے کے منکرین کی ایک اور دستاویز۔ زیرِ بحث آیات کا کا مفہوم کوئی پیچیدہ نہیںہے اور یہ واضح ہے کہ مشرکین ِ مکہ رسول اللہ سے کیوں اور کس طرح کے تقاضے کرتے تھے اور یہ بھی واضح ہے کہ رسولِ اکرم نے انہیں منفی جواب کیوں دیا مگر اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ہمعصر عذر ترش افراد کا اصرار ہے کہ یہ آیات پیغمبر اسلام صلی اللهعلیہ وآلہ وسلّم سے ہر قسم کے معجزہ کی نفی کرتی ہیں، وہ ان آیات کو پیغمبر اکرم صلی اللهعلیہ وآلہ وسلّم سے معجزے کی نفی کرنے والی بہت واضح آیات شمار کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ان آیات کے مطابق مخالفین نے آپ سے چھ قسم کے معجزوں کا مطالبہ کیا، ان میں زمین وآسمان سے کچھ فوائد کے حصول سے متعلق معجزوں کا تقاضا بھی ہے اور مرگ آمرین معجزات بھی، لیکن آپ نے ان میں سے کوئی تجویز بھی قبول نہ کی اور صرف یہی جواب دیا:میرا خدا پاک ہے، مَیں تو خدا کے فرستادہ ایک بشر کے علاوہ کچھ نہیں ہوں ۔ ہمارے زمانے کے بہانہ ساز عہدِ پیغمبر کے اپنے بہانہ ساز دوستوں کی طرح نہ ہوں تو انہیں ان کا جواب خود انہیں آیات میں مل جائے گا،کیونکہ: ۱۔ان چھ تقاضوں میں سے بعض اصولی طور پر مضحکہ خیز اور نامعقول تھے، مثلا خدا اور فرشتوں کو حاضر کرنا یا ٓاسمان پر سے ان نام پر خصوصی نامہ لے کر آنا ۔ بعض دوسرے تقاضے بے سوچے سمجھے تھے، ایسے کہ اگر ان پر عمل کیا جاتا تو خود تقاضا کرنے والوں کا نام ونشان ہی باقی نہ رہتا، تو وہ ایمان کہاں لاتے، مثلاً ان پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسانا ۔ ان کے باقی تقاضے تو دنیاوی عیش وعشرت تو اور مال ودوت سے متعلق تھے جب کہ ہم جانتے ہیں کہ انبیاء ان کاموں کے لئے نہیںآتے ۔ بالفرض اگر ان تقاضوں میں یہ اشکالات نہ بھی ہوتے تو وہ تو بہانہ سازی ہی کررہے تھے جیسا کہ ان آیات میں موجود قرینوں سے ظاہر ہورہا ہے اورہم جانتے ہیں کہ نبی کا فریضہ یہ نہیں کہے کہ وہ بہانہ تراش لوگوں کے تقاضوں کے سامنے سر جھکا دے بلکہ ان کی ذمہ داری معجزہ دکھانا ہے صرف اس قدر کہ ان کی دعوت ثابت ہوجائے، اس سے زیادہ ان کے ذمہ نہیں ۔ ۲۔ انہیں آیات کی کچھ تعبیرات صراحت کے ساتھ بتاتی ہیں کہ یہ تقاضے کرنے والے کس قدر بہانہ سازاور ہٹ دھرم تھے، جب انہوں نے رسول اللہ سے آسمان پر چڑھ کے دکھانے کا تقاضا کی تو ساتھ ہی کھل کر کہا کہ اگر تم آسمان پر چڑھ بھی جاؤ توبھی ہم ایمان نہیں لائیںجب تک کہ آسمان سے ہمارے نام کوئی خط نہ لے کر آؤ۔ اگر واقعاً انہیں معجزے کی طلب تھی تو کیوں کہتے تھے کہ تمہارا آسمان پر چڑھنا بھی ہمارے لئے کافی نہیں ان کے غیر منطقی ہونے پر کیا اس سے زیادہ واضح کوئی قرینہ ہوسکتا ہے؟۔ ۳۔ان سب چیزوں سے قطعِ نظر ہم جانتے ہیں کہ معجزہ فعل ِ خدا ہے نہ کہ فعلِ نبی جب کہ ان بہانہ تراشوں کا لب ولہجہ واضح کر رہا ہے کہ وہ معجزے کو فعلِ پیغمبر سمجھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ تمام افعال کی نسبت پیغمبر کی طرف دیتے تھے: تم اسے چیر کر دکھاؤ۔ تم اس میں نہریں جاری کرو ۔ تم آسمان کے پتھر ہمارے سروں پر برساؤ۔ تم خدا اور فرشتوں کو ہمارے پاس لے آؤ۔ حالانکہ کہ نبی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے ذہن میں یہ کیال نہ ہو اور وہ اس پر ثابت کرے کہ ”میں نہ خدا ہوں اور نہ اس کا شریک ، معجزہ صرف اسی کا کام ہے، مَیں تو دیگر انسانوں کو کی طرح بشر ہوںفرق یہ ہے کہ مجھ پر وہی نازل ہوتی ہے اورجس قدر معجزے کی ضرورت ہے وہ خدا مجھے عطا کر چکا ہے ۔اس سے بڑھ کر مَیں کچھ نہیں کرسکتا “۔ خصوصاً”سبحان ربی“ کا جملہ اسی معنی کا شاہد ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقامِ پروردگار ہر قسم کے شریک اور شبیہ سے پاک ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اگرچہ متعدد معجزات کی حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی طرف نسبت دی گئی ہے، مثلاً مردوں کو زندہ کرنا،، ناقابلِ علاج بیماروں کو شفا دینا یا مادرزاد اندھوںکو بینا کرنا وغیرہ لیکن اس کے باوجود تمام مواقع پر ”باذنی“ یا ”باذن اللہ“ آیاہے جو واضح کرتاہے کہ یہ کام صرف حکمِ خدا سے ہوئے ہیں اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ معجزات اگرچہ حضرتِ عیسیٰ (علیه السلام) کے دستِ مبارک پر ظاہر ہوئے لیکن یہ خود حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی طرف سے نہیں تھے بلکہ سارے کے سارے حکم خدا سے ظہور میں آئے تھے ۔(1) ۴۔ کونسی عقل باور کرتی ہے کہ ایک انسان نبوت کا دعویٰ کرے، یہاں تک کہ اپنے آپ کو خاتم الانبیاء وخاتم المرسلین سمجھے اور اپنی کتابِ آسمانی میں گزشتہ انبیاء کے معجزات کازکر کرے لیکن خود کسی قسم کا معجزہ پیش کرنے سے قاصر ہو؟ کیا لوگ اس سے کہیں گے نہیں کہ تم کس قسم کے نبی ہو کہ کوئی ایسا معجزہ پیش نہیں کرسکتے جو دوسروں کو قائل کرسکے جب کہ تمہیں تو دعوت ہے کہ تم سب گزشتہ انبیاء سے برتر ہو اور ان کے سردار ہو اور حالت یہ ہے کہ ان کا شاگرد ہونے کا ثبوت بھی پیش نہیں کر سکتے ہو ۔ ان کا یہ نہ کہنا خود اس امر کی دلیل ہے کہ آپ ضروری موقع پر معجزات پیش کرتے تھے لہٰذا واضح ہوجا تا ہے کہ اگر رسول اللہ نے ان آیاتم میں بیان کئے گئے ان کے تقاضوں کو نہیںمانا تو یقینا یا یہ تقاضے بے بنیاد ہیں یا پھر عذر تراشی پر مبنی ہیں ورنہ آپ منطقی اور معقول بات تو تسلیم کرتے تھے ۔ ۱۔ مائدہ، ۱۱۰،اور آلِ عمران ۴۹ کی طرف رجوع کریں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:90-93
۲۔ کوتاہ فکری اور نامعقول تقاضے
۲۔ کوتاہ فکری اور نامعقول تقاضے ہرشخص اپنی فکر کی حد تک بات کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر شخص کی باتیں اس کی سطحِ فکر کی غمازہوتی ہیں، وہ لوگ جنہیں مال ومقام کے علاوہ کسی اور چیز کا خیال ہی نہیں وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ہر شخص اسی فکر میں غلطاں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قریش کے کوتاہ فکر سردار بعض اوقات رسولِ اکرم کو مال کی پیش کش کرتے تھے اور کبھی مقام ومنصب کی تاکہ آپ (علیه السلام) اپنی دعوت سے دستبردار ہوجائیں، وہ پیغمبراکرم کی حکیم روح کو اپنی فکر کے محدود پیمانے سے ماپتے تھے ۔ یہاں تک کہ ان کا خیال تھا کہ اگر کسی شخص کی کوشش مال ومقام کے لئے نہیں تو وہ پاگل ہے اور اس کے علاوہ کوئی چھوتھی چیز نہیں ہے ۔ لہٰذا انہوں نے کہا: کہ اگر نہ تُو مال چاہتا ہے اور نہ مقام تو پھر تیسری بات مان لے اور ہمیں اجازت دے کہ تیرے لئے طبیب لے آئیں ۔ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جو بہت چھوٹے سے کمرے میں قید ہو، اس نے کُھلے وسیع آسمان، چمکتے سورج، پہاڑوں، دریاؤں اور صحراؤں کو نہ دیکھا ہو اور اسے عالمِ ہستی کی عظمت کا اندازہ نہ ہو ۔ وہ رسول اللہ کی عظیم اور ناپید کنار روح کو اپنے پیمانوں سے ماپنا چاہتے تھے ۔ ان سب باتوں سے قطعِ نظر وہ رسول اللہ سے کونسی ایسی چیز کی خواہش کرتے تھے کہ جو اسلام میں نہ تھی، وہ سرسبز زمینوں ، پانی سے لبریز چشموں، کھجور اور انگور کے باغوں اور مزین وخوشحال گھروں کی فرمائش کرتے تھے اور ہم جانتے ہیں اپنی پیش رفت کے پروگرام میں اسلام ہر چیز سے مالا مال تمدن کا حامل تھا، ایسا تمدن کہ جس میں ہر قسم کی اقتصادی ترقی کا امکان تھا، اور ہم نے دیکھا کہ مسلمان اسی قرآن اور پروگرام کے سائے میں اس سے کہیں آگے بڑھ گئے کہ جس کی مشرکینِ عرب اپنی ناقص فکر سے تمنا کرتے ۔ اگر ان کی آنکھ حقیقت میں ہوتی تو وہ اس دین میں روحانی کمال بھی دیکھتے، مادی ارتقاء بھی ۔کیونکہ ہر دو کے لئے سعادت کا ضامن ہے ۔ ہم ان بچکانہ یا احمقانہ تقاضوں سے صرفِ نظر کرتے ہیں کہ ۔وہ کبھی کہتے کہ ہمارے لئے خدا کا عذاب لے آؤ اور آسمانی پتھر ہمارے سروں پر برساؤ، یا یہ کہ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جاؤ اور تجھ پر قربان، وہاں سے کوئی خط ہمارے لئے لے آؤ یا یہ کہ خدا اور فرشتوں کو ٹولیوں میں ہمارے سامنے لے آؤیا یہ کہ خدا اور فرشتوں کو ٹولیوں میں ہمارے سامنے لے آؤ۔ یہاں تک کہ یہ نہیں کہا کہ ہمیں ان کے پاس لے جا ۔ یہ انسان عجیب جہالت، غرور اور تکبر کے مظاہرے کرتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:90-93
۱۔ بہانہ تراشیوں کا جواب
۱۔ بہانہ تراشیوں کا جواب جیسا کہ شانِ نزول کے علاوہ خود مندرجہ بالا آیات کا لب ولہجہ گواہی دیتا ہے کہ مشرکین کے ان عجیب وغریب تقاضوں کی بنیاد حق جوئی نہ تھی بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ بُت پرستی اور شرک کا مذہب باقی رہ جائے کیونکہ اس مذہب سے مکہ کے رؤسا کی قدرت وابستہ تھی اور وہ چاہتے تھے کہ کسی نہ کسی طرح رسول اللہ کو راہِ توحید کا سفر جاری رکھنے سے روک سکیں ۔ لیکن رسول اکرم صلی الله علیہ والہ وسلّم نے انہیں دو منطقی ،واضح اور مختصر جوابات دئےے ۔ پہلا یہ کہ میرا پروردگار ان امور سے منزہ ہے، وہ اس سے منزہ ہے کہ کبھی اس کا حکم مانے اور کبھی اِس کا ، وہ فضول مہمل اور بے بنیاد تقاضوں کے سامنے سر جھکانے سے منزہ ہے(سبحان ربی)۔ دوسرا یہ کہ اس سے قطع ۔اصولی طور پر معجزات بھیجنا اس کا کام ہے اور معجزات اسی کے ارادے اور فرمان کے تحت انجام پاتے ہیں، مَیں تو یہاں تک بھی حق نہیں رکھتا کہ ان کا خود تقاضا ہی کروں، وہ جس وقت ضرور سمجھے گا اپے رسول کی دعوت کی صداقت کے لئے جو معجزہ ضروری ہوگا بھیج دے گا (ھل کنت الا بشراً رسولا)۔ یہ صحیح ہے کہ یہ دونوں جواب ایک دوسرے سے مربوط ہیں تاہم دو جواب شمار ہوتے ہیں، ایک یہ ثابت کرتا ہے کہ یہ کام انسان کے بس کا نہیں اور دوسرا انسان کے خدا کا ان من پسند کے معجزات کی خواہش قبول کرنے سے منزہ ہونا ثابت کرتا ہے ۔ اصولی طور پر رسول کوئی معجزہ گھڑنے والا انسان نہیں ہے کہ وہ کسی جگہ بیٹھ جائے اور جو شخص بھی آئے اور اپنی پسند کا کوئی بھی معجزہ طلب کرلے اور یہ پسند نہ ہو تو کوئی دوسری تجویز پیش کردے یعنی خلقت کے قوانین اور سنتیں کھیل تماشہ بن جائیں اور پھر بھی دل چاہے تو معجزہ طلب کرنے والے قبول کر لیں اور نہ چاہیں تو انکار کردیں ۔ نبی کی ذمہ داری ہے کہ معجزے کے ذریعے خدا سے اپنا تعلق ثابت کرے اور جب درکارِ ضرورت کے مطابق معجزہ پیش کردے تو پھر اس ضمن میں اس کی کوئی ذمہ داری باقی نہیں رہتی، ممکن ہے وہ نزولِ معجزہ کا وقت بھی نہ بتا سکے، وہ خدا سے صرف اس موقع پر معجزہ کا تقاضا کرتا جب اسے معلوم ہوکہ خدا اس امر پر راضی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:90-93
شان ِ نزول
شان ِ نزول اسلامی روایات میں اور مختلف مفسرین کی تفسیروں مندرجہ بالا آیات کے بارے میں مختلف عبارتوں میں شانِ نزول نقل ہوئی ہے، ان کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے: بعض مشرکین ِ مکہ کہ جن میں ولید بن مغیرہ اور ابوجہل بھی تھا خانہ کعبہ کے سامنے جمع ہوئے انہوں نے ایک دوسرے سے رسول اللہ کے بارے میں گفتگو کی، آخرکار نتیجہ بحث یہ نکالا کہ کسی کو محمد کے پاس بھیجا جائے جویہ پیغام دے کہ تیرے قبیلہ قریش کے اشرف جمع ہوئے ہیں وہ تجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں لہٰذاتم ہمارے پاس آؤ پیغمبر اکرم صلی اللهعلیہ وآلہ وسلّم کو امید ہوئی کہ شاید نور ِ ایمان ان کے دلوں میں چمک اٹھا ہو اور وہ حق کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوئے ہوں لہٰذا وہ فورا ان کے پاس تشرریف لے گئے ۔ جب آپ ان ک پاس پہنچے تو انہوں نے ایسی باتیں کی :”اے محمد! ہم نے تمیں اتمامِ حجت کے لئے بلایا ہے ، ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے کہ جس نے اپنے قوم وقبیلے کو اتنی تکلیفیں پہنچائی ہوں جتنی تم نے پہنچائی ہے،تم نے ہمارے خداؤں کو گالیاں دی، ہمارے دین کا مذاق اڑایا، ہماری عقل کو حماقت قرار دیا اور اتحاد میں نفاق کا بیج بویا، ہمیں بتاؤ آخر تم چاہتے کیا ہو ، تمیں دولت کی ضرورت ہے تو ہم اتنی دولت دیں گے کہ تم بے نیاز ہوجاؤ گے ، مقام و منصب چاہتے ہو تو ہم تمہیں بہت بڑا منصب دینے کو تیار ہیں، تم بیمار ہو(اور تمہیں کوئی نفسیاتی تکلیف ہے)تو ہم تیرے علاج کے لئے بہترین طبیب لے آتے ہیں ۔ پیغمبر اکرم صلی اللهعلیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا:ان میں سے کوئی بھی مسئلہ نہیں، خدا نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے اورآسمانی کتاب مجھے دی ہے، اگر اسے قبول کرلوتو اس میں تمہاری دنیا وآخرت کی بھلائی ہے اور اگر تم قبول نہ کرو گے تو میں صبر کروں گا یہاں تک کہ خدا تمہارے اور میرے درمیان فیصلہ کردے ۔ وہ کہنے لگے:بہت اچھا، یہ بات ہے تو ہمارے شہر جیسا تنگ کوئی اور شہر نہیں ہے(مکہ کے اطراف میں پہاڑیاں ہیں) اپنے پروردگار سے سوال کرو کہ ان پہاڑوں کو پیچھے کردے اور شام و عراق کی طرح یہاں دریا جاری کردے تاکہ خشک وبے آب وگیاہ زمین سیراب ہوجائے نیز اس سے یہ بھی تقاضا کرو کہ ہمارے بڑوں کو زندہ کردے البتہ ان میں قصی بن کلاب ضرور ہو کیونکہ وہ راستگو بزرگ تھا ، تاکہ ہم اس سے پوچھیں کہ تو جو کچھ کہتا ہے وہ ھق ہے یا باطل ۔ رسول اللہ نے بے اعتنائی سے فرمایا: میں ان کاموں پر مامور نہیں ہوں ۔ وہ کہنے لگے:اگر ایسے نہیں کرتے تو کم از کم اپنے خدا سے کہوکہ کوئی فرشتہ بھیج دے کہ جو تیری تصدیق کرے، علاوہ ازیں ہمیں باغات ، خزانے اور سونے کے محلات دے دے ۔ آپ نے فرمایا:مَیں ان امور کے لئے مبعوث نہیں ہوا، میں خدا کی طرف سے ایک دعوت لے کر آیا ہوں، اگر قبول کرتے ہو تو خوب ورنہ خدا میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کردے گا ۔ وہ کہنے لگے:پھر جیسا کہ تیرا گمان ہے کہ تیرا خدا جب چاہے ہمارے سروں پر پتھر گرا سکتا ہے، یہ آسمانی پتھر ہمارے سروں پر برسا ۔ آپ نے فرمایا:یہ کام خدا سے متعلق ہے وہ چاہے گا تو کرے گا ۔ ان میں سے ایک کہنے لگا:تو یہ کام کر بھی دکھائے تب بھی ہم ایمان نہیں لائیں گے، ہم تو اس وقت ایمان لائیں گے جب تو خدا اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آئے گا ۔ رسول اللہ نے یہ فضول باتیں سنی تو اٹھ کھڑے ہوئے اور مجلس سے جانے لگے اور ان میں سے بعض افراد آپ کے پیچھے آئے اور کہنے لگے: اے محمد ! تیری قوم نے تیرے سامنے جو بھی تجویز رکھی ہے تونے قبول نہیں کی، پھر انہوں نے کچھ امور کہ جو ان سے متعلق تھے، ان کی خواہش کی، تونے وہ بھی پوری نہیں کی انہوں نے تجھ سے اس عذاب کی خواہش کی ہے کہ جس کی تو دھمکی دےتا رہتا ہے کہ ان پر لائے گا ، خدا کی قسم ! ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب کہ تو یہ نہ کرے کہ آسمان کی طرف سے ایک سیڑھی لگائے اور اس کے ذریعے تو ہمارے سامنے اوپر جائے اور واپسی پر اپنے ساتھ چند فرشتے لے کر آئے اور ساتھ ہی تیرے پاس ایک خط بھی ہو کہ جو تیرے دعویٰ کی صداقت کی گواہی دے ۔ ابوجہل کہنے لگا :چھوڑو اسے، یہ تو ہمارے بتوں کو گالیاں دینے کے علاوہ کچھ نہیں جانتا اور مَیں نے خدا سے عہد کیا ہے کہ جس وقت یہ سجدے میں ہوگا ایک بہت بڑا پتھر اٹھا کر اس کے دماغ پر دے ماروںگا ۔ رسول اللہ وہاں سے اس حالت میں لوٹے ، اس قوم کی جہالت، ہٹ دھرمی اور غرور کے باعث آپ کا دل غم واندوہ سے مامور تھا، اس موقع پر زیرِ نظر آیات نازل ہوئیں ۔(۱) ۱۔ تفسیر مجمع البیان زیرِ نظر آیات کے ذیل میں ، در المنثور میں بھی ان آیات کے ذیل میں کچھ اختلافات کے ساتھ شانِ نزول بیان ہوئی ہے ۔