إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ وَيُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا كَبِيرًا
Indeed this Quran guides to what is most upright, and gives the good news to the faithful who do righteous deeds that there is a great reward for them.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:9
[Pooya/Ali Commentary 17:9] Aqa Mahdi Puya say: First the ascension of the Holy Prophet to the highest stage of the finite state, beyond which is nothing save absolute infinity, was stated, and then the partial book given to Musa was mentioned, and in this verse the Quran is introduced to man as the universal book of guidance, because it was revealed to a prophet who reached the highest perfection of qaba qawsayni aw adna (Najm: 9). Compared to all other books, sent down on other prophets whose ascension was upto lower stages, the Quran is the most comprehensive book of guidance and as perfect as the height to which the Lord of the worlds allowed His most beloved friend, the Holy Prophet, to ascend.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:9-12
چند اہم نکات
زیر بحث آیت میں تو انسان کو جلد باز کہا گیا ہے لیکن کسی آیات بھی ہیں جن میں انسان کو ”ظلوم‘،” جھول“، ”کفور“، سرکش، کم ظرف اور مغرور وغیرہ کہا گیا ہے ۔ ان تعبیروں سے بعضی اوقات یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ظرف یہ کہا گیا ہے اور دوسری طرف انسان کے پاک فطرت اور الٰہی روح کے حامل ہونے کا ذکر ہے ۔ ان دونوں کو کس طرح ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے؟ دوسری لفظوں میں اسلامی تصور کائنات کے مطابق انسان ایک عالی مرتبہ موجود ہے خلیفة اللهاور زمین میں الله کی نمائندگی کے لایق ہے ۔ انسان فرشتوں کا استاد اور ان سے برتر ہے ۔ یہ بات مذکورہ مذمت آمیز تعبیرات سے کیونکہ ہم آہنگ ہے؟ اس سوال کا جواب ایک ہی جملے میں دیا جاسکتا ہے کہ انسان کا یہ تمام تر مقام، اہمیت اور قیمت سے مشروط ہے اور وہ شرط ہے” ہادیاں الٰہی کے زیر نظر تربیت“۔ اس صورت کے علاوہ انسان خود رو گھاس پھونس کی طرح پرورش پاتا ہے اور خواہشات و شہوات میں غوطے کھاتا رہتا ہے اور اپنی عظیم صلاحتیں کھو دیتا ہے اور اس میں منفی پہلو آشکار ہو جاتے ہیں ۔ اس بنا پر۔ اگر مذکورہ شرط پوری ہوجائے تو وہ تمام مثبت صفات جو قرآن حکیم میں انسان کے بارے میں آئی ہیں وہ صورت پذیر ہو جائیں گی اور اگر یہ شرط پوری نہ ہوئی تو مذکورہ منفی صفات نمایان ہوجائیں گی۔ اسی لیے سورہ معارج کی آیہ ۱۹ تا ۲۳ میں ہے: <إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ ھَلُوعًا، إِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوعًا، وَإِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوعًا، إِلاَّ الْمُصَلِّینَ، الَّذِینَ ھُمْ عَلیٰ صَلَاتِھِمْ دَائِمُونَ انسان بہت کم ظرف پیدا ہوا ہے ۔ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بے تاب ہو جاتا ہے اور جب اسے کوئی اچھائی میسر آتی ہے تو بخل کرتا ہے سوائے ان نمازگزاروں کے کہ جو ہمیشہ اس طرز عمل پر باقی رہتے ہیں ۔ اس سلسلے میں مزید تفصیل تفسیر نمونہ کی آٹھویں جلد میں سورہٴ یونس کی آیت ۱۲ کے ذیل میں بیان کی جاچکی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:9-12
سعادت کا بالکل سیدھا راستہ
گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل، ان کی آسمانی کتاب تورا ت، ان کی طرف سے احکام الہٰی خلاف ورزی اور اس سلسلے میں ان کی سزاوٴں سے متعلق گفتگو تھی۔اب مسلمانوں کی آسمانی کتاب قرآن مجید کی طرف بات کا رخ موڑاگیا ہے کہ جو کتب آسمانی کی آخری کڑی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: یہ قرآن لوگوںکو مستقیم ترین اور بالکل سیدھے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے ( إِنَّ ھٰذَا الْقُرْآنَ یَھْدِی لِلَّتِی ھِیَ اٴَقْوَمُ) ۔ ”اقوم“ ”قیام “کے مادہ سے ہے اور چونکہ انسان جب کسی اہم کام کو انجام دینا چاہتا ہے تو قیام کرتا ہے اور کام شروع کردیتا ہے اسی لحاظ سے احسن طریقے اور تندہی سے انجام دینے کے لیے ”قیام“ بطور کنایہ استعمال ہوا ہے ۔ ضمناً یہ بھی کہہ دیا جائے کہ لفظ” استقامت“ بھی اسی مادے سے ہے اور”قیم“بھی اسی مادے سے ہے جس کا معنی ہے صاف و شفاف،مستقیم،ثابت اور ٹھوس۔ ”اقوم“چونکہ افعل التفضیل کا صیغہ ہے لہٰذا صاف تر،مستقیم تر اور بالکل سیدھا کے معنی میں ہے ۔ اس لحاظ سے زیر بحث آیت کا مفہوم یہ ہوگا: قرآن ایسے راستے کی طرف دعوت دیتا ہے جو زیادہ مستقیم، زیادہ صاف اور زیادہ محفوظ و مضبوط ہے ۔ قران کے پیش کردہ عقائد صاف اور مستقیم ہیں،روشن و واضح ہیں،قابل ادراک ہیں، ہر قسم کے ابہام اور خرافات سے پاک ہیں ۔وہ عقائد کہ جو عمل کی دعوت دیتے ہیں انسانی صلاحیتوں کو مجتمع کرتے ہیں اور انسان اور عالم فطرت کے قوانین میں ہم آہنگی بر قرار رکھتے ہیں ۔ یہ قرآن زیادہ صاف اور زیادہ مستقیم ۔اس لحاظ سے کہ ظاہر و باطن،عقیدہ و عمل،فکر و نظر اور طرز حیات کے در میان یکجہنی پیدا کرکے سب کوالله کی طرف دعوت دیتا ہے ۔ یہ قرآن صاف تر اور مستقیم تر ہے ۔سماجی ،اقتصادی اور سیاسی نظام اور قوانین کے اعتبار سے ۔ اس کا نظام تمام روحانی پہلووٴں کی بھی پرورش کرتا ہے اور مادی لحاظ سے بھی کمال و ارتقاء آفرین ہے ۔ یہ قرآن عبادت میں بھی افراط و تفریط سے بچاتا ہے ۔ اسی طرح قرآن کا اخلاقی نظام بھی ہر طرح کے افراط و تفریط سے محفوظ رکھتا ہے ۔ حرص اور طمع سے بھی بچاتا ہے، اسراف اور فضول خرچی سے بھی نجات دلاتا ہے، بخل اور کنجوسی سے بھی محفوظ رکھتا ہے، حسد سے بھی دوکتا ہے کمزور بن جانے اور دوسروں کو کمزور کرکے خود بڑا بن بیٹھنے سے بھی بچانا ہے ۔ یہ قرآن صاف تر اور مستقیم تر ہے ۔ اپنے پیش کردہ نظام حکومت کے لحاظ سے کہ جو عدل و انصاف پر مبنی ہے اور ظلم اور ظالموں کی سرکوبی کرتا ہے ۔ جی ہاں!قرآن ایسے راستے کی ہدایت کرتا ہے جو ہر لحاظ سے زیادہ صاف،زیادہ مستقیم،زیادہ محفوظ اور زیادہ مضبوط ہے ۔ یہاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ”افعل التفضیل “کا صیغہ یہ معنی دیتا ہے کہ دوسری اقوام کے مذاہب میں بھی استقامت اور عدالت کی خوبیاں موجود تھیں جبکہ قرآن میں ان کی نسبت زیادہ ہیں لیکن چند پہلووٴں کی طرف توجہ کرنے سے یہ مسئلہ واضح ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ: اولاً: اگر موازنہ دوسرے آسمانی ادیان کے ساتھ ہو تو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان میں سے ہر ایک اپنے زمانے میں صاف،مستقیم اور مضبوط دین تھا لیکن تکامل و ارتقاء کے مطابق جب ہم آخری مرحلے یعنی مرحلہ خاتمیت تک پہنچیں گے تو ایسا دین موجود ہوگا کہ جو صاف تر، مستقیم تر اور مضبوط تر ہوگا ۔ ثانیاً: اگر موازنہ دیگر آسمانی مذاہب کی بجائے دیگر مذاہب سے ہو تو بھی” افعل التفضیل“ با معنی ہوگا کیونکہ ہر مکتب و مذاہب کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کم از کم ان خوبیوں کا لحاظ رکھیں لیکن ان میں موجود کوتاہیوں، خرابیوں اور انحرافوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے اور پھر قرآن سے ان کا موازنہ کیا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ یہ دین زیادہ صاف اور انسان کی روحانی و مادی ضروریات سے زیادہ ہم آہنگ ہے لہٰذا یہ زیادہ مضبوط اور زیادہ محفوظ ہے ۔ ثالثاً: جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کرچکے ہیں کہ” افعل التفضیل“ کا صیغہ ہمیشہ اس بات کی دلیل نہیں ہوتا کہ لازماً کسی چیز سے موازنہ کیا جارہا ہے اور لازماًدوسری طرف کوئی چیز اس کے کچھ مفہوم کی حامل ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: <اَفَمَنْ یَّھْدِیٓ اِلَی الْحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَھِدِّیٓ اِلَّا ٓاَنْ یُّھْدٰی جو شخص حق کی طرف دعوت دیتا ہے کیا رہبری کا وہ زیادہ حق رکھتا ہے اور زیادہ اہل ہے یا وہ شخص جو حق کے راستے کا راہی ہی نہیں ۔ (یونس۔۳۵) ضمنی طور پر اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ” اقوم“ کا ایک معنی زیادہ ثابت اور زیادہ محفوظ و مضبوط ہے نیز آیت کی عبارت میں موازنے کے طور پر کسی دوسری چیز کا ذکر نہیں ہے جبکہ اصطلاح کے مطابق”متعلق کا حذف ہونا عمومیت و شمولیت کی دلیل ہے“ ان امور کی طرف توجہ کرنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو اسلام اور رسول کی خاتمیت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں کیونکہ اس آیت کے مطابق یہ دین زیادہ ثابت، زیادہ باقی، زیادہ ٹھوس، زیادہ مضبوط اور زیادہ محفوظ ہے ۔ (غور کیجیے گا) ۔ اس مستقیم الٰہی پروگرام سے لوگوں کا تعلق چونکہ دو طرح ہے لہٰذا اس کے بعد اس رابطے اور تعلق کے نتیجے کا انہی دو حوالوں سے ذکر کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: جن با ایمان لوگوں نے نیک عمل انجام دئیے ہیں قرآن انہیں خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے( وَیُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِینَ الَّذِینَ یَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ اٴَنَّ لَھُمْ اٴَجْرًا کَبِیرًا)(۱) اور وہ کہ جو آخرت اور اس کی عظیم عدالت پر ایمان نہیں رکھتے (اور اس لیے انہوں نے اعمال صالح انجام نہیں دیئے) انہیں آگاہ کردیتا ہے کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہم نے تیار کررکھا ہے( وَاٴَنَّ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ اٴَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اٴَلِیمًا) مومنین کے لیے بشارت کی تعبیر تو واضح ہے لیکن بے ایمان اور سرکش افراد کے لیے در حقیقت یہ ایک قسم کا استہزاء ہے یا پھر مومنین کے لیے بشارت ہے کہ ان کے دشمنوں کا یہ انجام ہوگا ۔ اس طرف بھی نظر جاتی ہے کہ مومنین کے لیے اجمالاً ”اجراًکبیراً“ فرمایا گیا ہے جبکہ بے ایمان افراد کی سزاکے لیے صراحتاً ”عذابا الیماً“ فرما گیا ہے ۔ان دونوں تعبیرات کا مفہوم اس قدر وسیع ہے کہ معنوی و مادی اور روحانی و جسمانی تمام پہلووں پر محیط ہے ۔ رہی یہ بات کہ دوزخیوں کی صفات میں سے صرف”آخرت پر ایمان نہ لانے“کی نشاندہی کی گئی ہے جبکہ ان کے اعمال کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ہو سکتا ہے کہ یہ اس بناء پر ہوکہ اگر انسان اس عظیم عدالت پر ایمان رکھتا ہو تو گناہوں سے بچانے کے لیے یہ ایمان سب سے زیادہ موٴثر کردار ادا کرسکتا ہے ۔ اس سے قطع نظر انکار قیامت کا مطلب انکارِ خدا بھی ہے کیونکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ عادل و حکیم خدا اس جہان کے لوگوں کو ان حالات میں کہ جو ہم دیکھ رہے ہیں، ان کی حالات پر چھوڑدے اور کوئی دوسرا جہاں موجود نہ ہو۔یہ امر نہ اس کی حکومت سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ اس کی عدالت سے ۔علاوہ ازیں آیت میں موجود جزاء سزا کے بارے میں گفتگو جاری ہے اور یہ گفتگو آخرت اور عدالتِ الٰہی کے مسئلے سے مناسبت رکھتی ہے اس لیے یہاں آخرت پر ان کے ایمان نہ لانے کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اگلی آیت میں گزشتہ بحث کی مناسبت سے بے ایمانی ایک اہم علت بیان کی گئی ہے اور وہ مختلف امور کے بارے میں درکار آگاہی کا نہ ہونا ۔ ارشاد ہوتا ہے: جیسے انسان بھلائی کا خواہشمند ہوتا ہے اسی طرح جلد بازی کرتے ہوئے اور درکار آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے برائی طلب کرنے لگتا ہے (وَیَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَائَہُ بِالْخَیْر) ۔ کیونکہ انسان پر جلد باز ہے(وَکَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا ) ۔ اس مقام پر ”دعا“کا ایک وسیع مفہوم ہے اور اس میں ہر قسم کی خواہش و طلب شامل ہے چاہے زبان سے ہو یا عمل سے ۔ در حقیقت زیادہ سے زیادہ اور جلد منافع کے حصول کی تڑپ اس امر کا سبب بنتی ہے کہ مسائل کے تمام پلووٴں کے بارے میں غور و فکر اور تحقیق و مطالعہ نہیں کرتا اور بسا ایسا ہوتا ہے کہ اس جلد بازی کے باعث انسان حقیقی فائدے اور منافع کی تمیز نہیں کر پاتا بلکہ خواہشات کی سرکش اور بے تابی حقیقت کا چہرہ چھپادیتی ہے اور انسان اپنی بھلائی کی بجائے برائی کے پیچھے چل نکلتا ہے ۔ اس حالت میں جس طرح انسان الله سے بھلائی کا تقاضا کرتاہے عدم معرفت اور غلط پہچان کے باعث برائیوں کا بھی تقاضا کرنے لگتا ہے اور جس طرح بھلائی کے لیے کوشش کرتا ہے برائی کے بھی پیچھے چل پڑتا ہے ۔یہ نوع انسانی کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت ہے اور سعادت کے راستے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔ کتنے ہی ایسے لوگ ہیں کہ جو جلد بازی کی وجہ سے خطرناک گڑھوں میں گرجاتے ہیں ۔ اپنے تئیں وہ امن و خوشحالی کے راستے پر جارہے ہوتے ہیں لیکن بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ منزل سعادت کے تصور میں برائیوں اور بدبختیوں میں جا پڑتے ہیں افتخار و عزت کی بجائے ذلت و رسوائی کے پانیوں میں جا اتر تے ہیں ۔ یہ برا نتیجہ عجلت پسندی اور جلد بازی کا ہے ۔ جو کچھ ہم کہہ چکے ہیں اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ آیت کا مفہوم نہ لفظی دعا میں منحرف ہے اور نہ عملی طلب میں ۔ بلکہ یہ سب کچھ ایک جامع مفہوم میں موجود ہے ۔ لہٰذا اگر بعض مفسریںنے اسے کسی ایک حصے میں محدود کیا ہے تو اس کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے ۔ نیز اگر بعض روایات میں صرف لفظی دعا کا ذکر ہے تو وہ در اصل ایک مصداق کی نشاندہی ہے نہ کہ پورے مفہوم کا ذکر ہے ۔ جیسا کہ ایک حدیث میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: واعرف طریق نجاتک وھلاکک، کی لاتدعوا الله بشیء عسی فیہ ھلاکک، وانت تظن ان فیہ نجاتک، قال الله تعالیٰ ”وَیَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ دُعَائَہُ بِالْخَیْرِ وَکَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا“ اپنی نجات اور اپنی ہلاکت کے راستے کو خوب پہچان لے تا کہ تو ا للهسے کسی ایسی چیز کا مطالبہ نہ کربیٹھے کہ جس میں تیری ہلاکت ہے جبکہ تیرا یہ گمان ہو کہ اسی میں تیری نجات ہے ۔ اللهتعالیٰ کہتا ہے کہ انسان جس طرح سے بھلائی کی دعا کرتا ہے اسی طرح برائی کی طلب کرنے لگتا ہے کیونکہ انسان جلد باز ہے ۔ لہٰذا حیر و سعادت تک پہنچنے کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ انسان جو بھی کام کرنا چاہے بڑے غور و خوض،سمجھداری اور جلد بازی سے بچتے ہوئے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر کے اور اس سلسلے میں بے سوچے سمجھے فیصلوں سے بچے اور خواہشات نفسانی کی آلودگیوں سے اپنی رائے کو پاک رکھے پھر الله سے اس کام کے لئے مدد طلب کرے تا کہ منزل سعادت سے ہمکنار ہو سکے اور ہلاکت کے گڑھے میں نہ جا گرے ۔ اگلی آیت میں خلقت شب و روز، ان کی برکات اور علم میں ایک نظم وحساب کی موجودگی کے بارے گفتگو کی گئی ہے تا کہ توحید و معرفت الٰہی کی دلیل بھی بنے اور گزشتہ سے پیوستہ بحث قیامت کی بھی تکمیل ہوجائے اور اس کے علاوہ کاموں میں غور و حوض کرنے اور عجلت سے کام نہ لینے کے ضروری ہونے کے لیے بھی مشاہدہ بن سکے ۔ارشاد ہوتا ہے: رات اور دن کو ہم نے اپنی نشانیاں قرار دیا ہے( وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ آیَتَیْنِ ) ۔ پھر ہم نے رات کی نشانی کو محو کردیا اور اس کی جگہ دن کی نشانی لے آئے کہ جو ضیاء بخش ہے(ِ فَمَحَوْنَا آیَةَ اللَّیْلِ وَجَعَلْنَا آیَةَ النَّھَارِ مُبْصِرَةً) ۔ اس سے ہمارے دو مقصد تھے ۔ پہلا یہ کہ” تم اپنے رب کے فضل سے بہرہ ور ہوجاوٴ“ (لِتَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّکُمْ) ۔ رات کو آرام کرو اور دن میں کام کاج اور بھاگ دوڑ کرو اور اس کے نتیجہ میں نعمات الٰہی سے فائدہ اٹھاوٴ۔ دوسرا یہ کہ اپنے کاموں کے نظم و حساب کے لیے سالوں کی تعداد اور مدت معین کرو اور وقت کا حساب کتاب اور تقسیم طے کرلو (وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِینَ وَالْحِسَابَ) ۔ اور ہم نے سب کچھ مفصل اور واضح کردیا ہے( وَکُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنَاہُ تَفْصِیلًا) ۔ تا کہ کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے ۔ ”اٰیة اللیل“ اور ”ایةالنہار“ سے مراد خود رات دن ہیں اور ان میں سے ہر ایک پروردگار کی ایک نشانی ہے یا”آیة اللیل“ سے مراد چاند اور ”آیة النہار“ سے مراد سورج ہے ۔اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔لیکن آیت پر ہی غور و خوض کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پہلی تفسیر صحیح ہے ۔ ”وَجَعَلْنَا اللَّیْلَ وَالنَّھَارَ آیَتَیْنِ“ کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ ان میں سے ہر ایک اثباتِ وجود خدا کے لیے دلیل، ایک نشانی ہے اور آیتِ شب محو ہونے سے مراد یہ ہے کہ رات کے تاریک پردے دن کے اجالے کی وجہ سے چھٹ جاتے ہیں اور رات کے وقت جوکچھ چھپ جاتا ہے دن کے روشنی میں آشکار ہوجاتا ہے ۔ قرآن نے جو بعض دوسری آیات( یونس۔۵)میں سال اور مہینے کے حساب کے لیے سورج اور چاند کو پیمانہ اور ذریعہ قرار دیا ہے وہ ہمارے مذکورہ بیان کے منافی نہیں ہے کیونکہ انسانی زندگی میں نظم اور حساب کے پیدا ہونے کو رات دن کی طرف بھی نسبت دی سکتی ہے اور چاند سورج کی طرف بھی چونکہ یہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں ۔ نہج البلاغہ کے خطبہٴ اشباح میں عظمتِ الٰہی کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: ”وجعل الشمس آیة مبصرة لنھارھا، وقمرھا، آیة ممحوة من لییلھا، واجراھما فی مناقل مجراھما، وقدر سیرھما فی مدارج درجھما، لیمز بین اللیل والنھار بھما، ولیعلم عدد السنین والحساب بمقادیرہما“ سورج کو دن ضیاء بخش نشانی قرار دیا اور چاند کو رات کی محو کرنے والی نشانی بنایا اور ان دونوں کو رواں دواں کردیا ۔ ان کی حرکت کے مراحل مقرر کیے تا کہ رات اور دن کے درمیان فرق پیدا کرے اور دونوں سے حاصل کیے گئے حساب کتاب سے سالوں کا اندازہ لگا یا جاسکے ۔ یہ تفسیر بھی مذکورہ بالا پہلی تفسیر کے منافی نہیں ہے کیونکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں سال کے حساب کتاب کو رات دن سے بھی منسوب کیا جا سکتا ہے اور چاند سورج سے بھی کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے مربوط ہیں ۔ ۱۔ سورہٴ نساء کی آیت ۳۸ کے ذیل میں ہم کہہ چکے ہیں کہ لفظ ”بشارت“ در اصل ”بشرة“ سے لیا گیا ہے اور ”بشرة“ کا ہے ”چہذہ“ اور ہر چیز جو انسان پر اثر انداز ہو، اسے مسرور یا مغموم کردے اسے ”بشارت“ کہتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:9-12
۱۔ کیا انسان ذاتی طور پر جلد باز ہے ؟
کسی چیز کو زیادہ پسند کرنا، سطحی اور محدود فکر،خواہشات کا انسان پر غلبہ اور کسی چیزکے بارے میں حد سے زیادہ اچھا گمان۔ یہ سب جلد بازی کے عوامل ہیں ۔ عام طور پر سطحی مطالعہ اور ابتدائی آگاہی کسی امر کی حقیقت اور اس کے نفع و نقصان کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں ہوتے لہٰذا عموماً جلد بازی ندامت، نقصان اور پشیمانی کا موجب بنتی ہے ۔ یہاں تک کہ زیر بحث آیات کے مطابق بعض اوقات عجلت کے باعث انسان غلط کاموں کے پیچھے ایسی تیزی سے اچھے کاموں کے پیچھے جاتا ہے ۔ پوری تاریخ انسانی میں انسان کو جن تلخ کامیوں، شکستوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ان کا شمار ممکن نہیں اور خود ہم نے اپنی زندگی میں اس کے کئی نمونے دیکھے ہیں اور اس کے تلخ ثمرات چکھے ہیں ۔ ”عجلت“کے مقابل ”تثبت“اور ”تاٴنی“ یعنی توقف کرنا، تفکر و تامل کرنا اور کسی کام کے انجام دینے کے لیے اس کے تمام پہلووں کا جائز لینا ہے ۔ ایک حدیث میں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”انما اٴھلک الناس العجلة ولو ان الناس تثبتوا لم یھلکو اٴحد“ لوگوں کو ان کی جلد بازی نے مار ڈالا اور لوگ تامل اور سوچ بچار سے کام انجام دیتے تو کوئی شخص ہلاک نہ ہوتا ۔ (1) ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: مع التثبت تکون السلامة، وع العجلة تکون الندامة توقف اور تامل کرنے میں سلامتی ہے اور جلد بازی میں ندامت ہے ۔ (2) نیز رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: ان الانة من الله والعجلة من الشیطان سوچ سمجھ کر کام کرنا الله کی طرف سے ہے اور عجلت شیطان کی جانب سے ہے ۔ (3) البتہ اسلامی روایات میں”نیک کام جلدی کرنے کا باب“ بھی موجود ہے ۔ ان میں سے ایک حدیث رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے، آپ فرماتے ہیں: ان الله یحب من الخیر ما یعجل الله کو پسند ہے کہ نیک کام میں جلدی کی جائے ۔ (4) اس سلسلے میں بہت سی روایات ہیں ۔ یہاں بے جا تاخیر، تساہل اور آج کل کرنے کے مقابل عجلت کا حکم ہے کیونکہ یہ طرز عمل عام طور پر کاموں میں مشکلیں اور رکاوٹیں پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے ۔ اس امر کی شاہد وہ حدیث ہے جو اسی باب میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے،آپ فرماتے ہیں: من ھم بشیء من الخیر فلیعجلہ فان کل شیء فیہ تاٴخیر فان للشیطان فیہ نظرة جو شخص کسی کار خیر کا ارادہ کرے اسے چاہئے کہ اس میں جلدی کرے کیونکہ جس کام میں تاخیر کرو گے شیطان اس میں حیلے بہانے پیدا کردے گا ۔ (5) اس بنا پر کہنا چاہئے کہ کاموں میں سرعت اور مضبوط ارادہ تو ضرور ہونا چاہیئے لیکن جلد بازی نہیں ۔ دوسرے لفظوں میں مذموم ایسی جلد بازی ہے کہ نتیجے میں کام بغیر تمام پہلووں کا جائزہ لیے اور بغیر تحقیق و شناخت کے، صورت پذیر ہوجائے اور لایق تحسین ایسی سرعت ہے جو مصمم اردہ کر لینے کے بعد تاخیر سے بچنے کے لیے ہو۔ ردایات میں ہے کہ”نیک کام میں جلدی کرو“ یعنی پہلے یہ جان لو کہ یہ کام۔ کار خیر ہے اور جب اس کا اچھا ہونا ثابت ہو جائے تو پھر اس میں تساہل نہ بر تو۔ 1۔ و2۔ و3۔ سفینة البحار، ج۱، ص۱۳۹؟ 4۔ اصول کافی، ج۱، کتاب ایمان وکفر، باب ”تعجیل فعل الخیر“- 5۔ اصول کافی، ج۱، کتاب ایمان وکفر، باب ”تعجیل فعل الخیر“-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:9-12
۲۔ جلد بازی۔ ایک مصیبت:
کسی چیز کو زیادہ پسند کرنا، سطحی اور محدود فکر،خواہشات کا انسان پر غلبہ اور کسی چیزکے بارے میں حد سے زیادہ اچھا گمان۔ یہ سب جلد بازی کے عوامل ہیں ۔ عام طور پر سطحی مطالعہ اور ابتدائی آگاہی کسی امر کی حقیقت اور اس کے نفع و نقصان کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں ہوتے لہٰذا عموماً جلد بازی ندامت، نقصان اور پشیمانی کا موجب بنتی ہے ۔ یہاں تک کہ زیر بحث آیات کے مطابق بعض اوقات عجلت کے باعث انسان غلط کاموں کے پیچھے ایسی تیزی سے اچھے کاموں کے پیچھے جاتا ہے ۔ پوری تاریخ انسانی میں انسان کو جن تلخ کامیوں، شکستوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ان کا شمار ممکن نہیں اور خود ہم نے اپنی زندگی میں اس کے کئی نمونے دیکھے ہیں اور اس کے تلخ ثمرات چکھے ہیں ۔ ”عجلت“کے مقابل ”تثبت“اور ”تاٴنی“ یعنی توقف کرنا، تفکر و تامل کرنا اور کسی کام کے انجام دینے کے لیے اس کے تمام پہلووں کا جائز لینا ہے ۔ ایک حدیث میں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”انما اٴھلک الناس العجلة ولو ان الناس تثبتوا لم یھلکو اٴحد“ لوگوں کو ان کی جلد بازی نے مار ڈالا اور لوگ تامل اور سوچ بچار سے کام انجام دیتے تو کوئی شخص ہلاک نہ ہوتا ۔ (1) ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: مع التثبت تکون السلامة، وع العجلة تکون الندامة توقف اور تامل کرنے میں سلامتی ہے اور جلد بازی میں ندامت ہے ۔ (2) نیز رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: ان الانة من الله والعجلة من الشیطان سوچ سمجھ کر کام کرنا الله کی طرف سے ہے اور عجلت شیطان کی جانب سے ہے ۔ (3) البتہ اسلامی روایات میں”نیک کام جلدی کرنے کا باب“ بھی موجود ہے ۔ ان میں سے ایک حدیث رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے، آپ فرماتے ہیں: ان الله یحب من الخیر ما یعجل الله کو پسند ہے کہ نیک کام میں جلدی کی جائے ۔ (4) اس سلسلے میں بہت سی روایات ہیں ۔ یہاں بے جا تاخیر، تساہل اور آج کل کرنے کے مقابل عجلت کا حکم ہے کیونکہ یہ طرز عمل عام طور پر کاموں میں مشکلیں اور رکاوٹیں پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے ۔ اس امر کی شاہد وہ حدیث ہے جو اسی باب میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے،آپ فرماتے ہیں: من ھم بشیء من الخیر فلیعجلہ فان کل شیء فیہ تاٴخیر فان للشیطان فیہ نظرة جو شخص کسی کار خیر کا ارادہ کرے اسے چاہئے کہ اس میں جلدی کرے کیونکہ جس کام میں تاخیر کرو گے شیطان اس میں حیلے بہانے پیدا کردے گا ۔ (5) اس بنا پر کہنا چاہئے کہ کاموں میں سرعت اور مضبوط ارادہ تو ضرور ہونا چاہیئے لیکن جلد بازی نہیں ۔ دوسرے لفظوں میں مذموم ایسی جلد بازی ہے کہ نتیجے میں کام بغیر تمام پہلووں کا جائزہ لیے اور بغیر تحقیق و شناخت کے، صورت پذیر ہوجائے اور لایق تحسین ایسی سرعت ہے جو مصمم اردہ کر لینے کے بعد تاخیر سے بچنے کے لیے ہو۔ ردایات میں ہے کہ”نیک کام میں جلدی کرو“ یعنی پہلے یہ جان لو کہ یہ کام۔ کار خیر ہے اور جب اس کا اچھا ہونا ثابت ہو جائے تو پھر اس میں تساہل نہ بر تو۔ 1۔ و2۔ و3۔ سفینة البحار، ج۱، ص۱۳۹؟ 4۔ اصول کافی، ج۱، کتاب ایمان وکفر، باب ”تعجیل فعل الخیر“- 5۔ اصول کافی، ج۱، کتاب ایمان وکفر، باب ”تعجیل فعل الخیر“-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:9-12
۳۔ کائنات میں نظم و حسا ب کا انسانی زندگی پر اثر:
تمام تر نظام کائنات کسی حساب کتاب اور نظم و شمار پر قائم ہے ۔ نظام عالم کی کوئی چیز بغیر کسی حساب کتاب کے نہیں ہے ۔ فطری امر ہے کہ انسان کہ جواس سارے نظام کا ایک جزو ہے کسی حساب کتاب کے بغیر زندگی بستر نہیں کر سکتا ۔ اسی بناء پر قرآن کی مختلف آیات میں یہ فرمایا گیا ہے کہ چاند، سورج یا رات دن کا وجود انسان کے لیے نعمات الٰہی میں سے ہے کیونکہ یہ انسان زندگی میں نظم و حساب پیدا کرنے کا ایک عامل ہے ۔کیونکہ بے نظم زندگی فنا اور نابود کا سبب ہے ۔ ایک۔ ”ابتغاء فضل الله“۔ کہ جو عام طور پر مفید اور تعبیر کام کے معنی میں ہے ۔ دوسرا ۔سالوں کا حساب جاننا ۔ ان دونوں کا اکٹھا ذکرشاید اس بات کی دلیل ہے کہ”ابتغاء فضل الله“”نظم و حساب“ سے استفادہ کیے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ گزشتہ زمانے میں شاید یہ بات اتنی واضح نہیں تھی لیکن آج کی دنیا نو اعداد و شمار کی دنیا ہے آج تو ہر اقتصادی، سماجی، سیاسی، سائنسی اور ثقافتی ادارے میں شماریات کا شعبہ ہوتا ہے ۔ ہر کار خانے میں شعبہ ہوتا ہے ۔دور حاضر میں اس قرآن اشارے کی گہرائی کی طرف توجہ کرنا چاہئے اور یہ جاننا چاہیئے کہ قرآن نہ صرف یہ کہ قرآن نہ صرف یہ کہ زمانہ گزرنے سے پرانا نہیں ہوتا بلکہ جوں جوں وقت گرزتا ہے اس کی تازگی زیادہ نکھر کر سامنے آتی ہے ۔ (1) ۱۳ وَکُلَّ إِنسَانٍ اٴَلْزَمْنَاہُ طَائِرَہُ فِی عُنُقِہِ وَنُخْرِجُ لَہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ کِتَابًا یَلْقَاہُ مَنشُورًا ۱۴ اقْرَاٴْ کِتَابَکَ کَفیٰ بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیبًا ۱۵ مَنْ اھْتَدیٰ فَإِنَّمَا یَھْتَدِی لِنَفْسِہِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَا وَلَاتَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ اٴُخْریٰ وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِینَ حَتَّی نَبْعَثَ رَسُولًا ترجمہ ۱۳۔اور ہر شخص کے اعمال کو ہم نے اس کے گلے کار ہار بنا دیا ہے اور روز قیامت اس کے لیے ہم ایک کتاب نکالیں گے کہ جسے وہ اپنے سامنے کھلاہوا پائے گا ۔ ۱۴۔ (یہ اس کا نامہ اعمال ہی ہوگا ۔ ہم اس کہیں گے)اپنی کتاب پڑھ، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے ۔ ۱۵ جو شخص بھی ہدایت پائے اس نے اپنے لیے ہدایت پائی اور جو شخص گمراہ ہو وہ اپنے ہی نقصان میں گمراہ ہوا (اس کا نقصان خود اسی کو پہنچے گا) اور کوئی شخص دوسرے کا بوجھ اپنے کندھے پر نہیں اٹھائے گا ہم (لوگوں کو ان کی ذمہ دارایاں بتانے کے لیے) پیغمبر مبعوث کیے بغیر کسی (شخص یا قوم) کو عذاب نہیں دیتے ۔ 1۔ اس سلسلے میں ہم نے سورہٴ یونس کی آیت ۵ کے ذیل میں بھی تفصیلی بات کی ہے، اس سلسلے میں تفسیر نمونہ کی آٹھویں جلد میں مذکورہ آیت کی تفسیر کی طرف رجوع کیجئے ۔