أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَى غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا
Maintain the prayer [during the period] from the sun’s decline till the darkness of the night, and [observe particularly] the dawn recital. Indeed the dawn recital is attended [by angels].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:78
[Pooya/Ali Commentary 17:78] This verse contains the command for the five obligatory prayers, viz., the four from the declination of the sun from the meridian to the fullest darkness of the night; and the early morning prayer, Fajr. The four afternoon prayers are- Zuhr, immediately after the sun begins to decline from the meridian; Asr in the late afternoon; Maghrib, immediately after sunset; and Isha, after the glow of sunset has disappeared and full darkness of the night has set in.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 17:78-84
This carries a brief command regarding the five times of prayers and an obligatory command to the Prophet for night prayers with a promise to grant him privileges of pleading intercession on behalf of his followers attached to the Ahl al-Bayt, who alone shall be capable of receiving intercession. Action of everyone is based on his mental attitude, shaped by degree of purity of heart. Try to keep it pure, as desired by the Providence, as its misuse is Divine ingratitude.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:78-81
سوره اسراء / آیه 78 - 81
۷۸ اٴَقِمْ الصَّلَاةَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ إِلیٰ غَسَقِ اللَّیْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُودًا ۔ ۷۹ وَمِنَ اللَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہِ نَافِلَةً لَکَ عَسیٰ اٴَنْ یَبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَحْمُودًا ۔ ۸۰ وَقُلْ رَبِّ اٴَدْخِلْنِی مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاٴَخْرِجْنِی مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِی مِنْ لَدُنْکَ سُلْطَانًا نَصِیرًا ۔ ۸۱ وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوقًا ۔ ترجمہ ۷۸۔نماز قائم کر زوالِ خورشید سے لے کر(نصف)شب کی انتہائی تاریکی تک اور اسی طرح قرآنِ فجر (نمازِ فجر)کیونکہ قرآن، فجر کا(رات اور دن کے فرشتے )مشاہدہ کرتے ہیں ۔ ۷۹۔رات کے ایک حصے میں نیند سے اٹھ کھڑا ہو اور قرآن(نماز)پڑھ یہ تیرے لئے ایک اضافی فریضہ ہے تاکہ تیرا پروردگار تجھے مقام محمود کی بلندی عطا کرے ۔ ۸۰۔اور کہہ دے: پروردگار! مجھے (ہرکام میں)سچے طریقے سے داخل کر اور سچے طریقے سے نکال اور اپنی طرف سے کسی کو میرا سلطان ومددگار قرار دے ۔ ۸۱۔اور کہہ دے: حق آگیا اور باطل نابود ہوگا اور (اصولاً) باطل ہے ہی نابود ہونے والا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:78-81
باطل کا انجام نابودی ہے
باطل کا انجام نابودی ہے شرک کے مسائل پر گفتگو تھی، مشرکوں کی سازشوں اور وسوسوں کا ذکر تھا، زیرِ نظر آیات میں نماز، توجہ الی اللہ، عبادتِ خدا اور اس کے حضور میں تضرع وزاری کا ذکر ہے، یہ سب کچھ شرک کے مقابلے کے لئے موثر عامل ہے اور انسانی قلب وروح سے ہر قسم کی شیطانی وسوسے دور کرنے کا ذریعہ ہے ۔ جی ہاں!نماز ہی ہے جو انسان کو خدا کی یاد دلاتی ہے، انسانی قلب وروح سے غبارِ گناہ کو صاف کرتی ہے اور شیطانی وسوسوں کو دور کرتی ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: زوالِ خورشید سے نصف شب تک نماز قائم کرواور اسی طرح قرآنِ فجر (یعنی نمازِ فجر)کیونکہ یہ وہ نماز ہے جس پر رات اور دن کے فرشتوں کی توجہ ہے( اٴَقِمْ الصَّلَاةَ لِدُلُوکِ الشَّمْسِ إِلیٰ غَسَقِ اللَّیْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُودًا)۔ ”دلوک الشمس“ کا معنی نصف النہار سے زوالِ آفتاب ہے کہ جو نمازِ ظہر کا وقت ہے ، یہ ”دلک“ کے مادہ سے لیا گیا ہے اس کا معنی ہے” ملنا“ کیونکہ اس موقع پر سرج کی شدتِ تپش کے باعث انسان اپنی آنکھوں کو ملاتا ہے یا پھر یہ ترکیب ”دلک“ سے مائل ہونے اور جھکنے کے معنی میں ہے چونکہ سورچ اس موقع پر مقامِ نصف النہار سے مغرب کی طرف جھکتا ہے یا یہ کہ انسان اپنے ہاتھ کو سورج کے سامنے حائل کرتا ہے گویا اس کی روشنی کو اپنی آنکھوں سے دور کرتا ہے اور آنکھ کو دوسری طرف مائل کرتا ہے ۔ بہرحال مصادرِ اہل بیت (علیه السلام) سے پہنچنے والی روایات میں ”دلوک“ کا معنی زوالِ آفتاب ہی کیا گیا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:78-81
۱۔ نمازِ تہجد ایک عظیم روحانی عبادت ہے
۱۔ نمازِ تہجد ایک عظیم روحانی عبادت ہے دن بھر کا شور مختلف حوالوںسے انسان کی توجہ اپنی طرف کھینچتا ہے اور انسانی افکار کو طرح طرح کی وادیوں میں لئے لئے پھر تا ہے ،ایسے میں دل جمعی اور حضورِ قلب بہت مشکل ہوتا ہے ،لیکن رات کی تاریکی میں وقتِ سحر جب مادی زندگی کا ہنگامہ نہیں ہوتا اور کچھ دیر سوجانے کے بعد جب انسانی جسم وروح کو سکون ملتا ہے ،اس وقت انسان نشاط اور توجہ کی ایک خاص بے مثل کیفیت میں ہوتا ہے، ریا کے پاک، خود نمائی سے دور اور حضورِ قلب کے اس ماحول میں انسان میں آمادگی کی ایک ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جو بہت زیادہ روح پرور اور کمال آفریں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ دوستانِ خدا اور محبانِ خدا ہمیشہ رات کے پچھلے پہر عبادے کے ذریعے روح کی پاکیزگی ، دل کی زندگی، ارادے کی تقویت اور خلوص کی تکمیل کے لئے قوت حاصل کرتے ہیں ۔ ابتدائے اسلام میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم نے اسی روحانی طریقہ سے استفادہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی تربیت اور ان کی شخصیت کو اتنا بلند کردیا کہ وہ پہلے والے انسان معلوم ہی نہ ہوتے تھے گویا آپ نے ان کے اندر سے نئے انسان پیدا کردئے، وہ انسان جن کا ارادہ پختہ تھا، جو بہادر، باایمان، پاک باز اور باخلوص تھے اور شاید مقامِ” محمود“کہ جس کا ذکر زیرِبحث آیت میں نمازِ شب کے نتیجے کے طور پر ہے اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہو ۔ نمازِ تہجد کی فضیلت میں مروری روایات بھی اسی حقیقت کو واضح کرتی ہیں ، ہم ذیل میں چند مثالیں ذکر کرتے ہیں: ۱۔پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم فرماتے ہیں: ”خیرکم من اطاب الکلام واطعم الطعام وصلی باللیل والناس نیام“۔ َََٖتم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو بات بڑے ادب سے اور پاکیزگی سے کرے، بھوکوں کو کھانا کھلائے اور رات جب لوگ سورہے ہوں وہ اٹھ کر نماز بڑے ۔(7) ۲۔ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے : قیام اللیل مصحة للبدن ومرضات للرب عزوجل وتعرض للرحمة وتمسک باخلاق النبیین۔ رات کو اٹھ کر تہجد پڑھنا صحتِ بدن اور خوشنودی خدا اور اس کی رحمت کا وسیلہ ہے اس عبادت سے انسان نبیوں کے اخلاق سے وابستہ ہوجاتا ہے ۔( 8) ۳۔ امام صادق علیہ السلام نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: لاتدع قیام اللیل فان المغبون من حرم قیام اللیل۔ نمازِ شب کے لئے اٹھنا ترک نہ کرو ۔وہ شخص خسارے میں ہے جو قیامِ شب سے محروم ہے ۔(8) ۴۔ رسول اللہ ﷺفر ماتے ہیں: من صلی باللیل حسن وجھہ بالنھار۔ جو شخص نمازِ شب پڑھتا ہے دن کے وقت اس کی صورت (وسیرت)اچھی ہوگی۔(8) ۵۔ ایک شخص حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی خدمت میں آیا ۔ اس نے عرض کی : میں نمازِ شب سے محروم ہوگیا ہوں ۔ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: انت رجل قد قید تک ذنوبک۔ تجھے تیرے گناہوں نے گرفتار کرلیا ہے ۔(9) ۶۔ امام صادق علیہ السلام سے ایک حدیث ان الفاظ میں منقول ہے: ان الرجل لیکذب الکذبة ویحرم بھا صلٰوة اللیل فاذا حرم بھا صلٰوة اللیل حرم بھا الرزق۔ انسان کبھی ایسا جھوٹ بولتاہے کہ اس کی وجہ سے نمازِ تہجدسے محروم ہوجاتا ہے اور جب نمازِ شب سے محروم ہوتا ہے تو روزی (اور مادی وروحانی نعمتوں)سے بھی محروم ہوجاتا ہے ۔(9) ۷۔ ہم جانتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کبھی نمازِ شب ترک نہیں کرتے تھے لیکن اس نماز کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اس کے باوجود پیغمبر اکرم صلی اللهعلیہ وآلہ وسلّم نے اپنی وصیتوں میں ان سے فرمایا: اوصیک فی نفسی بخصال فاحفظھا ثم قال: اللھم اعنہ۔۔۔ وعلیک بالصلٰوة اللیل ، وعلیک بالصلٰوة اللیل، وعلیک باصلٰوةاللیل۔ مَیں تمہیں چند امور کی وصیت کرتا ہوں ان کی حفاظت کرنا------یہاں تک کہ فرمایا:تیرے لئے نمازِ شب ضروری ہے، تیرے لئے نمازِ شب ضروری ہے، تیرے لئے نمازِ شب ضروری ہے ۔( 10 ) ۸۔ پیغمبر اسلام صلی اللهعلیہ وآلہ وسلّم نے جبرئیل سے فرمایا: کہ مجھے کویہ نصیحت کرو تو انہوں نے کہا-: یا محمد عش ما شئت فانک میت، واحبب ما شئت فانک مفارقة، واعمل ماشئت فانک ملاقیہ ، واعلم ان شرف المومن صلٰوتہ باللیل وعزہ کفہ عن اعراض الناس۔ یامحمد! جتنا چاہو جی لو آخر مرنا ہے، جس سے چاہو محبت کرلو آخر اس سے بچھڑنا ہے، جو کام چاہے کرلو آخر اپنے عمل کو دیکھنا ہے اور یہ بھی جان لو کہ مومن کا شرف اس کی نمازِ شب میں ہے اور اس کی دوسروں کو بے عزت کرنے سے بچنے میں ہے ۔(11) جبرئیل (علیه السلام) کی ملکوتی نصیحتیں کہ جو بہت سوچی سمجھی اور جچی تُلی ہیں، نشاندہی کرتی ہیں کہ نمازِ تہجد انسان کی تربیت، روحانیت اور ایمان افروزی میں اس قدر پُر تاثیر ہے کہ اس کے شرف اور اس کی آبرو کا سرمایہ بن جاتی ہے جیسا کہ لوگوں کی آبرو سے مزاحم نہ ہونا اس کی عزت کا سبب بنتا ہے ۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ثلاثہ ھن فخرالمومن وزینة فی الدنیا والآخرة، الصلٰوة فی اٰخراللیل ویاٴسہ مما فی اٴیدی الناس وولایة الامام من آل محمد ۔ تین چیزیں مومن کے لئے باعثِ افتخار ہیں اور دنیا وآخرت کی زینت ہیں: ۱۔ آخر شب کی نماز۔ ۲۔لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے بے اعتنائی کرنا اور۔ ۳۔آلِ محمد میں سے امامِ برحق کی حکومت وولایت۔ ۱۰۔ امام صادق علیہ السلام ہی سے منقول ہے، فرمایا:ایک با ایمان شخص جو کوئی بھی نیک کام انجام دیتاہے، اس کی جزا وثواب کا قرآن میں صراحت سے ذکر ہے، سوائے نمازِ تہجد کے، کیونکہ اس کی انتہائی زیادہ اہمیت کے پیشِ نظر اس کا ثواب صراحت سے بیان نہیں کیا گیا اور صرف اسی قدر فرمایا گیا ہے: <تَتَجَافیٰ جُنُوبُھُمْ عَنْ الْمَضَاجِعِ یَدْعُونَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاھُمْ یُنفِقُونَ فَلَاتَعْلَمُ نَفْسٌ مَا اٴُخْفِیَ لَھُمْ مِنْ قُرَّةِ اٴَعْیُنٍ جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ(سجدہ:۱۶،۱۷) وہ رات کے وقت اپنے بستروں سے اٹھتے ہیں اور اپنے رب کو خوف وامید کی ملی جُلی کیفیت میں پکارتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں عطا کیاہے اس میں سے خرچ کرتے ہیںلیکن کوئی شخص نہیں جانتا کہ خدا نے ان کے لئے کیسی کیسی جزا رکھی ہیں، ایسی جزا کے جو ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کردے گی۔(12) البتہ۔ نمازِ شب کے بہت سے آداب ہیں، مناسب ہوگا اس کی اجمالی کیفیت ہم یہاں بیان کردیں تاکہ اس روحانی عمل کے سچے عاشق اس سے زہادہ فائدہ اٹھا سکیں ۔ انتہائی سادہ شکل میں نمازِ نمازِ تہجد کی گیارہ رکعتیں ہیں، ان کے مندرجہ ذیل تین حصے ہیں: الف۔ دو دو رکعت کرکے آٹھ رکعتیں ۔ انہیں نافلہ شب کہتے ہیں ۔ ب۔ دو رکعت”نافلہ شفع“ ج۔ایک رکعت جسے”نافلہ وتر“ کہتے ہیں ۔ انہیں بالکل نمازِ صبح کی طرح ادا کرنا ہے، البتہ ان میں اذان واقامت نہیں ہے، نیز نماز وتر کے قنوت کو جتنا طول دیا جاسکے بہتر ہے ۔(13) ۱۔ وسائل الشیعہ،ج۳،ص ۱۱۵۔ 2۔ نور لاثقلین، ج۳،ص ۲۰۵ 4،3۔تفسیر روح المعانی، ج۱۵،ص ۱۲۶ 5۔”مدخل“ اور ”مخرج“ یہاں داخل ہونے اور نکل نے کے مصدری معنی میں ہے ۔ 6۔”زھق“ ”زھوق“ کے مادہ سے ہلاکت ونابودی کے معنی میں ہے اور ”زھوق“ (بروزن”قبول“)مبالغے کا صیغہ ہے اس کا معنی ہے ایسی چیز جو پوری طرح محو اور نابود ہوجائے ۔ 7۔ بحارالانوار،ج ۸۷،ص ۱۴۲ت۱۴۲۸ 8،8،8۔ بحارالا نوار،ج۸۷،ص ۱۴۲تا ۱۴۸ 9،9 بحارالا نوار،ج۸۷،ص ۱۴۲تا ۱۴۸ 10۔وسائل الشیعہ، ج۵،ص۲۶۸ 11۔وسائل الشیعہ، ج۵،ص۲۶۹ 12۔بحارالانوار،ج۸۷،ص ۱۴۰ 13۔کچھ فقہاء نے یہ احتیاط بیان کی ہے کہ شفع میں قنوت نہ پڑھا جائے یا پھر قصدِ رجاء سے پڑھا جائے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:78-81
۴۔ کامیابی حق کے لئے اور نابودی باطل کے لئے
۴۔ کامیابی حق کے لئے اور نابودی باطل کے لئے مندرجہ بالاآیات میں اور اور کُلی اور بنیادی اصول اور خدا کی ایک دائمی سنت کا تذکرہ ہے، یہ وہ اصول اور سنت ہے جو حق کے تمام پیروکاروں کے لئے ولولہ انگیز ہے، وہ یہ ہے کہ آخرکار حق کامیاب اور باطل قطعی طور پر نابود ہونے والا ہے ۔ باطل صولت ودولت کا مظاہرہ کرتا ہے،کرّ وفرو کھاتا ہے، کڑکتا اور گرجتا ہے لیکن اس کی عمر مختصر ہے اور آخر کار نابودی کے کھاٹ اتر جاتا ہے ۔ یا پھر قرآن کے بقول ۔باطل پانی کے اوپر کے جھاگ کی مانند ہے ؛آنکھ مچولی کرتا ہے، شور وغوغا برپا کرتا ہے اور پھر خاموش ہوجاتا ہے اور پانی کہ جو سببِ حیات ہے باقی رہ جاتا ہے ۔قرآنی الفاظ میں: <فَاٴَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْھَبُ جُفَاءً وَاٴَمَّا مَا یَنفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاٴَرْضِ (رعد:۱۷) اس بات کی دلیل خود لفظ”باطل“ میں پنہاں ہے کیونکہ باطل سے مراد ایسی چیز ہے جو عالمِ خلقت کے قوانین سے ہم آہنگ نہیں ہے اور جس کا واقعیت اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ، اس کا وجود بناوٹی ، پُر فریب، بے اصل اور بے بنیاد ہے، یہ اندر سے کھوکھلا ہے ، مسلّم ہے جس چیز کی یہ صفات ہوں وہ زیادہ دیر تک باقی نہیں رہ سکتی۔ لیکن”حق“ عین واقعیت ہے، راستی ودرستی پر مبنی ہے، اس کی اصل اور بنیاد ہے اس میں گہرائی ہے اوریہ قوانین آفرینش سے ہم آہنگ ہے ۔ اور ایسی چیز کو بہرحال باقی رہنا چاہیئے ۔ حق کے پیروکار ایمان کے ہتھیار سے لیس ہوتے ہیں ، وہ ایفائے عہد کی منطق پر یقین رکھتے ہیں، صدقِ حدیث، فداکاری اور سرفروشی ان کی خصوصیات ہیں، وہ شہادت تک جانبازی دکھاتے رہنے پر آمادہ ہوتے ہیں ، علم وآگاہی کے نور نے ان کا دل روشن کررکھا ہوتا ہے،وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور اس کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرتے ۔ یہی ان کی کامیابی کا راز ہے ۔ ۵۔ آیت”جاء الحق“ اور قیامِ مہدی (علیه السلام) بعض روایات میں ”جاء الحق وزھق الباطل“ کے جملے کی تفسیر قیامِ حضرت مہدی (علیه السلام) کے حوالے سے کی گئی ہے ۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: خدا کے اس کلام کا مفہوم یہ ہے کہ : اذا قام القائم ذھبت دولة الباطل۔ جس وقت امامِ قائم قیام کریں گے باطل کی حکومت ختم ہوجائے گی ۔(1) ایک اور روایت میں :جب امام مہدی پیدا ہوئے تو ان کے بازو پر کندہ تھا : ”جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا“۔(2) مسلم ہے کہ ان احادیث کا مطلب یہ نہیں کہ آیت کا مفہوم اسی ایک مصداق میں منحصر ہے بلکہ ان سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قیامِ مہدی اس آیت کے واضح ترین مصادیق میں سے ہے کہ جب پوری دنیا میں باطل پر حق کو آخری فتح حاصل ہوگی۔ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے حالات میں ہے کہ فتح مکہ کے روز آپ مسجدا لحرام میں داخل ہوئے وہاں عرب قبائل کے ۳۶۰بُت، خانہ کعبہ کے گرد رکھے ہوئے تھے، آپ اپنے عصائے مبارک سے ہر ایک کو یکے بعد دیگرے سرنگوں کرتے تھے اور مسلسل فرما رہے تھے: ”جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا“ آگیا حق اور مٹ گیا باطل،باطل کو تو مٹنا ہی تھا ۔ مختصریہ کہ یہ اللہ کا ایک کُلی قانون اور خلقت کا غیر متبدل اصول ہے ، ہر دَور میں اس کا اپنا مصداق ہے، پیغمبر اکرم صلی اللهعلیہ وآلہ وسلّم کے قیام اور شرک وبُت پرستی کے لشکر پر آپ کی کامیابی اس کا ایک روشن رُخ ہے اور اسی طرح عالمی ستمگروں اور جابروں کے خلاف قیام مہدی (علیه السلام) (ارواحنا الفداء) اس کا ایک اور تابناک مصداق ہے ۔ اسی طرح قانونِ الٰہی ہے کہ وہ راہ ِ حق کے راہیوں کو مشکلات میں پُرامید،پُر استقامت رکھتا ہے اور اسلام کے لئے ہماری کاوشوں پر ہمیں نشاط اور قوت بخشتا ہے ۔ ۱۔ 1۔و2۔نور الثقلین ،ج ۳،ص ۱۱۲، ۱۱۳
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:78-81
۲۔ ”مقامِ محمود“ کیاہے؟
۲۔ ”مقامِ محمود“ کیاہے؟ جیسا کے الفاظ بتا رہے ہیں ”مقامِ محمود“ ایک وسیع معنی رکھتا ہے، اس میں ہر وہ مقام شامل ہے جا لائق تعریف وستائش ہے لیکن مسلم ہے کہ یہاں ایسے ممتاز اور انتہائی اعلیٰ مقام کی طرف اشارہ ہے کہ جو پیغمبرِ اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کو عبادتِ شب، آہ ِ سحرگاہی اور دعائے نیم شب سے حاصل ہوا ہے ۔ مفسرین میں مشہور ہے اور ہم بھی پہلے کہہ چکے ہیںیہ آپ کے لئے مقامِ شفاعتِ کبریٰ ہے ۔ متعدد روایات میں بھی یہ تفسیر بیان ہوئی ہے، تفسیر عیاشی میں ہے کہ امام محمد باقر (علیه السلام) یا امام صادق علیہ السلام نے اس آیت”عسی ان یبعثک ربک مقامامحمودا“کی تفسیر میں فرمایا: ”ھی الشفاعة“ یہ شفاعت ہی ہے ۔ بعض مفسرین نے کوشش کی ہے کہ خودِ آیت کے مفہوم سے یہ حقیقت اخذ کریں، ان کا خیال ہے کہ”عسی ان یبعثک“اس بات کی دلیل ہے کہ یہ وہ مقام ہے جو خدا تجھے عطا کرے گا ایسا مقام کہ جو سب کو تعریف پر ابھارے گا کیونکہ سب کو اس سے فائدہ پہنچے گا، (کیونکہ زیرِ بحث جملے میں لفظِ”محمود“ مطلق طور پر آیاہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی قیدیا شرط نہیں ہے)۔ علاوہ ازیں تعریف وثنا ایک اختیاری عمل پرہوتی ہے اور اس میں صفات کی حامل چیز رسول اللہ کے عمومی مقامِ شفاعت کے سوا اور کوئی نہیں ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ مقام محمودپروردگار کے انتہائی قرب کا نام ہو کہ جس کے آثار میں سے ایک شفاعت کرنا بھی ہے ۔(غور کیجئے گا) اس آیت میں اگرچہ ظاہراً رسول اللہ مخاطب ہیں لیکن اس حکم کو ایک لحاظ سے عمومیت دی جاسکتی ہے اور کہا جاسکتا ہے کہ تمام با ایمان افراد کو جو تلاوتِ شب اور نمازِ شب کے الٰہی روحانی کا کو انجام دیتے ہیں ”مقامِ محمود “ سے اپنا حصہ لیں گے اور اپنے ایمان وعمل کے حساب سے بارگاہِ قربِ الٰہی تک رسائی حاصل کریں گے اور اسی نسبت سے راستے بھولے بھٹکوں کے شفیع اور دستگیر ہوں گے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہر مومن اپنے ایمان کی شعاع کے اعتبار سے مقامِ شفاعت سے ہمکنار ہوگا لیکن اس آیت کا اتم واکمل مصداق پیغمبر اکرم صلی اللهعلیہ وآلہ وسلّم کی ذاتِ گرامی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:78-81
۳۔ کامیابی کے تین عوامل
۳۔ کامیابی کے تین عوامل حق وباطل کے کے معرکوں میں باطل کا لشکر عام طور پر مقدار وسازوسامان کے کے لحاظ سے زیادہ بہتر ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود کم تعداد اور کم وسائل کے ہوتے ہوئے حق کا لشکر حیران کن کامیابی حاصل کرتا ہے، بدر، احزاب اور حنین کی جنگیں اس کی مثالیں ہیں، خود ہمارے زمانے میں ہم نے دیکھا کہ مستضعف حلقوں نے سُوپر طاقتوں کے خلاف اپنی انقلابی جد وجہد میں کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ یہ اس لئے ہے کہ حامیانِ حق خاص روحانی طاقت کے حامال ہوتے ہیں، یہی طاقت ایک ”انسان“ سے ایک ”امت“ بناتی ہے ۔ زیرِ بحث آیات میں کامیابی کے تین اہم عوامل بتائے گئے ہیں، مسلمانوں نے آج کل ان عوامل سے زیادہ تر دوری اختیار کر رکھی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ مستکبر دشمنوں سے مسلسل ہزیمتیں اٹھا رہے ہیں ۔ یہ تین عوامل یہ ہیں: ۱و۲۔کاموں میں سچائی کے ساتھ داخل ہونا اور نکلنا اور یہ طرزِ عمل مسلسل اختیار کئے رکھنا ۔ ”رَبِّ اٴَدْخِلْنِی مُدْخَلَ صِدْقٍ وَاٴَخْرِجْنِی مُخْرَجَ صِدْقٍ“ ۳۔ قدرت الٰہی پر بھروسہ اور خود اعتمادی نیز دوسروں سے ہر قسم کی وابستگی اور انحصار کا خاتمہ۔ <وَاجْعَلْ لِی مِنْ لَدُنْکَ سُلْطَانًا نَصِیرًا لہٰذا کامیابی کے لئے سچائی کی سیاست سے زیادہ موثر کوئی چیز نہیں اور استقلال، غیر پر عدمِ انحصاراور توکل علی اللہ سے بہتر وبرتر کوئی سہارا نہیں، مسلمان ان دشمنوںکے خلاف کیونکر کامیابی حاصل کرسکتے ہیں جنہوں نے ان کے وسائلِ حیات لوٹ لئے ہیں جب کہ وہ فوجی، اقتصادی اور سیاسی لحاظ سے خود انہی دشمنوں سے وابستہ ہیں، اور انہی پر انحصار کرتے ہیں ، وہ ہتھیار جو ہم نے ایک دشمن سے خریدا ہے اس کی مدد سے اس دشمن پر ہم کیسے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہ کیسا خام خیال اور غلط اندازِ فکر ہے ۔