وَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُورًا
When you recite the Quran, We draw a hidden curtain between you and those who do not believe in the Hereafter,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:45
[Pooya/Ali Commentary 17:45] Aqa Mahdi Puya says: There were spiritual barriers between the Holy Prophet and the disbelievers, because, inspite of what is stated in the preceding verse, they cut themselves off from the true nature and therefore were isolated from the messenger of Allah. The hidden veil, put by Allah between the Holy Prophet and them, sometimes made them unable to see him even when he was standing before them, while they were seeing other things.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:45-48
سوره اسراء آیت 44 - 47
۴۴ وَإِذَا قَرَاٴْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا ۴۵ وَجَعَلْنَا عَلیٰ قُلُوبِھِمْ اٴَکِنَّةً اٴَنْ یَفْقَھُوہُ وَفِی آذَانِھِمْ وَقْرًا وَإِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْآنِ وَحْدَہُ وَلَّوْا عَلیٰ اٴَدْبَارِھِمْ نُفُورًا ۴۶ نَحْنُ اٴَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُونَ بِہِ إِذْ یَسْتَمِعُونَ إِلَیْکَ وَإِذْ ھُمْ نَجْوَی إِذْ یَقُولُ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلاَّ رَجُلًا مَسْحُورًا ۴۷ انظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوا لَکَ الْاٴَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَایَسْتَطِیعُونَ سَبِیلًا ترجمہ ۴۵۔ اور جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تیرے اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے درمیان ایک غیر محسوس حجاب پیدا کردیتے ہیں ۔ ۴۶۔ اور ہم ان کے دلوں پر غلاف چڑھا دیتے ہیں تاکہ وہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں گرانی (پیدا کردیتے ہیں) اور جب تو قرآن میں اپنے پروردگار کو تنہا یاد کرتا ہے تو پشت کرلیتے ہیں اور تجھ سے پیٹھ پھیر لیتے ہیں ۔ ۴۷۔ اور ہم جانتے ہیں کہ وہ کیوں تیری باتیں کان لگا کر سنتے ہیں اور جب وہ آپس میں کانا پھوسی کرتے ہیں جبکہ ظالم کہتے ہیں کہ تم تو بس ایک سحر زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو۔ ۴۸۔ دیکھ! یہ تجھ پر کیسی پھبتیاں کستے ہیں اور اسی بناء پر یہ گمراہ ہوگئے ہیں اور یہ (حق کا) راستہ پاہی نہیں سکتے ۔ شان نزول مجمع البیان میں طبرسی نے، تفسیر کبیر میں فخر الدین رازی نے اور بعض دیگر مفسرین نے مندرجہ بالا آیات کی شان نزول کے بارے میں کہا ہے کہ ان میں سے پہلی آیت مشرکین کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ جب رات کے وقت آپ قرآن کی تلاوت کرتے اور خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھتے تو یہ لوگ آپ کو اذیت پہنچاتے ۔ آپ کو پتھر مارتے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے سے روکتے ۔ خدا تعالیٰ نے اپنے لطف و کرم سے ایسا کیا کہ وہ آپ کو اذیت نہ دے سکیں (اور شاید یہ اس طرح سے تھا کہ ان کے دلوں میں آپ کا رعب ڈال دیا تھا) ۔ (1) ایک اور روایت میں ہے کہ جس وقت رسول اللہ قرآن پڑھتے تو مشرکین میں سے دو آدمی دائیں طرف اور دو آدمی بائیں طرف کھڑے ہوجاتے ۔ تالیاں بجاتے، سیٹیاں بجاتے اور بلند آواز سے شعر پڑھتے تاکہ آپ کی آواز لوگوں کے کانوں تک نہ پہنچے ۔ (2) ابن عباس کہتے ہیں کہ کبھی کبھار ابوسفیان اور ابوجہل، رسول اللہ کے پاس آتے اور آپ کی باتیں سنتے ۔ ایک دن ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: مجھے سمجھ نہیں آتا کہ محمد کیا کہتا ہے؟ صرف یہ نظر آتا ہے کہ اس کے لب ہلتے ہیں ۔ ابو سفیان نے کہا: میں سوچتا ہوں کہ اس کی بعض باتیں حق ہیں ۔ ابوجہل نے اظہار کیا: وہ دیوانہ ہے ۔ ابولہب نے مزید کہا:وہ کاہن ہے ۔ ایک اور نے کہا: وہ شاعر ہے ۔ ان غیر موزوں اور ناروا باتوں اور تہمتوں کے بعد مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں ۔ (3) 1۔ ۔ مجمع البیان۔ 2۔ تفسیر کبیر، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔ 3۔ تفسیر کبیر، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:45-48
چند اہم نکات
۱۔ ان آیات کا مجموعی جائزہ: زیرنظر آیات میں گمراہ لوگوں کی حالت اور شناخت حق کی راہ میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کا عمدہ نقشہ کھینچا گیا ہے ۔ مجموعی طور پر یہ آیات کہتی ہیں کہ حق کی پہنچان میں ان کے لیے تین بڑی رکاوٹیں موجود ہیں، وہ نہ ہوں تو اُن کے لئے حق کا چہرہ دیکھنا آسان ہوجائے ۔ پہلی یہ کہ قرآن رسول اللہ سے کہتا ہے کہ تیرے اور ان کے درمیان ایک حجاب حائل ہے یہ حجاب سوائے بغض ، کینے، حسد اور عداوت کے کچھ اور نہیں کہ جو ان کے سینوں میں تیرے لیے موجود ہے ۔ اسی وجہ سے وہ تیری بلند شخصیت کو نہیں دیکھ پاتے اور تیری گفتار و رفتار کی عظمت کو نہیں سمجھ پاتے ۔ یہاں تک کہ اچھائیاں بھی انہیں برائیاں معلوم ہوتی ہیں ۔ دوسری یہ کہ وہ رسول اللہ سے کینہ اور حسدہی نہ رکھتے تھے بلکہ ان کے دلوں پر جہالت اور اندھی تقلید کے پردے بھی پڑے ہوئے تھے یہاں تک کہ وہ کسی شخص سے حق بات سننے کے لیے بھی تیار نہ تھے ۔ تیسری رکاوٹ شناختِ حق میں یہ حائل تھی کہ ان کے آلاتِ شناخت ہی حق قبول کرنے کے لئے آمادہ نہ تھے ۔ مثلاً ان کے کان ہی حق بات سے ایسی نفرت کرتے تھے کہ گویا حق بات کو دفع کرتے تھے اور اس کے سامنے گویا بہرے ہوجاتے تھے جبکہ اس کے برعکس باطل کی باتیں انہیں پسند تھیں ۔ باطل ان کے لیے لذت بخش تھا اور ان پر فوری اثر کرتا تھا ۔ خصوصاً یہ بات تو تجربے سے ثابت ہوئی ہے کہ جن باتوں کی طرف انسان رغبت نہ رکھتا ہو انہیں مشکل ہی سے سنتا ہے اور جن کی طرف میلان رکھتا ہے انہیں خاص تیزی کے ساتھ سنتا اور سمجھتا ہے گویا اندرونی میلانات بھی انسان کے ظاہری حواس پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اسے اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں ۔ ان تین موانع کا نتیجہ یہ تھا کہ: اولاً: وہ کلمہ حق سننے سے بھاگتے تھے خصوصاً جب اللہ کی وحدانیت کے بارے میں گفتگو ہوتی کہ جوان کے تمام مشرکانہ عقائد کی بنیاد ہی سے متصادم تھی تو وہ تیزی سے بھاگ کھڑے ہوتے تھے ۔ ثانیاً: وہ اپنے انحرافی خط کو صحیح ثابت کرنے کے لیے رسول اللہ اور ان کے ارشادات کے بارے میں غلط توجہیں کرتے تھے اور آپ پر طرح طرح کی تہمتیں لگاتے تھے ۔ کوئی ساحر کہتا اور کوئی شاعر ، کوئی آپ کو مجنون قرار دیتا اور کوئی دیوانہ۔ تمام دشمنانِ حق کہ جن کے اعمال و صفات رذیلہ ان کے لیے حجاب ہیں، کی یہی حالت ہے ۔ اسی مقام پر ہم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص راہِ حق اور صراط مستقیم پر چلنا چاہتا ہے اور انحراف و گمراہی سے بچنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسے اپنی اصلاح کی کوشش کرنا چاہئے ۔ دل کو بغض و کینہ اور حسد و عناد سے پاک کرنا چاہیے ۔ روح کو غرور و نخوت سے پاک کرنا چاہیے ۔ خلاصہ یہ کہ اپنے وجود کو صفاتِ رذیلہ سے پاک کرنا چاہیے چونکہ جب دل کا آئینہ ان رذائل سے پاک صاف ہوکر صیقل ہوجائے گا تو پھر تمام حقائق اس پر اپنا پَرتَو ڈال سکیں گے یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بے علم پاک دل افراد حقائق سمجھ لیتے ہیں لیکن غیر تہذیب یافتہ عالم نہیں سمجھ پاتے ۔ ۲۔ خدا کی طرف نسبت کا مفہوم: دوسری بہت سی آیات کی طرح زیر بحث آیات میں بھی حجابوں کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے ۔ فرمایا گیا ہے: ہم ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں ۔ تیرے اور ان کے درمیان ہم حجاب حائل کردیتے ہیں اور ان کے کانوں میں سنگینی قرار دیتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے ایسی تعبیرات سے جاہل افراد مکتبِ جبر کا مفہوم لیں حالانکہ یہ تو ان کے اعمال ہی کے آثار اور نتائج ہیں ۔ در حقیقت وہ خود ہی ہیں جو اپنے گناہوں اور بری صفات کے ذریعے یہ حجاب پیدا کرتے ہیں لیکن چونکہ ہر چیز کی خاصیت خدا کی طرف سے ہے اور عملِ قبیح اور صفاتِ رذیلہ میں خدانے یہ تاثیر پیدا کی ہے لہٰذا اس خاصیت اور حجاب کی نسبت خدا کی طرف بھی دی جاسکتی ہے ۔ اس بارے میں گزشتہ مباحث میں ہم بارہا گفتگو کرچکے ہیں اور اس سلسلے میں قرآن سے بھی بہت سے شواہد پیش کیے حا چکے ہیں ۔ ۳۔ حجاب مستور کیا ہے؟ : اس سلسلے میں مفسرین کی کئی مختلف آراء ہیں ۔ مثلاً: (الف) بعض ”مستور“کو ”حجاب“ کی صفت سمجھتے ہیں کہ قرآن کی تعبیر کا ظہور یہ ہے کہ حجاب نگاہوں سے پوشیدہ ہیں ۔ در حقیقت کینہ و عداوت اور حسد وبغض کے حجاب ایسے نہیں ہیں جو آنکھ سے دکھائی دیں بلکہ ان کے باعث جس سے حسد اور کینہ ہوتا ہے اُس کے اور اِس کے درمیان ایک ضخیم پردہ حائل ہوجاتا ہے ۔ (ب) بعض دیگر مفسرین ”مستور “کو ”ساتر“ کے معنی میں سمجھتے ہیں (کیونکہ اسم مفعول بعض اوقات فاعل کے معنی میں آتا ہے جیسا کہ آیات مذکورہ میں بھی بعض مفسرین ”مسحور“ کو ”ساحر“ کے معنی میں سمجھتے ہیں) ۔ (1) (ج) بعض ”مستور“ کو ”حجاب“ کی مجازی توصیف سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد یہ نہیں ہے کہ یہ حجاب مستور ہے بلکہ وہ حقائق جو اس حجاب کے ماو راء ہیں وہ مستور ہیں (مثلاً پیغمبر اکرم کی شخصیت آپ کی دعوت کی عظمت اور آپ کے ارشادات کی عظمت) ۔ لیکن ان تینوں تفسیروں میں غور کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پہلی تفسیر ظاہر آیت سے زیادہ ہم آہنگ ہے، بعض روایات میں بھی ہے کہ بعض اوقات رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے سخت ترین دشمن آپ کی طرف آتے جبکہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ قرآنِ مجید کی تلاوت میں مشغول ہوتے لیکن وہ آپ کو نہ دیکھ پاتے گویا آپ کی خیرہ کن عظمت کے باعث یہ دل کے اندھے آپ کو نہ دیکھ پاتے اور نہ پہچان پاتے لہٰذا آپ ان کی طرف سے اذیت سے محفوظ رہتے ۔ ۴۔ ”اکنہ “اور ”وقر“ کیا چیز ہے؟ ”اکنہ“ ”کنان“ (برورزن ”زیان“) کی جمع ہے، یہ در اصل ہر قسم کی ڈھانپتے اور مستور کرتے ہیں لیکن ”کن“ (بروزن ”جِنّ“)اس برتن کو کہتے ہیں جس میں کسی چیز کو محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ ”کن“ کی جمع ”اکنان“ ہے ۔ بعد ازان اس معنی میں وسعت پیدا ہوگئی اور ہر چیز کہ جو مستور ہونے کا باعث بنے کے لئے بولا جانے لگا، مثلاً پردہ، گھر اور وہ اجسام کہ جن کے پیچھے انسان اپنے آپ کو چھپائے ۔ ”وقر“ (بروزن ”جبر“) سنگینی کے معنی میں ہے کہ جو کان میں پیدا ہوجائے اور ”وقر“ (بروزن ”رزق“) بارِسنگین کے معنی میں ہے ۔ ۵۔ ”ما یستمعون بہ“ کی تفسیر اس کی مفسرین نے دو تفسیر کی ہیں: طبرسی نے مجمع البیان میں اور فخر الداین رازی نے تفسیر کبیر میں اور بعض دیگر مفسّرین نے اسے ”سببِ استماع“ کے معنی میں لیا ہے یعنی ہم جانتے ہیں کہ وہ تیری باتیں کیوں کان لگار سنتے ہیں، ادراکِ حق کے لئے؟ نہیں بلکہ استہزاء اور جوڑ توڑ لگانے اور الٹی سیدھی توجیہات کرنے کے لئے مختصر یہ کہ گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کے لئے علامہ طباطبائی نے المیزان میں اور بعض دیگر مفسّرین نے اسے ”وسیلہ استماع“ کے معنی میں لیا ہے یعنی ہم جانتے ہیں کہ وہ کن کانوں سے تیری باتیں کان لگار سنتے ہیں اور ہم ان کے دلوں اور ان کی سرگوشیوں سے آگاہ ہیں ۔ (پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے) ۔ ۶۔ وہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کو ”مسحور“ کیوں کہتے تھے؟ ”مسحور“ کا معنی ہے سحر شدہ اور ”ساحر“ کا معنی ہے سحر کرنے والا ۔ دشمن رسول لله کو ”مسحور“ یا تو اس بناء پر کہتے تھے کہ وہ اس طرح آپ کی طرف جنون کی نسبت دینا چاہتے تھے اور کہنا چاہتے تھے کہ جادوگروں نے آپ کو فکر وعقل پر اثر کیا ہے اور ساحروں نے (معاذ الله) آپ کے حواس مختل کردیئے ہیں ۔ بعض مفسّرین نے یہ احتمال بھی ظاہر کیا ہے کہ ”مسحور“ یہاں ”ساحر “کے معنی میں ہے (کیونکہ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اسم مفعول کبھی اسمِ فاعل کے معنی میں آتا ہے) ۔ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ رسول الله کا غیر معمولی کلام جادو ہے جو لوگوں کے دلوں پر اثر کرتا ہے ۔ ضمنی طور پر یہ بات کہہ کر وہ آپ کے کلام کی عجیب تاثیر کا اعتراف کرتے تھے ۔ ۷۔ توحید کی آواز پر مشرکین کا خوف زیرِ بحث آیات میں ہم نے پڑھا ہے مشرکین خاص طور پر توحید کی آواز سن کر سخت خوف میں مبتلا ہوجاتے تھے اور بھاگ کھڑے ہوتے تھے کیونکہ ان کی تمام تر زندگی کی بنیاد شرک اور بت پرستی تھی اور ان کے معاشرے پر مشرکانہ نظام حکمران تھا ۔ اگر توحید کی بنیاد پڑجاتی تو نہ صرف ان کے مذہبی عقائد پر ضرب پڑتی تھی بلکہ ان کا معاشرتی، اقتصادی، سیاسی، ثقافتی اور تمدنی نظام بھی جو شرک پر مبنی تھا وہ تباہ ہوکر رہ جاتا، اس طرح حکومت پسے ہوئے مستضعف لوگوں کے ہاتھ آجاتی۔ مستکبرین کا خاتمہ ہوجاتا، اور استعمار اور لوٹ کھسوٹ کہ جو مشرکانہ نظاموں کا نتیجہ ہے ختم ہوجاتا، اور طبقاتی تفاوت ختم ہوجاتا تھا، لہٰذا جن کے اقتدار کا انحصار شرک پر تھا ان کی سخت کوشش تھی کہ توحید کی پکار کسی کے کان تک نہ پہنچنے پائے لیکن جیسا کہ زیرِ بحث آیات اشارہ کرتی ہیں وہ ظالم اور ستمگر لوگ تھے کہ جو مستضعف عوام پر بھی ظلم کرتے تھے اور اپنے آپ پر بھی، کیونکہ ہر ظالم منحرف اپنی قبر آپ کھودتا ہے ۔ یہ بات جاذبِ نظر ہے کہ قرآن کہتا ہے کہ مشرکین چاہتے تھے کہ انھیں فسق وفجور اور گناہ جاری رکھنے کا کوئی جواز ہاتھ آجائے لہٰذا باربار پوچھتے تھے قیامت کا دن کب آئے گا: <بَلْ یُرِیدُ الْإِنسَانُ لِیَفْجُرَ اٴَمَامَہُ، یَسْاٴَلُ اٴَیَّانَ یَوْمُ الْقِیَامَةِ ”بلکہ انسان تو یہ چاہتا ہے کہ ہمیشہ بُرائی کرتا رہے ۔ (جبھی تو) پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا“۔ (قیامت/۵,۶) یہ اس طرف اشارہ ہے کہ یہ بھی ذمہ داری اور جوابدہی سے فرار کے لئے ایک بہانہ سازی تھی۔ ۴۹ وَقَالُوا اٴَئِذَا کُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا اٴَئِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِیدًا ۵۰ قُلْ کُونُوا حِجَارَةً اٴَوْ حَدِیدًا ۵۱ اٴَوْ خَلْقًا مِمَّا یَکْبُرُ فِی صُدُورِکُمْ فَسَیَقُولُونَ مَنْ یُعِیدُنَا قُلْ الَّذِی فَطَرَکُمْ اٴَوَّلَ مَرَّةٍ فَسَیُنْغِضُونَ إِلَیْکَ رُئُوسَھُمْ وَیَقُولُونَ مَتیٰ ھُوَ قُلْ عَسیٰ اٴَنْ یَکُونَ قَرِیبًا ۵۲ یَوْمَ یَدْعُوکُمْ فَتَسْتَجِیبُونَ بِحَمْدِہِ وَتَظُنُّونَ إِنْ لَبِثْتُمْ إِلاَّ قَلِیلًا ترجمہ ۴۹۔ اور انھوں نے کہا کہ بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے اور بکھر جائیں گے تو دوبارہ نئی خلقت حاصل کریں گے ۔ ۵۰۔ کہہ دو کہ تم پتھر یا لوہا ہوجاوٴ۔ ۵۱۔ یا جو مخلوق تمھاری نظر میں ان سے زیادہ سخت ہو ( اور جس میں زندگی کے دُور دُور تک کوئی آثار نہ ہوں ۔ پھر بھی خدا قادر ہے کہ تمھیں نئی زندگی کی طرف پلٹادے) ۔ عنقریب وہ کہیں گے کون ہمیں دوبراہ پلٹائے گا ۔ کہہ دو: وہی جس نے تمھیں پیدا کیا تھا ۔ وہ (تعجب اور انکار سے) تیرے سامنے اپنے سر جھکاتے ہیں اور کہتے ہیں:ایسا کس وقت ہوگا ۔ کہہ دو: شاید نزدیک ہو۔ ۵۲۔ وہی دن کہ جب وہ تمھیں (تمھاری قبروں سے) بُلائے گا تم بھی جواب دوگے اس حالت میں کہ اُس کی حمد کررہے ہوگے اور خیال کروگے کہ تم تھوڑی سی مدت ہی (عالمِ برزخ میں) رہے ہو۔ 1۔ اخفش سے منقول ہے کہ وہ کہتا ہے:”اسم مفعول کبھی اسم فاعل کے معنی میں ہوتا ہے مثلاً ”میمون“ ”یامن“ کے معنی میں اور ”مشئوم“ ”شائم“ کے معنی میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:45-48
جاہل مغرور
گزشتہ آیات کے بعد بہت سے لوگوں کے سامنے یہ سوال ابھرتا ہے کہ مسئلہ توحید اس قدر واضح ہے کہ تمام موجودات عالم اس کی گواہی دیتے ہیں تو پھر مشرکین اس حقیقت کو کیوں قبول نہیں کرتے، وہ یہ گویا اور رسا آیات قرآن سننے کے باوجود بیدار کیوں نہیں ہوتے؟ ہوسکتا ہے زیرِ بحث آیات اس سوال کے جواب کی طرف اشارہ ہوں ۔ پہلی آیت کہتی ہے: اے رسول! ”جس وقت تو قرآن پڑھتا ہے ہم تیرے اور آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے درمیان پردہ حائل کردیتے ہیں“ (وَإِذَا قَرَاٴْتَ الْقُرْآنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِینَ لَایُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ حِجَابًا مَسْتُورًا) ۔ یہ حجاب در اصل ہٹ دھرمی، تعصب، خود پرستی، غرور و تکبر اور جہالت ہی تھی کہ جوان کی فکر و نظر سے حقائق قرآن چھپادیتی تھی اور انہیں اجازت نہ دیتی تھی کہ وہ توحید و معاد، دعوتِ پیغمبر کی صداقت اور اس قسم کے دیگر حقائق کا ادراک کرسکیں ۔ لفظ ”مستور“یہاں ”حجاب“ کی صفت یا ذاتِ پیغمبر کی حقائقِ قرآن کی، اس بارے میں مفسرین نے مختلف آراء پیش کی ہیں ۔ اس سلسلے میں ہم ان آیات کی تفسیر کے آخر میں بحث کریں گے ۔اسی طرح خدا کی طرف سے اس حجاب کے پیدا ہونے کی کیفیت کے بارے میں بھی وہیں پر بحث آئے گی۔ اگلی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے: ”ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں تاکہ وہ قرآن کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں گرانی اور بوجھ ہے“(وَجَعَلْنَا عَلیٰ قُلُوبِھِمْ اٴَکِنَّةً اٴَنْ یَفْقَھُوہُ وَفِی آذَانِھِمْ وَقْرًا) ۔اسی لیے جب تو اپنے پروردگار کو قرآن میں تنہا یاد کرتا ہے تو وہ پیٹھ پھیر لیتے ہیں (وَإِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْآنِ وَحْدَہُ وَلَّوْا عَلیٰ اٴَدْبَارِھِمْ نُفُورًا) ۔ واقعاً حق سے فرار کیسی عجیب بات ہے یعنی بات ہے یعنی سعادت و نجات سے فرار، خوش بختی اور کامیابی سے فرار اور فہم و شعور سے فرار۔ اس معنی کی نظیر سورہٴ مدثر کی آیات ۵۰ اور ۵۱ میں بھی ہے: <کَاٴَنَّھُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ ۔ ”گویا وہ خو فزدہ گدھے ہیں کہ غضبناک شیر سے بھاگ رہے ہیں“۔ مزید فرمایا گیا: ہم جانتے ہیں کہ وہ کیوں تمہاری باتیں کان دھر کر سنتے ہیں ( نَحْنُ اٴَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُونَ بِہِ إِذْ یَسْتَمِعُونَ إِلَیْک) ۔ اور جب وہ آپس میں سر گوشیاں اور کان پھونسیاں کرتے ہیں ( وَإِذْ ھُمْ نَجْوَی) ۔ جس وقت ظالم لوگ مومنین سے کہتے ہیں ہیں کہ صرف تم ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جو سحر زدہ ہے اور ساحروں نے جس کی عقل و ہوش کو ختم کردیا ہے (إِذْ یَقُولُ الظَّالِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ إِلاَّ رَجُلًا مَسْحُورًا) ۔ یہ لوگ در اصل ادراک حقیقت کے لیے تیرے پاس نہیں آتے اور تیری باتیں دل کے کانوں سے نہیں سنتے بلکہ ان کا مقصد تو یہ ہے کہ وہ آکر مخل ہوں اور اگر ہوسکے تو مومنین کو راستے سے بھٹکا دیں ۔ اصولی طور پر جس کے دلپر پردہ پڑا ہو اور جس کے کان ایسے بوجہل ہوں کہ وہ حق بات سن ہی نہ سکے وہ مردان حق کی باتیں ایسے مقاصد کے علاوہ نہیں سنتے ۔ زیرِ بحث آخری آیت میں پیغمبر اکرم کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے مختصرسی عبارت میں ان گمراہوں کو دندان شکن جواب دیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: دیکھ! تیرے بارے میں کیسی کیسی پھبتیاں کستے ہیں (کوئی تجھے جادو گر کہتا ہے، کوئی سحر زدہ ، کوئی کاہن اور کوئی مجنون) ، یہی وجہ ہے کہ وہ گمراہ ہوئے ہیں اور راہِ حق پانے کی سکت نہیں رکھتے (انظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوا لَکَ الْاٴَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَایَسْتَطِیعُونَ سَبِیلًا) ۔ ایسا نہیں کہ راستہ واضح نہیں ہے اور حق کا چہرہ چھپ گیا ہے بلکہ ان کے پاس چشم بینا نہیں ہے اور وہ بعض و جہالت، تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے اپنی عقل و خرد گنوا بیٹھے ہیں ۔