لَّا تَجْعَلْ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَّخْذُولًا
Do not set up another god besides Allah, or you will sit blameworthy, forsaken.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:22
[Pooya/Ali Commentary 17:22]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:22-25
ماں باپ کا انتہائی احترام
کزشتہ دو آیات میں ادلاد کے لیے ماں باپ کا انتہائی ادب واحترام بیان کیاگیا ہے کہ اس سلسلہ میں مختلف پہلو قابل غور ہیں : (۱ )ایک توان کے عالمِ پیری کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب وہ زیاوہ توجہ، محبت اور احترام کے محتاج ہوتے ہیں ۔فرمایا گیا ہے کہ ان سے ذرہ بھر اہانت آمیز بات نہ کرو کیو نکہ ہوسکتاہے بڑھا پے کی وجہ سے اس عالم کو پہنچ چکے ہوں کہ ادب دوسرے کی مدد کے بغیر چل پھرنہ سکتے ہوں اور نہ اپنی جگہ سے اٹھ سکتے ہوں یہاں تک کہ ہو سکتا ہے کہ گندگی بھی اپنے سے دور نہ کر سکتے ہوں ۔ایسی حالت میں ادلاد کی بہت بڑی آزمایش شروع ہوجاتی ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس حالت میں اولاد ماں باپ کے وجود کو رحمت سمجھتی ہے یا مصیبت، کیا ایسے میں کافی صبر وحوصلہ کے ساتھ ماں باپ کی پورے احترام سے نگہداشت کرتی ہے یا گھٹیا اور اہانت آمیز الفاظ کے ساتھ انہیں زبان کے نشتر چبھوتی ہے، یا یہاں تک کہ بعض اوقات خدا سے ان کی موت کا تقاضا کرکے انہیں اذیت پہنچاتی ہے ۔ (۲)قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ اس موقع پر انہیں”اف “تک نہ کہو یعنی ناراحتی، پریشانی اور تنفر کا اظہار نہ کرو۔ قرآن مزید کہتا ہے کہ ان سے بلند اور اہانت آمیز آواز سے بات نہ کرو۔ مزید تاکید کرتا ہے کہ ان سے کریمانہ اور شریفانہ لہجے میں کلام کرو۔ بہ سب چیزیں انتہائی ادب سے گفتگو کرنے کے بارے میں ہیں کیونکہ دل کی کلید زبان ہے ۔ (۳) نیز قرآن عجز و انکساری کا حکم دیتا ہے ۔ ایسی انکساری جس سے محبت اور لگاوٴ ظاہر ہو نہ کہ کوئی اور چیز۔ (۴)نیز آخر میں یہ تک کہتا ہے کہ جب بارگاہ خداوندی کا رخ کرو تو(وہ زندہ ہو یا نہ ) انہیں فراموش نہ کرو اور ان کے لیے رحمت پروردگار کا تقاضا کرو۔ اس تقاضے کے ساتھ خصوصیت سے یہ دلیل رکھو کہ خداوندا! جس طرح انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی تو بھی ویسے ہی اپنی رحمت ان کے شاملِ حال فرما ۔ دیگر چیزوں کے علاوہ اس سے یہ اہم نکتہ معلوم ہوتاہے کہ اگر ماں باپ اس قدر ناتواں ہوجائیں کہ تنہا چلنے پھرنے کے قابل نہ رہیں اور گندگی اپنے سے دور نہ کرسکیں تو پھر بھی انہیں فراموش نہ کرو و کیونکہ تم بھی بچپن میں اسی طرح تھے اور و ہ تمہاری حفاظت اور تجھ سے محبت میں کوئی دریغ نہ کرتے تھے لہٰذا ان کی محبت کا جواب ویسی ہی محبت سے دو۔ نیز ممکن ہے ماں باپ کے حقوق کی ادائیگی ، ان کا احترام اور ان کے سامنے انکساری کے معاملے میں اولاد سے جان بوجھ کر یا لا علمی میں کچھ لغزشیں ہو جائیں لہٰذا زیرِ بحث آخری آیت میں قرآن کہتاہے: جو کچھ تمہارے دل میں ہے پروردگار اس سے زیادہ آگاہ ہے(بُّکُمْ اٴَعْلَمُ بِمَا فِی نُفُوسِکُمْ) ۔ کیونکہ اس کا علم تمام پہلووں سے حضور، ثابت اور ازلی و ابدی ہے اور ہر طرح سے غلطی اور اشتباہ سے پاک ہے جبکہ تمہارا علم ان صفات کا حامل نہیں ہے لہٰذا اگر تم سے سرکشی کی ارادے کے بغیر حکمِ الٰہی کے خلاف ماں باپ کے احترام اوران سے حُسنِ سلوک میں کوئی لغزش ہوجائیں اور تم فوراً پشیمان ہوکر توبہ و تلافی کا رُخ کرو تو یقینا رحمت الٰہی تمھارے شاملِ حال ہوگی۔” اگر تم صالح اور نیک ہو اور توبہ کرتے ہو، کیونکہ خدا توبہ کرنے ولوں کو بخشنے والا ہے“(إِنْ تَکُونُوا صَالِحِینَ فَإِنَّہُ کَانَ لِلْاٴَوَّابِینَ غَفُورًا) ”اٴَوّاب“ ”اٴَوب“ (بروزن ”قَوم“)کے مادہ سے ہے ۔ یہ اس بازگشت کو کہتے ہیں جس میں ارادہ شامل ہو جبکہ ”رجوع“بھی بازگشت کوکہتے ہیں لیکن ضروری نہیں کہ ارادہ بھی اس میں شامل ہو۔اسی بناء پر ”توبہ“کو ”اوبہ“ کہا جاتا ہے کیونکہ توبہ در حقیقت خدا کی طرف ارادے کے ساتھ بازگشت ہے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ صیغہ مبالغہ کاذکر خداکی طرف بازگشت اور رجوع کے متعدد عوامل کی طرف اشارہ ہوکیونکہ : (۱)پروردگار پر ایمان، (۲) قیامت کی عدالت کی طرف توجہ، (۳)بیداریٴ ضمیر اور (۴)گناہ کے اواقب و آثار کی طرف توجہ یہ چاروں با ہم مل کر انسان کو تاکید در تاکید کے ذریعے کج روی سے نکال کر خدا کی طرف لے جاتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:22-25
اہم اسلامی احکام کا سلسلہ
توحید اور ماں باپ سے حسن سلوک زیرِ نظرِ آیات اسلامی احکام کے ایک سلسلے کا آغاز ہیں یہ سلسلہ توحید اور ایمان سے شروع ہوتا ہے توحید تمام مثبت اور اصلاحی کاموں کے اسباب کا خمیر ہے ۔توحید سے احکام کے بارے میں گفتگو شروع کرکے ان آیات کا گزشتہ آیات سے تعلق باقی رکھا گیا ہے کیونکہ گزشتہ آیات میں ایمان، کوشش اور دار آخرت کا ارادہ رکھنے کے بارے میں گفتگو تھی۔ نیز یہ اس امر کی بھی تاکید ہے کہ قرآن صاف ترین اور بہترین راستہ کہ طرف دعوت دینے والا ہے ۔ توحید کے ذکر سے بعد شروع کرتے ہوئے قران کہتا ہے:”الله“ خدائے یگانہ کے ساتھ کوئی معبود قرار نہ دے(لَاتَجْعَلْ مَعَ اللهِ إِلَھًا آخَرَ) ۔ قرآن یہ نہیں کہتا کہ خدا کے ساتھ دوسرے معبود کی پرستش نہ کرو بلکہ کہتا ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور کو معبود قرار نہ دو۔ یہ بات زیادہ وسیع مفہوم رکھتی ہے ۔ یعنی عقیدے میں، عمل میں، دعامیں اور پرستش میں ۔ کسی حالت میں بھی الله کے ساتھ کسی اور کہ معبود قرار نہ دو۔ اس کے بعد شرک کا ہلاکت انگیز نتیجہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:اگر تم اس کے لیے شریک کے قائل ہوگئے تو مذمت اور رسوائی میں ڈوب جاوٴ گے(فَتَقْعُدَ مَذْمُومًا مَخْذُولً) ۔ لفظ ”قعود“(بیٹھ جانا) یہاں ضعف و ناتوامی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ عربی ادب میں لفظ ضعف کے لیے کنایہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔ مثلاً ”قعد بہ الضعف عن القتال“ ناتوانی کی وجہ سے دشمن سے جنگ کرنے سے بیٹھ گیا ۔ مذکورہ بالا جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک انسان میں تین بہت برے اثر مرتب کرتا ہے ۔ (۱)شرک ضعف وناتوانی اور ذلت و زبوں حالی کاسبب ہے جبکہ قیام، حرکت اور سر فرازی کا عمل ہے ۔ (۲)شرک مذمت و سرزنش کا سبب ہے کیونکہ یہ ایک واضح انحرافی راستہ ہے، منطقِ عقل کا انکار ہے نعمتِ پروردگار کا واضح کفران ہے ۔ جو شخص ایسا انحراف اختیار کرے وہ قابلِ مذمت ہے ۔ (۳)شرک مشرک کو اس کے بنائے معبودوں کے پاس چھوڑ دیا ہے اور خدا اس کی مدد سے ہاتھ اٹھا لیتا ہے ۔ بناوٹی معبود بھی چونکہ کسی کہ مدد کرنے کے قابل نہیں اور خدا بھی ان افراد کی مدد ترک کردیتا ہے تو وہ”مخذول“ یعنی بے یار و مددگار ہوکر رہ جاتے ہیں ۔ قرآن کی دوسری آیات میں بھی یہی مفہوم کسی اور شکل میں بیان کیا گیا ہے ۔ سورہ عنکبوت کی آیہ ۴۱ میں ہے: <مَثَلُ الَّذِینَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِ اللهِ اٴَوْلِیَاءَ کَمَثَلِ الْعَنکَبُوتِ اتَّخَذَتْ بَیْتًا وَإِنَّ اٴَوْھَنَ الْبُیُوتِ لَبَیْتُ الْعَنْکَبُوتِ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُونَ غیر خدا کو اپنا معبود بنانے والوں کی مثال مکڑی کی سی ہے جس نے کمزور اور بے بنیاد گھر کو اپنا سہارا بنا رکھا ہے اور کمزور ترین گھر مکڑی کا ہے ۔ توحید کے بعد اس پر تاکید کے ساتھ انبیاء کی انسانی تعلیمات میں سے ایک انتہائی بنیادی تعلیم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:” تیرے پروردگار نے حکم دیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو “(وَقَضَی رَبُّکَ اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا) ”قضاء“ ”امر“ کی نسبت زیادہ تاکید کا مفہوم رکھتا ہے اور قطعی و محکم فرمان کا معنی دیتا ہے ۔ یہ لفظ اس مسئلے میں پہلی تاکید ہے ۔ توحید۔ کہ جو اسلام کی عظیم ترین بنیاد ہے، ماں باپ سے نیکی کرنے کو اس کے ساتھ قرار دینا اس اسلامی حکم کی اہمیت کے لیے دوسری تاکید ہے ۔ لفظ ”احسان“ یہاں مطلق ہے ۔ اس میں ہر قسم کی نیکی کا مفہوم مضمر ہے ۔ یہ اس معاملے پر تیسری تاکید ہے ۔ اسی طرح لفظ ”والذین“ کا اطلاق مسلمان اور کافر دونوں پر ہوا ہے ۔ یہ اس مسئلے پر چوتھی تاکید ہے ۔ لفظ ”احساناً“یہاں نکرہ صورت میں ہے جو ایسے مواقع پر بیان عظمت کے لیے آتا ہے ۔ یہ پانچویں تاکید ہے(۱) ۔ بعض کا نظریہ ہے کہ ”احسان“ عام طورپر ”الیٰ“ کے ساتھ متعدی ہوتا ہے ”احسن الیہ“ (اس سے احسان کیا“ اور کبھی ”باء“ کے ذریعہ متعدی ہوتا ہے ۔ یہ تعبیر شاید دیکھ بھال کرنے کا معنی دینے کے لئے ہو، یعنی ذاتی طور پر بغیر کسی واسطے کے ماں باپ سے حُسنِ سلوک اور احترام ومحبت کا مظاہرہ کرو، یہ اس مسئلے کے لئے چھٹی تاکید ہے ۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ حکم عمومی عموماً امر اثباتی کے لیے ہوتا ہے حالانکہ یہاں نفی پر ہے (تیرے پروردگار نے حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کرو) ہوسکتا ہے یہ اس بناء پر ہو کہ لفظ ”قضیٰ“ سے سمجھے جاتا ہے کہ دوسرا جملہ اثباتی شکل میں مقدر ہے اور معنی کے لحاظ سے اس طرح ہے : تیرے پروردگار نے تاکیدی حکم دیا ہے کہ اس کی پرستش کر و، اس کہ غیر کی نہ کرو ۔ یایہ کہ نفی اور اثبات پر مشتمل یہ جملہ ”اٴَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاہُ“ایک اثباتی جملے کی حیثیت رکھتا ہے یعنی پروردگار کے لیے عبادت منحصر ہے کا اثبات ۔ اس کہ بعد ماں باپ سے حسن سلوک کا ایک واضح مصداق بیان کیا گیا ہے : جب ان دونوں میں سے ایک یادونوں تیرے پاس بڑھاپے تک پہنچ جائیں اور شکستہ سِن ہوجائیں (اس طرح سے انہیں تیری طرف سے مستقل دیکھ بھال کی احتیاج ہو ) توان کے لیے کسی طرح سے محبت میں دریغ نہ کرنا اور ان کی تھوڑی سی بھی اہانت نہ کرنا یہاں تک کہ خفیف ساغیر موٴد بانہ لفظ ”اُف“تک منہ سے نہ نکالنا (إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اٴَحَدُھُمَا اٴَوْ کِلَاھُمَا فَلَاتَقُلْ لَھُمَا اٴُفٍّ) ۔ (۱) انہیں جھڑک نہ دینا اور ان کے سامنے بلند آواز نہ بولنا (وَلَاتَنْھَرْھُمَا) ۔بلکہ سنجیدہ ‘لطیف کریمانہ شریفانہ انداز سے کلام کرنا (وَقُلْ لَھُمَا قَوْلًا کَرِیمًا) ۔ اور تنہائی عجر وانکساری سے ان کے سامنے پہلو جھکا ئے رکھنا (وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ) ۔اور کہو : پروردگار ا اپنی رحمت ان کے شامل حال کر جس طرح کہ انہوں نے بچپن میں پرورش کی ہے (وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِی صَغِیرًا) ۔ یعض دوسروں کے بقول ”ان“ شرطیہ اور ”ما“ زائدہ سے مرکب ہے جو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ لفظ شرط اس فعل پر آسکے جو نون تاکید سے موٴکد ہے ۔ (المیزان) ۱۔ ”إِمَّا یَبْلُغَنَّ“ میں ”إِمَّا“بعض کے بقول ”ان“ شرطیہ اور ”ما“ شرطیہ کا مرکب ہے جو کہ تاکید کے لئے یکے بعد دیگرے آئے ہیں ۔ (تفسیر فخر الدین رازی)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:22-25
چند اہم نکات
۱۔ منطقِ اسلام میں والدین کا احترام: اگر چہ انسانی جذبات اور حق شناسی والدین کی احترام گزاری کے لئے کافی ہے لیکن اسلام ایسے امور میں بھی خاموشی روا نہیں رکھتا جن میں عقل، جذبات اور طبعی میلانات واضح رہنمائی کرتے ہیں بلکہ ایسے امور بھی اسلام تاکید کے طور پر ضروری احکام صادر کرتا ہے ۔ والدین کے احترام کے بارے میں اسلام نے اس قدر تاکید کی ہے کہ اتنی تاکید بہت کم کسی مسئلہ میں کی گئی ہے ۔ نمونے کے طور پر ہم چندایک پہلووٴں کی طرف اشارہ کرتے ہیں: (۱) قرآن مجید میں چار سورتوں میں مسئلے توحید کے فوراً بعد والدین سے حسن سلوک کا حکم آیا ہے ۔ ان دونوں مسائل کا اکھٹا بیان ہونا اس امر کو واضح کرتا ہے کہ اسلام کس حد تک ماں باپ کے احترام کاقائل ہے ۔ سورہ بقرہ کی آیت ۸۳میں ہے: <َاتَعْبُدُونَ إِلاَّ اللهَ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا سورہ نساء کی آیت ۳۶ میں ہے: <وَاعْبُدُوا اللهَ وَلَاتُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا سورہ، انعام کی آیت۱۵۱ میں ہے: <اٴَلاَّ تُشْرِکُوا بِہِ شَیْئًا وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا اور زیر بحث آیات میں بھی ان دونوں کو ا