وَبِالْحَقِّ أَنزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا
With the truth did We send it down, and with the truth did it descend, and We did not send you except as a bearer of good news and as a warner.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 17:105
[Pooya/Ali Commentary 17:105] (see commentary for verse 90)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:105-109
چند قابل توجہ نکات“کا تسلسل:
چند قابل توجہ نکاتا“کا تسلسل: عام طور پر مفسرین کا نظریہ ہے کہ ”اٰمنوا بہ اولا توٴمنوا“کا ایک تسلسل ہے جو مخدوف ہے اور کلام کے قرینے سے واضح ہوتا ہے ۔ مفسرین نے اسے کئی طرح سے ذکر کیا ہے: بعض کہتے ہیں مراد یہ کہ تم مانو یا نہ مانو، اعجاز قرآن اور اس کا ”منزل من اللّٰہ“ ہونا واضح ہے ۔ بعض دیگر کہتے ہیں اس جملے کی تکمیل یہ ہے کہ تم مانو یا نہ مانو ، اس کا فائدہ یا نقصان تو تمہیں ہی پہنچے گا ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ بعد والا جملہ پہلے جملے کی تکمیل کرتا ہو ۔ اس کی نظیر اردو زبان میں بھی ہے ۔ مثلاً ہم کہتے ہیں: تو میری بات مانے یا نہ مانے، جو اہلِ علم و دانش اور صاحبِ علم و فراست ہیں وہ مانتے ہیں ۔ یہ جملہ اس امر کی طرف کنایہ ہے کہ تیرے نہ ماننے کی وجہ تیری عدمِ آگاہی اور بے علمی ہے اگر تو صاحبِ علم و دانش ہوتا تو مان لیتا ۔ دوسرے لفظوں میں: اگر تو ایمان نہ لائے تو آگاہ اور داشمند افراد ایمان لے آئیں گے ۔ ۲۔ ”الذین اوتو العلم من قبلہ“سے کون مراد ہیں؟: اس سے مراد وہ یہیودی اور عیسائی علماء ہیں جنہوں نے قرآنی آیات سنیں اور تورات و انجیل کے مطابق علامات پائیں تو ایمان لے آئے اور حقیقی مومنین کی صف میں شامل ہوگئے اور علماء اسلام میں سے شمار ہونے لگے ۔ قرآن پاک کی کچھ دیگر آیات میں بھی اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ مثلاً: <لَیْسُوا سَوَاءً مِنْ اٴَھْلِ الْکِتَابِ اٴُمَّةٌ قَائِمَةٌ یَتْلُونَ آیَاتِ اللهِ آنَاءَ اللَّیْلِ وَھُمْ یَسْجُدُونَ وہ سب برابر نہیں ہیں ۔ اہلِ کتاب میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو (حق اور ایمان کے ساتھ)قیام کرتے ہیں اور رات کے وقت ہمیشہ آیاتِ خدا کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدے بجالاتے ہیں ۔(آلِ عمران۔۱۱۳) ۳۔ ”یخرّون“کا مفہوم: اس کا معنی ہے ”بے اختیار زمین پر گر پڑتے ہیں“یہ تعبیر ”یسجدون“(وہ سجدہ کرتے ہیں) کی بجائے آئی ہے ۔ یہاں اس کا استعمال ایک لطیف نکتے کی طرف اشارہ کررہا ہے ۔ وہ یہ کہ جن افراد کے دل بیدار و آگاہ ہوتے ہیں آیات الٰہی سنتے ہی وہ خدائی باتوں کے ایسے شیفتہ ہوتے ہیں کہ دیوانہ وار بے اختیار سجدہ ریز ہوجاتے ہیں گویا دل و جان اس کی نذر کردیتے ہیں ۔(1) ۴۔ ”اذقان“کا مطلب : ”اذقان“”ذقن“کی جمع ہے ۔ اس کا معنی ہے ”ٹھوڑی“ہم جانتے ہیں کہ کوئی شخص بھی سجدہ کرتے وقت اپنی ٹھوڑی زمین پر نہیں رکھتا لیکن آیت کی تغبیر اس طرف اشارہ اشارہ ہے کہ وہ وہ بارگاہِ الٰہی میں پورا چہرہ زمین پر رکھ دیتے ہیں یہاں تک کہ ٹھوڑی جو اس سلسلے میں چہرے کا آخری حصہ ہوسکتا ہے وہ بھی زمین پر لگ جاتا ہے اور اس طرح وہ اس طرح وہ اس کی بارگاہ کی عظمت کا اظہار کرتے ہیں ۔ ۔ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ سجدے میں عموماً انسان پہلے اپنی پیشانی خاک پر رکھتا ہے لیکن جو شخص مدہوشی کے عالم میں بے اختیار زمین پر گرتا ہے اس کی زمین پر پہلے ٹھوڑی لگتی ہے ۔ یہ تعبیر آیت میں ”یخرّون“کے مفہوم کی تاکید کرتی ہے ۔(2) اگلی آیت میں ان کی اس گفتگو کا ذکر ہے جو وہ سجدہ ریز ہوتے ہوئے کرتے ہیں : وہ کہتے ہیں: پاک ہے ہمارا رب، یقینا ہمارے رب کے وعدے پورے ہوکے رہیں گے (وَیَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا)۔(3) وہ اپنے ان الفاظ میں پروردگار کی ربوبیت، اس کی پاکیزہ صفات اور اس کے وعدوں کی سجائی کے بارے میں اپنے حقیقی ایمان اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ۔ یہ وہ گفتگو ہے جس میں توحید پر ایمان ، حق تعالیٰ کی صفات اور اس کی عدالت سب کچھ موجود ہے ۔ اس میں پیغمبر کی نبوت اور معاد کا عقیدہ بھی موجود ہے گویا انہوں نے اصولِ دین کو ایک ہی جملے میں جمع کردیا ہے ۔ ان آیات الٰہی اور اس عاشقانہ سجدے کا تاثیر کا ذکر اگلی آیت میں بھی جاری ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: وہ پورے چہرے کے بل خاک پر گر پڑتے ہیں، ان کے اشک روان ہوتے ہیں اور پروردگار کے حضور ان کے خشوع و خضوع میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے( وَیَخِرُّونَ لِلْاٴَذْقَانِ یَبْکُونَ وَیَزِیدُھُمْ خُشُوعًا)۔ ”وَیَخِرُّونَ لِلْاٴَذْقَانِ“کا تکرار تاکید کی دلیل بھی ہے اور ہمیشگی کی بھی ۔اسی طرح ”یَبْکُونَ“فعل مضارع کا استعمال عشق و مستی میں ان کے دائمی گریے کی دلیل ہے ۔نیز ”یَزِیدُھُمْ خُشُوعًا“(ان کا خشوع بڑھتا ہے)میں فعل مضارع کا استعمال، اس امر کی ایک اور دلیل ہے کہ ان کی حالت ایک سی نہیں رہتی بلکہ وہ ہمیشہ رشد و کمال کی بلندیوںکی طرف پیش قدمی کرتے رہتے ہیں اور ان کا خشوع و خضوع ہر لمحہ بڑھتا رہتا ہے ۔ خشوع جسمانی و روحانی انکساری ، ادب اور تواضع کی ایک کیفیت ہے جو مسی شخصیت یا حقیقت کے سامنے ہوتی ہے ۔ 1۔ راغب نے مفردات میں کہا ہے: ”یخرّون“در اصل ”خریر“کے مادہ سے ہے کہ جو پانی یا اس جیسی چیز بلندی سے گر رہی ہوتو اس کی آواز کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ سجدہ کرنے والوں کے لیے اس تعبیر کا استعمال اس چیز کی نشانی ہے کہ وہ اپنے رب کے حضور زمین پر اس عالم میں گرتے ہیں کہ ان کی تسبیح کی آواز بلند ہوتی ہے 2۔ روح المعانی، ج ۱۵ ص ۱۷۵۔ 3۔ ”ان کان وعد ربنا“میں”ان“ شرطیہ نہیں بلکہ تاکید کے طور پر اور مثقلہ سے مخففہ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:105-109
عاشقانِ حق
عاشقانِ حق ان آیات میں ایک مرتبہ پھر قرآن کی عظمت و اہمیت واضح کی گئی ہے اور مخالفین کے بعض اعتراضات اور بہانہ سازیوں کا جواب دیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے: ہم نے قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے( وَبِالْحَقِّ اٴَنزَلْنَاہُ)۔ ساتھ ہی مزید فرمایا گیا ہے: اور یہ حق کے ساتھ نازل ہواہے ( وَبِالْحَقِّ اٴَنزَلْنَاہُ )۔اور تجھے ہم نے صرف بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے ۔(وَبِالْحَقِّ نَزَلَ وَمَا اٴَرْسَلْنَاکَ إِلاَّ مُبَشِّرًا وَنَذِیرًا)۔ یہ جو پہلے فرمایا گیا ہے ”وَبِالْحَقِّ اٴَنزَلْنَاہ“اور ساتھ ہی فرمایا گیا ہے ”وَبِالْحَقِّ اٴَنزَلْنَاہ“ ان دونوں جملوں میں کیا فرق ہے؟ اس سلسلے میں مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں، مثلاً: ۱۔ پہلے جملے سے مراد یہ ہے کہ ہم نے مقدر کیا ہے کہ قرآن حق کے ساتھ نازل ہو اور دوسرا جملہ کہتا ہے کہ اس فیصلے پر عمل در آمد ہوگیا ہے ۔ اس بناء پر ایک جملہ تقدیر کی طرف اشارہ ہے اور دوسرا اس پر عمل در آمد کی طرف۔(۱) ۲۔ پہلے جملے سے مراد یہ ہے کہ قرآن کا مواد، مضمون حق ہے اور دوسرے جملے سے مراد یہ ہے کہ اس نتیجہ اور ثمرہ بھی حق ہے ۔(۲) ۳۔ پہلے جملے سے مراد ہے کہ ہم نے قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیا اور دوسرا جملہ کہتا ہے کہ رسول اللہ چونکہ اس میں دخل و تصرف کا حق نہیں رکھتے تھے لہٰذا یہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے ۔ لیکن یہاں ایک اور احتمال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو مذکورہ بالا تفاسیر کی نسبت واضح تر ہے اور وہ یہ کہ بعض اوقات انسان ایک کام شروع کرتا اس کی طاقت چونکہ محود ہے اس لیے وہ اسے آخر تک اسی صحیح طریقے سے نبھا نہیں سکتا مگر جو تمام چیزوں سے آگاہ ہے اور تمام چیزوں پر قدرت رکھتا ہے وہ ابتداء بھی صحیح طریقے سے کرتا ہے اور اختتام پر بھی اس کام کو مکمل طور پر اور صحیح طرح انجام دیتا ہے ۔ مثلاً کوئی شخص کسی ایک مقام سے صاف و شفاف پانی جاری کرتا ہے لیکن اسے راستے آلودگیوں سے محفوظ نہیں رکھ پاتا لہٰذا استعمال کرنے والوں کو وہ صاف پانی میسر نہیں آتا لیکن جو اپنے کام پر پوری گرفت رکھتا ہے وہ ابتدائی طور پر بھی پاک صاف پانی نکلتا ہے اور اسے پیاسوں کے برتنوں تک بھی پاک و صاف حالت میں پہنچا دیتنا ہے ۔ قرآن بھی بالکل ایک ایسی کتاب ہے کہ وہ ا لله کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے اور ابلاغ کے سارے راستے میں صحیح اور محفوظ رہی ہے ۔ اس مرحلے میں بھی کہ جب جبرائیل اس کا واسطہ تھے اور اس مرحلے میں بھی کہ حب رسول الله اسے لینے والے تھے، یہاں تک کہ زمانہ گزرنے کے باوجود ہر قسم کی تحریف سے بیباک اور محفوظ رہی ہے جیسا کہ اس آیت کا تقاضا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ یقیناً ہم ہی نے اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محفوظ ہیں ۔(الحجر۔۹) یہ کتاب ہر لحاظ سے محفوظ ہے کیونکہ اس کی حفاظت الله نے اپنے ذمہ لی ہے ۔ لہٰذا یہ وحی الٰہی کا صاف و شفاف پانی دور نبوی سے لے کر اختتام عالم تک محفوظ ہے اور ہر قسم کی دست اندازی سے پاک دلوں کی تشنگی کو سیراب کرتا ہے ۔ اگلی آیت میں مخالفین کی بہانہ سازیوں میں سے ایک جواب دیا گیا ہے ۔ وہ کہتے تھے کہ قرآن ایک ہی مقام پر سارا رسول الله پر کیوں نارل نہیں ہوگیا اور اس کی روش بالکل تدریجی کیوں ہے؟ ( جیسا کہ سورہ فرقان ک یآیہ۳۲ میں اس اعتراض کی طرف اشارہ کیا گیا ہے)۔ ارشاد ہوتا ہے:”ہم نے الگ الگ آیتوں کی صورت میں تجھ پر قرآن نازل کیا ہے تاکہ تو اسے لوگوں کے سامنے اطمینان کے ساتھ تدریجی طور پر پڑھے“ اور یہ دل و ماغ میں اچھی طرح سے اتر جائے اور پوری طرح عملی شکلی بھی اختیار کرلے(وَقُرْآنًا فَرَقْنَاہُ لِتَقْرَاٴَہُ عَلَی النَّاسِ عَلیٰ مُکْثٍ)۔(۱) ۱۔ بہت سے مفسرین کے مطابق ”َقُرْآنًا“ کہ جو مندرجہ بالا آیت میں منصوب صورت میں آیا ہے ایک فعل مقدر کے ذریعے ہیں ۔”فَرَقْنَاہ“اس کی تفسیر کررہا ہے اور تقدیر میں یوں تھا: ”فَرَقْنَاہُ َقُرْآنًا“ مزید تاکید کرتے ہوئے غرمایا گیا ہے:یقیناً یہ سارا کا ساراقرآن ہم نے نازل کیا ہے( وَنَزَّلْنَاہُ تَنزِیلًا)۔ سطحی نظر رکھنے والے خصوصاً بہانہ ساز لوگوں کی نظر میں بے شک نزول قرآن کی یہ کیفیت قابل اعتراض ہوگی۔ وہ کہیں گے کہ یہ کتاب کہ جو بنیاد اسلام ہے، ساری انسانیت کی راہنماہے، مسلمانوں کے لیے تمام معاشرتی حقوق اور سیاسی و عبادتی قوانین کا سرچشمہ ہے ایک ہی مرتبہ ساری کی ساری رسول الله پر نازل کیوں نہیں ہوگئی تا کہ لوگ ہمیشہ اسے شروع سے آخر تک پڑھ کر ان امور سے باخبر ہوجائیں ۔ لیکن۔ تھوڑا سا غور کیا جائے تو اس اعتراض کا کافی و وافی جواب مل جاتا ہے ۔ کیونکہ: اولاً: قرآن اگر چہ ایک کتاب ہے لیکن یہ انسانوں کی کسی تالیف کی مانند نہیں ہے کہ جو کسی ایک موضوع پر کتاب لکھنے بیٹھتے ہیں تو اسے پیش نظر رکھ کر اس کے ابواب کی تقسیم و تنظیم کرتے ہیں او رپھر اسے ضبط تحریر میں لاتے ہیں ۔ یہ تو ایسی کتاب ہے کہ جس کا پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے تیئس سالہ دور نبوت کے واقعات سے نہ ٹوٹنے والا تعلق ہے ۔ کیسے ممکن ہے کہ جو کتاب ۲۳ سالہ واقعات سے مربوط ہو اکھٹی ایک ہی روز میں نازل ہوجائے ۔کیا ۲۳ سال کے واقعات ایک دن میں جمع ہوسکتے ہیں؟ قرآن حکیم کے بہت سے حصے اسلامی غزدات سے مربوط ہیں ۔اس کا کچھ حصہ منافقین کی دسیسہ کاریوں سے متعلق ہے ۔ اس کے کچھ مسائل ان وفود سے متعلق ہیں کہ جو مختلف قوموں کی طرف سے رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے پاس آئے تھے اور آپ حکمِ الٰہی کے مطابق ان کے جواب کے لیے عملی اقدام کرتے تھے ۔ کیا ممکن ہے کہ یہ سب امور پہلے ہی دن لکھ لیے جائیں؟ ثانیاً:قرآن صرف تعلیمی کتاب نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ ہر آیت کے نزول کے بعد اس کا اجراء ہو اور اس پر عمل در آمد ہو ۔لہٰذا سارا قرآن یکجا نازل ہوتا یکجا اس کا اجراء بھی ہونا چاہئے تھا جبکہ ہم جانتے ہیں کہ اس کا ایکجا اور اکھٹا اجراء ایک امر محال تھا کیونکہ جو معاشرہ سرتا پا فاسد تھا ایک ہی دن میں اس کی اصلاح نہیں ہوسکتی تھی۔ایک ان پڑھ بچے کو ایک ہی دن میں پہلی کلاس سے ڈاکٹریٹ تک نہیں پہنچایا جاسکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن تدریجاً نازل ہوا ہے تاکہ اس کا اجزاء اچھے طریقے سے ہوسکے اور یہ پوری طرح معاشرے میں اپنا مقام بنا سکے، کسی تزلزل کا شکار نہ ہو اور معاشرے اسے قبول و محفوظ رکھنے کے قابل ہوسکے ۔ ثالثاً: خودرسول اللہ کہ جو اس عظیم انقلاب کے رہبر تھے اگر سارے قرآن کے نافذ کرنے کے لئے تقسیم کرنا چاہتے تو اس کی نسبت تدریجی اجراء کا طریقہ ان کے لیے قوی تر تھا اور آمادگی پیدا کرنے کے لحاظ سے بہتر تھا ۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ اللہ کے بھیجے ہوئے تھے اور بے نظیر عقل و توانائی کے حامل تھے ۔تاہم زیادہ بہتر اور اکمل تر تدریجی قبولیت اور تدریجی اجراء ہی کی صورت تھی رابعاً:تدریجی نزول کا مفہوم یہ ہے کہ مبداء وحی کے ساتھ پیغمبر کا ارتباط دائمی ہے جبکہ یکجا اور یکبار نزول ایک سے زیادہ مرتبہ سرچشمہ وحی سے ارتباط کی ضمانت نہیں دیتا ۔ سورہ فرقان کی آیہ ۳۲ میں ہے: <کَذٰلِکَ لِنُثَبِّتَ بِہِ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنَاہُ تَرْتِیلًا ہم نے قرآن کو تجھ پر اس طرح نازل کیا ہے کہ تیرا دل مضبوط ہو اور ہم نے تیرے لیے آہستہ آہستہ اور تدریجاً پڑھا ہے ۔ یہ آیت تدریجی نزول کے تیسرے فلسفے کی طرف اشارہ کرتی ہے جبکہ ہماری زیر بحث آیت زیادہ تر دوسرے فلسفے کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ بہرحال یہ تمام عوامل قرآن کے تدریجی نزول کی حکمت و فلسفہ کے لیے روشن دلیل ہیں ۔ اگلی آیت نادان مخالفین کا غرور ختم کرنے کے لیے کہتی ہے: چاہے ایمان لاؤ یا نہ لاؤ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان کے سامنے جب قرآن پڑھا جاتا ہے نو وہ منہ کے بل خاک پر گر پڑتے ہیں اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں ( قُلْ آمِنُوا بِہِ اٴَوْ لَاتُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہِ إِذَا یُتْلَی عَلَیْھِمْ یَخِرُّونَ لِلْاٴَذْقَانِ سُجَّدًا)۔ ۱۔ تفسیر قربطی، ج ۶ ص ۳۹۵۵ ۲۔ تفسیر فی ظلال القرآن، زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:105-109
۲۔ علم و ایمان کا ربط
مندرجہ بالا آیات سے جو دوسرا واضح سبق حاصل کیا جاسکتا ہے وہ ہے علم اور ایمان کا باہمی ربط ۔قرآن کہتا ہے: تم ان آیات پر ایمان لاؤ جو صاحبان علم ہیں وہ نہ صرف ان پر ایمان لائے ہیں بلکہ عشق الٰہی اس طرح سے ان کے دل میں بھڑک رہا ہے کہ وہ بے اختیار اس کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوجاتے ہیں ۔ اشکوں کا ایک سیلاب ان کے رخساروں پر جاری ہوجاتا ہے اور ہر لحظہ ان کا خضوع و خشوع بڑھتا رہتا ہے اور ان کے دل میں ان آیات کا احترام فزوں تر ہوتا رہتا ہے ۔ یعنی۔ یہ تو جاہل ہیں کہ جو حقائق کو دیکھتے ہیں تو کبھی ایمان کی طرف راغب بھی ہوں تو ان کا ایمان کمزور نا پائدار ہر ہوگا اور عشق، جذبہ اور حرارت سے خالی ہوگا ۔ علاوہ ازیں یہ ان کے بیہودہ مفوضے کی پھر تردید ہے کہ جن کا خیال ہے دین انسان کی جہالت کی وجہ سے ہے ۔ قرآن مجید اس دعویٰ کے برخلاف مختلف مواقع پر تاکید کرتا ہے کہ علم و ایمان ہر جگہ اکھٹے ہوتے ہیں اور گہرا مستحکم ایمان سایہ علم کے بغیر ممکن نہیں اور علم بھی اعلیٰ تر اور بالا تر مراحل میں ایمان سے کمک حاصل کرتا ہے (غور کیجئے گا)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:105-109
سوره اسراء / آیه 105 - 109
۱۰۵ وَبِالْحَقِّ اٴَنزَلْنَاہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ وَمَا اٴَرْسَلْنَاکَ إِلاَّ مُبَشِّرًا وَنَذِیرًا ۱۰۶ وَقُرْآنًا فَرَقْنَاہُ لِتَقْرَاٴَہُ عَلَی النَّاسِ عَلیٰ مُکْثٍ وَنَزَّلْنَاہُ تَنزِیلًا ۱۰۷ قُلْ آمِنُوا بِہِ اٴَوْ لَاتُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہِ إِذَا یُتْلَی عَلَیْھِمْ یَخِرُّونَ لِلْاٴَذْقَانِ سُجَّدًا ۱۰۸ وَیَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولًا ۱۰۹ وَیَخِرُّونَ لِلْاٴَذْقَانِ یَبْکُونَ وَیَزِیدُھُمْ خُشُوعًا ترجمہ ۱۰۵۔اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہوا ہے اور تجھے ہم نے سوائے اس کے کسی کام کے لیے نہیں بھیجا کہ تو بشارت دینے والا اور متنبہ کرنے والا ہو ۔ ۱۰۶۔ہم نے قرآن تجھ پر جدا جدا آیتوں کی صورت میں اتارا ہے تاکہ تو اسے لوگوں کے سامنے تدریجاً اور سکون کے ساتھ پڑھے (اور یہ دلوں میں اتر جائے)اور یقیناً یہ قرآن ہم ہی نے نازل کیا ہے ۔ ۱۰۷۔ ان سے کہہ دو : تم مانو یا نہ مانو جنہیں قبل ازیں علم عطا کیا گیا ہے یہ آیات جب ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں وہ زمین پر سجدے میں جاگرتے ہیں ۔ ۱۰۸۔ اور کہتے ہیں: پاک ہے ہمارا رب کہ جس کے وعدے حتماً پورے ہو کے رہتے ہیں ۔ ۱۰۹۔ وہ (بے اختیار )زمین پر گرجاتے ہیں (اور سجدہ ریز ہوجاتے ہیں )، اشک بہاتے ہیں اور ہر لمحہ ان کا خشوع و خضوع بڑھتا ہی رہتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 17:105-109
۱۔ تعلیمی و تربیتی پروگرام
۱۔ تعلیمی و تربیتی پروگرام: زیر بحث آیات سے ایک اہم درس جو حاصل ہورہا ہے یہ ہے کہ ثقافتی، تمدنی، فکری اور ہر قسم کے اجتماعی انقلاب کے لیے تربیتی پروگرام ضروری ہے کیونکہ اگر ایسا مرتب و منظم پروگرام نہ ہو اور پھر ہر مرحلے میں اس پر عملدر آمد نہ ہو تو شکست یقینی ہے ۔ یہاں تک کہ قران مجید یکجا اور یکبار رسول اللہ پر نازل نہیں ہوا اگر چہ علم خدا میں یکجا ہی تھا اور رسول اکرم کے سامنے شبِ قدر میں مجموعی صورت میں پیش ہوا تھا لیکن اس کا نزول اجرائی مختلف اوقات میں دقیق پروگرام کے تحت ۲۳ سال کی مدت میں مکمل ہوا ۔ لہٰذا جب خدا اپنی بے پایان قدرت و علم کے باوجود اس طرح کرتا ہے تو انسانوں کی ذمہ داری اس سے واضح ہوجاتی ہے ۔ اصولی طور پر یہ ایک قانون و سنت الٰہی ہے کہ جو نہ فقط عالم تشریع میں بلکہ عالم تکوین میں بھی جاری و ساری ہے ۔ کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ کوئی بچہ ایک ہی رات میں ماں کے بطن سے پیدا ہو گیا ہو یا کوئی پھل درخت پر گھنٹے بھر میں پک کر میٹھا ہوگیا ہو ۔ لہٰذا یہ توقع کیسے کی جاسکتی ہے کہ کسی معاشرے کی فکری، ثقافتی، تمدنی یا اقتصادی و سیاسی لحاظ سے رات بھر میں ساری اصلاح ہوجائے ۔ اس بات سے یہ بھی سمجھنا چاہیےٴ کہ اگر ہم مختصر مدت میں اپنی مساعی کا کوئی نتیجہ نہ دیکھ پائیں تو ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیےٴ اور کوشش جاری رکھنا چاہیےٴ اور ہمیں اس بات کی طرف توجہ رکھنا چاہیےٴ کہ حقیقی اور مکمل کامیابیاں ہمیشہ طویل عرصے کے بعد ہی حاصل ہوتی ہیں ۔