وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدتُّمْ وَلَا تَنقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللَّهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ
Fulfill Allah’s covenant when you pledge, and do not break [your] oaths, after pledging them solemnly and having made Allah a witness over yourselves. Indeed Allah knows what you do.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 16:91
[Pooya/Ali Commentary 16:91] In 10 Hijra, on the 18th of Dhilhajj, the Holy Prophet obtained an oath of allegiance to Ali ibn abi Talib from all his followers (refer to Ma idah: 67), but they did not fulfil the covenant made with Allah and His prophet, though He commands them, in this verse, not to break their oaths after they had confirmed them and made Allah their surety. Aqa Mahdi Puya says: This verse enjoins fulfilment of all promises, undertakings, pacts or covenants particularly when Allah has been made the surety, provided they are not ungodly or contrary to Islamic injunctions as implied by the phrase ahdillah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:91-94
سوره نحل/ آیه 91 تا 94
91) وَاَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّـٰهِ اِذَا عَاهَدْتُّـمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْاَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُـمُ اللّـٰهَ عَلَيْكُمْ كَفِيْلًا ۚ اِنَّ اللّـٰهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ۔ 92) وَلَا تَكُـوْنُـوْا كَالَّتِىْ نَقَضَتْ غَزْلَـهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا ۖ تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ اَنْ تَكُـوْنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ ۚ اِنَّمَا يَبْلُوْكُمُ اللّـٰهُ بِهٖ ۚ وَلَـيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا كُنْتُـمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ 93) وَلَوْ شَآءَ اللّـٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّلٰكِنْ يُّضِلُّ مَنْ يَّشَآءُ وَيَـهْدِىْ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَلَتُسْاَلُنَّ عَمَّا كُنْتُـمْ تَعْمَلُوْنَ 94) وَلَا تَتَّخِذُوٓا اَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌ بَعْدَ ثُبُوْتِـهَا وَتَذُوْقُوا السُّوٓءَ بِمَا صَدَدْتُّـمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ ۖ وَلَكُمْ عَذَابٌ عَظِيْـمٌ ترجمہ: 91) اللہ سے پیمان باندھو تو ایفائے عہد کرو اور اپنی قسموں کو ان کے پکا ہو جانے کے بعد نہ توڑو جبکہ تم خدا کو اپنی قسموں پر کفیل و ضامن قرار دے چکے ہو جو کچھ تم انجام دیتے ہو اللہ اس سے آگاہ ہے۔ 92) اس (کم عقل) عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے سُوت کو خُوب کات کر کھول دیتی ہے جبکہ تم اپنی قسموں (اور پیمانوں) کے ذریعے خیانت و فساد کرتے ہو اس بناء پر کہ ایک گروہ کی نفری دوسرے سے زیادہ ہے( اور دشمن کی کثرت کو رسولِ خدا کی بیعت توڑنے کے لیے بہانہ بناتے ہو) اور اللہ تمھیں آزماتا ہے اور جس چیز کے بارے میں تم اختلاف کرتے ہو، روزِ قیامت اسے واضح کر دے گا۔ 93) اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک امت بنا دیتا( سب کو جبری طور پر ایمان قبول کروا دیتا لیکن جبری ایمان کا کیا فائدہ ہے) مگر خدا جس شخص کو چاہتا ہے(اور مستحق پاتا ہے) اسے گمراہ کر دیتا ہے اور جس شخص کو چاہتا ہے (اور سے س لائق سمجھتا ہے) ہدایت کرتا ہے اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو تمھاری اس بارے میں باز پُرس ہوگی۔ 94) اپنی قسموں کو باہم دھوکا بازی اور خیانت کا ذریعہ نہ بناؤ، مبادا (ایمان پر) جمے ہوئے قدم اکھڑ جائیں اور پھر راہِ خدا سے (لوگوں کو) روکنے کے بُرے آثار کا مزہ چکھو اور تمھارے لیے بڑا سخت عذاب ہوگا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:91-94
عہد و پیمان ایمان کی دلیل
تفسیر: عہد و پیمان -------------- ایمان کی دلیل: گذشتہ آیت میں اسلام کے اساسی اصول، عدالت، احسان وغیرہ کے ذکر کے بعد زیر نظر آیات میں اسلامی تعلیمات کے ایک نہایت اہم گوشے کا تذکرہ شروع کیا گیا ہے اور وہ ہے ایفائے عہد اور قسموں کو پورا کرنا۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اللہ سے جب عہد کرو تو اسے ایفا کرو (وَاَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّـٰهِ اِذَا عَاهَدْتُّـمْ)۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: اور اپنی قسموں کو پکا کرنے کے بعد توڑ نہ دو (وَلَا تَنْقُضُوا الْاَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيْدِهَا)۔ جبکہ تم نے اللہ کے نام کی قسم کھائی ہو اور اپنی قسم پر اللہ کو کفیل اور ضامن قرار دیا ہو (وَقَدْ جَعَلْتُـمُ اللّـٰهَ عَلَيْكُمْ كَفِيْلًا)۔ کیونکہ اللہ تمھارے اعمال کو جانتا ہے (اِنَّ اللّـٰهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ)۔ مفسرین نے ’’عہد اللہ‘‘ کی بہت سی تفسیریں کی ہیں لیکن ظاہری مفہوم وہی عہد و پیمان ہی ہے جو لوگ اللہ کے ساتھ باندھتے ہیں ( اور واضح ہے کہ اس کے رسول کے ساتھ عہد کرنا بھی اس کے ساتھ عہد کرنا ہی ہے) لہذا ایمان اور جہاد وغیرہ کے نام پر بیعت کرنا بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے بلکہ تمام شرعی ذمہ داریاں تو رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعے بتائی جاتی ہیں، ضمنی طور پر عہد الٰہی کے مفہوم میں داخل ہیں اور عقلی احکام کی بھی یہ ہی صورت ہے کیوںکہ عقل و ہوش اور استعداد اللہ ہی کی عطا ہیں۔ ’’ایمان‘‘ ’’یمین‘‘ کی جمع ہے اس کا معنی ہے قسم۔ مندرجہ بالا آیت میں آنے والے اس لفظ کی بھی مختلف تفاسیر بیان کی گئی ہیں۔ جملے کے مفہوم کی طرف توجہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بھی وسیع مفہوم ہے اس میں بھی وہ تمام معاہدے شامل ہیں جو انسان خدا کے سامنے کرتا ہے اور تمام معاہدے اور وعدے جو قسم کے ذریعے مخلوق ِ خدا کے سامنے کیے جاتے ہیں اس کے مفہوم میں داخل ہیں دوسرے لفظوں میں ہر قسم کا معاہدہ یا وعدہ جو اللہ کے نام پر یا اس کی قسم کے ذریعے انجام پا کے وہ ’’ایمان‘‘ کے معنی میں داخل ہے خصوصاً جبکہ اس کے بعد ’’وَقَدْ جَعَلْتُـمُ اللّـٰهَ عَلَيْكُمْ كَفِيْلًا‘‘ (جبکہ تم نے خدا کو اپنا کفیل و ضامن قرار دیا ہو) تفسیر و تاکید کے طور پر آیا ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ’’َاَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّـٰهِ‘‘ خاص حکم ہے اور ’’لَا تَنْقُضُوا الْاَيْمَانَ‘‘ عام حکم ہے۔ ایفائے عہد کا مسئلہ معاشرے کے ثبات و قیام کے لیے چونکہ بہت اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے لہذا اگلی آیت میں ملامت کے لہجے میں اس کے بارے میں گفتگو جاری ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے: تم اس عورت کی طرح نہ ہوجانا جس سے خوب سُوت کاتا اور پھر اس سارے کو کھول دیا۔ (وَلَا تَكُـوْنُـوْا كَالَّتِىْ نَقَضَتْ غَزْلَـهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا)۱؎ یہ زمانہ جاہلیت کی ایک قریشی عورت ’’رائطہ‘‘ کی طرف اشارہ ہے وہ خود اور اس کی کنیزیں صبح سے دوپہر تک سُوت کا تئیں پھر وہ عورت حکم دیتی کہ اس سارے کو کھول دو۔ اسی وجہ سے وہ عربوں میں ’’حمقاء‘‘ (احمق عورت) کے نام سے مشہور تھیں۔ ان عورتوں کے اس کام پر غور کیا جائے تو یہ ایک رجعت پسندانہ کام دکھائی دیتا ہے کیونکہ کاتنے کے بعد سوت ایک نیا استحکام اور تکامل حاصل کر لیتا ہے اب اس کو ادھیڑنا ایک رجعتی عمل ہی ہے۔ کہ جو نہ صرف فضول اور لا حاصل ہے۔ بلکہ نقصان وہ بھی ہے اسی طرح جو لوگ اللہ سے عہد باندھتے ہیں یا اس کے نام پر کوئی معاہدہ کرتے ہیں ان کا اس عہد اور معاعدے کو توڑ دینا نہ صرف فضول اور بے ہودہ حرکت ہے بلکہ ایسا کرنے والوں کے شخصی انحطاط کی دلیل بھی ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: تم اس کی یا اس کی خاطر اور اس خیال سے کہ فلاں گروہ کی نفری دوسرے سے زیادہ ہے اپنے پیمان اور قسم نہ توڑو اور اس پیمان اور قسم کو دھوکا دہی اور برائی کا ذریعہ نہ بناؤ (تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ دَخَلًا بَيْنَكُمْ اَنْ تَكُـوْنَ اُمَّةٌ هِىَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ)۔۲؎ ------------------------------------------------ ۱؎ ’’انکاث‘‘ ’’نکث‘‘ (بروزن ’قسط‘) کی جمع ہے۔ یہ بٹنے کے بعد أون اور بالوں کو کھول دینے کے معنی میں ہے یہ لفظ اون اور بالوں سے بُنے ہوئے لباس کو ادھیڑنے کے لیے بھی بولا جاتا ہے اس بارے میں کہ زیر بحث آیت میں ’’انکاث‘‘ کیا محلِ اعراب رکھتا ہے۔ بعض اسے حال تاکیدی اور بعض ’’نقضت‘‘ کا دوسرا مفعول سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ ای جعلت غزلھا انکاثاً‘‘ (اس نے اپنی کاتی ہوئی چیز کو ادھیڑ دیا)۔ ۲؎ ’’دخل‘‘ (بروزن’دغل‘) اندرونی برائی، باطنی دشمنی اور مکروفریب کے معنی میں ہے اسی مادہ سے ’داخل‘ اندر کے معنی میں لیا گیا ہے اس نکتے کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ ہم نے جو تفسیر سطور بالا میں پیش کی ہے اس کے مطابق ’’تَتَّخِذُوْنَ اَيْمَانَكُمْ‘‘جملہ حالیہ ہے لیکن بعض مفسرین نے اسے جملہ استفہامیہ سمجھا ہے البتہ پہلی تفسیر آیت کے ظہور سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ ------------------------------------------------ یہ چیز انسان کی شخصیت اور روح کی کمزوری پر دلالت کرتی ہے یا اس کے مکرو فریب اور خیانت کی دلیل ہے کہ وہ صرف مخالفین کی کثرت دیکھ کر اپنے سچے دین کو چھوڑ دے اور اس دین سے رشتہ جوڑ لے کہ جو بے بنیاد ہے، اس لیے کہ اس کے طرفدار زیادہ ہیں۔ آگاہ رہو کہ اس طرح اللہ تمھیں آزمائے گا (انما یبلوکم اللہ بہ)۔ اگر تم کثرت میں ہو اور تمھارا دشمن اقلیت میں تو یہ آزمائش کی بات نہیں آزمائش تو جبھی ہے کہ دشمن بڑی تعداد میں تمھارے سامنے کھڑا ہو اور تم ظاہراً کم اور کمزور ہو۔ بہرحال اس آزمائش کا نتیجہ اور جس امر میں تم اختلاف رکھتے تھے۔ خدا کی طرف سے روز قیامت تمھارے سامنے واضح ہو جائے گا اور اس روز دلوں کے بھید آشکار ہو جائیں گے اور ہر شخص اپنے اعمال کی جزا پالے گا (وَلَـيُبَيِّنَنَّ لَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَا كُنْتُـمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ) خدا کی طرف سے آزمائش، ایمان پر زور دینا اور فرائض کی انجام دہی کی بحث سے عام طور پر یہ تو ہم پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ مشکل ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں سے جبری طور پر حق منوالے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اگلی آیت میں اس توہم کا جواب دیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: خداچاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا (وَلَوْ شَآءَ اللّـٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً)۔ امت واحدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایمان اور قبولِ حق کے لحاظ سے لیکن جبری طور پر۔ واضح ہے اس طرح سے حق قبول کرنا نہ کمال و ارتقاء کا باعث ہے اور نہ باعثِ افتخار ہے یہ ہی وجہ ہے کہ سنتِ الٰہی یہ ہے کہ سب کو آزادی دی جائے تاکہ وہ اپنے اختیار اور ارادے سے راہِ حق طے کریں۔ لیکن اس آزادی کا یہ معنی نہیں کہ جو لوگ اس کی راہ پر چلتے ہیں اللہ ان کی کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کرتا بلکہ جو لوگ راہِ حق پر قدم رکھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں اللہ کی توفیق ان کے شاملِ حال ہوتی ہے اور وہ اس کی ہدایت کے زیر سایہ منزل مقصود تک پہنچ جاتے ہیں اور جو باطل کے راستے پر قدم رکھتے ہیں وہ اس نعمت سے محروم رہتے ہیں اور ان کی گمراہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لیے مزید فرمایا گیا ہے: لیکن خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے (ولکن یضل من یشاء ویھدی من یشاء) لیکن خدا کی طرف سے اس ہدایت و گمراہی کا یہ مطلب نہیں کہ تمھاری ذمہ داری سلب ہوگئی ہے کیونکہ اس سے پہلے خود تم نے قدم اٹھائے ہیں۔ اسی لیے مزید فرمایا گیا ہے: تم اپنے اعمال کے یقیناً جواب دہ ہو اور تم سے بازپرس ہوگی (ولتسئلن عماکنتم تعملون)۔ یہ تعبیر کہ جس میں ایک طرف اعمال انجام دینے کی نسبت انسانوں کی طرف دی جارہی ہے اور دوسری طرف اعمال پر جواب دہی پر زور دیا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گزشتہ جملے کے مفہوم کے تعین کے لیے واضح قرائن میں سے ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہدایت و گمراہی ہر گز جبری نہیں ہے۔ (اس سلسلے میں ہم پہلے بھی بحث کر چکے ہیں۔ قارئین تفسیر نمونہ جلد اول میں سورہ بقرہ کی آیت 26 کی تفسیر کی طرف رجوع فرمائیں) اس کے بعد پھر ایفائے عہد کی طرف تاکید کی جارہی ہے۔ اور قسمیں پوری کرنے پر زور دیا جا رہا ہے چونکہ معاشرے کے ثبات و بقاء کے لیے یہ ایک اہم عامل ہے ارشاد ہوتا ہے: اپنی قسموں کو اپنے درمیان مکروفریب اور نفاق کا ذریعہ نہ بناؤ (ولا تتخذوا ایمانکم وخلا بینکم)۔ کیونکہ اس کام کے دو عظیم نقصانات ہیں۔ پہلا یہ کہ اس سے ایمان پر جمے ہوئے قدم متزلزل ہو جاتے ہیں (فتزل قدم بعد ثیوتھا) اس لیے کہ جب تم قسم کھاتے ہو یا عہد باندھتے ہو تو اگر اس وقت تمھارا ایفائے عہد کا ارادہ نہیں ہوتا پھر بھی ایسا کرتے ہو تو لوگوں کا تم پر اعتماد اُٹھ جائے گا اور ایمان لانے والوں میں سے معض لوگوں کا ایمان بھی اس طرح متزلزل ہو جائے گا گویا ان کے ایمان کی بنیاد مضبوط نہ تھی۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ تمھیں اس کام کےبُرے نتائج بھگٹنا پڑیں گے۔ اس دنیا میں اللہ کے راستے سے محروم ہو جاؤ گے اور دوسری دنیا میں اللہ کا سخت عذاب تمھارے انتظار میں ہوگا۔ (وتذوقوا السؔوء بما صددتم عن سبیل اللہ ولکم عذاب عظیم)۔ در حقیقت پیمان شکنی اور قسموں کی خلاف ورزی سے ایک طرف تو لوگ دین ِ حق سے بدبین اور متنفر ہو جاتے ہیں، انتشار اور بد اعتمادی کی فضا پیدا ہو جاتی ہے ہیاں تک کہ اسلام قبول کرنے کی طرف لوگوں کی رغبت کو نقصان پہنچتا ہے اس حالت میں اگر دوسرے لوگ کوئی عہدوپیمان باندھیں گے تو اسے پورا کرنے کے لیے وہ اپنے آپ کو پابند نہیں سمجھیں گے اور یہ صورت ِ حال خود دنیا میں بے شمار پریشانیوں اور تلخ کامیوں کا باعث ہے۔ دوسری طرف دارِ آخرت میں تمھیں عذابِ الٰہی کی سوغات ملے گی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:91-94
چند اہم نکات
چند اہم نکات: ۱۔ عہدوپیمان کے احترام کا فلسفہ:۔ ہم جانتے ہیں کسی معاشرے کا اہم ترین سمایہ لوگوں کا باہمی اعتماد ہے۔ اصولی طور پر جو چیز معاشرے کو بکھرے ہوئی اکائیوں سے نکال کر ایک زنجیر کی کڑیوں کی طرح آپس میں منسلک اور وابستہ کر دیتی ہے وہ یہ ہی باہمی اعتماد ہی ہے یہ اعتمادی ہے جس کی بنیاد پر انسانوں کے کاموں میں ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور وہ آپس میں مل جل کر کام کرتے ہیں اور رہتے سہتے ہیں۔ عہدوپیمان اور قسمیں اس باہمی اعتماد ہی کے لیے تاکید کا کام دیتی ہیں۔ اگر عہدوپیمان ٹوٹتے رہیں تو پھر معاشرے میں باہمی اعتماد کے عظیم رشتے بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور معاشرہ ظاہری صورت میں ایک ہونے کے باوجود بکھرا ہوا اور پراگندہ ہوتا ہے اور وہ ایسی اکائیوں میں بدل جاتا ہے جن میں کوئی دم خم نہیں ہوتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ قرآنی آیات اور اسلامی احادیث میں ایفائے عہد اور قسموں کو پورا کرنے پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہےاور بد عہدی اور قسموں کو توڑنے کو گناہِ کبیر قرار دیا گیا ہے۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے مالک اشتر کے نام اپنے فرمان میں اسلام اور زمانہ جاہلیت میں اس امر کی بہت زیادہ اہمیت کی طرف اشارہ کیا ہے اور اسے ایک نہایت اہم اور عمومی مسئلہ شمار کرتے ہوئے اس پر بہت تاکید کی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ مشرکین تک اپنے عہد اور معاہدوں کی پابند کیا کرتے تھے کیونکہ انھیں پیمان شکنی کے المناک انجام کا علم تھا۔۱؎ اسلام کے جنگلی احکام میں ہے کہ ایک عام سپاہی بھی دشمن فوج کے ایک فرد یا چند افراد کو امان دے دے تو تمام مسلمانوں کے لیے اس امان کا احترام لازمی ہے۔ مؤرخین اور مفسرین کہتے ہیں کہ صدر اسلام میں جو بہت سے گروہوں نے اسلام جیسا عظیم الٰہی دین قبول کیا اس کا ایک سبب مسلمانوں کا اپنے عہد و پیمان کا پابند ہونا اور اپنی قسموں کو پورا کرنا تھا۔ یہ معاملہ اس قدر اہم ہے کہ حضرت سلمان فارسی سے ایک روایت ان الفاظ میں مروی ہے:- تھلک ھذہ الامۃ بنقض ھوا ثیقھا اس امت کی ہلاکت پیمان شکنیوں کی وجہ سے ہوگی۔۲؎ یعنی جیسے ایفائے عہد عظمت و شوکت اور ترقی کا سبب ہے اسی طرح پیمان شکنی، درماندگی، تنزلی اور نابودی کا سبب ہے۔ تاریخ اسلام میں ہے کہ جب خلیفہ ثانی کے دور میں مسلمانوں نے ساسانیوں کو شکست دی اور ایران کے لشکر کا عظیم بادشاہ ہر مزان گرفتار ہوا تو اسے حضرت عمر کے سامنے پیش کیا گیا۔ خلیفہ نے اس سے کہا: تم نے بارہا ہم سے عہدوپیمان کیا اور پھر پیمان شکنی کی، اس کی کیا وجہ تھی۔ ہرمزان کہنے لگا: مجھے خوف ہے کہ اس کی وجہ بیان کرنے سے پہلے تم مجھے قتل نہ کر دو۔ خلیفہ نے کہا: ڈرو نہیں۔ ہرمزان نے پانی مانگا، فوراً ایک عام سے بے قیمت برتن میں پانی بھر کے اسے پیش کیا گیا۔ ہرمزان نے کہا: میں پیاس سے مر بھی جاؤں تو اس برتن میں پانی نہیں پیوںگا۔ خلیفہ نے کہا: ایسے برتن میں پانی لے آؤ جو اس کے لیے قابلِ قبول ہو۔ ایسا برتن لایا گیا پانی بھر کر اسے دیا گیا وہ ادھر اُدھر دیکھتا تھا اور پانی نہیں پیتا تھا اور کہتا تھا: مجھے ڈر ہے کہ میں پانی پینے لگوں گا تو مجھے قتل کر دیا جائے گا۔ خلیفہ نے کہا: ڈرو نہیں، میں تجھے اطمینان دلاتا ہوں کہ جب تک تو پانی پی نہ لے تھے کچھ نہیں کیا جائے گا۔ ہر مزان نے اچانک پانی کا برتن اوندھا کر دیا۔ پانی زمین پر گر گیا۔ خلیفہ نے سمجھا پانی اس کے ہاتھوں سے بے اختیار ---------------------------------------------------- ۱؎ نہج البلاغہ خطوط علی (ع) نامہ ۵۳۔ ۲؎ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل ہیں۔ ---------------------------------------------------- گر گیا ہے لہذا کہا: اس کے لیے اور پانی لے آؤ اور اسے پیاسا قتل نہ کرو۔ ہرمزان نے کہا مجھے پانی نہیں چاہیے میرا مقصد تو یہ تھا کہ تجھ سے امان لے لوں۔ خلیفہ نے کہا میں تجھے ہر صورت میں قتل کروں گا۔ ہرمزان کہنے لگا: تو مجھے امان دے چکا ہے اور اطمینان دلا چکا ہے۔ خلیفہ نے کہا: تو جھوٹ بولتا ہے، میں نے تجھے امان نہیں دی۔ انس ۱؎ وہاں موجود تھے کہنے لگے: ہر مزان سچ کہتا ہے، آپ نے اسے امان دی ہے کیا آپ نے نہیں کہا کہ جب تک تو پانی نہ پی لے تجھے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ خلیفہ بات کہہ کر پھنس گئے، ہرمزان سے کہنے لگے: تو نے مجھے دھوکا دیا ہے لیکن میں نے اس لیے دھوکا کھایا کہ تو اسلام قبول کرلے۔ ہرمزان نے یہ منظر دیکھا (اور مسلمانوں کے عہدوپیمان کی پابندی دیکھی تو اس کے سینے میں نورِ ایمان چمک اُٹھا) تو مسلمان ہوگیا۔۲؎ ۲۔ پیمان شکنی کے لیے بہانے:- پیمان شنکنی اتنی بُری چیز ہے کہ کوئی شخض پسند نہیں کرتا کہ اپنے اوپر اور اس کا الزام لے۔ یہی وجہ ہے کہ عہد شکنی کرنے والے عُذر تلاش کرتے ہیں چاہے وہ عُذر کتنا ہی بے بنیاد کیوں نہ ہو۔ اس کی مثال ہم نے زیر بحث آیات میں بھی دیکھی ہے کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعض مسلمان خدا اور رسول ﷺ سے باندھے ہوئے اپنے عہد میں تزلزل کے لیے دشمنوں کی کثرت کا بہانا کرتے تھے حالانکہ کثرت کامیابی کی دلیل نہیں کیونکہ ایسا بہت ہوا ہے کہ ایک با ایمان اور عزم صمیم کا حامل اقلیت کسی بڑی بے ایمان اکثریت پر کامیاب ہوگئی۔ اسی طرح دشمنوں کی کثرت اس بات کے لیے کب جواز بن سکتی ہے کہ دوستوں سے عہد شکنی کی جائے کیونکہ گہری نظر سے دیکھا جائے تو ایسی عہد شکنی دراصل ایک قسم کا شرک اور خدا اسے بیگانگی ہے۔ آیت میں جو مثال پیش کی گئی ہے۔ ہمارے زمانے میں اس بات نے ایک نئی صورت اختیار کی ہے بعض ایسی مسلمان حکومتیں ہیں کہ جو بظاہر چھوٹی ہیں بڑی استعماری طاقتوں کے خوف سے مومنین سے باندھے ہوئے اپنے پیمان پورے نہیں کرتیں ان کے حکمران ناچیز اور کمزور انسانی طاقت کو خدا کی لامتناہی قدرت پر مقدم سمجھتے ہیں۔ غیر خدا پر تکیہ کرتے ہیں اور غیر خدا سے ڈرتے ہیں یہاں تک کہ ان کے عہد و پیمان بھی اسی انحصار اور خوف کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ یہ سارے کیفیت شرک و بت پرستی کی پیداوار ہے۔ ------------------- ------------------- ------------------------------------------------- ۱؎ ایک مشہور صحابی۔ ۲؎ تاریخ کامل جلد ۲ ص ۵۴۹۔ -------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:91-94
شان نزول
شان ِ نزول: عظیم مفسر قرآن علامہ طبرسی مجمع البیان میں مندرجہ بالا آیات میں سے پہلے آیت کے شانِ نزول کے بارے میں کہتے ہیں:- جس وقت مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی اور دشمن بہت زیادہ تھے ایسے میں امکان تھا اتنے فرق کا احساس کرتے ہوئے بعض مومنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کی ہوئی اپنی بیعت توڑ دیتے اور آپ کا ساتھ چھوڑ جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان حالات میں یہ آیت نازل ہوئی اور انھیں اس سلسلے میں تنبیہ کی گئی اور خبردار کیا گیا۔