إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
Indeed Allah enjoins justice and kindness, and generosity towards relatives, and He forbids indecency, wrongdoing, and aggression. He advises you, so that you may take admonition.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 16:90
[Pooya/Ali Commentary 16:90] Allah commands justice, kindness and giving to kinsfolk that which is their due, therefore when the ruling party refused to acknowledge the rights of Bibi Fatimah in the matter of the inheritance of the garden of Fadak, they, in fact, accused the Holy Prophet of not carrying out the command of Allah given in this verse. Please refer to the commentary of Anfal: 41; Bani Israil: 26; Rum: 38; and Hashr: 7, in the light of which Imam Muhammad bin Ali al Baqir said: "In 'giving to the relatives' relatives refers to the relatives of the Holy Prophet." Aqa Mahdi Puya says: Uthman ibn Mazun, one of the very early believers, said: "I became a Muslim because of my friendship with the Holy Prophet, otherwise it was not a sincere avowal of belief; but when this verse was revealed I was with him and it changed my motivated and superficial declaration of faith into the "from the bottom of the heart" devotion to the religion of Islam. I went to Abu Talib and recited it before him. He said: 'O people of Quraysh! Follow Muhammad. You will achieve success and walk on the right path. He does not command you to do anything but what is right, virtuous and the best.' Then I went to Walid ibn Mughayra who, after hearing this verse said: 'Muhammad has said a very good saying; and if his God has said it then certainly it is an excellent virtue.'" Abu Talib wholeheartedly believed in the truthfulness of his nephew and his teachings from the very beginning.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 16:90-100
Justice, The woman spoken of in 92 above refers the lady who led an army against Ali in the battle of “The Camel” (against the legally elected Khalifa of the time). Although the devil worries the faithful physically he has no control over the souls, as referred to in Couplet 99 above. Cf. Job’s case of trials.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:90
نہایت جامع معشرتی پروگرام
تفسیر: نہایت جامع معشرتی پروگرام: گذشتہ آیت میں تھا کہ قرآن میں ہر چیز کا بیان موجود ہے۔ زیر نظر آیت میں تعلیمات ِ اسلام کا ایک جامع اجتماعی انسانی اور اخلاقی پروگرام پیش کیا ہے۔ یہاں آیت میں چھ اہم اصول بیان کیے گئے ہیں۔ تین مثبت پہلو سے ہیں، اور تین منفی پہلو سے۔ پہلے فرمایا گیا ہے: اللہ عدل و احسان اور اسی طرح قریبیوں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے (اِنَّ اللّـٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى)۔ عدل سے بڑھ کر کون سا قانون وسیع اور جامع متصور ہو سکتا ہے۔ عدل وہی قانون ہے جس کے خور پر تمام نظام ِ ہستی گردش کرتا ہے۔ آسمان و زمین اور تمام موجودات عدالت کے ساتھ قائم ہیں (بلعدل قامت السمٰوٰت والارض)۔ انسانی معاشرہ اس وسیع عالم ِ ہستی کا ایک گوشہ ہے۔ یہ معاشرہ عالم ِ ہستی کے اس عمومی قانون سے الگ نہیں ہو سکتا اور عدل کے بغیر صحیح طرح اپنی زندگی جاری نہیں رکھ سکتا۔ ہم جانتے ہیں کہ عدل کا حقیقی معنیٰ ہے کہ ہر چیز اپنی جگہ پر ہو لہذا ہر قسم کا انحراف، افراط و تفریط، حد سے تجاوز اور دوسروں کے حقوق کا استحصال عدالت کے بر خلاف ہے۔ ایک صحیح انسان وہ ہے جس کے بدن کے تمام حصے بغیر کسی کمی بیشی کے اپنا اپنا کام کریں جب کبھی اس کا کوئی ایک یا کچھ حصے اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں کوتاہی کریں یا تجاوز کریں تو فوراً سارے بدن پر خرابی کے آثار نمایاں ہو جاتے ہیں اور بیماری یقینی طور پر آجاتی ہے۔ سارا انسانی معاشرہ بھی ایک انسانی بدن کی طرح ہے۔ ا گر عدل ملحوظ نہ رکھا جائے تو یہ بیمار ہو جائے گا۔ لیکن چونکہ بعض بحرائی و استثنائی مواقع پر تنہا عدالت اپنے جاہ و جلال اور گہرائی کے ساتھ کارساز نہیں ہوئی۔ لہذا ساتھ ہی احسان کا حکم دیا گیا ہے۔ زیادہ واضح الفاظ میں انسانوں کی طویل زندگی میں ایسے حساس مواقع بھی آجاتے ہیں کہ جب مشکلات کا حل عدالت کی مدد سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ ایثار، درگذر اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس کا مفہوم ’احسان‘ میں مضمر ہے۔ مثلاً ایک غدار اور دھوکا باز دشمن نے علاقے پر حملہ کر دیا۔ یا طوفان، سیلاب اور زلزلے نے ملک کا ایک حصہ تباہ کر دیا ہے۔ اب اگر لوگ ان حالات میں اس انتظار میں رہیں کہ مالی لحاظ سے اور دیگر لحاظ سے عادلانہ قوانین ان مسائل کو حل کریں تو یہ ممکن نہیں ہے ایسے مواقع پر وہ تمام لوگ کہ جن کے پاس زیادہ وسائل ہیں، جن کے پاس فکری، جسمانی اور مالی طاقت ہے انھیں چاہیے کہ ایثار و قربانی سے کام لیں اور طاقت کے مطابق ایثار کریں۔ ورنہ ہو سکتا ہے ظالم دشمن سارے ملک کو ختم کر دے یا قدرتی آفات بہت سے لوگوں کو بلکل مفلوج کر دیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہ دونوں اصول ایک انسان کے بدن میں بھی فطری طور پر کار فرماہیں۔ عام حالات میں بدن کے تمام حصے ایک دوسرے کی خدمت کرتے ہیں اور ہر عضو سارے بدن کے لیے کام کرتا ہے اور دوسرے اعضاء کی خدمات سے بہرہ مند ہوتا ہے یہ دراصل عدالت ہی ہے لیکن جب کبھی ایک عضو زخمی ہو جاتا ہے اور مقابلۃً خدمت کی قوت کھو بیٹھتا ہے تو کیا ممکن ہے اس حالت میں باقی اعضاء اسے بھلا دیں کیونکہ وہ بیکار ہو گیا ہے۔ کیا ممکن ہے زخمی عضو کا دوسرے اعضاء ساتھ نہ دیں اور اسے غذا نہ پہنچائیں؟ یقیناً ایسا نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دراصل احسان ہی ہے۔ سارے انسانی معاشرے پر بھی یہ دو اصول کار فرما ہونے چاہییں ورنہ معاشرہ صحیح و سالم نہیں ہو سکتا۔ اسلامی روایات اور اسی طرح مفسرین کے اقوال میں عدل و احسان کے درمیان فرق کے بارے میں مختلف بیانات دکھائی دیتے ہیں جو شاید زیادہ تراسی مفہوم کی طرف لوٹتے ہیں جو ہم نو سطور ِ بالا میں بیان کیا ہے۔ ایک حدیث میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے: العدل الانصاف، والاحسان التفضل۔ عدل یہ ہے کہ لوگوں کے حقوق ان تک پہنچائے جائیں اور احسان یہ ہے کہ ان پر تفضل کیا جائے۔ ۱؎ اسی چیز کی طرف سطور ِ بالا میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔ بعض نے کہا ہے: ’عدل‘ توحید ہے اور ’احسان‘ واجبات کی دائیگی ہے۔ اس تفسیر کی بناء پر ’علد‘ اعتقاد کی طرف اور ’احسان‘ عمل کی طرف اشارہ ہے۔ بعض نے کہا ہے: ’عدالت‘ ظاہر و باطن کی ہم آہنگی کا نام ہے اور ’احسان‘ یہ ہے کہ انسان کا باطن ان کے -------------------------------------------- ۱؎ نہج البلاغہ، کلمات قصار، جملہ ۲۳۱۔ -------------------------------------------- ظاہر سے بہتی ہو۔ بعض دیگر مفسرین نے عدالت کو عملی پہلوؤں سے مربوط سمجھا ہے اور ’احسان‘ کو گفتار کے ساتھ۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے ان میں سے بعض تفاسیر ہمارے ذکر کردہ مفہوم سے ہم آہنگ ہیں اور دوسری بھی اس کے منافی نہیں ہے اور اس قابل ہیں کہ سب کو اس آیت میں سمجھا جائے۔ رہا ’وَاِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى‘یعنی قریبیوں کے ساتھ نیکی کرنے کا مسئلہ تو یہ درحقیقت مسئلہ ِ احسان کا ایک حصہ ہے۔ فرق یہ ہے کہ ’احسان‘ ہورے معاشرے کے ساتھ اور وَاِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى خصوصیات سے اقرباء اور وابستگان کے ساتھ ہے کہ جو ایک چھوٹا معاشرہ شمار ہوتا ہے یہ خاندان معاشرے کی ایک اکائی ہے اگر اس میں باہمی اتحاد ہوگا تو اس کا اثر پورے معاشرے پر مرتب ہوگا۔ در حقیقت اس طرح لوگوں میں فرائض اور ذمہ داریاں صحیح صورت میں تقسیم ہوتی ہیں، کیونکہ ہر گروہ ذرا پہلے درجے میں اپنے اقرباء میں سے کمزور افراد کی دستگیری کرے گا تو اس طرح سے تمام افراد کے اپنے اقرباء کے ساتھ خوشگوار مراسم قائم ہو جائیں گے۔ بعض احادیث ِ اسلامی میں ہے کہ ’ذی القربیٰ‘ سے مراد پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیکی یعنی آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام ہیں اور ’ایتاء ذی القربیٰ‘ سے مراد خمس کی ادائیگی ہے۔ اس تفسیر کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ آیت کا مفہوم محدود کر دیا جائے بلکہ کوئی مانع نہیں کہ آیت اپنے وسیع مفہوم میں باقی رہے اور یہ مفہوم دراصل اس کے عمومی مفہوم کا ایک روشن مصداق ہے۔ اوراگر ہم ’ذی القربیٰ‘ کو مطلق طور پر نزدیکیوں کے معنیٰ میں لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چاہے وہ نسب اور خاندان کے اعتبار سے نزدیکی ہوں یا کسی اور اعتبار سے نزدیکی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو آیت کا مفہوم اور بھی وسیع ہو جائے گا۔ اس طرح اس کے مفہوم میں ہمسائے، دوست اور اس قسم کے دیگر قریبی بھی شامل ہو جائیں گے۔ اگرچہ ’ذی القربیٰ‘ کا مشہور معنی وہی ’اقرباء و خویش‘ہی ہے۔ چھوٹے معاشرہ (یعنیٰ اقرباء و اعزاء) کی مدد میں چونکہ انسان کے احساسات، کارفرما ہوتے ہیں لہذا اجزاء کے لحاظ سے یہ حکم زیادہ قوی تر ہے۔ ان تین مثبت اصولوں کے ذکر کے بعد تین ممانعتوں کا ذکر شروع ہوتا ہے فرمایا گیا ہے: اللہ ’فحاش‘ ، ’منکر‘ اور ’بغی‘ کے مفہوم کے بارے میں بھی مفسرین میں بہت اختلاف ہے لیکن ان کے لغوی معانی کو ایک دوسرے ک قرینے سے دیکھا جائے تو زیادہ مناسب یہ ہی معلوم ہوتا ہے کہ ’فحشاء‘ سے مراد چھپے ہوئے گناہ ہیں ’منکر‘ کھلے عام گناہوں کو کہتے ہیں اور ’بغی‘ اپنے حق سے ہر قسم کے تجاوز، ظلم اور اپنے تئیں دوسرے سے بڑا سمجھنے کی طرف اشارہ ہے۔ بعض مفسرین۱؎ نے کہا ہے کہ اخلاقی انحراف کا سر چسمہ تین قوتیں ہیں: --------------------------------------------------- ۱؎ تفسیر فخر الدین رازی جلد ۲۰ ص ۱۰۴ --------------------------------------------------- ۱۔ قوتِ شہوانی ۲۔ قوتِ غضبی ۳۔ قوتِ وہمی شیطانی ۱۔ قوتِ شہوانی: انسان کو زیادہ سے زیادہ لذتیں حاصل کرنے پر ابھارتی ہے اور اسے فحشاء میں غرق کر دیتی ہے۔ ۲۔ قوتِ غضبی: انسان کو منکرات انجام دینے اور لوگوں کو اذیت پہچانے پر انیگخت کرتی ہے۔ ۳ ۔ قوتِ وہمی شیطانی: انسان کو مقام و منصف اور بڑا بننے پر ابھارتی ہے اور انسان کی نظر کو فقط اس کی اپنی ذات تک محدود کر دیتی ہے انسان میں دوسروں کے حقوق پر تجاوز کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور اسے ایسے کاموں پر اکساتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ تعبیرات کے ذریعے ان جبلتوں کی سر کشی پر تنبیہ کی ہے۔ مندرجہ بالا آیت میں ایک جامع بیان کہ جس میں یہ تمام اخلاقی انحرافات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، کے ذریعے راہِ حق کی طرف ہدایت کی گئی ہے۔ آیت کے آخر میں ان چھ اصولوں پر ایک اور تاکید کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: اللہ تمھیں نصیحت کرتا ہے شاید تم خیال کرو اور عمل کرنے لگو۔ (یعظکم لعلکم تذکرون)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:90
خیر و شر کے بارے میں جامع ترین آیات
خیر و شر کے بارے میں جامع ترین آیات: اس آیت کی جاذبیت اور طرزِ بیان کے بارے میں یہ روایت ملاحظہ ہو: عثمان بن مظعون رسول اکرم ٓصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشہور صحابہ میں سے تھے، وہ کہتے ہیں: شروع میں میں نے اسلام ظاہری طور پر ہی قبول کیا تھا اور دل سے اسے نہیں مانا تھا وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بارہا مجھے اسلام کی دعوت دیتے۔ شرم کی وجہ سے میں نے قبول کر لیا میری یہ کیفیت یونہی رہی ہیاں تک کہ ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دیکھا کہ آپ بہت گہری فکر میں ہیں اور سخت پریشان ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اچانک آپ نے اپنی نظریں آسمان پر گاڑ دیں، یوں لگتا تھا جیسے کوئی پیغام وصول کر رہے ہیں یہ حالت ختم ہوئی تو میں نے ماجرا پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس وقت میں تم سے باتیں کر رہا تھا، اچانک میں نے جبرائیل کو دیکھا وہ میرے پاس یہ آیت لے کر آئے تھے:- ’اِنَّ اللّـٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى‘ آپ نے میرے سامنے یہ آیت پوری تلاوت کی تو اس کے مضمون نے میرے دل پر ایسا اثر کیا کہ اسی وقت اسلام میری روح میں اتر گیا میں آپ کے چچا ابے طالب کے پاس گیا اور انھیں یہ واقعہ سنایا تو انھوں نے فرمایا: اس اہلِ قریش؛ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرو تو ہدایت پاوؑگے کیونکہ وہ تمھیں مکارم ِ اخلاق کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا۔ پھر میں ولید بن مغیرہ کے پاس گیا (یہ مشہور عالم اور مشرکین کا ایک سردار تھا) یہ ہی آیت میں نے اس کے سامنے پڑھی تو اس نے کہا: اگر یہ بات خود محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہے تو بہت عمدہ ہے اور اگر اس کے خدا کی طرف سے ہے تو بھی بہت ہی اچھی ہے۔ ۱؎ ایک اور حدیث میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیت ولید بن مغیرہ کے سامنے پڑھی تو اس نے کہا برادرزاد: ۲؎ اسے پھر پڑھنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پھر پڑھی تو ولید نے کہا: ان لہ لحلاوۃ و ان علیہ الطلاوۃ، وان اعلاہ لمثمر، وان اسفلہ لمغعق، وما ھو قول البشر۔ یہ خاص مٹھاس، حسن اور درخشندگی کی حامل ہے اس کی شاخیں پُر بار ہیں اور اس کی جڑیں پُر برکت ہیں اور کسی انسان کا کلام نہیں ہے۔ ۳؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک اور حدیث مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جماع التقوٰی فی قولہ تعالیٰ ان اللہ یاؑمر بلعدل و الحسان تقویٰ سارے کا سارا خدا کے اس ارشاد میں ہے۔ (ان اللہ یاؑمر بلعدل و الحسان) ۴؎ مذکورہ بالا احادیث اور دیگر متعد احادیث سے یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہو جاتی ہے کہ زیر نظر آیت اسلام کے ایک ہمہ گیر حکم، اسلام کے ایک بنیادی قانون اور اس کے عالمی منشور کی بنیاد کے طور پر ہمیشہ مسلمانوں کے ہاں بہت اہم وہی ہے ہیاں تک کہ ایک حدیث کے مطابق جب امام باقر علیہ السلام نمازِ جمعہ پڑھاتے تو خطبہ نماز کے آخر میں آپ یہ ہی آیت تلاوت فرماتے اور اس کے بعد ان الفاظ میں دعا کرتے۔ اللھم انعلنا ممن یذکر فتنفعہ الذکریٰ ------------------------------------------------ ۱؎ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔ ۲؎ بھائی کا بیٹا۔ اس نے اس لیے کہا کہ ولید بن مغیرہ ابو جہل کا چچا تھا اور یہ دونوں قریش میں سے تھے۔ ۳؎ مجمع البیان، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔ ۴؎ نور الثقلین جلد ۳ ص ۱۷۸۔ ------------------------------------------------ خداوندا؛ ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو پندونصیحت کو سنتے ہیں اور یہ ان کے لیے مفید ثابت ہوتی ہے۔ اس کے بعد آپ منبر سے اتر آتے۔ ۱؎ اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہر قسم کی بد بختی، فساد اور برائی سے پاک ہو جائے تو اس کے لیے کافی ہے کہ ان تین اصولوں پر عمل کیا جائے؛ ۱۔ عدل ۲۔ احسان ۳۔ ایتاء ذی القربیٰ اور ان تین انخرافات کا سطح ارض سے خاتمہ کر دیا جائے: ۱۔ فحشاء ۲۔ منکر اور ۳۔ بغی مشہور صحابئ رسول ابنِ مسعود سے منقول ہے کہ انھوں نے کہا: یہ آیت قرآن میں خیر اور شر کے بارے میں جامع ترین آیت ہے۔ ان کے اس قول کی بھی یہ ہی وجہ ہے جو بیان کی جاچکی ہے۔ اس آیت کا مفہوم ہمیں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک لرزا دینے والی حدیث یاد دلاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:۔ صتغان من امتی اذا اصلحا صلحت امتی واذا فسد فسدت امتی میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں کہ اگر ان کی اصلاح ہو جائے گی تو میری امت کی اصلاح ہو جائے گی اور وہ فاسد اور خراب ہوجائیں گے تو میری امت فاسد ہو جائےگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا؛ ’’ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! یہ دو گروہ کون سے ہیں؟ ‘‘ الفقھاء والامراء علماء اور امراء و اہل ِ اقتدار۔ محدث قمی، ’سفینۃ البحار‘ میں یہ حدیث نقل کرنے کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک اور حسبِ حال حدیث نقل کرتے، آپ نے فرمایا:- قال تکلم النار یوم القیٰمۃ ثلاثۃ؛ امیراً، وقاریاً، وذاثروۃ من المال، فیقول للامیر یا من وھب اللہ لہ سلطاناً فلم بعدل، فتزدردہ کما تزدرد الطیر حب السمم، وتقول للقاری بامن تزین للناس وبارز اللہ ---------------------------------------------- ۱؎ نور الثقلین جلد ۳ ص ۷۷ بحوالہ کافی ---------------------------------------------- با لمعامی فتزدردہ، وتقول للغنی یا من وھب اللہ لہ دنیا کثیرۃ واسعۃ فیضاً وسئلہ الحقیر الیسیر قرض فابی الا بخلا فتزدردہ۔ قیامت کے دن جہنم کی آگ تین گروہوں سے بات کرے گی۔ اہل اقتدار، علماء اور دولت مند۔ اہل ِ اقتدار سے کہے گی؛ یہ تمھیں خدا نے اقتدار دیا تھا لیکن تم نے عدل سے کام نہیں لیا۔ یہ کہہ کر آگ انھیں اس طرح سے نگلے گی جیسے پرندوں تلوں کے دانوں کو نگل جاتا ہے۔ اس کے بعد علماء سے کہے گی؛ تم نے طاہراً تو اپنے آپ کو بہت اچھا بنا رکھا تھا لیکن تم اللہ کی نافرمانی کرتے تھے۔ یہ کہہ کر آف انھیں بھی نگل جائے گی۔ پھر دولت مندوں سے کہے گی؛ خدا نے تمھیں بہت سے وسائل عطا کیے تھے اور تم نے چاہا تھا کہ ان میں سے کچھ مال خرچ کرو لیکن تم نے بخل سے کام لیا۔ یہ کہہ کر آگ انھیں بھی نگل جائےگی۔ ۱؎ (عدالت اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ اس سلسلے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی چوتھی جلد میں سورہ مائدہ کی آیہ ۸ کے ذیل میں تفصیلی بحث کی ہے۔ ادھر رجوع کیجیے گا)۔ ------------------ ------------------ --------------------------------------------- ۱؎ سفینۃ البحار جلد ۷۱ ص ۳۰۔ ---------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:90
سوره نحل/ آیه 90
(90) اِنَّ اللّـٰهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِيْتَـآءِ ذِى الْقُرْبٰى وَيَنْـهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْىِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ ترجمہ: اللہ عدل و احسان اور قریبیوں کو عطا کرنے کا حکم دیتا ہے اور برائیوں، نا فرمانیوں اور ظلم سے منع کرتا ہے۔ اللہ تمھیں نصیحت کرتا ہے کہ شاید تم سبق لو۔