وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ فَيُضِلُّ اللَّهُ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
We did not send any apostle except with the language of his people, so that he might make [Our messages] clear to them. Then Allah leads astray whomever He wishes, and He guides whomsoever He wishes, and He is the All-mighty, the All-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 14:4
[Pooya/Ali Commentary 14:4] To every people was sent a messenger of Allah who conveyed the divine message to them in their language, but it did not restrict his mission to that particular people. Through them it reached all mankind. The most distressed area was selected to start the campaign of "guidance unto order through knowledge of divine laws'' to put an end to disorder and ignorance prevailing in the society, which also served other such areas. As a matter of course the language of the people who were originally addressed had to be used. Although the Holy Prophet was sent with a book in Arabic, his mission was universal. To say that his mission was restricted to the Arabic speaking people is an unclad for restriction of his universal mission. According to Bible prophet Isa was sent to "the lost sheep of the house of Israel, and to them alone" (Matthew 15: 24) to whom he spoke in Hebrew, and he himself restricted his field of activity to the children of Israel as stated in the New Testament; and further, Matthew 10:5 says that Isa sent out his twelve disciples with the instructions: "Do not take the road to gentile lands, and do not enter any Samaritan town; but go to the lost sheep of the house of Israel," but today he is accepted as a universal teacher. As a matter of fact Nisa: 79; Araf: 158; Bani Israil: 105; Anbiya: 107; Ahzab: 45 and Saba: 28 clearly proclaim that Islam is an universal religion for all peoples in all times. The final book of Allah and the Holy Prophet were sent as "the mercy unto the worlds". To understand the true meanings of their teachings for universal application attachment with the Ahl ul Bayt has been made obligatory through hadith al thaqalayn (see page 6). The Holy Prophet said: "I am the city of knowledge and Ali is its gate."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:4-7
سوره ابراهیم آیت 4-7
۴۔ وَمَا اٴَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِہِ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ فَیُضِلُّ اللهُ مَنْ یَشَاءُ وَیَھْدِی مَنْ یَشَاءُ وَھُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ ۔ ۵۔ وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا مُوسَی بِآیَاتِنَا اٴَنْ اٴَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ وَذَکِّرْھُمْ بِاٴَیَّامِ اللهِ إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ ۔ ۶۔ وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ إِذْ اٴَنجَاکُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَسُومُونَکُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَیُذَبِّحُونَ اٴَبْنَائَکُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَائَکُمْ وَفِی ذَلِکُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّکُمْ عَظِیمٌ۔ ۷۔ وَإِذْ تَاٴَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاٴَزِیدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ ۔ ترجمہ ۴۔ ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی قوم کی زبان میں تاکہ ان کے سامنے ( حقائق ) آشکار کرے پھر خدا جسے چاہے ( اور مستحق سمجھے) گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے ( اور مستحق سمجھے ) ہدایت کرتا ہے اور وہ تو توانا و حکیم ہے ۔ ۵۔ اور ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات کے ساتھ بھیجا ( اور حکم دیا ) کہ اپنی قوم کو ظلمات سے ونر کی طرف نکال اور انہیں ایام اللہ یا د دلا اس میں ہر صبر کرنے والے اور شکر گزار کے لئے نشانیاں ہیں ۔ ۶۔ وہ وقت یا د کرو کہ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اپنے اوپر خد اکی نعمت کو یاد رکھو جب کہ اس نے تمہیں آلِ فرعون ( کے چنگل سے)سے نجات بخشی ۔ وہ کہ جو تمہیں بد ترین طریقے سے عذاب دیتے تھے ۔ تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو ( خدمت گاری کے لئے ) زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمہارے پر وردگار کی طرف بہت بڑی آزمائش تھی ۔ ۷۔ ( اسی طرح ) اس وقت کو یاد کرو کہ جب تمہارے پر ور دگار نے اعلان کیا کہ اگر شکر گزاری کروگے تو تم پر( اپنی نعمت کا ) اضافہ کروں گا اور اگر کفران کروگے تو میرا عذاب سخت ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:4-7
زندگی کے حساس دن
زندگی کے حساس دن گزشتہ آیات میں قرآن مجید اور اس کے حیات بخش اثرات کے متعلق گفتگو تھی ۔ زیر بحث پہلی آیت میں بھی ایک خاص پہلو سے اس موضوع کے بارے میں بات کی گئی ہے اور وہ ہے انبیاء اور آسمانی کتب کی زبان کا اس پہلی قوم کی زبان سے ہم آہنگ ہونا جس کی طرف وہ مبعوث ہوئے ۔ فرمایا گیاہے : ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان میں ( وَمَا اٴَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِہِ) ۔ کیونکہ پہلے پہل تو کسی پیغمبر کا تعلق اسی قوم سے پیدا ہوتا ہے جس میں وہ قیام کرتے ہیں ، انبیاء کے ذریعے پہلی وحی کی شعاع اسی پر پڑتی ہے اور ان کے اولین اصحاب و انصار اسی میں سے ہوتے ہیں لہٰذا پیغمبر کو انہی کی زبان میں گفتگو کرنا چاہئیے ” تاکہ وہ ان کے لئے حقائق کو واضح طور پر پیش کر سکے “(لِیُبَیِّنَ لَھُم) اس جملے میں در حقیقت اس کے نکتے کی طرف بی اشارہ ہے کہ عام طور پر انبیاء کی دعوت ان کے پیروکاروں پر کسی انجانے اور غیر مانوس طریقے سے منعکس نہیں ہوتے تھی بلکہ واضح و روشن طور پر عام مروجہ زبان میں وہ تعلیم و تربیت کرتے تھے ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے: ان کے سانے منے دعوت ِ الہٰی کی وضاحت کے بعد ”خدا جس شخص کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے “ (فَیُضِلُّ اللهُ مَنْ یَشَاءُ وَیَھْدِی مَنْ یَشَاءُ ) ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ آخر کار کسی کا ہدایت یافتہ ہونا یاگمراہ ہونا انبیاء کاکام تو تبلیغ اور تبیین ہے ۔ بندوں کی حقیقی ہدایت و رہنمائی تو خدا ہی کے ہاتھ ہے ۔ اس بناء پر کہیں یہ تصور نہ ہو کہ اس کا مطلب جبر ، لازمی طورپر ہونا اور انسان کی آزادی کا سلب ہونا ہے ، بلافاصلہ مزید ارشاد فرمایا گیا ہے : وہ عزیز حکیم ہے (وَھُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیم) ۔ اپنی عزت و قدرت کی وجہ سے وہ ہر چیز پر قادر و توانا ہے او رکوئی شخص اس کے ارادے کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا ۔ لیکن اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق وہ کسی شخص کو بلا سبب ہدایت نہیں کرتا اور نہ کسی کو بلا وجہ گمراہ کرتا ہے بلکہ بندے اپنے ارادے کی انتہائی آزادی کے ساتھ ”سیر الیٰ اللہ “ کے لئے قدم اٹھاتے ہیں اور اس کے بعد ان کے دل پر نور ہدایت اور فیض ِ حق کی کرنیں پڑتی ہیں ۔ جیسا کہ سورہ عنکبوت کی آیہ ۶۹ میں ہے : والذی جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا جو لوگ ہماری راہ میں جہاد اور جدو جہد کرتے ہیں ہم یقینی طور پر انہیں اپنے راستوں کی طرف ہدایت کرتے ہیں ۔ اسی طرح جن لوگوں نے تعصب ، ہٹ دھرمی ، حق دشمنی ، شہوات میں غوطہ زنی اور ظلم میں آلودگی کے باعث ہدایت کے لئے اپنی قابلیت گنواد ی ہے وہ فیض ِ ہدایت سے محروم ہو جاتے ہیں اور ضلالت و گمراہی کی وادی میں بھٹکتے رہتے ہیں ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے : کذٰلک یضل اللہ من ھومسرف مرتاب اسی طرح خدا ہر اسراد کرنے والے اور آلودہ ٴ شک شخص کو گمراہ کرتا ہے ۔ (مومن ۔ ۳۴) یہ بھی فرمایا گیا ہے : ومایضل بہ الاالفاسقین اس کے ذریعہ خدا صرف فاسقوں کو گمراہ کرتا ہے (بقرہ۔ ۲۶) نیز یہ بھی ار شاد ہوتا ہے : یضل اللہ الظالمین خدا ستمگروں کو گمراہ کرتا ہے ۔ (ابراہیم ۔ ۲۷) گویا ہدایت اور گمراہی کا سر چشمہ خود ہمارے ہاتھ میں ہے ۔ اگلی آیت میں اپنے ہم عصر طاغوتوں کے مقابلے میں انبیاء کے قیام کا ایک نمومہ ذکر کیا گیا ہے اور بتا یا گیا ہے کہ وہ ظلمتوں سے نکال کر وادیٴ نور میں لے جانے ے لئے بھیجے گئے تھے ۔ ارشاد ہوتا ہے :ہم نے موسیٰ کو اپنی آیات ( مختلف معجزات) کے ساتھ بھبیجا اور ہم نے اسے حکم دیا کہ اپنی قوم کو ظلمات سے ونر کی طرف ہدایت کرو(وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا مُوسَی بِآیَاتِنَا اٴَنْ اٴَخْرِجْ قَوْمَکَ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ ) ۔۱ جیسا کہ ہم نے اس سورہ کی پہلی آیت میں پڑھا ہے پیغمبر اسلام کے پروگرام کا خلاصہ بھی لوگوں کو ظلمات سے نور کی طرف نکال لے جانا تھا ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ یہ سب خدا کے انبیاء و رسل ہیں بلکہ سب کے سب انسانوں کے معنوی اور روحانی راہنما ہیں ۔ کیا برائیاں ، گمراہیاں ، کجرویاں ، ظلم و ستم ، استثمار ، ذلتیں ، زبوں حالیاں ، فتنہ و فساد اور گناہ ظلمت و تاریکی کے علاوہ کچھ اور ہیں ۔ اور کیا ایمان و توحید ، تقویٰ و پاکیزگی ، آزادی و استقلال اور سربلندی و عزت نور و ضیا کے سوا کچھ اور ہے ۔ اس بنا ء پر تمام رہبروں کی دعوت کے درمیان بالکل یہی قدر مشترک اور قدر جامع ہے ۔ ا س کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ایک عظیم ذمہ داری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : تیری ذمہ داری ہے کہ تو اپنی قوم کو ” ایام اللہ “ یا د دلائے (وَذَکِّرْھُمْ بِاٴَیَّامِ اللهِ ) ۔ مسلم ہے کہ تمام دن ایام الٰہی ہیں جیسے تمام جگہیں اور مقامات خدا سے تعلق رکھتے ہیں اب اگر کسی خاص مقام کو ” بیت اللہ “ سے موسوم کیا جائے تو یہ اس کی خصوصیت کی دلیل ہے ۔ اسی طرح مسلم ہے کہ ”ایام اللہ “ کا عنواب مخصوص دنوں کی طرف اشارہ ہے کہ جو بہت زیادہ امتیاز و درخشندگی رکھتے ہیں ۔ اسی بناء پر مفسرین نے اس کی تفسیرمیں مختلف احتمالات پیش کئے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ گزشتہ انبیاء اور ان کی سچی اور اچھی امتوں کی کامیابی کے دنوں کی طرف اشارہ ہے اور اسی طرح وہ ایام بھی اس کے مفہوم میں شامل ہیں کہ جن میں انہیں ان کی اہلیت کی بناء پر انواع و قسام کی نعمتوںن سے نوازا گیا ۔ بعض نے کہا کہ یہ ان دنوں کی طرف اشارہ ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے سر کش قوموں کو عذاب زنجیر میں جکڑ ا اور طاغوت و سر کش افراد کو ایک ہی فرمان سے تباہ و بر باد کردیا ۔ بعض نے ان دونوں حصوں کی طرف اشارہ سمجھا ہے ۔ لیکن اصولی طور پر اس گویا ، عمدہ اور رسا تعبیر کو محدود نہیں کیا جاسکتا ۔ وہ تمام دن ” ایام اللہ “ ہیں کہ جو نوعِ بشر کی زندگی کی تاریخ میں حامل ِ عظمت ہیں ۔ ہر وہ دن کہ جس میں کوئی فرمان ِ الہٰی اس طرح درخشندہ ہوا کہ باقی امور کو اپنے تحت الشعاع لے آیا وہ ایام اللہ میں سے ہے ۔ جس روز انسانوں کی زندگی میں سے نیا باب کھلا ، انہیں درس ِ عبرت دیا گیا ، ان مین کسی پیغمبر نے ظہور یا قیام فرمایا یا جس دن کوئی منکر ، طاغوت اور فرعون ظلمت کے گڑھے میں پھنکا گیا ۔ خلاصہ یہ کہ وہ دن کہ جس میں حق و عدالت بر پا ہو ئی اور ظلم و بدعت خاموش ہو ئی وہ ایام اللہ میں سے ہے جیساکہ ہم دیکھیں گے آئمہ معصومین علیہم السلام کی اس تفسیر کے ذیل میں منقول روایات میں بھی حساس دنوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ آیت کے آخر میں ارشاد ہوتا ہے : اس گفتگو میں اور تمام ایام اللہ مین ہر صابر و با استقامت اور شکر گزار انسان کے لئے نشانیاں ہیں (إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ ) ۔ ”صبار“ اور ”شکور“ دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں ان میں سے ایک صبر و استقامت زیاد ہ ہونے اور دوسرا نعمت و احسان پر شکر گزاری زیادہ ہونے کو ظاہر کرتا ہے ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ صاحب ِ ایمان افراد نہ تو سختیوں اور مشکلوں کے دنوں میں حوصلہ ہار بیٹھتے ہیں اور اپنے آپ کو حوالہ ٴ حوادث کردیتے ہیں اور نہ ہی کامیابی اور نعمت کے دنوں میں غرور و غفلت میں گرفتار ہوتے ہیں اور ” ایام اللہ “کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ان دونوں کا تذکرہ گویا اسی مقصد کی نشاندہی کررہاہے ۔ بعد والی آیت میں تاریخ بنی اسرائیل میں ایام اللہ اور درخشاں و پر باردلوں میں سے ایک کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس کا ذکر مسلمانوں کے لئے بھی تذکرہ تھا ۔ ارشاد ہوتا ہے : اس وقت کو یاد کرو کہ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اس نعمت ِخدا کا تذکرہ کرو کہ جب اس نے تمہیں آل ِ فرعون سے نجات بخشی ( وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ اذْکُرُوا نِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ إِذْ اٴَنجَاکُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ ) ۔ وہی فرعونی کہ جنہوں نے تم پر بد ترین عذاب مسلط کررکھا تھا ، تمہارے بیٹوں کو ذبح کردیتے تھے اور تمہاری عورتوں کو خدمت اور کنیزی کے لئے زندہ رکھتے تھے (یَسُومُونَکُمْ سُوءَ الْعَذَابِ وَیُذَبِّحُونَ اٴَبْنَائَکُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَائَکُمْ) ۔ اور یہ تمہارے پر وردگا رکی طر ف سے تمہاری بہت بڑی آزمائش تھی ( وَفِی ذَلِکُمْ بَلَاءٌ مِنْ رَبِّکُمْ عَظِیمٌ) ۔ اس دن سے زیادہ با بر کت کونسا دن ہو گا کہ جس دن تمہارے سروں سے خود غرض ، سنگدل اورا ستعمارگر لوگوں کو دور کیا گیا ۔ وہی لوگ کہ جو تمہارے ساتھ ایک بہت بڑا ستم روا رکھے ہوئے تھے ۔ اس ظلم سے بڑھ کر کیا ہوسکتاتھا کہ وہ تمہارے بیٹوں کے سر جانوروں کی طرح کاٹ دیتے تھے ( توجہ رہے کہ قرآن نے ذبح کہا ہے قتل نہیں ) اور اسے بڑھ کر یہ کہ تمہاری عزت و ناموس بے شرم دشمن کے چنگل میں کنیزوں کی طرح گرفتار تھی ۔ نہ صر ف بنی اسرائیل کے لئے بلکہ اقوام و ملل کے لئے آزادی و استقلا ل کے حصول اور طاغوت کی دست برد سے نجات کا دن ایام اللہ میں سے ہے کہ جسے انہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئیے ۔ ایسی یاد کہ جس کے سبب وہ گزشتہ حالت کی طرف لوٹنے سے محفوظ ہیں ۔ ”یسومونکم “ سوم ( بروزن ”صوم “) کے مادہ سے ہے ۔ در اصل یہ کسی چیز کے پیچھے جانے اور اس کی جستجو کے معنی میں ہے نیز یہ لفظ کسی پرکسی کام کو زبر دستی ٹھونسنے کے معنی میں بھی آیا ہے ۔ 2 ”یسومونکم سوء العذاب “ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ تم پر بد ترین سختیاں اور عذاب مسلط کرتے تھے ۔ کیا یہ کم مصیبت ہے کہ ایک گروہ کی فعال قوت کو فنا کے گھاٹ اتار دیا جائے اور اس کی عورتوں کو کسی سرپرست کے بغیر چند ظالموں کے چنگل میں کنیزوں کی طرح باقی رہنے دیا جائے ۔ ضمناً ”یسومون “ کا فعل مضارع کی صورت میں ہونا اس طرف اشارہ ہے کہ یہ کام مدتوں جاری رہا ۔3 یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ بیٹوں کا سر کاٹنے اور عورتوں کی کنیزی کے ذکر کے بعد ان کا واوٴ کے ذریعے ” سوء العذاب “ پر عطف کیا گیا ہے حالانکہ یہ خود ”سوء العذاب “ کا مصداق ہیں ۔ ایسا ان دونوں عذابوں کی اہمیت کی بناء پر ہوا ہے ۔ نیز یہ نشاندہی کرتا ہے کہ فرعون کی جابر اور ستم گر قوم بنی اسرائیل پر اور مظالم بھی روارکھتی تھی لیکن ان میںسے یہدو ظلم بہت شدید اور نہایت سخت تھے ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : یہ بات بھی یاد رکھو کہ تمہارے پر وردگار نے اعلان کیا کہ اگرمیری نعمتوں کا شکر بجا لاوٴ تو یقینا میں تمہاری نعمتوں میں اضافہ کروں گا اور اگر کفران کرو تو میرا عذاب اور سزا شدیدہے (وَإِذْ تَاٴَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاٴَزِیدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِی لَشَدِیدٌ ) ۔4 ہوسکتا ہے کہ یہ آیت بنی اسرائیل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی گفتگو کا تسلسل ہو ۔ آپ (علیه السلام) نے انہیں اس نجات ، کامیابی اور نعمات ِ فراواں پر شکر گزاری کی دعوت دی اور ان سے نعمت میں اضافے کا وعدہ کیا اور کفران کی صورت میں عذاب کی تہدید کی اور یہ ممکن ہے کہ یہ ایک مستقل جملہ ہو او ر مسلمانوں سے خطاب ہو لیکن بہر حال نتیجے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اگر بن اسرائیل کو خطاب ہو پھربھی قرآن مجید میں ہمارے لئے ایک اصلاحی درس کے طور پر آیا ہے ۔ یہ امر جاذب نظر ہے کہ شکر کے بارے میں صراحت کے ساتھ فرمایا گیا ہے ” لا زید نکم “ ( یقینا میں اپنی نعمت تم پر زیادہ کر دوں گا ) ۔ جب کہ کفران نعمت کے بارے میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ تمہیں عذاب کروں گا بلکہ ارشاد ہوتا ہے :” میرا عذاب شدید ہے “ تعبیر کا یہ فر ق پر وردگار ک اانتہائی لطف و کرم ہے ۔ ۱۔حضرت موسی بن عمران علیہ السلام سے ظاہر ہونے والے معجزات کی طرف زیر نظر آیت میں لفظ” آیات“کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے ۔ سورہ بنی اسرائیل کی آیت ۱۰۱کے مطابق وہ تو اہم معجزات تھے جن کی تفصیل اس آیت کے ضمن میں آئے گی ( انشاء اللہ ) ۔ 2۔مفردات راغب ، تفسیر المنا ر( جلد ۱ ص ۳۰۸ اور تفسیر ابو الفتوح رازی کی جلد ۷ ص ۷ کی طرف رجوع کریں ۔ 3۔ توجہ رہے کہ تھوڑے سے فرق کے ساتھ اس آیت کی نظیر سورہ بقرہ کی آیت ۴۹ میں بھی ہے ۔ 4۔تاٴذن باب تفعل سے ہے اور تاکید سے اعلان کرنے کے معنی میں ہے کیونکہ اس سے افعال کا مادہ ” ایذان “ اعلان کے معنی میں ہے اور جب تفعل کے معنی میں آئے تو اس سے اضافہ اور تاکید کا استفادہ ہوتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:4-7
۱۔ ایام اللہ کی یاد آوری
۱۔ ایام اللہ کی یاد آوری : جیسا کہ ہم نے مندر جہ بالا آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ ” اللہ “ کی طرف ” ایام “ کی اضافت انسانوں کی زندگی کے اہم اور تقدیر ساز دنوں کی طرف اشارہ ہے اور ان دنوں کی عظمت کی بناء پر انہیں خداکی طرف نسبت دی گئی ہے ۔ نیز اس بناء پر کہ اگر ایک عظیم نعمت الہٰی کسی لائق قوم کے شامل حال ہو۔ یا عظیم عذابِ الٰہی کسی سر کش و طغیان گر قوم کو دمن گیر ہو تو دونوں صورتوں میں تذکرہ کرو یا د وآوری کے لائق ہے ۔ آئمہ معصومین علیہم السلام سے منقوم روایات میں ”ایام اللہ “ کی تفسیر مختلف دنوں سے کی گئی ہے ۔ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ایام اللہ ، یوم یقوم القائم (علیه السلام) و یوم الکرّة و یوم القیامة ایام اللہ مہدی موعود (علیه السلام)کے قیامکا دن ، رو ز رجعت او رقیامت ہیں ۔ 1 تفسیر علی بن ابراہیم میں ہے : ”ایام اللہ “ تین دن ہیں قیام مہدی (علیه السلام) کا دن ، موت کا دن اور قیامت کا دن ۔2 ایک اور حدیث میںپیغمبر اکرم سے منقول ہے : ایام اللہ نعمائہ وبلائہ و ببلائہ سبحانہ ایام اللہ اس کی نعمتوں اور اس کی طرف مصائب کے ذریعے آز مائشوں کے دن ہیں ۔ 3 جیسا کہ ہم نے با رہا کہا ہے کہ اس قسم کی احادیث کبھی بھی اس با ت کی دلیل نہیں ہیں کہ مفہوم انہی میں منحصر ہے بلکہ ان میں بعض مصادیق کے بعض حصوں کا بیان ہے ۔ بہر حال عظیم دنوں کی یاد آوری ( چاہے وہ کامیابی کے دن ہو یا سختی کے ) ملتوں کی بیداری اور ہوشیاری میں بہت موٴثر ہوتی ہے ۔ اسی آسمانی پیام سے ہدایت لیتے ہوئے ہم تاریخ اسلام کے عظیم دنوں کی یاد زندہ و جاوداں رکھتے ہیں اور ان یادوں کو تازہ کرنے کے لئے ہر سال ہم نے کچھ دنوں کو مخصوص کیا ہوا ہے ، ان دنوں میں ہم اپنے ماضی کی طرف لوٹ جاتے ہیں اور اس سے ہم درس لیتے ہیں ، ایسے درس کہ جو ہمارے آج کے لئے بہت زیا دہ موٴثر ہیں ۔ نیز ہماری موجودہ تاریخ خصوصاً انقلاب ِ اسلامی ایرا ن کی پر شکوہ تاریخ میں بہت دن ایسے ہیں جو” ایام اللہ “ کے مصادیق ہیں ۔ ہر سال ہمیں ان کی یاد زندہ رکھنا چاہئیے ایسی یاد کہ جس میں شہیدوں ، غازیوں ، مجاہدوں اور عظیم دلاوروں کی یاد ررچی بسی ہو اور پھر ان سے ہدایت لینا چاہیئے ۔ لہٰذا ان عظیم دنوں کا ذکر ہمارے مدارس کی درسی کتب میں ہونا چاہئیے اور ان کی یاد ہماری اولاد کی تعلیم و تربیت کاحصہ ہونا چاہئے اور ہمیں آئندہ نسلوں کے بارے میں ” ذکرھم “ (انہیں یاد دلاوٴ) کی ذمہ داری پوری کرنا چاہئیے ۔ قرآن مجید میں بھی بار ہا ” ایام اللہ “ کی یاد دہانی کر وائی گئی ہے ۔ بنی اسرائیل کے بارے میں بھی او رمسلمانوں کے بارے میں بھی نعمتوں اور سختیوں کے دنوں کو یاد رکھا گیا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:4-7
۲۔ جابروں کے طور طریقے
۲۔ جابروں کے طور طریقے : ہم نے بار ہا قرآنی آیات میں پڑھا ہے کہ فرعونی بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کردیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے ۔ یہ کام صرف فرعون اور فرعونی نہیں کرتے تھے بلکہ تاریخ شاہد ہے کہ ہر استعمار گر کا یہی شیوہ اور طریقہ تھا کہ وہ فعال جنگجو اور پر عز م قوتوں کا ایک حصہ نابود کردیتے اور دوسرے کو کمزور کرکے اپنے مفادات کے لئے استعمال کرتے کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنے استعماری اور استثماری کام کاری نہیں رکھ سکتے تھے ۔ لیکن اہم با ت یہ کہ سمجھیں کہ ایسی قوتیں کبھی تو فرعونیوں کی طرح لڑکوں کو نابود ہی کردیتی ہیں او رکبھی منشیات ، شراب اور بدکاری جیسی بری عادتوں میں غرق کرکے فعال قوتوں کو ناکارہ بنادیتی ہیں اور انہیں زندہ نما مردہ بنادیتی ہیں ۔یہی وہ چیز ہے کہ جس پر مسلمانوں کو گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ان کی نسل ِ نو ایسے کاموں پر پڑگئی اور اپنی ایمانی جسمانی قوت گنوابیٹھی تو پھر انہی جان لینا چاہئیے کہ ان کے لئے غلامی یقینی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:4-7
۔ سب سے بڑی نعمت آزادی ہے
۳۔ سب سے بڑی نعمت آزادی ہے : یہ امر جاذب نظر ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں ” ایام اللہ “ کے ذکر کے بعد صرف ایک دن کا ذکر کیا گیا ہے ۔ وہ دن کہ جو فرعونیوں کے چنگل سے بنی سرائیل کی نجات کا دن ہے (اذانجٰکم من ایل فرعون)حالانکہ بنی اسرائیل کی تاریخ میں اور بھی بہت سے عظیم دن تھے کہ جن میں حضرت موسیٰ (علیه السلام) کی ہدایت کے زیر سایہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عظیم نعمتیں بخشی تھیں لیکن زیر بحث آیات میں ” یوم نجات“ کا ذکر قوموں کی سر نوشت میں آزادی اور استقلال کی انتہائی اہمیت کی دلیل ہے ۔ جی ہاں ! جب تک کوئی قوم وابستگی سے نجات حاصل نہ کرے ، غلامی اور استعمار کے چنگل سے آزاد ہو اس کی صلاحتیں استعداد اور کمال ظاہر نہیں ہوسکتا اور وہ اللہ کی راہ میں قدم نہیں رکھ سکتی وہ راہ کہ شرک ، ظلم اور بیدار کے خلاف قیام کا راستہ ہے ۔ اسی بناء پر عظیم الہٰی رہبرو ں کا پہلا کا یہی تھا کہ وہ قوموں کو فکری ، ثقافتی ، سیاسی او ر اقتصادی غلامی سے آزاد کروائیں اور اس کے بعدکوئی اور کام کریں اور توحید و انسانیت کے پروگراموں کو عملی شکل دیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:4-7
شکر نعمت کے بارے میں چند اہم نکات
شکر نعمت کے بارے میں چند اہم نکات ۱۔ حضرت علی (علیه السلام) نہج البلاغہ میں اپنے حکمت آمیز کلمات میں فرماتے ہیں : اذا وصلت الیکم اطراف النعم فلا تنفروا و اقصاھا بقبلة الشکر جس وقت نعمات ِ الہٰی کا پہلا حصہ تم تک پہنچ جائے تو کوشش کرو کہ شکر کے ذریعے باقی حصے کو بھی اپنی طرف جذب کرو نہ یہ کہ شکر گزاری مین کمی کرکے اسے اپنے آپ سے دور بھگا دو۔ 1 ۲۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے نعمتوں پر صرف خدا کی سپاس گزاری اور تشکر کافی نہیں بلکہ ان لوگون کو بھی شکر یہ ادا کرنا چاہئیے کہ جو اس نعمت کا ذریعہ بنے ہیں اور ان کی زحمات و مشقات کا حق بھی اس طریقے سے ادا کرنا چاہئیے اور اس طرح انہیں اس راہ میں خدمات کی تشویق دلانا چاہئیے ۔ ایک حدیث میں امام علی بن الحسین علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا : جب روز قیامت ہوگا تو اپنے بعض بندوں سے فرمائے گا: کیا تمنے فلاں شخص کا شکریہ ادا کیا ہے ۔ تو وہ عرض کرے گا : پرور دگارا : میں نے تیرا شکریہ اداکیا ہے ۔ اللہ فرمائے گا : چونکہ تو اس کا شکربجا نہیں لایا تو گویا تونے شکربھی ادا نہیں کیا ۔ پھر امام (علیه السلام) نے فرمایا: اشکر کم اللہ اشکر کم للناس تم میں سے خدا کا زیادہ شکر کرنے والے وہ ہیں جو لوگوںکا زیادہ شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ 2 ۳۔ خدا کی نعمتوں کی افزائش کہ جس کا شکرگزار وں سے وعدہ کیا گیا ہے صرف اس لئے نہیں ہے کہ انہیں نئی نئی مادی نعمتیں بخشی جائیں بلکہ خود شکر گزاری کہ جو خدا کی طرف خاص توجہ اور ا س کی ساحت ِ مقدس سے نئے عشق کے ساتھ ہو ایک عظیم روحانی نعمت ہے کہ جو انسانی نفوس کی تربیت اور انہیں فرامین الہٰی کی اطاعت کی طرف رغبت دلانے کے لئے بہت موٴثر ہے ۔ بلکہ شکر ذاتی طور پر زیادہ سے زیادہ معرفت الہٰی کا ذریعہ ہے ۔ اسی بناے پر علماء عقائد علم کلام میں ”وجوب معرفت الٰہی “ کو ثابت کرنے کے لئے ” وجوب شکر ِ منعم “ کی دلیل پیش کرتے ہیں ۔ ۴۔ معاشرے میں تحریک پید اکرنے اور پیش رفت کے لئے روح شکر گزاری کاحیاء بہت اہم کردار کرتا ہے ۔ وہ لوگ کہ جنہوں نے اپنے علم و دانش سے یا فدا کاری اور شہادت سے یا کسی دوسرے طریقے سے اجتماعی اہداف کی پیش رفت کے لئے خدمت کی ، ان کی قدر دانی اور ان کا تشکر معاشرے کو آگے بڑھانے کا بہت اہل عامل ہے ۔ جس معاشرے میں تشکر اور قدر دانی کی روح مردہ ہو اس میں خدمت کے لئے لگاوٴ اور گرم جوشی بہت کم ہوتی ہے ۔ اس کے بر عکس جس معاشرے میں لوگوں کی زحمتوں اور خدمتوں کی زیادہ قدر دانی کی جاتی ہو وہاں نشاط و مسرت زیادہ محسوس کی جاسکتی ہے اور ایسی قومیں زیادہ ترقی کرتی ہیں ۔ اسی حقیقت کی طرف توجہ کے سبب ہمارے ہاں گزشتہ بزرگوں کی زحمتوں کی قدر دانی کے اظہا ر کے لئے ان کے سوسالہ ، ہزار سالہ روز ولادت وغیرہ کے موقع پر اور دیگر مناسب مواقع پر پر گرام منعقد کئے جاتے ہیں اور ان کی خدمات کے تشکر اور سپاس گزاری سے لوگوں میں زیادہ سے زیادہ حرکت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ مثلاً ہمارے ملک میں بر پا ہونے والے اسلامی انقلاب کو جو اڑھائی ہزارسالہ تاریک دور کا اختتام ہے او رایک دورِ نو کا آغاز ہے میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر سال او رہر ماہ بلکہ ہر روز شہدائے انقلاب کی یاد تازہ کی جاتی ہے ، انہیں ہدیہٴ عقیدت وسلام پیش کیا جاتا ہے ۔ ان تمام لوگوں کا احترام کیا جاتا ہے جو ان کی طرف منسوب ہے اور ان کی خدمات کو سرہاجاتا ہے تو یہ امر سبب بنتا ہے کہ دوسروں میں فدا کاری اور قربانی کا عشق پیدا ہو او رلوگوں میں فدا کاری کا سطح بلند تر ہو اور قرآن کی تعبیر کے مطابق اس نعمت کا تشکر اس میں اضافے کا باعث ہو او ر ایک شہید کے خون سے ہزاروں شہداء پیدا ہو اور ”لازیدنکم “ زندہ مصداق بن جائیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:4-7
۴۔ شکر نعمت اور کفران ِ نعمت کا نتیجہ
۴۔ شکر نعمت اور کفران ِ نعمت کا نتیجہ : اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی عطا کردہ نعمتوں پر ہمارے تشکر کا محتاج نہیں اور اگر وہ شکر گزاری کا حکم دیتا ہے تو وہ بھی ہم پر ایک اور نعمت کا موجب ہے اور ایک اعلیٰ درجے کا تربیتی انداز ہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم دیکھیں کہ شکر کی حقیقت کیا ہے تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ اس کا نعمت کی زیادتی سے کیا تعلق ہے او رکس طرح وہ خود ایک عامل ِ تربیت ہو سکتا ہے ۔ شکر کا مطلب یہ نہیں کہ صرف زبانی شکر کیا جائے یا”الحمد للہ “ وغیرہ کہا جائے بلکہ شکر کے تین مراحل ہیں : پہلا مرحلہ یہ ہے کہ سنجیدگی سے غور کیا جائے کہ نعمت عطا کرنے والا کون ہے ۔یہ توجہ ، ایمان اور آگاہی شکر کا پہلا ستون ہے ۔ دوسرا مرحلہ اس سے بھی بالاتر ہے اور وہ عمل کا مرحلہ ہے یعنی عملی شکر یہ ہے یعنی ہم پوری طرح سے غور کریں کہ ہر نعمت ہمیں کس مقصد کے لئے دی گئی ہے اور اسے ہم اس کے اپنے مقام پر صرف کریں اور اگر ایسا نہ کیا توپھر ہم نے کفر ان نعمت کیا ۔ جیسا کہ بزرگوں نے فرمایاہے : الشکر صرف العبد جمیع ما انعمہ اللہ تعالیٰ فیماخلق لاجلہ شکر یہ ہے کہ بندہ ہر نعمت کو ا س کے مصرف ہی میں صرف کرے ۔ واقعاً خدا نے ہمیں آنکھیں دی ہیں ، اس نے ہمیں دیکھنے اور سننے کی نعمت کیوں بخشی ہے ۔ کیا اس کے علاوہ کوئی مقصد تھا کہ ہم جہاں میںا سکی عظمت کو دیکھیں ، راہ حیات کو پہچانیں اور ان وسائل کے ذریعے تکامل و ارتقاء کی طرف قدم بڑھائیں اور ، ادراک ، حق کریں ، حمایت ِ حق کریں ، اس کا د فاع کریں اور باطل کے خلاف جنگ کریں ۔ اگر خد اکی ان عظیم نعمتوں کو ہم نے ان کے راستے میں صر ف کیا تو ان کا عملی شکر ہے اور اگر یہ نعمتیں طغیان ، خود پرستی ، غرور، غفلت اور خدا سے دوری کا ذریعہ بن گئیں تو یہ عین کفران ہے ۔ امام صاد ق علیہ السلام فرماتے ہیں : ادنی الشکر روٴیة النعمة من اللہ من غیر علة یتعلق القب بھا دون اللہ ، و الرضا بما اعطاہ ، وان لا تعصیہ بنعمة و تخالفہ بشیء من امرہ و نھیہ بسبب من نعمتہ کمترین شکریہ ہے کہ تو نعمت کو خدا کی طر ف سے سمجھے بغیر اس کے کہ تیرا اس نعمت میں مشغول رہے اور تو خد اکو بھول جائے اور ( شکر ) اس کی عطا پر راضی ہونا ہے او ر یہ کہ تو اس کی نعمت کو اس کی نافرمانی کا ذریعہ نہ بنائے اور اس کی نعمتوں سے استفادہ کرنے کے باوجود تو ا س کے اوامر و نواہی کو روندنہ ڈالے ۔4 اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ طاقت ، علم ، قوتِ فکر و نظر ، معاشرتی حیثیت ، مال و ثروت اور تند رستی و سلامتی میں سے ہ رایک کے شکرکا راستہ کیا ہے اور کفران کی راہ کونسی ہے ۔ تفسیر نور الثقلین میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ایک حدیث بھی اس تفسیر کے لئے ایک واضح دلیل ہے ۔ آپ (علیه السلام) نے فرمایا : شکر نعمة اجتناب المحارم شکرانِ نعمت گناہوں سے بچنے کا نام ہے ۔ 5 یہیں سے شکر اور نعمت میں اضافے کے درمیان تعلق واضح ہو جاتا ہے کیونکہ جب بھی انسانوں نے نعمت الٰہی کو بالکل مقاصد ِنعمت کے تحت صرف کیاتو انہوں نے عملی طور پر ثابت کردیا کہ وہ اہل ہیں اور یہ اہل بیت سے زیادہ سے زیادہ فیض اور فزون تر نعمت کا سبب بنی ۔ اصولی طور پر شکر دو طرح کا ہے : ۱۔ شکر تکوینی اور ۲۔ شکر ِ تشریعی شکر تکوینی یہ ہے کہ ایک موجود خود کو حاصل نعمات کو اپنے رشد و نمو کے لئے استعمال کرے ۔ مثلاً باغیاں دیکھتا ہے کہ باغ کے فلاں حصے میں درخت خوب پھل پھول رہے ہیں اور ان کی جتنی زیادہ خدمت کی جائے اتنے ہی زیادہ شگوفے پھوٹتے ہیں ۔ یہی امر سبب بنتا ہے کہ باغبان باغ کے درختوںکے اس حصے کی خدمت پر زیادہ تو جہ دیتا ہے اور اپنے کارکنوں کو ان کی نگہبانی کی نصیحت کرتا ہے کیونکہ درکت زبانِ حال سے پکار رہے ہوتے ہیں کہ اے باغبان ! ہم اس بات کے اہل ہیں کہ تو اپنی نعمت و احسان ہم پر زیادہ کرے ۔ وہ بھی اس پکار کا مثبت جوا دیتا ہے ۔ بسوزند چوب درختان بی بر سزا خود ہمین است مر،بی بری را بے ثمر درختوں کی لکڑیاں جلیں کیونکہ بے ثمری کی ہی سزا ہے ۔ جہانِ شکر کی بھی یہی حالت ہے ۔فرق یہ ہے کہ درخت میں خود اختیاری نہیں ہے اور وہ فقط تکوینی قوانین کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہیں لیکن انسان اپنے ارادہ و اختیار کی طاقت سے اور تشریعی تعلیم و تربیت سے استفادہ کرتے ہوئے اس راہ پر استفادہ کرتے ہوئے اس راہ پر آگاہی سے قدم رکھ سکتے ہیں ۔ لہٰذا وہ شخص کہ جو طاقت کی نعمت کو ظلم و سر کشی کا وسیلہ بنایا ہے گویا زبان حال سے پکاررہا ہوتا ہے کہ خدا وند ! میں اس نعمت کے لائق نہیں اور جو شخص اپنی صلاحیت کو حق و عدالت کی راہ میں کام میں لاتا ہے وہ گویا زبانِ حال سے کہہ رہا ہوتا ہے کہ پر وردگار ا: میں اس لائق ہوں ، لہٰذا اضافہ فرما ۔ یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ جس وقت ہم شکر الہٰی بجالاتے ہیں ، چاہے وہ فکر و نظر سے ہو ، چاہے زبان سے اور چاہے عمل سے ، شکر کی یہ توانائی خود ہر مرحلے میں ایک نئی نعمت ہے اور اس طرح سے شکر کرنا ہمیں اس کی نئی نعمتوں کا مر ہون منت قرار دیتا ہے اور یوں یہ ہر گز ہمارے بس میں نہیں کہ ا س کے شکر کا حق ادا کر سکیں ۔ جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام کی پندر مناجاتوں میںسے مناجات ِ شاکرین میں ہے : کیف لی بتحصیل الشکر و شکرکی ایاک یفتقر الیٰ شکر ، فکلمات قلت لک الحمد و جب علی لذلک ان اقول لک الحمد میں تیرے شکر کا حق کیسے اداکرسکتا ہوں کہ جب یہ شکر ایک اور شکر کا محتاج ہے اور جبمیں ” لک الحمد“ کہتا ہوں تو مجھ پر لازم ہے کہ اس شکر گزاری کی توفیق پر کہوں:” لک الحمد“ لہٰذا انسان کے لئے مرحلہ شکر کا افضل ترین مقام یہ ہوسکتا ہے کہ اس کی نعمتوں پر شکر سے عاجزی کا اظہار کرے جیسا کہ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ (علیه السلام) نے فرمایا: فیمااوحی اللہ عز وجل الیٰ موسیٰ اشکر نی حق شکر ی فقال یا رب و کیف اشکرک حق شکرک و لیس من شکر اشکرک بہ الا و انت انعمت بہ علی قال یاموسی الان شکر تنی حین علمت ان ذٰلک منی ۔ خدا نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرا حق شکر ادا کرو تو انہوں نے عرض کیا : پر وردگارا میں تیرا حق ِ شکر کس طرح ادا کروں جب کہ میں جب بھی تیرا شکر بجا لاتا ہوں تو یہ توفیق بھی خود میرے لئے ایک نعمت ہوگی ۔ اللہ نے فرمایا : اب تونے میرا حق شکر ادا کیا جب کہ تونے جانا کہ حتی یہ توفیق بھی میری طرف سے ہے ۔ 6 بندہ ہمان نہ کہ زتقصیر خویش عذر بہ درگاہ خدا آورد ورنہ سزا وار خد اوند یش کس نتواندکہ بجا آورد اچھا بندہ وہی ہے کہ جو اپنی کوتاہیو ں کا عذر بار گاہ الٰہی میں پیش کردے ورنہ اس کی خداندی کاحق کوئی بجا نہیں لاسکتا ہے ۔ 1۔ تفسیر نو ر الثقلین جلد ۲ ص ۵۲۶۔ 2۔ تفسیر نو ر الثقلین جلد ۲ ص ۵۲۶۔ 3۔۔ تفسیر نو ر الثقلین جلد ۲ ص ۵۲۶۔ 4۔سفینة البحار جلد ۱ ص ۷۱۰۔ 5۔نور الثقلین جلد ۲ ص ۵۲۹۔ 6۔ اصول کافی جلد ۴ ص ۸۰ ( باب الشکر ) ۔