وَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُودًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَنَجَّيْنَاهُم مِّنْ عَذَابٍ غَلِيظٍ
When Our edict came, We delivered Hud and the faithful who were with him, by a mercy from Us, and We delivered them from a harsh punishment.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:58
[Pooya/Ali Commentary 11:58] (see commentary for verse 50)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:58-60
۱۔ قوم عاد تاریخ کی نگاہ میں
بعض مغربی مورخین جن میں اسپرینگل بھی شامل ہے نے کوشش کی ہے کہ قوم عاد کا تاریخی طور پر انکار ہی کردیں، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ آثار اسلامی کے علاوہ اس کا کہیں ذکر نہیں اور انھیں کتب عہد قدیم (تورات وغیرہ)میں اس کا نام ونشان نہیں ملا، لیکن ایسے ماخذ موجود ہیں جو نشاندہی کرتے ہیں کہ قصہ عاد عرب کے زمانہ جاہلیت میں مشہور تھا اور قبل اسلام کے شعراء نے قوم ہودکے بارے میں گفتگو کی ہے، یہاں تک کہ زمانہ جاہلیت میں بلند اور مضبوط عمارتوں کی نسبت ”عاد“ کی طرف دیتے ہوئے انھیں ”عادی“ کہتے تھے ۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ لفط”عاد“ کا اطلاق دو قبیلوں پر ہوتا ہے، ایک قبیلہ کا تعلق تاریخ سے ہے، یہ جزیرہ عربستان میں زندگی گزارتا تھا، یہ قبیلہ ختم ہوگیا اور اس کے آثار بھی مٹ گئے، تاریخ بشر میں ان کی زندگی کے چند ناقابل اطمینان افسانوں کے اور کوئی چیز محفوظ نہیں، ان مورخین نے قرآن میں سورہ نجم آیہ ۵۰ کی تعبیر ”عاد الاولیٰ“کو اسی طرف اشارہ سمجھا ہے ۔ رہے وہ لوگ جن کا تعلق تاریخ انسانی کے دور سے ہے تو احتمال یہ ہے کہ وہ میلاد مسیح سے کوئی ۷۰۰ سال قبل یا اس سے بھی پہلے تھے، اس قوم کو بھی عاد کہتے تھے، یہ قوم سرزمین احقاف یا یمن میں رہتی تھی، یہ طویل القامت، قوی جسم اور طاقتور لوگ تھے، اسی وجہ سے وہ بڑے جنگجو سمجھے جاتے تھے ۔ علاوہ ازیںان لوگونئے تمدن وثقافت میں بہت ترقی کی، یہ لوگ آباد شہروں، سرسبز زمینوں اور شاداب باغات کے مالک تھے، جیسا کہ قرآن ان کی توصیف میں کہتا ہے: التی لم یخلق مثلھا فی البلاد۔ ان کی نظیر دنیا کے دیگر شہروں میں پیدا نہیں ہوئی تھی ۔ (فجر: ۸) اسی بنا پر بعض مستشرقین نے کہا ہے کہ قوم عاد برہوت کے علاقہ میں زندگی بسرتی تھی ( یہ علاقہ حضرموت یمن کے نواح میں ہے) اور آتش نشانیوں کی وجہ سے ان میں سے بہت سے لوگ ختم ہوگئے اور باقی ادھر ادھر منتشر ہوگئے ۔ بہرحال یہ قوم ایک عرصہ تک ناز و نعمت میں زندگی بسر کرتی رہی لیکن جیسا کہ زیادہ تر نازونعمت میں پلنے والے لوگوں کا شیوہ ہے، وہ غرور غفلت میں مست ہوگئے اور دوسروں پر ظلم وستم ڈھاکر اور استعماری ہتھکنڈے اختیار کرکے انھوں نے اپنی طاقت سے غلط فائدہ اٹھایا، مستکبرین اور جبارین عنید کو انھوں نے اپنا پیشوا بنایا، دین بت پرستی کو رائج کیا اور اپنے پیغمبر حضرت ہود(علیه السلام) کی پندونصیحت اور ان کے نظریات وافکار واضح کرنے اور ان کے لئے کی گئی اتمام حجت کی سعی وکاوش کو انھوں نے نہ صرف ذرہ بھر کوئی حیثیت نہ دی بلکہ اس عظیم مرد حق طلب کیا آواز خاموش کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ کبھی انھیں دیوانگی اور حماقت سے نسبت دی اور کبھی اپنے خداؤں کے غضب سے انھیں ڈرایالیکن آپ پہاڑ کی طرح اس مغرور اور طاقتور قوم کے مقابلے میں ڈٹے رہے، آخر کار تقریبا چار ہزار افراد کو آپ نے پاکباز بنایا اور انھیں اپنے دین حق کی طرف لے آئے لیکن دوسرے لوگ اپنی ہٹ دھرمی اور عناد پر باقی رہے ۔ جیسا کہ سورہ ذارعات، حاقہ اور قمر میں آئے گا، آخر کار بہت شدید اور تباہ کن طوفان سات راتیں اور چھ دن ان پر مسلط رہا، اس طوفان نے ان کے محلات برباد کردئے اور ان کی لاشیں خزاںکے پتوں کی طرح ہوا کی تیز لہروں نے ادھر ادھر بکھیر دیں، سچے مومنین کو پہلے ہی وہاں سے نکال لیا گیا تھا، خدائے تعالی نے انھیں نجات دی اور ان کی زندگی تمام جابروں اور خودسروں کے لئے ایک عظیم درس عبرت قرار پائی ۔ (1) ۲۔ قوم عاد پر ابدی لعنت یہ تعبیر اور ایسی دیگر تعبیرات مختلف اقوام کے لئے قرآن کی کئی ایک آیات میں آئی ہیں، ان اقوام کے کچھ حالات بیان فرماکر اس طرح سے فرمایا گیا ہے مثلاً: اٴَلَابُعْدًا لِثَمُودَ (ہود:۶۸) اٴَلَابُعْدًا لِمَدْیَنَ کَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ (ہود:۹۵) فَبُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ۔ (مومنون:۴۱) فَبُعْدًا لِقَوْمٍ لَایُؤْمِنُونَ ۔ (مومنون:۴۴) اور اسی طرح حضرت نوح (علیه السلام) کی داستان میں ان کی قوم کے بارے میں ہم پڑھ چکے ہیں: وَقِیلَ بُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّالِمِینَ (ہود: ۴۴) ان تمام آیات میں نفرین ایک طرح سے رحمت خدا سے دوری کی علامت ہے، ان لوگوں کے لئے جنھوں نے بہت بڑے بڑے گناہ انجام دئے ہیں ۔ آج بھی بالکل اسی طرح سرکش، استعمارگر، ستم پیشہ افراد اور گروہوں کے خلاف نعرے لگائے جاتے ہیںالبتہ یہ قرآنی شعار اس قدر موثر اور جامع ہے کہ جو صرف ایک پہلو کے حامل نہیںہے کیونکہ جب ہم کہتے ہیں کہ ”فلاں گروہ دور ہو“ تو اس کی رحمت الٰہی سے دوری بھی شامل ہے، سعادت سے دوری بھی، ہر قسم کی خیروبرکت اور نعمت سے دوری بھی اور بندگان خدا سے دوری بھی، البتہ ان کا خیر وسعادت سے دور ہونا رد عمل ہے ان کے خدا اور خلق خدا سے روحانی، فکری اور عملی طور پر اندرونی اعتبارسے دور ہونے کا، کیونکہ ہر قسم کا نظریہ اورعمل موت کے بعد دوسرے گھر میں اور دوسرے جہان میں اپنا عکس رکھتا ہے جو بالکل اس کے مشابہ ہے، اس بنا پر اس جہان کی دوریاں آخرت میں خدا کی رحمت، عفو، بخشش اور نعمات سے دوری کا سرچشمہ ہے ۔ (2) ۶۱ وَإِلیٰ ثَمُودَ اٴَخَاھُمْ صَالِحًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ ھُوَ اٴَنشَاٴَکُمْ مِنَ الْاٴَرْضِ وَاسْتَعْمَرَکُمْ فِیھَا فَاسْتَغْفِرُوہُ ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْہِ إِنَّ رَبِّی قَرِیبٌ مُجِیبٌ۔ ترجمہ ۶۱۔ (قوم)ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا، اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی پرستش کرو کہ جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہی ہے جس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور اس کی آباد کاری تمھارے سپرد کی، اس سے بخشش طلب کرو، پھر اس کی طرف توبہ کرو اور رجوع کرو کہ میرا پروردگار (اپنے بندوں کے)نزدیک اور (ان کے تقاضوں کو) قبول کرنے والا ہے ۔ 1۔ تفسیر المیزان، تفسیر مجمع البیان اور کتاب اعلام القرآن۔ 2۔ مندرجہ بالا آیت میں لفظ”بعدا“ ترکیب نحوی کے اعتبار سے جملہ ”ابعدھم اللہ“ کا مفعول مطلق ہے اور یہ جملہ مقدر ہے، البتہ قاعدتا ”بعدا“کی بجائے ”ابعادا“ہونا چاہیئے کیونکہ”ابعد“ کا مصدر ”ابعاد“ ہے لیکن بعض اوقات مفعول مطلق ذکر کرتے وقت باب افعال کے مصدر کی بجائے ثلاثی مجرد لے آتے ہیں مثلا-: واللّٰہ انبتکم من الارض نباتاً (غور کیجئے گا)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:58-60
اس ظالم قوم پر ۔ابدی لعنت
قوم عاد اور ان کے پیغمبرحضرت ہود(علیه السلام) کی سرگشت سے مربوط آیات کے آخری حصے میں ان سرکشوں کی، دردناک سزا ور عذاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن پہلے کہتا ہے: جب ان کے عذاب کے بارے میں ہماراحکم آپہنچا تو ہود اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لاچکے تھے ہماری ان پر رحمت اورلطف خاص نے انھیں نجات بخشی (وَلَمَّا جَاءَ اٴَمْرُنَا نَجَّیْنَا ھُودًا وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا)، پھر مزید تاکید کے لئے فرمایا گیاہے: اور ہم نے ان صاحب ایمان لوگوں کو شدید اور غلیظ عذاب سے رہائی بخشی ( وَنَجَّیْنَاھُمْ مِنْ عَذَابٍ غَلِیظٍ) ۔ یہ امر جاذب نظر ہے کہ بے ایمان، سرکش اور ظالم افراد کے لئے عذاب وسزا بیان کرنے سے پہلے صاحب ایمان قوم کی نجات کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ یہ خیال پیدا نہ ہو جیسا کہ مشہور ضرب المثل ہے کہ عذاب الٰہی کے موقع پر خشک وتر سب جل جاتے ہیں کیونکہ وہ حکیم وعادل ہے اور محال ہے کہ وہ ایک بھی صاحب ایمان شخص کو بے ایمان اور گنہگارلوگوں کے درمیان عذاب کرے، بلکہ رحمت الٰہی ایسے افراد کو عذاب وسزا کے نفاذ سے پہلے ہی امن وامان کی جگہ پر منتقل کردیتی ہے جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ اس سے پہلے کی طوفان آئے حضرت نوح (علیه السلام) کی کشتی تیار تھی اور اس سے پہلے کہ حضرت لوط (علیه السلام) کے شہر تباہ وبرباد ہوں حضرت لوط (علیه السلام) اور آپ کے انصار راتوںرات حکم الٰہی سے وہاں سے نکل آئے ۔ اس سلسلے میں کہ لفظ”نجینا“ کا اس جملے سے کیوں تکرار کیا گیا مختلف تفسیریں ہیں ۔ بعض کا نظریہ ہے کہ پہلے مرحلے میں ”نجینا“ دنیاوی عذاب سے نجات پانے کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے مرحلے میں آخرت کے عذاب کی طرف کہ جو ”غلیظ“ ہونے کی صفت سے بھی پوری طرح مطابقت رکھتا ہے ۔ بعض دوسرے مفسرین نے ایک لظیف نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے اور وہ یہ کہ چونکہ رحمت الٰہی کے بارے میں گفتگو ہورہی تھی اگر فوراً لفظ عذاب کا تکرار ہوتا تو مناسب نہ تھا، رحمت کہاں اور عذاب غلیظ کہاں ، لہٰذا ”نجینا“ کا تکرار ہوا تاکہ ان دونوں کے درمیان فاصلہ ہوجائے اور عذاب کی شدت اور تاکید میں بھی کسی قسم کی کمی نہ آئے ۔ اس نکتے کی طرف بھی توجہ رہنا چاہییے کہ آیات قرآن میں چار مواقع پر عذاب کے لئے” غلیظ“ کی صفت استعمال کی گئی ہے (۱) ان آیات میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ عذاب غلیظ کا ربط جہانِ آخرت کے ساتھ ہے، خصوصا سورہ ابراہیم کی آیات جن میں عذاب غلیظ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے صراحت سے دوزخیوں کی حالت بیان کررہی ہیں اور ایسا ہی ہونا چاہیئے کیونکہ دنیاوی عذاب کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو پھر بھی عذاب آخرت کے مقابلے میں خفیف ہے کم اہمیت کا حامل ہے ۔ یہ مناسبت بھی قابل ملاحظہ ہے کہ جیسا کہ انشاء اللہ سورہ قمر اور سورہ حاقہ میں آئے گا قوم عاد کے لوگ سخت اور بلند قامت تھے، ان کے قدکو کھجور کے درختوں سے تشبیہ دی گئی ہے، اسی مناسبت سے ان کی عمارتیں مضبوط، بڑی اور اونچی تھیں یہاں تک کہ قبل اسلام کی تاریخ میں ہے کہ عرب بلند اور مضبوط عمارتوں کی نسبت قوم عادہی کی طرف دیتے ہوئے انھیں ”عادی“ کہتے تھے، اسی لئے ان پر آنے والا عذاب بھی انہی کی طرح غلیظ اور سخت تھا، جیسا کہ مذکورہ سورتوں کی تفسیر میں آئے گا ۔ اس کے بعد قوم عاد کے گناہوں کا خلاصہ تین امور میں بیان کیا گیا ہے: پہلا: یہ کہ انھوں نے اپنے پروردگار کی آیات کا انکار کیا اور ہٹ دھرمی کے ساتھ اپنے پیغمبر کی دعوت کے منکر ہوگئے جوکہ واضح دلیل اور مدرک تھا ( وَتِلْکَ عَادٌ جَحَدُوا بِآیَاتِ رَبِّھِم) ۔ دوسرا: یہ کہ وہ عملی لحاظ سے بھی انبیاء کے خلاف عصیان وسرکشی کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ( وَعَصَوْا رُسُلَہُ )، یہاں ”رسل“ جمع کی صورت میں بیان ہوا ہے، ایسا یا تو اس بنا پر ہے کہ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی حقیقت کی طرف تھی ۔یعنی توحید اور اس کی شاخیں ۔ لہٰذا ایک پیغمبر کا انکار تمام پیغمبروں کے انکار کے مترادف ہے، یا اس بنا پر کہ حضرت ہود (علیه السلام) انھیں گزشتہ انبیاء پر ایمان لانے کی دعوت دیتے تھے اور وہ انکار کرتے تھے ۔ تیسرا: گناہ ان کا یہ تھا کہ وہ حکم خدا کو چھوڑ کر حق دشمن ظالموں کی اطاعت کرتے تھے (وَاتَّبَعُوا اٴَمْرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیدٍ) ۔ ترک ایمان، انبیاء کی مخالفت اور حق دشمن ظالموں کی پیروی سے بڑھ کر کونسا گناہ تھا ۔ ”جبار“ اس شخص کو کہتے ہیں جو غضب سے مارتا، قتل کرتا اور نابود کرتا ہے اور حکم عقل کا پیرو نہیں ہوتا، دوسرے لفظوں میں ”جبار“ اسے کہتے ہیں جو دسروں کو اپنی پیروی پرمجبور کرے یا جو اپنی بڑائی اور تکبر کے ذریعے اپنا عیب چھپانا چاہے، اور ”عنید“ وہ ہے جو حق وحقیقت کی بہت زیادہ مخالفت کرے اور کسی صورت میں حق کو قبول نہ کرے ۔ یہ دو صفات ہر زمانے کے طاغوتوں اور متکبرین کی واضح صفات میں سے ہیں، کبھی بھی ان کے کان حق بات سننے کو تیار نہیںہوتے اور اپنے مخالف سے قساوت، بے رحمی اور سختی سے پیش آتے ہیں اور اسے ختم کردیتے ہیں ۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ اگر جبار کا یہی معنی ہے تو پھر قرآن کی سورہ حشر آیہ ۲۳ میں اوع دیگر مصادر اسلامی میں خدا کی ایک صفت”جبار“ کیوں ذکر ہوئی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل لغت میں جیسا کہ ہم اشارہ کرچکے ہیں ”جبار“ یا مادہ”جبر“ سے قہر وغلبہ اور قدرت کے معنی میں ہے اور یا ”جبران“ کے مادہ سے کسی نقص کے برطرف کرنے کے معنی میں ہے ۔ لیکن ”جبار“ چاہے پہلے معنی میں ہویا دوسرے معنی میں، دونوں صورتوں میں استعمال ہوتا ہے کطھی مذمت کی صورت میں اور وہ اس موقع پر جب کوئی انسان اپنے آپ کو بڑا ظاہر کرکے، تکبر کے ذریعے اور غلط دعویٰ کرکے اپنے کمی اور نقائص کی تلافی کرنا چاہے یا اپنے خواہش سے دوسرے کو مقہور اور ذلیل کرنا چاہے، یہ معنی قرآن کی بہت سے آیات میں آیا ہے، کبھی اسے دیگر قابل مذمت صفات کے ہمراہ بیان کیا گیا ہ، مثلا ًمندرجہ بالا آیت میں ”عنید“ کے ساتھ مل کر آیا ہے، سورہ مریم آیہ ۳۲میں پیغمبر خدا حضرت عیسیٰ کی زبانی آئی ہے کہ : ولم یجعلنی جبارا شقیا ۔ اور خدا نے مجھے جبار اور شقی قرار نہیں دیا ۔ یا بنی اسرائیل کے حالات میں بیت المقدس کے ظالم ساکنین کے بارے میں ہے کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہا: ان فیھا قوماً جبارین۔ اس سرزمین پر ظالم اور ستم پیشہ قوم رہتی ہے (مائدہ: ۲۲) کبھی لفظ”جبار“ انھیں دونوں مادوں سے مدح کے معنی میں استعمال ہوتاہے ، اس حوالے سے ”جبار“ اسے کہا جاتا ہے جو لوگوں حاجات اور نقائص کی تلافی کرتا ہو، اسی طرح اس جو جو ہڈیوں کو جوڑتا ہو یا یہ کہ اتنی چبے پناہ قدرت کا مالک ہو کہ اس کا گیر اس کے سامنے خاضع اور ذلیل ہو لیکن وہ کسی پر ظلم نہ کرنا چاہے یا اپنی قدرت سے استفادہ نہ کرنا چاہے، اسی بنا پر جب ”جبار“ اس معنی میں ہوتو دوسری صفات مدح ساتھ ہوتی ہے، جیسا کہ سورہ حشر کی آیہ ۲۳ میں ہے: الملک القدوس السلام المومن المھیمن العزیز الجبارالمتکبر۔ وہ پاک ومنزہ فرمانروا ہے کہ جس سے اس کے بندے کبھی ظلم نہیں دیکھتے اور نگہبان ومھافظ ہے ، ناقابل شکست ہے، قدرت مند ہے اور برتر ہے ۔ واضح ہے کہ قدوس، سلام اور مومن جیسے صفات کبھی صورت” جبار “بمعنی ”ظالم“ اور ”متکبر“ بمعنی”اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والا“ سے مناسبت نہیں رکھتیں، یہ عبارت اچھی طرح سے نشاندہی کرتی ہے کہ یہاں”جبار“ دوسرے معنی میں ہے ۔ بعض حضرات نے چونکہ ”جبار“ کے صرف کچھ مواقع استعمال نگاہ میں رکھے ہیں اور اس کے لغوی اور متعدد معانی پر غور نہیں کیا لہٰذا ان کا خیال یہ ہے کہ اس لفظ کا خدا کے لئے استعمال صحیح نہیں ہے (یہی صورت ان کے نزدیک لفظ ”متکبر“ کی ہے)لیکن اس کے اصلی لغوی مفہوم کو نظر میں رکھنے سے اعتراض برطرف ہوجاتا ہے (2) زیر بحث آخری آیت جہاں حضرت ہود (علیه السلام) اور قوم عاد کی داستان ختم ہورہی ہے ان کے برے اور نادرست اعمال کا نتیجہ یوں بیان کیا گیا ہے:وہ ان کے اعمال کی وجہ سے اس دنیا میں ان پر لعنت ونفرین ہوئی اور ان کے مرنے کے بعد ان کے برے نام اور رسوا کن تاریخ کے سوا ان کی کوئی چیز باقی نہ رہی ( وَاٴُتْبِعُوا فِی ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَةً)، اور قیامت کے دن کہا جائے گا کہ جان لو! قوم عاد نے اپنے پروردگار کا انکار کیا تھا ( وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ اٴَلَاإِنَّ عَادًا کَفَرُوا رَبَّھُمْ)، دور ہوجا عاد قوم ہود رحمت پروردگار سے ( اٴَلَابُعْدًا لِعَادٍ قَوْمِ ھُود) ۔ باوجود یکہ لفظ”عاد“ اس قوم کے تعارف کے لئے کافی ہے لیکن مندرجہ بالا آیت میں عاد کے ذکر کے بعد ”قوم ہود“ کے الفاظ بھی آئے ہیں جن سے تاکید بھی ظاہر ہوتی ہے اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے دلسوز پیغمبر حضرت ہود (علیه السلام) کو یہ سب تکلیفیں پہنچائیں، انھیں تہمتیں دیں اور اسی بنا پر رحمت الٰہی سے دور ہیں ۔ ۱۔ سورہ ابراہیم:۱۷، لقمان: ۲۴، اور فصلت: ۵۰۔ 2۔ کتاب تاج العروس از زبیدی اور مفردات از راغب، اور تفسیر مجمع البیان اور تفسیر المنار کا زیر بحث آیات اور سورہ حشر کی آخری آیات کے ذیل میں ملاحظہ فرمائیں ۔