قَالُوا يَانُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ
They said, ‘O Noah, you have disputed with us already, and you have disputed with us exceedingly. Now bring us what you threaten us with, should you be truthful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:32
[Pooya/Ali Commentary 11:32]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:32-35
۳۔ ایک وضاحت:
زیرِ نظر آخری آیت کا مطالعہ کرتے ہوئے ہوسکتا ہے یہ اعتراض سامنے آئے کہ یہ بات کس طرح منطقی وعقلی ہوسکتی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم یا حضرت نوح علیہ السلام کفار سے کہیں کہ یہ بات اگر جھوٹ ہے تو اس کا گناہ میری گردن پر ہے، کیا جھوٹ بولنے کا گناہ قبول کرلینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی گفتگو سچی ہے اور واقع کے مطابق ہے اور لوگ ذمہ دار ہیں کہ ان کی اطاعت اور پیروی کریں؟ اس کی وضاحت یہ ہے کہ گزشتہ آیات میں غور وفکر کرنے سے ہمیں اس سوال کا جواب مل سکتا ہے، درحقیقت وہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ ہماری یہ باتیں جو بہت سے عقلی دلائل پر مشتمل ہیں بالفرضِ محال ہم خدا کی طرف سے نہ بھی ہوں تو اس کا گناہ ہماری گردن پر ہے لیکن عقلی استدلال اپنی جگہ پر ثابت ہیں اور تم ان کی مخالفت سے ہمیشہ گناہ میں مبتلا ہوگے، ایسا گناہ جو مسلسل اور دائمی ہے (توجہ رہے کہ ”تجرمون“ صیغہٴ مضارع ہے جو عام طور پر استمرار اور تسلسل پر دلالت کرتا ہے ۔ ۳۶ وَاٴُوحِیَ إِلیٰ نُوحٍ اٴَنَّہُ لَنْ یُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ إِلاَّ مَنْ قَدْ آمَنَ فَلَاتَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوا یَفْعَلُونَ۔ ۳۷ وَاصْنَعْ الْفُلْکَ بِاٴَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا وَلَاتُخَاطِبْنِی فِی الَّذِینَ ظَلَمُوا إِنَّھُمْ مُغْرَقُونَ۔ ۳۸ وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ وَکُلَّمَا مَرَّ عَلَیْہِ مَلَاٴٌ مِنْ قَوْمِہِ سَخِرُوا مِنْہُ قَالَ إِنْ تَسْخَرُوا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنْکُمْ کَمَا تَسْخَرُونَ۔ ۳۹ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ یَاٴْتِیہِ عَذَابٌ یُخْزِیہِ وَیَحِلُّ عَلَیْہِ عَذَابٌ مُقِیمٌ۔ ترجمہ ۳۶۔ نوح کو وحی ہوئی ہے کہ سوائے ان لوگوںکے کہ جو (اب تک )ایمان لا چکے ہیں اب تمہاری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا لہٰذا جو کام وہ کرتے ہیں ان سے غمگین نہ ہو ۔ ۳۷۔ اور (اب) ہمارے سامنے اور ہماری وحی کے مطابق کشتی بناؤ اور ان کے بارے میں شفاعت نہ کرو جنھوں نے ظلم کیا ہے کیونکہ وہ غرق ہوکرر ہیں گے ۔ ۳۸۔ وہ کشتی بنانے میں مشغول تھا اور جب اس کی قوم کے بڑوں میں سے کوئی گروہ اس کے قریب سے گزرتا تو اس کا مذاق اڑاتا (لیکن نوح نے )کہا : اگر ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی تمہارا اسی طرح مذاق اڑائیں گے ۔ ۳۹۔ عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس خوار کرنے والا عذاب آتا ہے اور ہمیشہ کی سزا اسے ملتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:32-35
کہاں ہے عذاب؟
ان آیات میں حضرت نوح(علیه السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والی باقی گفتگو کی طرف اشارہ ہوا ہے، پہلی آیت میں قومِ نوح(علیه السلام) کی زبانی نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے کہا: اے نوح! تم نے یہ سب بحث وتکرار اور مجادلہ کیا ہے اب بس کرو تم نے ہم سے بہت باتیں کی ہیں اب بحث مباحثے کی گنجائش نہیں رہی (قَالُوا یَانُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَاٴَکْثَرْتَ جِدَالَنَا) ۔ اگر سچّے ہو تو خدائی عذابوںں کے بارے میں جو سخت وعدے تم نے ہم سے کئے تھے انھیں پورا کر دکھاوٴ اور وہ عذاب لے آوٴ (فَاٴْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ کُنتَ مِنَ الصَّادِقِینَ) ۔ یہ بعینہ اس طرح سے ہے کہ ایک شخص یا کچھ اشخاص کسی مسئلے کے بارے میں ہم سے بات کریں اور ضمناً ہمیں دھمکیاں بھی دیں اور کہیں کہ اب زیادہ باتیں بند کرو اور جو کچھ تم کرسکتے ہو کرلو اور دیر نہ کرو، اس طرف اشارے کرتے ہوئے کہ ہم نہ تو تمھارے دلائل کو کچھ سمجھتے ہیں، نہ تمھاری دھمکیوں سے ڈرتے ہیں اور نہ اس سے زیادہ ہم تمھاری بات سن سکتے ہیں ۔ انبیاءِ الٰہی کے لطف ومحبت اور ان کی وہ گفتگو جو صاف وشفاف اور خوشگوار پانی کی طرح ہوتی ہے اس طرزِ عمل کا انتخاب انتہائی ہٹ دھرمی، تعصب اور جہالت کی ترجمانی کرتا ہے ۔ قومِ نوح کی اس گفتگو سے ضمناً یہ بھی اچھی طرح سے واضح ہوجاتا ہے کہ آپ نے ان کی ہدایت کے لئے بہت طویل مدت تک کوشش کی اور انھیں ارشاد وہدایت کے لئے آپ(علیه السلام) نے ہر موقع سے استفادہ کیا، آپ(علیه السلام) نے اس قدر کوشش کی کہ اس گمراہ قوم نے آپ(علیه السلام) کی گفتار اور ارشادات پر اکتاہٹ کا اظہار کیا ۔ حضرت نوح(علیه السلام) کے بارے میں قرآن کریم میں جو دیگر آیات آئی ہیں ان سے بھی یہ حقیقت اچھی طرح سے واضح ہوتی ہے، سورہٴ نوح آیات ۵ تا ۱۳ میں یہ مفہوم مبسوط طریقے سے بیان ہوا ہے: <قَالَ رَبِّ إِنِّی دَعَوْتُ قَوْمِی لَیْلاً وَنَھَارًا فَلَمْ یَزِدْھُمْ دُعَائِی إِلاَّ فِرَارًا وَإِنِّی کُلَّمَا دَعَوْتُھُمْ لِتَغْفِرَ لَھُمْ جَعَلُوا اٴَصَابِعَھُمْ فِی آذَانِھِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِیَابَھُمْ وَاٴَصَرُّوا وَاسْتَکْبَرُوا اسْتِکْبَارًا ثُمَّ إِنِّی دَعَوْتُھُمْ جِھَارًا ثُمَّ إِنِّی اٴَعْلَنتُ لَھُمْ وَاٴَسْرَرْتُ لَھُمْ إِسْرَارًا پروردگارا! مَیں نے اپنی قوم کو دن رات تیری طرف بلایا لیکن میری اس دعوت پر ایمان میں فرار کے علاوہ کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوا، میں نے جب انھیں پکارا تاکہ تو انھیں بخش دے تو انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے اوپر لپیٹ لئے، انھوں نے مخالفت پر اصرار کیا اور تکبر وخود سری کا مظاہرہ کیا، میں نے پھر انھیں علی الاعلان اور پوشیدہ طور پر تیری طرف دعوت دی، مَیں نے پیہم اصرار کیا مگر انھوں نے کسی بھی طرح میری باتوں کی طرف کان نہ دھرے ۔ زیرِ بحث آیت میں لفظ ”جَادَلْتَنَا“ آیا ہے جو ”مجادلہ“ کے مادہ سے لیا گیا ہے، یہ اصل میں طناب اور رسّی کو مضبوطی سے بٹنے اور پیچ دینے کے معنی میں ہے، اسی بناپر شکاری باز کو ”اجدل“ کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام پرندوں سے زیادہ پیچ وخم کھانے والا ہے، بعد ازاں یہ لفظ بحث اور گفتگو میں مدِمقابل کے پیچ وخم کھانے کے لئے استعمال ہُوا ہے ۔ ”جدال“ ، ”مراء‘ ‘ اور ”حجاج“ (بروزن ”لجاج“) اگرچہ معنوی طور ایک دوسرے کے مشابہ ہیں لیکن جیسا کہ بعض محققین نے کہا ہے کہ ”مراء‘ ‘ میں ایک طرح کی مذمت پائی جاتی ہے کیونکہ یہ لفظ ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جب انسان کسی باطل مسئلے پر ڈٹ جائے اور استدلال کرے لیکن ”جدال“ اور ”مجادلہ“ میں یہ مفہوم لازمی طور پر نہیں ہوتا ۔ باقی رہا ”جدال“ اور ”حجاج“ کا فرق تو وہ یہ ہے کہ ”جدال“ مدِّمقابل کو اس کے عقیدے کی دعوت دینے اور اس پر استدلال پیش کرنے کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے ۔ حضرت نوح نے اس بے اعتنائی، ہٹ دھرمی اور بیہودگی کا یہ مختصر جواب دیا: خدا ہی چاہے تو ان دھمکیوں اور عذاب کے وعدوں کو پورا کرسکتا ہے (قَالَ إِنَّمَا یَاٴْتِیکُمْ بِہِ اللهُ إِنْ شَاءَ) ۔ بہرحال یہ چیز میرے اختیار سے باہر ہے اور میرے قبضہٴ قدرت میں نہیں ہے، مَیں تو اس کا فرستادہ ہوں اور اس کے حکم کے سامنے تسلیم ہوں لہٰذا سزا اور عذاب کی خواہش مجھ سے نہ کرو لیکن یہ جان لو کہ جب عذاب کا حکم آپہنچا تو پھر ”تم اس کے احاطہٴ قدرت سے نکل نہیں سکتے اور کسی پناہ گاہ کی طرف فرار نہیں کرسکتے“ (وَمَا اٴَنْتُمْ بِمُعْجِزِینَ) ۔ ”معجزہ“ ’اعجاز“ مادہ سے دوسرے کو عاجز وناتواں کرنے کے معنی میں ہے، یہ لفظ بعض اوقات ایسے مواقع پر استعمال ہوتا ہے جب انسان دوسرے کے کام میں رکاوٹ پیدا کردے اور اسے روکے اور اسے عاجز وناتواں کردے اور کبھی آگ بڑھ کر مدِمقابل کو شکست دے دے یا اپنے آپ کو محفوظ کرلے، یہ تمام مدِمقابل کو عاجز وناتواں کرنے کے مختلف طریقے ہیں، مندرجہ بالا آیت میں ان تمام معانی کا احتمال ہے کیونکہ یہ معانی ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں ۔ یعنی تم کسی صورت میں اس کے عذاب سے نہیں بچ سکتے ۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے: اگر خدا تمھارے گناہوں اور جسمانی آلودگیوں کی وجہ سے تمھیں گمراہ کرنا چاہے تو میری نصیحت تمھیں ہرگز کوئی فائدہ نہیں دے گی چاہے مَیں تمھیں جتنی بھی نصیحت کرلوں (وَلَایَنفَعُکُمْ نُصْحِی إِنْ اٴَرَدْتُ اٴَنْ اٴَنصَحَ لَکُمْ إِنْ کَانَ اللهُ یُرِیدُ اٴَنْ یُغْوِیَکُمْ) ۔ کیونکہ ”وہ تمھارا پردرگار ہے اور تم اس کی طرف پلٹ کر جاوٴگے“ اور تمھاری تمام تر ہستی اور وجود اس کے قبضہٴ قدرت میں ہے (ھُوَ رَبُّکُمْ وَإِلَیْہِ تُرْجَعُونَ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:32-35
ایک سوال اور اس کا جواب
اس آیت کے مطالعہ سے فوراً یہ سوال سامنے آتا ہے اور بہت سے مفسّرین نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ خدا کسی کے گمراہ کرنے کا ارادہ کرے، کیا ایسا ہو تو یہ جبر واکراہ کی دلیل نہیں ہوگی اور کیا یہ جو بنیاد ہے کہ انسان ارادہ واختیار میں آزاد ہے اسے قبول کرلینے کے بعد ایسی چیز قابلِ قبول ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ مندرجہ بالا مباحث میں واضح ہوچکا ہے اورہم نے بارہا اس کی طرف اشارہ کیا ہے کہ بعض اوقات انسان مسلسل کچھ اعمال بجالاتا ہے جس کا نتیجہ دائمی گمراہی اور ہمیشہ کے انحراف اور حق کی طرف لوٹنے کی صورت میں نکلتا ہے، ہمیشہ کی ہٹ دھرمی، گناہوں پر دائمی اصرار اور حق طلب سچے رہبروں کی دشمنی، انسانی فکر پر ایسا ضخیم پردہ ڈال دیتی ہے کہ انسان میں آفتابِ حق وحقیقت کی شعاع دیکھنے کی تھوڑی سی صلاحیت بھی نہیں رہتی، چونکہ یہ حالت ایسے اعمال کا نتیجہ ہے کہ جو انسان خود انجام دیتا ہے لہٰذا یہ کسی طرح بھی جبر واکراہ کی دلیل نہیں ہوسکتی بلکہ یہ عین اختیار ہے جو کچھ خدا سے مربوط ہے یہ ہے کہ اس نے ایسے اعمال میں ایسی تاثیر قرار دی ہے، قرآن مجید کی آیات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں، اس سلسلے میں ہم نے سورہٴ بقرہ کی آیت ۷ کے ذیل میں اور دیگر مواقع پر اشارہ کیا ہے ۔ زیرِ بحث آخری آیت میں ایک بات جملہٴ معترضہ کے طور پر آئی ہے، یہ ان مباحث کی تاکید کے لئے ہے جو حضرت نوح(علیه السلام) کے واقعہ کے سلسلے میں گزشتہ اور آئندہ آیات میں موجود ہیں، ارشاد ہوتا ہے : دشمن کہتے ہیں کہ یہ بات اس (محمد صلی الله علیہ وآلہ وسلّم) نے خود سے گھڑ کر خدا کی منسوب کردی ہے (اٴَمْ یَقُولُونَ افْتَرَاہُ) ۔ ان کے جواب میں کہہ دو کہ اگر مَیں نے یہ اپنی طرف سے گھڑی ہے اور خدا کی طرف جھوٹی نسبت دی ہے تو اس کا گناہ مجھ پر ہے (قُلْ إِنْ افْتَرَیْتُہُ فَعَلَیَّ إِجْرَامِی) ۔ لیکن مَیں تمھارے گناہوں سے بیزار ہوں (وَاٴَنَا بَرِیءٌ مِمَّا تُجْرِمُونَ)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:32-35
۱۔ ”إِجْرَام“کا مفہوم:
”إِجْرَام“کا مادہ ”جرم“(بروزن ”جہل“) ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ یہ کچے پھل توڑنے کے معنی میں ہے، بعد ازاں ہر غیر خوش آئندہ کام کے لئے بولا جانے لگا، اسی طرح کسی کو گناہ پر آمادہ کرنے پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، چونکہ انسانی ذاتی اور فطری طور پر روحانیت اور پاکیزگی سے رشتہ رکھتا ہے لہٰذا جب وہ گناہ انجام دیتا ہو تو وہ اس خدائی رشتہ سے جدا ہوجاتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:32-35
۲۔ آخری آیت کس کے بارے میں ہے؟
زیرِ نظر آخری آیت کے بارے میں بعض نے یہ احتمال ذکر کیا ہے کہ یہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بارے میں نہیں ہے بلکہ خود حضرت نوح(علیه السلام) سے مربوط ہے کیونکہ یہ سب آیات انہی سے مربوط ہیں اور بعد میں آنے والی آیات بھی انہی سے متعلق ہیں لہٰذا زیادہ مناسب یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت بھی حضرت نوح(علیه السلام) سے مربوط ہے اور ان کے نزدیک اس کا جملہٴ معترضہ ہونا خلاف ظاہر ہے لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ: اوّلاً: تقریباً اس طرح کی تعبیر انہی الفاظ میں سورہٴ احقاف کی آیت ۸ میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کے بارے میں آئی ہے ۔ ثانیاً: ان آیات میں جو کچھ حضرت نوح(علیه السلام) کے بارے میں آیا ہے وہ سب صیغہٴ غائب کی صورت میں ہے جبکہ زیرِ بحث آیت مخاطب کی صورت میں ہے (اور مسئلہ ”التفات“ یعنی غیبت سے خطاب کی طرفانتقال بھی خلاف ظاہر ہے) اب اگر ہم اس آیت کو حضرت نوح(علیه السلام) کے بارے میں قرار دیں تو لفظ ”یقولون“جو فعل مضارع کی صورت میں ہے اور اسی طرح ”قل“جو فعل امر کی صورت میں ہے سب تقدیر کے محتاج ہوںگے ۔ ثالثاً: ایک حدیث جو تفسیر برہان میں اس آیت کے ذیل میں حضرت امام باقر علیہ السلام اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی گئی ہے میں ہے کہ یہ آیت کفارِمکہ کے مقابلے میں نازل ہوئی تھی ۔ ان تمام دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مربوط ہے، کفار آپ پر ناروا تہمتیں باندھتے تھے یہ آیت آپ کی جانب سے ان کے لئے جواب کے طور پر نازل ہوئی ہے ۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ جملہٴ معترضہ کا یہ معنی نہیں کہ کوئی ایسی بات ذکر ہو جو اصل گفتگو سے کوئی کلام تاکید اور تائید کرتے ہیں ، ان سے وقتی طور پر رشتہٴ سخن منقطع ہوجاتا ہے، مخاطب کو ایک طرح سے موقع ملتا ہے اور گفتگو کو بھی لطافتِ روح اور تازگی میسّر آتی ہے، یہ بات حتمی ہے کہ جملہ معترضہ کبھی بھی ہر لحاظ سے کلام سے بیگانہ نہیں ہوسکتا ورنہ یہ بات اصولِ فصاحت وبلاغت کے خلاف ہوجائے گی حالانکہ فصیح وبلیغ کلام میں ہمیشہ جملہ ہائے معترضہ پائے جاتے ہیں ۔