وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَن فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا أَفَأَنتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ
Had your Lord wished, all those who are on earth would have believed. Would you then force people until they become faithful?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 10:99
[Pooya/Ali Commentary 10:99]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:99-100
دو قابل توجہ نکات
۱۔ ایک وضاحت : ہو سکتا ہے کہ ابتدائی نظر سے یوں معلوم ہو کہ پہلی اور دوسری آیت آپس میں ایک دوسرے کی نفی کرتی ہیں ۔ کیونکہ پہلی آیت کہتی ہے کہ خدا کسی کوایمان لانے پر مجبور نہیں کرتا جبکہ دووسری آیت کہتی ہے کہ جب تک پر وردگار کا فرمان اور ارادہ نہ ہو کوئی شخص ایمان نہیں لاتا۔ ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے ظاہری اختلاف بر طرف ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ ہم عقیدہ رکھتے ہیں کہ نہ ” جبر“ صحیح ہے اور نہ ہی ” تفویض “ درست ہے یعنی نہ اس طرح ہے کہ لوگ اپنے افعال میں مجبور اور بے اختیار ہیں اور نہ اس طرح ہے کہ وہ تمام معنی میں اور ہر لحاظ سے اپنے حالت میں آزاد ہیں بلکہ ارادے کی آزادی ہوتے ہوئے بھی وہ خدائی امداد کے محتاج ہیں کیونکہ ارادے کی یہ آزادی خدا دیتا ہے عقل او روجدان ِ پاک اس انعامات او ر عنا یات میں سے ہے ، انبیاء کی راہنمائی اور کتب ِ آسمانی کی ہدایت بھی اس جانب سے ہے ۔ اس بناء پر ارادے کی آزادی کے باوجوداس نعمت وعنایت کا سر چشمہ اور اس کا ماحصہ سبھی خدا کی طرف سے ہے ( غور کیجئے گا ) ۔ ۲۔ ایک اشکام اور اس کی توضیح : آخری آیت آخری جملہ ”وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِینَ لاَیَعْقِلُون“ہر گز جبر کی دلیل نہیں ہے ۔ کیونکہ ” لایعقلون“ ان کے اختیار کی دلیل ہے یعنی پہلے افراد تعقل و تفکر اور غور و فکر سے منہ موڑ لیتے ہیں جس کے انجام کے طور پر اس عذاب میں مبتلا ہو تے ہیں کہ رجس ، شک و تردد کی ناپاکی ، دل کی تاریکی اور غلط نظر ان پر غالب آجاتی ہے ۔یہاںتک کہ قوت ایمان ان سے سلب ہو جاتی ہے ۔ لیکن توجہ رہے کہ اس کے مقدمات خو د انھوں نے فراہم کئے ہیں ۔ درحقیقت ایسے مواقع پر ایمان کے لئے اللہ کا اذن اور فرمان نہیں ہوتا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ جملہ اس طرف اشارہ ہے کہ خدا کا اذن اور فرمان بلاوجہ اور بغیر کسی حساب کتاب کے نہیں ہے جو اس لائق ہیں ان کے لئے ہو گا اور جو اس کے لائق نہیں وہ اس سے محروم رہیں گے ۔ ۱۰۱ قُلْ انْظُرُوا مَاذَا فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَمَا تُغْنِی الْآیَاتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لاَیُؤْمِنُونَ۔ ۱۰۲۔ فَھَلْ یَنْتَظِرُونَ إِلاَّ مِثْلَ اٴَیَّامِ الَّذِینَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِھِمْ قُلْ فَانْتَظِرُوا إِنِّی مَعَکُمْ مِنْ الْمُنْتَظِرِینَ۔ ۱۰۳۔ ثُمَّ نُنَجِّی رُسُلَنَا وَالَّذِینَ آمَنُوا کَذَلِکَ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِینَ ۔ ترجمہ ۱۰۱۔ کہہ دو: دیکھو ! ان ( خدا کی آیات اور توحید کی نشانیوں ) کو جو آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہی لیکن یہ نشانیاں اور تنبیہیں ان لوگں کے لئے مفید نہیں ہو گی جو ایمان نہیں لائے ( اور ہٹ دھرم ہیں ) ۔ ۱۰۲۔کیا یہ گزشتہ لوگوں کے سے دنوں ( اور ویسی بلاوٴں ، مصیبتوں اور سزاوٴں ) کا انتظار کرتے ہیں کہہ دو : تم انتظار کر، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کروں گا ۔ ۱۰۳۔ پھر ( نزول اور سزا و عذاب کے وقت ) ہم اپنے رسولوں کو اور ان پر ایمان لانے والوں نجات دیتے تھے اور اس طرح ہم پر حق ہے کہ (تجھ پر) ایمان لانے والوں کو نجات بخشیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:99-100
قومِ یونس کے ایمان لانے کا واقعہ
جیسا کہ تواریخ میں آیا ہے کہ ان کا ماجرا کچھ یوں ہے : حضرت یونس (ع) کی قوم نینوا( عراق) میں زندگی زندگی بسر کرتی تھی جب آپ (ع) اس سے مایوس ہو گئے تو ایک عابد کی درخواست پر کہ جو ان میں رہتا تھا ان کے لئے بد دعا کی جبکہ انہی میں ایک عالم بھی تھاجو حضرت یونس (ع) سے درخواست کرتا تھا کہ آپ قوم کے بارے میں دوبارہ دعائے خیر کریں ، ان کے لئے پھر ارشاد و ہدایت شروع کریں اور مایوس نہ ہوں ۔ لیکن حضرت یونس اس واقعے کے بعد اپنی قوم سے باہر چلے گئے ، ان کی قوم کہ جس نے آ پ کی سچائی کو بار ہا آزمایا ہوا تھا ، اس عالم کے گرد جمع ہو گئی جب کہ نزول عذاب کا فرمان صادر نہیں ہو اتھا لیکن اس کی نشانیاں کم و بیش نظر آتی تھیں ۔ ان لوگوں نے موقع غنیمت جانا اور اس عالم کی راہنمائی میں شہرسے باہر نکل آئے ۔ ان کی حالت یہ تھی کہ دعا وتضرع کررہے تھے ہاتھ اٹھارکھے تھے ، اظہار ایمان کررہے تھے ، توبہ کناں تھے ، انھوں نے ماوٴں کو بچوں سے جدا کردیا تھا تاکہ ان کی روح میں زیادہ انقلاب بر پا ہو اور انھوں نے معمولی قسم کا لباس پہن رکھا تھا ۔ وہ اپنے پیغمبر کی تلاش میں نکل پڑے مگر ان کا تو کہیں کوئی نشان نظر نہ آیا ۔ لیکن ان کی یہ توبہ، ایما ن او رپر وردگار کی طرف بازگشت چونکہ بر محل تھی اور علم ، آگاہی اور خلوص کی بنیاد پر تھی لہٰذا وہ اپنا کام کرگئی ۔ عذاب کی نشانیاں بر طرف ہو گئیں ۔ آرام و سکون کی طرف پلٹ آیا۔ ایک طویل واقعے کے جب حضرت یونس (ع) اپنی قوم کی طرف پلٹ آئے تو دل و جان سے قوم نے ان کی پذیرائی کی ۔ خود حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی کی تفصیل انشاء اللہ سورہٴ صافات کی آیات ۳۴اتا ۱۴۸کے ذیل میں بیان کی جائے گی۔ اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے قوم یونس (ع) کو خدا کے عذاب کا ہر گز سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ورنہ ان کی قوم کی توبہ بھی قبول نہ ہوتی بلکہ خطرے کے الارم اور نشانیاں جو عام طور پر حقیقی عذاب سے پہلے نمایاں ہوتی ہیں ان کی بیداری کے لئے کافی ثابت ہوگئیں حالانکہ فرعونی خطرے کے ایسے الارم بار ہا سن چکا تھا۔خطرے کی نشانیاں ان کے لئے نمایاں ہو چکی تھیں ۔ مثلاً طوفان ، ٹڈی دل کا حملہ اور نیل کے پانی کا دگر گوں ہو جانا وغیرہ ایسے واقعات رونما ہوچکے تھے لیکن انھوں نے خطرے کی ان گھنٹیوں کو کبھی کوئی اہمیت نہ وی اور ہر مصیبت پر صرف حضرت موسیٰ سے خواہش کی کہ اس تکلیف اور مصیبت کو خدا ان سے بر طرف کردے تو ایمان لے آئیں گے لیکن وہ کبھی ایمان نہیں لائے ۔ مندرجہ بالاواقعہ ضمنی طور پر نشاندہی کرتا ہے کہ آگاہ اور دلسوز رہبر کا وجود ایک قوم کے درمیان کس قدر موٴثر اور حیات بخش ہے جب کہ وہ عابد جو کافی علم نہ رکھتا ہو وہ زیادہ سختی اور خشونت ہی کا سہارا لیتا ہے ۔ عدم آگہی سے عبادت اور علم جو حواس ذمہ داری کے ساتھ ہو میں اسلام جس کا فرق قائل ہے ، اس کی منطق بھی اس روایت سے سمجھ میں آتی ہے ۔ ۹۹۔ وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لَآمَنَ مَنْ فِی الْاٴَرْضِ کُلّھُمْ جَمِیعًا اٴَفَاٴَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتَّی یَکُونُوا مُؤْمِنِینَ۔ ۱۰۰۔ وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اٴَنْ تُؤْمِنَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللهِ وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِینَ لاَیَعْقِلُونَ۔ ترجمہ ۹۹۔ اور گر تیرا پر وردگار چاہتا تو روئے زمین کے تمام رہنے والے ( جبری طورپر) ایمان لے آتے ۔ کیا تو مجبور کرنا چاہتا ہے کہ وہ ایمان لے آئیں (جبری ایمان کا کیا فائدہ ہے ) ۔ ۱۰۰۔ (لیکن) کوئی شخص خدا کے ( اس کی توفیق ، مدد او رہدایت ) کے بغیر ایمان نہیں لاسکتا اور ( کفر و گناہ کی ) کی ناپاکی وہ ان کے لئے قرار دیتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:99-100
جبری ایمان بے کار ہے
گزشتہ آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ اضطراری ایمان کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ اسی بناء پر زیر بحث پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے : اگر اضطراری اور اجباری ایمان کا کوئی فائدہ ہوتا او رتیرا پر وردگار چاہتا تو روئے زمین کے تمام لوگ ایمان لے آتے ( وَلَوْ شَاءَ رَبُّکَ لَآمَنَ مَنْ فِی الْاٴَرْضِ کُلّھُمْ جَمِیعًا ) ۔ لہٰذا ان میں سے ایک گروہ کے ایمان نہ لانے سے دلگیر اور پریشان نہ ہو۔ ارادہ و اختیارکی بنیادی آزادی کا لازمہ ہے کہ کچھ لوگ مومن ہو ں گے اور کچھ غیر مومن ” ان حالات میں تو چاہتا ہے کہ لوگوں کو ایمان لانے کے لئے مجبور کرے “(اٴَفَاٴَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتَّی یَکُونُوا مُؤْمِنِینَ) ۔ آیت اس تہمت کی دوبارہ نفی کرتی ہے جو اسلام کے دشمن بارہا لگاتے رہے ہیں او رلگاتے رہتے ہیں اور وہ یہ کہ اسلام تلوار کا دین ہے او رزبر دستی اور جبری طور پر دنیا کے لوگوں پر ٹھونسا جاتا ہے ۔ زیر بحث آیت قرآن کی دیگر بہت سی آیات کی طرح کہپتی ہے کہ جبری ایمان کی کوئیقدر و قیمت نہیں اور اصولی دین و ایمان ایسی چیز ہے جو روح کے اندر سے اٹھے نہ کہ باہر سے اور تلوار کے ذریعے سے ہو ، خصوصاً خدا تعالیٰ پیغمبر اسلام کو ایمان و اسلام کے لئے لوگوں پر جبر و اکراہ کرنے سے ڈررہا ہے او رمنع کر رہا ہے اس کے باوجود بعد والی آیت میں اس حقیقت کی یاد دہانی کروائی گئی ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ انسان مختار اور آزاد ہے پھر بھی جب تک لطفِ الہٰی اور حکم پر وردگار شامل حال نہ ہوتو کوئی شخص ایمان نہیں لاتا“( وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اٴَنْ تُؤْمِنَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللهِ ) ۔لہٰذا وہ جہالت اور بے عقلی کی راہ میں قدم رکھتے ہیں اور اپنی عقل وخرد کے سرمائے سے فائدہ اٹھانے کے لئے تیار نہیں خدا ان کے لئے رجس اور ناپاکی قرار دیتا ہے اس طرح سے کہ انھیں ایمان کی توفیق نہیں ہوتی(وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِینَ لاَیَعْقِلُونَ) ۔