إِلَيۡهِ مَرۡجِعُكُمۡ جَمِيعٗاۖ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقًّاۚ إِنَّهُۥ يَبۡدَؤُاْ ٱلۡخَلۡقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ لِيَجۡزِيَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّـٰلِحَٰتِ بِٱلۡقِسۡطِۚ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لَهُمۡ شَرَابٞ مِّنۡ حَمِيمٖ وَعَذَابٌ أَلِيمُۢ بِمَا كَانُواْ يَكۡفُرُونَ
To Him will be the return of you all; [that is] Allah’s true promise. Indeed, He originates the creation, then He will bring it back that He may reward with justice those who have faith and do righteous deeds. As for the faithless, they shall have boiling water for drink, and a painful punishment because of what they used to defy.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 10:1-10
God describes surprise of the Arab at Medina, being raised a prophet among them, this was a mistake committed by them as their predecessors, who also objected to see a God’s prophet like a man from amongst them – forgetting the fact, as His messenger “He was guided by God on the right path,” getting Divine Message through medium of Gabriel. If an angel was deputed by God, from time to time, for public guidance, the public would have been frightened, being not social with him if an original habit, and it was not advisable to send to everyone an angel for individual guidance, as revelation can only come the Pure Immaculate. Then he repeats proofs of His Existence, power of Creation and calling back to Himself to account and reward the faithful, on justice, giving grades of paradise, and punish the Infidels, by condemning them to grades of Hell, with intensity of crimes. He then points out such people, who will be condemned are those who are pleased with the worldly life and satisfied therewith – without thinking any more of futurity. On the contrary, the faithful, acting to the end of their lives righteously, to gain Eternal with their testimonials from Divine Lights of their regime. (What does a politician do beyond providing Welfare state in this world?)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:3-4
دو قابل توجہ نکات
۱۔ ” الیہ مرجعکم جیمعاً “ کا مفہوم : اگر چہ خد اکے لئے مکان و محل نہیں ہے ۔ اس کے باوجود اس جہاں میں وہ ہرجگہ ہے اور ہم سے ہمارے نسبت زیادہ قریب ہے ۔ اس کے امر کے سبب مفسرین نے زیر نظر آیت میں ” الیہ مرجعکم جمیعاً“ اور قرآن کی ایسی دیگر آیات کی مختلف تفسیریں کی ہیں ، کبھی کہا جاتا ہے کہ مراد یہ ہے کہ ثواب اور جزا کی طرف پلٹ جائیں گے۔ نیز شاید بعض جاہل افراد اسے قیامت میں خدا کے مجسم ہو نے کی دلیل سمجھیں کہ جس عقیدہ کا بطلان اس قدر واضح ہے کہ محتاج بیان نہیں ۔ لیکن . جو کچھ آیات قرآن میں غورو فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ عالم حیات ایسے کاروں کی طرح جو جہان عدم سے چلا ہے اور اپنے لامتناہی سفر اور گردش میں لامتناہی کی طرف ہی آگے بڑھ رہا ہے جو کہ خدا کی ذات پاک ہے اگر چہ مخلوق محدود ہے اور محدود کبھی لامتناہی (Infinite)نہیں ہوتا پھر بھی اس کا سفر تکامل رکتا ۔ یہاں تک کہ قیام قیامت کے بعد بھی یہ سیر ت کامل جاری و ساری رہے گی ( جیسا کہ ہم نے معادکی بحث میں اس کی تشریح کی ہے )1 قرآن کہتا ہے : ۔ یا ایھا الانسان انک کادح الی ربک کدحاً ۔ اے انسان !تو سعی وکو شش کے ساتھ اپنے پر وردگارکی طرف جارہا ہے ۔ نیز کہتا ہے :۔ یا اایتھا النفس المطمئنہ الی ربک ۔ اے وہ روح کہ جوایمان اور عمل صا لح کے ذریعے سکو ن واطمینان کی سرحد تک پہنچ گئی ہے، اپنے پروردگار کی طرف پلٹ آ ۔ اس تحر یک کی ابتدا . خدا کی طرف سے ہوئی ہے اور زند گی کا پہلا شعلہ اس کی طرف سے ظا ہر ہو ا ہے نیزیہ ارتقائی سفر اور حرکت اسی کی طرف ہے جسے ---” رجوع “ اوربازگشت سے تعبیرکیا جا تا ہے. المختصر ایسی تعبیر یں علاوہ اس کے کہ موجو دات کی خدا کی طرف عمومی حرکت کی طرف اشارہ ہیں اس حرکت کے مقصد کو بھی مشخص کرتی ہیں اور وہ اس کی پاک ذات ہے ۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ لفظ ” الیہِِ“ مقدم ہے اور اس کا مقد م ہونا انحصار کی دلیل ہے واضح ہو جا تا ہے کہ انسان کی ارتقائی اور تکا ملی حرکت کا مقصد اس کی پاک ذات کے علاوہ کوئی وجود نہں ہو سکتا نہ بت اور نہ ہی کوئی اور مخلوق ۔کیونکہ یہ سب چیزیں محدود ہیں اور انسان کی راہ غیر محدود ہے ۔ ۲۔ ” قسط “کا مفہوم : ”قسط “ لغت میں دوسرے کاحصہ اداکرنے کے معنی میں ہے لہذا اس میں انصاف کا مفہوم چھپا ہوا ہے ۔یہ بات جاذب نظر ہے مندرجہ بالا آیت میںیہ لفظ صرف ا ن افراد کے لیے بولاگیا ہے جو عمل صا لح بجالاتے ہیں اور اچھی جزا چا ہتے ہیں لیکن بدکارو ں کی سزا کے ذکر میں یہ لفظ نہیں آیا کیونکہ عذاب اور سزامیں کوی حصہ نہیں ہو تا ۔با لفا ظ دیگر” قسط “ صرف نیک جزا کیلئے مناسب ہے ،سزا کے لیے مناسب نہیں ہے۔ ۵ ۔ ہُوَ الَّذی جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیاء ً وَ الْقَمَرَ نُوراً وَ قَدَّرَہُ مَنازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنینَ وَ الْحِسابَ ما خَلَقَ اللَّہُ ذلِکَ إِلاَّ بِالْحَقِّ یُفَصِّلُ الْآیاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ۔ ۶۔ إِنَّ فی اخْتِلافِ اللَّیْلِ وَ النَّھارِ وَ ما خَلَقَ اللَّہُ فِی السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ لَآیاتٍ لِقَوْمٍ یَتَّقُونَ ۔ ترجمہ ۵ ۔ وہ وہ ہے کہ جس نے سورج کو روشنی اور چاند کو نور قرار دیا ہے اور اس کے لئے منزلیں مقرر کی ہیں تا کہ تم برسوں کی تعداد اور ( کاموں کا ) حساب جان لو۔ خدا نے اسے سوائے حق کے پیدا نہیں کیا ۔ وہ (اپنی ) آیات صاحبان علم کے لئے تفصیل و تشریح کے ساتھ بیان کرتا ہے ۔ ۶۔ مسلم ہے کہ رات اور دن کے آنے جانے میں اور ان چیزوں میں کہ جنھیں خدا نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ، ان لوگوں کے لئے آیات ( اورنشانیاں ) ہیں جو پرہیزگار ہیں ( اور گناہ نے ان کے دل کی آنکھ کو اندھا نہیں کر دیا ) ۔ 1 ۔زیادہ وضاحت کے لئے کتا ب ” معاد و جہان پس از مرگ “ کی طرف رجوع کرے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:3-4
خدا شناسی اور قیامت
وحی اور نبوت کے مسئلہ کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ، اس سورہ کی ابتدائی آیات میں قرآن تمام انبیاء کی تعلیمات کے دو بنیادی اصولوں یعنی مبداء اور معاد کا رخ کرتا ہے زیر نظر دو آیت میں ان دو اہم اصولوں کو مختصر اور واضح عبارت میں بیان کیا گیا ہے پہلے فرمایا گیا ہے : تمہارا پروردگار وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ( إِنَّ رَبَّکُمُ اللَّہُ الَّذی خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضَ فی سِتَّةِ اٴَیَّام)جیسا کہ ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے ہیں لفظ ” یوم “ عربی زبان میں اور ” روز “ فارسی زبان میں اور اسی طرح دوسری زبانوں میں ان کے متبادل الفاظ بہت سے موقع پر دور کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ ایک دن تھا جب استبداد کا دور تھا اور اس دور کے خاتمے پر لوگوں کی نجات اور آزادی کا دور آن پہنچا ہے ۔ ۱ اس بناء پر مندرجہ بالا جملے کا مفہوم یہ ہوگا کہ پروردگار نے آسمان اور زمین کو چھ ادوار میں پیدا کیا اور چونکہ ان چھ ادوار کے بارے میں ہم پہلے گفتگو کر چکے ہیں لہذا یہاں تکرار نہیں کرتے ۔ ۲ ا لفظ ” عرش “ بعض اوقات چھت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی اس چیزکے معنی میں بولا جاتا ہے جو چھت کے رکھتی ہو اور بعض اوقات یہ اونچے پاوٴں والے تخت کے معنی میں آتاہے اس کا اصلی معنی ہے ” قدرت “ مثلاً ہم کہتے ہیں فلاں شخص بیٹھا یا اس کے تخت کے پائے گر گئے یا اس ے تخت سے اتار دیا گیا ۔ یہ سب اقتدار حاصل کرنے یا اقتدار کھو دینے کے لئے کنایہ ہیں حالانکہ ہوسکتا ہے ، تخت اصلاً ہو ہی نہیں ۔ لہٰذا ” استوی علی العرش “ کے معنی ہیں خدا نے امور عالم کی باگ دوڑ اپنے دست قدرت میں لی ۔۳ ”تدبر “ تدبیر “ کے مادہ سے مشتق ہے اور در اصل ” دبر “ ( بر وزن ) ”ابر“) کسی چیز کے پیچھے اور انجام کے معنی میں ہے اس بناء پر” تدبیر “کاموں کے انجام کی تحقیق کرنے او رمصالح کو منظم کرکے ان کے مطابق عمل کرنے کے معنی میںہے ۔ جب یہ واضح ہو گیا کہ خالق اللہ ہے او ر عالم ہستی کو وہی چلاتا ہے او رتما م امو رکی تدبیر اس کے فرمان سے ہو تی ہے واضح ہے کہ بے جان ، عاجز اور ناتواں بتوں انسانوں کی سر نوشت میں کوئی اثر نہیں ہے اس لئے بعد والے جملہ میں فرمایاگیا ہے : اس کے اذن کے بغیر کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہے ( ما مِنْ شَفیعٍ إِلاَّ مِنْ بَعْدِ إِذْنِہ)۔ ۴ جی ہاں .حقیقت یہی ہے کہ اللہ تمہارا پر وردگار ہے لہٰذا اس کی پرستش کرو نہ کہ اس کے غیر کی (ِ ذلِکُمُ اللَّہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوہُ)۔ کیا اس واضح دلیل سے تم متذکر اور متوجہ نہیں ہوتے ( اٴَ فَلا تَذَکَّرُونَ )۔ جیسا کہ ہم اشار ہ کرچکے ہیں ” بعد والی آیت میں معاد اور قیامت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے اور چھوٹے چھوٹے جملوں میں یہ معاملہ ، اس کی دلیل اور اس کا مقصد بیان کیا گیا ہے ۔ پہلے قرآن کہتا ہے : تم سب کی باز گشت خدا کی طرف ہے ( إِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمیعاً)۔ اس کے بعد تاکیداً فرمایاگیا ہے : خدا کا یہ قطعی وعدہ ہے ( وَعْدَ اللَّہِ حَقًّا)۔ بعد از آں اس کی دلیل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے : خد انے خلقت کی ابتداء کی اور پھر اس کی تجدیدکرے گا ( إِنَّہُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعیدُہُ)۔ یعنی جو لوگ معاد اور قیامت کے بارے میں شک کرتے ہیں انھیں آغازخلقت کے بارے میں غور و فکر کرنا چاہئیے ۔ خدا جس نے دنیا کو ابتداء میں ایجادکیا وہ اسے دوبار پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے یہ استدلال ایک دوسری شکل میں سورہ اعراف آیت ۲۹ میں ایک مختصر سے جملہ میں بیان ہوا ہے اس کی تفصیل سورہ اعراف کی تفسیر میں گذر چکی ہے ۔ قیامت او رمعاد سے مربوط آیات نشان دہی کرتی ہیں کہ مشرکین اور مخالفین کے شک کی سب سے بڑی دلیل یہ تھی کہ انھیں ایسی چیز کے امکان میں شک تھا اور تعجب سے سوال کرتے تھے کہ کیا یہ بوسیدہ اور خا ک بنی ہوئیں ہڈیاں دوبارہ لباس حیات پہنیں گی اور اپنی پہلی شکل میں پلٹ آئیں گی ۔ اس لئے قرآن نے بھی اس مسئلہ کے امکان پر انگلی رکھی ہے اور کہتا ہے : اس ذات کو فراموش نہ کرو جو اس جہاں کو از سر نو ساز و سامان بخشے گا او رمردوں کو زندہ کرے گا کیونکہ وہی آفریدگار ہے جس نے آغاز میں یہی کا م کیا تھا ۔ اس کے بعدمعادکے مقصد کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : یہ اس بناء پر ہے کہ خدا ایسے افراد کو جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے نیک اعمال انجام دئیے ہیں انھیں عادلانی جزا او ربدلہ دے گا ۔ بغیر اس کے کہ ان کا کوئی چھوٹا سا عمل بھی بغیر لطف و رحمت کی نظر سے مخفی رہے اور اجر و ثواب کے بغیر رہ جائے ( لِیَجْزِیَ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ)۔ ” اور وہ لوگ کہ جنہوں کفر اور انکا ر کا راستہ طے کیا ہے اور پھر فطری طور پر ان کاکوئی نیک عمل بھی نہ تھا ( کیونکہ اچھے عمل کی جڑ اچھا عقیدہ ہے ) ان کے درد ناک سزا ہے ۔ ان کے پینے کے لئے گرم اور جلانے والا پانی ہے اور ان کے کفر کی وجہ سے عذاب الیم ان کے انتظار میں ہے ( وَ الَّذینَ کَفَرُوا لَہُمْ شَرابٌ مِنْ حَمیمٍ وَ عَذابٌ اٴَلیمٌ بِما کانُوا یَکْفُرُون)۔ ۱- مزید توضیح اور اس سلسلے میں عربی فارسی مثالوں کے لئے تفسیر نمونہ جلد ششم سورہ اعراف کی آیت ۵۴ کے ذیل میں رجوع کریں ۔ 2-اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے : خدا نے عالم کو پیدا کرنے کے بعد اس کے امور کی باگ ڈور اپنے دست قدرت میں لی ( ثم استوی علیٰ العرش) ۔ تمام کام اس کے فرمان سے ہوتے ہیں اور تمام چیزیں اس کے قبضہ تدبیر میں ہیں ( ید بر الامر ) ۳۔زیادہ وضاحت اور ”عرش“ کے مختلف معانی سے باخبر ہونے کےلئے تفسیر نمونہ جلد ۶ ص۱۸۰( اردو ترجمہ ) اور ج۲ ص ۱۵۸ ( اردو ترجمہ ) ۴-شفاعت جیسے اہم مسئلہ پر ہم بحث پہلے ہی کرچکے ہیں اس کے لئے جلد اول ص۱۸۷ ( اردو ترجمہ ) اور جلد دوم ص ۱۵۵( اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع فرمائیں ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 10:4
[Pooya/Ali Commentary 10:4] Haqq-the promise of Allah is sure, certain, true, right, for just ends, in right proportions-all these ideas are implied. Allah's creation is continuous, there are many stages, the most important of which is the hereafter. The sun, the moon and all other heavenly bodies are created beings, created to serve man, therefore he should not bow to them as gods-they have been created to demonstrate the truth of the divine unity. The boiling fluid is a symbol of the grievous penalty that results from rebellion against Allah.