إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا
When the earth is rocked with a terrible quake
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 99:1
[Pooya/Ali Commentary 99:1] See commentary of Ghashiyah. It refers to the uprooting which will take place when the present order of the world is destroyed and the new order of justice and truth begins in the spiritual hereafter. It will dissolve the material world as if it never existed.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 99:1-8
Once Earth quaked in Medina and both Khalifas being helpless to ease the situation, ran to Ali, who quelled it, after laying his hand therein and uttering in a commanding tone. People were surprised, when he warned them of this Surah, presages his future relation with Earth.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 99:1-8
۲۔ ایک سوال کا جواب
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے ، اور وہ یہ ہے کہ ان آیات کے مطابق انسان قیامت میں اپنے اعمال ، چاہے وہ اچھے ہوں یا برے ، چھوٹے ہوں یا بڑے، دیکھے گا۔ یہ معنی آیات ” احباط“ و ”تکفیر“ اور آیات ”عفو“ و ”توبہ“ کے ساتھ کیسے ساز گار ہوسکتا ہے ۔ کیونکہ آیات ” احباط“ تویہ کہتی ہیں کہ بعض عمل مثلاً ” کفر“ انسان کی تمام نیکیوںکو ختم کردیتا ہے ۔ لئن اشرکت یحبطن عملک ( زمرہ۔ ۶۵) او رآیات” تکفیر“ کے مطابق بعض اوقات نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہے ۔ ان الحسنات یذہبن السیئات( ہود ۱۱۴) اور عفوو توبہ کی آیات یہ کہتی ہیں کہ عفو الٰہی کے سائے میں ۔ یاتوبہ کرنے سے: گناہ محو ہو جاتے ہیں ، یہ سارے مفہوم تمام نیک و بد اعمال کا مشاہدہ کرنے کے مسئلہ کے ساتھ کیسے مطابقت کرتے ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنا چاہئیے اور وہ یہ ہے کہ : وہ دو اصول جو اوپر والی آیات میں بیان ہوئے ہیں۔ اور جو یہ کہتے ہیں کہ انسان اچھے اور برے کام کا ایک ایک ذرہ تک دیکھے گا، ایک قانون کلی کی صورت میں ہے ، اور ہم جانتے ہیں کہ ہر قانون میں کچھ مشتثنیات ہوسکتے ہیں ۔ لہٰذا آیات عفو و توبہ ، اور احباط و تکفیر حقیقت میں اس قانون ِکلی میں استثناء کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ” احباط“ و ”تکفیر“ کے سلسلہ میں در حقیقت موازنہ اور ایک عجز و انکسار رونما ہوتا ہے ، اور یہ ٹھیک مطالبات اور قرضوں کے مانند ہے ، جن میں ایک دوسرے منہا ہوجاتے ہیں ، جس وقت انسان اس موازنہ کا نتیجہ دیکھتا ہے تو حقیقت میں اس نے اپنے تما م اچھے اور برے اعمال کو دیکھ لیا ہے ۔ یہی بات”عفو“ و ” توبہ“ میں بھی جاری ہے،کیونکہ عفو لیاقت و شائستگی کے بغیر صورت پذیرنہیںہوتا، اور توبہ خود ایک نیک عمل ہے ۔ بعض نے یہاں ایک اور جواب دیا ہے ، جو صحیح نظر نہیں آتا ، اور وہ یہ ہے کہ کافر اپنے اچھے اعمال کا نتیجہ اسی دنیا میں دیکھ لیں گے ،جیسا کہ مومن اپنے برے اعمال کی سزااسی جہان میں پالیتے ہیں۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ زیر بحث آیات قیامت کے ساتھ مربوط ہیں نہ کہ دنیاکے ساتھ ، علاوہ از ایں یہ کوئی کلیہ نہیں کہ ہرمومن و کافر اپنے اعمال کا نتیجہ دنیا میں دیکھے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 99:1-8
جس دن انسان اپنے تمام اعمال دیکھے گا
جس طرح سورہ کے مطالب کے بیان میں اشارہ ہوا ہے یہ سورہ اس جہان کے اختتام اور قیامت کے شروع کے بعض ہولناک اور وحشت ناک حوادث کے بیان کے ساتھ شروع ہوا ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے :” جس وقت زمین شدت کے ساتھ ہلنے لگے گی“۔ ( اذا زلزلت الارض زلزالھا)۔ ۱ اور اس طرح زیر و زبر ہوگی کہ ” وہ سارے سنگین بوجھ“ جو اس کے اندر ہیں ، باہر نکال کررکھ دے گی “۔ ( واخرجت الارض اثقالھا)۔ ” زلزالھا“ ( اس زلزلہ) کی تعبیر یا تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس دن سارا کرہٴ زمین لرزنے لگے گا۔ (عام زلزلوں کے برخلاف جو سب کے سب کسی خاص موضع یا علاقہ میں ہوتے ہیں )۔ اور زلزلہٴ معہود یعنی زلزلہٴ قیامت کی طرف اشارہ ہے۔ ۲ / ۳ اس بارے میں کہ ” اثقال “ ( سنگین بوجھ) سے کیا مراد ہے ، مفسرین نے متعد د تفاسیر بیان کی ہیں ، بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مراد انسان ہیں جو قیامت کے زلزلہ سے قبروں کے اندر سے باہر اچھل پڑیں گے ، جیسا کہ سورہٴ انشقاق کی آیہ۴ میں آیا ہے ۔ ”القت مافیھا وتخلّت“ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ وہ اپنے اندرونی خزانوں کو باہر پھینک دے گی۔ اور بے خبر دنیا پرستوں کے لئے حسرت کا سبب بنے گی۔ ۴ یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد زمین کے اندر بہہنے والے بھاری مواد کو باہر پھینکنا ہے جن کی کچھ مقدار عام طور پر آتش فشانی اور زلزلوں کے وقت باہر نکلتی ہے عالم کے اختتام پر جو کچھ زمین کے اندر ہے وہ اس زلزلہ عظیم کے بعد باہر آجائے گا ۔ پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے ، اگر ان تفاسیر کے درمیان جمع بھی بعید نہیں ہے ۔ بہرحال اس دن انسان اس اَن دیکھے منظر کو دیکھ کر سخت متوحش ہو گا ، اور کہے گا : ” یہ کیا ہوگیا ہے کہ زمین اس طرح لرز رہی ہے ، اور جو کچھ اس کے اندر تھا اسے باہر پھینک دیا ہے “۔ ( و قال الانسان مالھا)۔ اگر چہ بعض نے یہاں انسان کی کافر انسانوں کے ساتھ تفسیر کی ہے ، کیونکہ زمین کے اوضاع و احوال سے تعجب اس دن کفار کے ساتھ مخصوص نہیں ہوگا۔ کیا یہ تعجب ، اور اس سے پیدا ہونے والا سوال” نفخہٴ اولیٰ “ سے مربوط ہے یا ”نفخہٴ دوم “ سے ؟ ظاہر یہ ہے کہ یہ وہی پہلانفخہ ہے جو اس عالم کے اختتام کا نفخہ ہے ۔کیونکہ یہ زلزلہ عظیم اختتام ِ جہاں پر آئے گا۔ یہ احتمال بھی دیاگیاہے کہ اس سے مراد نفخہ قیامت اور مردوں کے زندہ ہونے اور ان کے زمین سے باہر پھینک دینے کا نفخہ ہے کیونکہ بعد والی آیات بھی سب کی سب نفخہ دوم کے ساتھ مربوط ہیں ۔ لیکن چونکہ قرآن کی آیات میں ان دونوں نفخوں کے حوادث بارھا اکھٹے ذکر ہوئے ہیں ، لہٰذا اختتام جہاں پر وحشت ناک زلزلہ کے بیان کی طرف توجہ کرتے ہوئے پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے ، اور اس صورت میں کے ” اثقال “ سے مراد معدنیات ، خزانے اور اس کے اندر موجود پگھلے ہوئے مواد ہیں ۔ اور اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ” زمین اس دن اپنی ساری خبریں بیان کرے گی“( یومئذتحدث اخبارھا)۔ جو خوبیان اور برائیاں، اور خیر و شر کے اعمال روئے زمین پرواقع ہوئے ہیں ، وہ ان سب کو ظاہر کردے گی۔ اور اس دن انسان کے اعمال کے گواہوں میں سے اہم ترین گواہ یہی زمین ہو گی جس پر ہم اپنے اعمال انجام دیتے ہیں ۔ اور جو ہماری شاہد و ناظر ہے ۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے کہ آپ نے فرمایا:” اتدرون ما اخبارھا“؟:”کیا تم جانتے ہو کہ زمین کے اخبار سے یہاں کیا مراد ہے “؟ ” قالوا: اللہ و رسولہ اعلم “: انہوں نے کہا: خدا اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں “۔ آپ نے فرمایا: اخبارھا ان تشھد علی کل عبد و امة بما عملوا علی ظھرھا، تقول عمل کذا و کذا، یوم کذا، فھٰذا اخبارھا“: ”زمین کے خبر دینے والے سے مراد یہ ہے کہ زمین ہر مرد اور عورت کے اعمال کی ، جو انہوں نے روئے زمین پر انجام دیے ہیں ، خبر دے گی، وہ کہے گی کہ فلاں شخص نے فلاں دن فلاں کام کیا ہے ، یہ ہے زمین کا خبر دینا“۔ 5 ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم سے آیا ہے : حافظوا علی الوضوء و خیر اعمالکم الصلوٰة فتحفظوامن الارض فانّھاامّکم، ولیس فیھا احد یعمل خیراً او شراً الا و ھی مخبرة بہ “۔ ” وضوء اور اپنے اعمال میں سے بہترین عمل ، نماز کی حفاظت کر، اور زمین کی طرف دیکھتے رہو، کیونکہ وہ تمہاری ماں ہے ، کوئی انسان بھی اچھا یا برا کام انجام نہیں دیتا مگر یہ کہ زمین اس کی خبر دیتی ہے “۔ 6 ابو سعید خدری سے نقل ہوا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے : جب کبھی تم بیا بان میں ہو، تو بلند آواز کے ساتھ اذان دو، کیونکہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ”لا یسمعہ جن ولا انس ولا حجر الایشھد“کوئی جن و انس، اور پتھرکو کوئی ٹکڑا اسے نہیں سنتا ، مگر یہ کہ( قیامت میں ) اس کے لیے گواہی دے گا“7 کیا واقعاً خدا کے حکم سے زمین کی زبان کھل جائے گی اور وہ بات کرے گی؟ یا اس سے مراد روئے زمین پر انسان کے اعمال کے آثار کا ظاہر ہونا ، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ انسان جو عمل بھی انجام دیتا ہے ، وہ خواہ مخواہ اس کے اطراف میں کچھ آثار چھوڑ تا ہے ۔ چاہے وہ آج ہمارے لیے محسوس نہ ہوں ۔ ٹھیک ایک دوست یا دشمن کی انگلیوں کے انہیں آثار کے مانند، جو دروازے کے قبضہ پر رہ جاتے ہیں ، اور اس دن یہ سب کے سب آثار ظاہر ہو جائیں گے ، اور زمین کا بات کرنا اس عظیم ظہور کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔ جیسا کہ ہم کسی خواب آلود شخص سے کہتے ہیں ، کہ تیری آنکھیں بتلارہی ہیں کہ تو کل رات سو یا نہیں ہے ۔ یعنی بے خوابی کے آثار اس میں نمایاں ہیں ۔ بہر حال یہ کوئی غیر مانوس بات نہیں ، کیونکہ موجود ہ زمانے میں انسان کے علم و دانش کی پیش رفت کی وجہ سے ایسے آلات ووسائل اختراع ہوچکے ہیں جو ہر جگہ اور ہر لمحہ انسان کی آواز کو گرفت میں لے سکتے ہیں ، یا انسان اور اس کے اعمال و افعال کی تصویریں کھینچ سکتے ہیں ، اور ایک مسلم سند کے عنوان سے اسے عدالت میں پیش کرسکتے ہیں ، اس طرح کہ انکار کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہے ۔ اگر لوگ گزشتہ زمان میں زمین کی گواہی سے تعجب کرتے تھے ، تو موجود ہ زمانہ میں ایک پتلی سی ریل ( فیتہ ) یا ( ریکارڈ) ضبط کے کرنے کی مشین جو ایک بٹن کی صورت میں لباس سے ٹکی ہوئی ہوتی ہے ، بہت سے مسائل کو بیان کرسکتی ہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث میں علی علیہ السلام سے آیا ہے کہ آ پ نے فرمایا: ” صلو ا المساجد فی بقاع مختلفة، فان کل بقعة تشھد للمصلی علیھا یوم القیامة“” مساجدکے مختلف حصوں میں نماز پڑ ھا کرو، کیونکہ زمین کا ہرٹکڑا ، اس شخص کے لیے جو اس پر نماز پڑھتا ہے ، گواہی دے گا۔ 8 ایک اور دوسری حدیث میں آیاہے ، کہ امیر المومنین علی علیہ السلام جب بیت المال تقسیم فرماتے تھے، اور وہ خالی ہو جاتا تھا تو ہاں دو رکعت نماز بجالاتے اور فرماتے:” اشہدی انی ملاٴتک بحق و فرغتک بحق“ ( قیامت کے دن )” گواہی دینا کہ میں نے تجھے حق کے ساتھ پر کیا تھا اور حق کے ساتھ ہی خالی کیاہے “۔ 9 بعد والی آیت میں مزید فرماتا ہے : یہ اس خبر(نباء) پر ہے کہ تیرے پروردگار نے زمین کی وحی کی ہے “۔ ( بان ربک اوحٰی لھا) 10 اور زمین اس فرمان کے اجزاء میں کوتا ہی کرے گی ،” اوحٰی“ کی تعبیر یہاں اس بناء پر ہے کہ اس قسم کی اسرار آمیز گفتگو کرنا زمین کی طبیعت کے خلاف ہے ۔اور یہ چیز ایک وحی الٰہی کے طریقے کے سوا ممکن نہیں ہے ۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ زمین کو وحی کرے گا کہ جو کچھ اس کے اندر ہے وہ باہر پھینک دے۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح اور مناسب نظر آتی ہے ۔ اس کے بعد فرماتا ہے : ” اس دن لوگ مختلف گروہوں کی صورت میں قبروں سے نکل کر عرصہٴ محشر میں وارد ہوں گے، تاکہ ان کے اعمال انہیں دکھائے جائیں ۔ ( یومئذ یصدر الناس اشتاتاً لیروا اعمالھم)۔ ” اشتات“ ” شت“ ( بروزن شط) کی جمع ہے ، پراگندہ اور متفرق کے معنی میں ہے ، یہ اختلاف و پراگندگی ممکن ہے اس بناء پر ہو کہ ہر مذہب والے الگ عرصہٴ محشر میں وارد ہوں گے، یا زمین کے علاقوں میں سے ہر علاقے کے لوگ جدا جدا وارد ہوں گے، یا یہ ہے کہ ہر ایک گروہ تو ہشابشاش، شاد و خندان، حسین و خوبصورت چہروں کے ساتھ آئے گا اور ایک گروہ تیوری چڑھا ئے تیرہ و تاریک چہروں کے ساتھ محشر میں وارد ہوگا ۔ یاہر امت اپنے امام ، رہبر اور پیشوا کے ساتھ ہو گی جیسا کہ سورہ اسراء کی آیہ ۷۱ میں آیا ہے ، : یوم ندعوا کل انا ساس باماھم“: ” اس دن ہم ہر گروہ کو اس کے امام و پیشوا کے ساتھ بلائیں گے ۔ یایہ ہے کہ موٴ منین ، موٴمنین ساتھ، اور کفار، کفار کے ساتھ محشور ہوں گے۔ ان تما م تفاسیر کے درمیان جمع بھی پورے طور پر ممکن ہے کیونکہ آیت کا مفہوم وسیع ہے ۔ ” یصدر“ ” صدر“ ( بروزن صبر)کے مادہ سے اونٹوں کے پانی والی جگہ سے نکلنے کے معنی میں ہے ، انبوہ کی صورت میں ہیجان میں آئے ہوئے باہر آتے ہیں ” ورود“ کے بر عکس جو پانی کی جگہ میں داخل ہونے کے معنی میں ہے ۔ اور یہاں مختلف قوموں کے قبروں سے نکلنے اور حساب دینے کے لیے محشر میں آنے سے کنایہ ہے ۔ پہلا معنی گزشتہ آیات کے ساتھ زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ ” لیروا اعمالھم“ ( تاکہ ان کے اعمال انہیں دکھائے جائیں ) کے جملہ سے مراد اعمال کی جزا کا مشاہدہ ہے ۔ یا نامہٴ اعمال کا مشاہدہ مراد ہے جس میں ہر نیک و بد عمل ثبت ہے ۔ یا مشاہدہ باطنی مراد ہے جس کا معنی ان کے اعمال کی کیفیت کی معرفت و شناخت ہے ۔ یا ” تجسم اعمال “ کی صورت میں خود اعمال کا مشاہدہ مراد ہے ۔ آخری تفسیر ظاہر آیہ کے ساتھ سب سے زیادہ موافق ہے ، اور یہ آیت مسئلہ تجسم اعمال پر روشن ترین آیات میں سے شمار ہوتی ہے کہ ا س دن انسان کے اعمال مناسب صورتوں میں مجسم ہو کر اس کے سامنے حاضر ہو ں گے، اور ان کی ہم نشینی خوشی کا مو جب یا رنج و بلا کا باعث ہوگی۔ اس کے بعد ان دونوں گروہوں مومن و کافر، نیکو کار و بد کار کے انجام کار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” پس جس شخص نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھے گا“۔ ( فمن یعمل مثقال ذرة خیراً یرہ)۔ اور جس شخص نے ذرہ برابر بر اکام کیا ہوگا وہ اسے دیکھے گا“۔ ( ومن یعمل مثقال ذرة شراً یرہ) یہاں بھی مختلف تفسیریں ذکرہوئی ہیں کہ کیا اعمال کی جزا کو دیکھے گا، یا نامہٴ اعمال کا کا مشاہدہ کرے گا، یا عمل کو۔ ان آیات کا ظاہر بھی قیامت کے دن“ تجسم اعمال“ اور خود عمل کے مشاہدہ کے مسئلہ پر،نئے سرے سے ایک تاکید ہے ، چاہے وہ عمل نیک ہو یا برا، یہاں تک کہ اگر ایک سوئی کے برابر بھی نیک یابرا کام ہوگا تو وہ بھی اپنے کرنے والے کے سامنے مجسم ہوجائے گا، اور وہ اس کا مشاہدہ کرے گا۔ ”مثقال “ لغت میں بوجھ اور سنگینی کے معنی میں بھی آیاہے ، اور اس ترازوکے معنی میں بھی جس سے چیزوں کو تولا جاتا ہے ، اور یہاں یہ پہلے معنی میں ہی ہے ۔ ”ذرة“ کے لیے بھی لغت اور مفسرین کے کلمات میں مختلف تفسیرں ذکر ہوئی ہیں ، کبھی تو چھوٹی چیونٹی کے معنی میں، اور کبھی اس گرد و غبار کے معنی میں جو زمین پر ہاتھ رکھ کر اٹھانے کے بعد اس سے چپک جاتا ہے اور کبھی غبار کے ان چھوٹے چھوٹے ذرات کے معنی میں تفسیرہوئی ہے جو فضا میں معلق ہوتے ہیں اور جب سورج کی شعاعیں کسی سوراخ سے تاریک کمرے میں پڑےتیں ہیں تو وہ ظاہر ہو جاتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ موجودہ زمانہ میں ” ذرہ“ کا ” ایٹم“ پر بھی اطلاق کرتے ہیں ۔ اور ایٹم بم کو ” القنبلة الذریة“ کہتے ہیں ۔ ” ایٹم “ اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ نہ تو وہ عام آنکھ سے دیکھا جاسکتا ہے اور نہ ہی دقیق ترین خورد بینوں کے کے ذریعے قابل مشاہدہ ہے ، اور صرف اس کے آثار کا ہی مشاہدہ کرتے ہیں، اور اس کا حجم اور وزن علمی حساب و کتاب کے ذریعے ہی ناپاتولا جاتا ہے ، اور وہ اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ سوئی کی ایک نوک پر لاکھوں کی تعداد میں سما جاتے ہیں ۔ ذرّہ کا مفہوم چاہے جو بھی ہو یہاں مراد سب سے چھوٹا وزن ہے ۔ بہر حال یہ آیت ان آیات میں سے ایک ہے جو آدمی کی پشت میں لرزہ پیدا کردیتی ہےں، اور اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اس دن حساب و کتاب حد سے زیادہ دقیق اور حساس ہو گا۔ اور قیامت میں ناپ تول کا ترازو اس قدر ظریف ہوگا، کہ وہ انسان کے چھوٹے سے چھوٹے اعمال کا وزن اور اس کا حساب کرلے گا۔ ۱۔ ”اذا“ یہاں شرطیہ ہے ، اور اس کے بارے میں کہ جزائے شرط کیاہے کئی احتمال دئے گئے ہیں ، بعض اس کی جزا” یو مئذ تحدث اخبارھا“ کو سمجھتے ہیں ، بعض ” یومئذ یصدر الناس اشتاتا “کو، اور بعض نے جزا کو محذوف جانا ہے ۔ اس طرح کہ لوگ یہ سوال کرتے تھے کہ متی الساعة( قیامت کب واقع گی)تو جواب میں فرمایا : جب وہ عظیم زلزلہ آئے گا، یعنی اس وقت قیامت واقع ہوگی۔ ۲۔ پہلی صورت میں اضافت عمومی معنی رکھتی ہے اور دوسری صورت میں عہد کے معنی دیتی ہے ۔ ۳۔ ”زِلزال“ ”زا“ کی زیر کے ساتھ مصدری معنی دیتا ہے اور زَلزال( زا کی زبر کے ساتھ)اسم مصدرکے معنی دیتا ہے اور یہ وضع عام طور پر ان افعال میں آتی ہے جو مضاعف کی صورت میں استعمال ہوتے ہیں ، مثلاً ”صلصال “ اور” وسواس“۔ ۴۔ ” اثقال“ جمع ہے ” ثقل “( بر وزن فکر ) کی جو” بار“ کے معنی میں ہے ، اور بعض نے اسے ”ثقل“ ( بروزن عمل) کی جمع سمجھا ہے جو وسائلِ خانہ یا وسائل مسافر کے معنی میں ہے ، لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب ہے ۔ 5۔ ” نور الثقلین“ جلد۵ ص ۶۴۹۔ 6۔ ” مجمع البیان“ جلد ۱ ص ۵۲۶۔ 7۔ وہی مدرک ۔ 8۔” لئالی لاخبار“ جلد ۵ ص ۷۹ چاپ جدید۔ 9۔” لئالی لاخبار“ جلد ۵ ص ۷۹ چاپ جدید۔ 10۔ ”بان“ میں” باء“ سببیت کے لئے ہے اور لھا میں ” لام“ ” الیٰ “ کے معنی میں ہے کہ جیساکہ سورہ” نحل “ کی آیہ ۶۸ میں آیاہے ” و اوحٰی ربک الی النحل“
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 99:1-8
۱: قیامت کے حساب و کتاب میں دقت اور سخت گیری
نہ صرف اس سورہ کی آخری آیات سے ، بلکہ قرآن کی مختلف آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں اعمال کی حساب رسی میں حد سے زیادہ دقت ار موشگافیاں ہوں گی۔ سورہٴ لقمان کی آیہ ۱۶ میں آیاہے : یا بنیّ انھا ان تک مثقال حبة من خردل فتکن فی صخرة او فی السماوات اوفی الارض یاٴت بھا اللہ ان اللہ لطیف خبیر: ” اے بیٹے! اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ( نیک یا بد عمل ہوگا ) اور وہ پتھر کے اندر یا آسمان یا زمین کے کسی گوشہ میں چھپا ہوا ہوگا، تو خدا ( قیامت میں ) حساب رسی کے لیے اسے لے آئے گا ، بے شک خدا لطیف و خبیر ہے ۔ ”خردل “ رائی کا دانہ ، جو بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے ، اور وہ چھوٹے ہونے میں صرف ضرب المثل ہے ۔ یہ تعبیر یں اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ اس حساب رسی میں چھوٹے چھوٹے کاموں کا بھی محاسبہ ہوگا ۔ ضمنی طور پر یہ آیات اس بات کی تنبیہ کرتی ہیں کہ نہ تو چھوٹے گناہوں کو کم اہمیت شمار کریں، اور نہ ہی چھوٹے نیک کاموں کو وہ چیز جس کا خدا حساب لے گا ، چاہے کچھ بھی ہو کم اہمیت نہیں ہے ۔ اس لیے بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں ہیں جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعض صحابہ تھوڑے مال کے خرچ کرنے کے سلسلہ میں بے اعتنا تھے، وہ یہ کہتے تھے کہ اجر و ثواب تو ان چیزوں پر دیا جاتا ہے جنہیں ہم دوست رکھتے ہیں ، اور چھوٹی چھوٹی چیزیں ایسی نہیں ہوتیں جن سے ہمیں کچھ لگاوٴ اور محبت ہو، اور اسی طرح سے وہ چھوٹے چھوٹے گناہوں کے سلسلہ میں بھی بے اعتنا تھے، لہٰذا یہ آیات نازل ہوئیں ، اور انہیں چھوٹی اور کم خیرات کرنے کی بھی ترغیب دی ، اور چھوٹے چھوٹے گناہ کرنے سے ڈرایا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 99:1-8
۳۔ قرآن کی سب سے زیادہ جامع آیات
عبد اللہ بن مسعود ۻ“ سے نقل ہوا ہے کہ قرآن مجید کی سب سے زیادہ محکم آیات” فمن یعمل مثقال ذرة خیراً یرہ ومن یعمل مثقال ذرة شراً یرہ“ ہی ہیں ۔ اور وہ انہیں ” جامعہ“ سے تعبیر کیا کرتے تھے، اور سچی بات یہ ہے کہ ان کے مطالب پر گہرا ایمان ، اس بات کے لیے کافی ہے کہ انسان کو راہ حق پر چلائے اور ہر قسم کی فساد و شر سے روکے۔ اسی لیے ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آکرعرض کی:” علمنی مما علمک اللہ “ جو کچھ خدا نے آپ کو تعلیم دی ہے اس میں سے مجھے بھی تعلیم دیجئے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اپنے اصحاب میں سے ایک کے سپرد کردیا تاکہ و ہ اسے قرآن کی تعلیم دے ۔ اور اس نے اسے سورہ اذا زلزلت الارض“ کی آخرتک تعلیم دی ۔ وہ شخص اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور کہا: میرے لیے تو یہی کافی ہے ۔( اور ایک اور دوسری روایت میں آیاہے کہ اس نے کہا: ” تکفینی ھٰذہ الاٰیة“ ” یہی ایک آیت میرے لیے کافی ہے )۔ پیغمبر اکرم نے فرما یااسے اس کے حال پر چھوڑ دو کہ وہ ایک مرد فقیہ ہو گیاہے۔ ( اور ایک روایت کے مطابق آپ نے فرمایا:” رجع فقیھا“ وہ فقیہ ہو کر لوٹاہے )اس کی وجہ بھی واضح ہے، کیونکہ جو شخص یہ جانتا ہوکہ ہمارے اعمال ، چاہے ایک ذرہ کے برابر ہوں ، یا رائی کے ایک دانہ کے برابر، ان کا حساب لیاجائے گا، تو وہ آج ہی سے اپنے حساب و کتاب میں مشغول ہو جائے گا اور اس کا اس تربیت پرسب سے زیادہ اثر ہوگا۔ ۱ اس کے باوجود ” ابو سعید خدری“ سے آیا ہے کہ جس وقت آیہٴ فمن یعمل نازل ہوئی تو میں نے عرض کیا: اے رسول خدا کیا میں اپنے تمام اعمال کو دیکھوں گا ؟ آپ نے فرمایا:ہاں میں نے کہا :ان بڑے بڑے کاموں کو ؟ فرمایا: ہاں میں نے کہا : چھوٹے چھوٹے کام بھی ؟ فرمایاہاں! میں نے کہا وائے ہو مجھ پر ، میری ماں میری عزا میں بیٹھے ، فرمایا :اے ابو سعید! تجھے بشارت ہو، کیونکہ نیکیاں دس گناہ شمار ہوں گی، جو سات سو تک ہو سکتی ہیں اور خدا جس چیز کے لیے چاہے گا اس سے بھی کئی گناہ کردے گالیکن ہرگناہ کے لیے صرف ایک ہی گناہ کی سزا ملے گی، یاخدا معاف کردے گا، اور جان لے کہ کوئی شخص اپنے عمل کی وجہ سے نجات نہیں پائے گا( مگر یہ کہ خدا کا کرم اس کے شامل حال ہو) میں نے عرض کیا: اے رسول خدا کیا آپ بھی؟ فرمایا: ہاں میں بھی مگر یہ کہ خدا مجھے اپنی رحمت کا مشمول قرار دے ۔ ۲ خدا وندا ! جب تیرا پیغمبر اس عظمت و بزرگی کے باوجود صرف تیری بخشش اور عفو پر دل بستہ ہے تو پھر ہماری حالت تو واضح ہے ۔ پروردگارا !اگر ہمارے اعمال ہماری نجات کا معیار ہوں تو وائے ہے ہماری حالت پر ، اور اگر تیرا کرم ہمارا یار و مدد گار ہو تو پھر خوشا بحال ِما۔ بار الٰہا ! جس دن ہمارے سارے چھوٹے بڑے گناہ ہمارے سامنے مجسم ہوجائیں گے، اس دن کے لیے ہم صرف تیرے ہی لطف و کرم پرنظر رکھے ہوئے ہیں ۔ آمین یارب العالمین ۱۔ ” تفسیر روح البیان“ جلد۱۰ ص ۴۹۵ ۔ یہی مضمون ” نور الثقلین“ جلد۶۰ میں بھی آیاہے ۔ ۲۔”در المنثور“ جلد۶ ص ۳۸۱۔