إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أُولَئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ
Indeed the faithless from among the People of the Book and the polytheists will be in the fire of hell, to remain in it [forever]. It is they who are the worst of creatures.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 98:6
[Pooya/Ali Commentary 98:6] To reject truth and belie the truthful is the worst sin a creature, endowed with the ability to discriminate between right and wrong and to use his free will, can commit. Therefore it will necessarily bring its own punishment, because such a person is the worst of creatures.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 98:6-8
۱۔ علی علیہ السلام اور ان کے شیعہ خیر البریہ ہیں
بکثرت روایات میں ، جو اہل سنت کے طریقوں سے ان کی مشہور کتابوں میں اور اسی طرح شیعوں کی مشہور کتابوں میں نقل ہوئی ہیں آیہ (اولٰئک ھم خیر البریة) (وہ خدا کی بہترین مخلوق ہیں )کی علی علیہ السلام اور ان کے پیرو کاروں کے ساتھ تفسیر ہوئی ہے ۔ ” حاکم حسکانی “ نیشاپوری نے ، جو پانچویں صدی ہجری کے مشہور علماء اہل سنت میں سے ہیں ، ان رویات کو اپنی مشہور کتاب ”شواہدالتنزیل“ میں مختلف اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ، اور ان کی تعداد بیس ہزار روایات سے زیادہ ہے جن میں سے ہم چند روایات کو نمونہ کے طور پر آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ ۱۔ ” ابن العباس“ کہتے ہیں جس وقت آیہ” الذین امنوا و عملوا الصالحات اولٰئک ھم خیر البریة“ نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم نے علی علیہ السلام سے فرمایا : ” ھو انت و شیعتک تاٴتی انت و شیعتک یوم القیامة راضیین مرضیین و یاٴتی عدوک غضباناً مقمحین“” اس آیت سے مراد تو اورتیرے شیعہ ہیں جو روز قیامت عرصہٴ محشر میں اس حال میں وارد ہوں گے کہ تم بھی خدا سے راضی ہوگے اور خدا بھی تم سے راضی ہوگا ، اور تیرا دشمن غصہ کی حالت میں عرصہٴ محشرمیں وارد ہوگا اور زبر دستی اس کو جہنم میں دھکیل دیا جائے گا “۔ ( حدیث کے بعض نسخوں میں مقمحین آیا ہے ، جس کا معنی طوق و زنجیر کے ذریعہ سر کو اونچا رکھنا ہے )۔ ( شواہد التنزیل“ جلد ۲ ص ۳۵۷ حدیث ۱۱۲۶) ۲۔ ایک دوسری حدیث میں ” ابو برزہ“ سے آیا ہے کہ جس وقت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی تو فرمایا : ” ھم انت و شیعتک یا علی و میعاد ما بینی و بینک الحوض“ ” اے علی ! وہ تو اور تیرے شیعہ ہیں ، اور تیری اور میری وعدہ گاہ حوض کوثر ہے ۔ ۱ ۳۔ ایک اور حدیث میں ” جابر بن عبد اللہ انصاری“ سے آیاہے کہ ہم خانہٴ خد اکے پاس پیغمبر اکرم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ علی علیہ السلام ہماری طرف آے ، جس وقت پیغمبر کی نگاہ ان پر پڑی تو فرمایا:” قد اتاکم اخی“میرا بھائی تمہاری طرف آرہاہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خانہ خدا کی طرف رخ کیا او رفرمایا : فقال ورب ھٰذہ البنیة ان ھٰذا و شیعتہ ھم الفائزون یوم القیامة“ ” اس کعبہ کے خدا کی قسم یہ شخص اور اس کے شیعہ قیامت کے دن رست گار اور کامیاب ہو ںگے“ اس کے بعد ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا: ”اما و اللہ انّہ اٴولکم ایماناًباللہ ، و اقومکم بامر اللہ و اوفاکم بعہد اللہ ، و اقضا کم بحکم اللہ و قسمکم بالسویة، و اعدلکم فی الرعیة، و اعظمکم عند اللہ مزیة“۔ قال ” جابر“: فانزل اللہ : انّ الذٰن اٰمنوا و عملوا الصالحات اولٰئک ھم خیر البریة“ فکان اذا اقبل قال اصحاب محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )قد اتاکم خیر البریة بعد الرسول : ” خدا کی قسم یہ تم سب میں سے پہلے خدا پر ایمان لایا ہے اور اس نے خدا کے حکم سے تم سب میں پہلے قیام کیا ہے، خدا کے عہد کو تم سب سے زیادہ وفا کرنے والا ہے ، اور وہ تم سب سے زیادہ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے کرنے والا ہے اور وہ ( بیت المال ) کی تقسیم میں سب سے زیادہ مساوات کرنے والاہے ، رعیت میں سب سے زیادہ عدل کرنے والا ہے ، اور اس کا مقام و مرتبہ خدا کے نزدیک تم سب سے زیادہ ہے “۔ جابر کہتے ہیں کہ اس موقع پر خدا نے آیہ ”انّ الذین اٰمنواو عملوا الصالحات اولٰئک ھم خیر البریة“ نازل فرمائی۔ اس کے بعد جب بھی کبھی علی علیہ السلام آتے تو اصحاب محمد( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )انہیں آتا ہوا دیکھ کر کہتے :رسول اللہ کے بعد خدا کی مخلوق میں جو سب سے زیادہ بہتر وہ آرہاہے ۔ ۲ اس آیت کا خانہٴ کعبہ کے پاس نزول اس سورہ کے مدنی ہونے کے ساتھ منافات نہیں رکھتا ، کیونکہ ممکن ہے کہ یہ نزول مجدد کے قبیل سے ہوا ، یا تطبیق کے عنوان سے ہو، علاوہ از یں بعید نہیں ہے کہ ان آیات کا نزول ان سفروں میں ہوا ہو جن میں پیغمبر مدینہ سے مکہ کی طرف آئے تھے ، خصوصاً جب کہ اس روایت کا راوی” جابر بن عبد اللہ انصاری “ ہے جو مدینہ میں آپ کے ساتھ ملحق ہوئے تھے ، اور اس قسم کی آیات پر مدنی ہونے کا اطلاق بعید نہیں ہے ۔ ان احادیث میں سے بعض کو” ابن حجر“ نے کتاب” صواعق محرقہ“ میں نقل کیا ہے ۔ بعض کو شبلنجی نے ” نور الابصار“ میں ذکر کیا ہے ۔ ۳ ” جلال الدین سیوطی“ نے ” در المنثور“ میں بھی آخری روایت کا عمدہ حصہ” ابن عساکر“ سے جابر بن عبد اللہ انصاری“ سے نقل کیاہے۔ 4 ۴۔ ” در المنثور“ میں آیاہے کہ جس وقت آیہٴ ” انّ الذین اٰمنواو عملوا الصالحات اولٰئک ھم خیر البریة“نازل ہوئی ، تو پیغمبر نے علی علیہ السلام سے فرمایا: ” ھو انت و شیعتک یوم القیامة راضین مرضین “ ” وہ تو اور تیرے شیعہ ہیں ، قیامت کے دن تم خدا سے راضی ہوگے اور خدا تم سے راضی ہوگا“۔ 5 ۵۔ مذکورہ موٴلف نے ایک دوسری حدیث میں ” ابن مردویہ“ کے واسطے سے علی علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرام نے مجھ سے فرمایا: الم تسمع قول اللہ : انّ الذین اٰمنواو عملوا الصالحات اولٰئک ھم خیر البریة؟ انت و شیعتک و موعدی و موعدکم الحوض، اذات جئت الامر للحساب تد عون غرا محجلین:6 ” کیا تم نے خداکا یہ ارشاد نہیں سنا کہ فرماتا ہے : لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اعمال صالح انجام دیے وہ بہترین مخلوق ہیں ؟ یہ تم اور تمہارے شیعہ ہیں ۔ اور میری اور تمہاری وعدہ گاہ حوض کوثر کا کنارہ ہے ۔ جب میں امتوں کے حساب کے لیے آوٴں گا تو تمہیں ” غر محجلین “ (سفید پیشانی والے )کہہ کر پکارا جائے گا۔ اہل سنت کے اور بھی بہت سے دوسرے علماء نے اسی مضمون کو اپنی اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے ، منجملہ ” خطیب خوارزمی“ نے ” مناقب “ میں ” ابو نعیم اصفہانی“ نے ” کفایت الخصام “ ،میں ” علامہ طبعی“ نے اپنی مشہور تفسیر میں ” ابن صباغ مالکی“ نے ” فصول المھمة“ میں علامہ شوکانی “ نے فتح القدیر “ میں ” شیخ سلیمان قندوزی “ نے” ینابیع والمودة‘اور ” آلوسی“ نے ”روح المعانی“ میں زیر بحث آیات کے ذیل میں ، اور بہت سے دوسرے علماء نے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اوپر والی حدیث میں بہت ہی مشہور و معروف احادیث میں سے ہے کہ جسے اکثر دانش مندوں اور علماء اسلام نے قبول کیا ہے ، اور یہ علی علیہ السلام اور ان کے شیعوں کی ایک بہت بڑی فضیلت ہے ۔ ضمنی طور پر ان روایات سے یہ حقیقت اچھی طرح آشکار ہو جاتی ہے کہ لفظ” شیعہ “ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ سے ہی آنحضرت کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان نشر ہوا، اور یہ امیر المومنین علی علیہ السلام کے خاص پیروکار وں کی طرف اشارہ ہے ۔ لہٰذا وہ لوگ جو یہ گمان کرتے ہیں ” شیعہ“ کی تعبیر صدیوں بعد وجود میں آئی ہے، بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں ۔ ۱۔ وہی مدرک ص ۳۵۹ حدیث ۱۱۳۰۔ ۲۔ وہی مدر ک ص ۳۶۲ حدیث ۱۱۳۹۔ ۳۔ ” صواعق محرقہ“ص ۹۶ ” نو ر الابصار“ ص ۷۰، ۱۰۱۔ 4۔” در المنثور“ جلد۶ ص ۳۷۹۔ 5۔ ” در المنثور“ جلد۶ ص ۳۷۹۔ 6۔ ” در المنثور“ جلد۶ ص ۳۷۹۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 98:6-8
بہترین اوربد ترین مخلوق
گزشتہ آیات میں آیاتھا کہ کفار اہل کتاب اور مشرکین اس انتظار میں تھے کہ خدا کی طرف سے کوئی واضح و روشن و دلیل ان کے پاس آئے، لیکن واضح و روشن دلیل ” بینہ“ کے آجانے کے بعد وہ متفرق اور پراگندہ ہوگئے اور ہرایک نے الگ الگ راہ اختیار کرلی۔ زیر بحث آیات میں اس دعوت الہٰی کے مقابلہ میں ” کفر کرنے والے “ اور ایمان لانے والے “ دونوں گروہوں اور ان سے ہر ایک کے انجام کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ پہلے فرماتاہے : اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ اس جدید دین سے کافر ہوئے ہیں وہ دوزخ کی آگ میں ہوںگے اور ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔ وہ بد ترین مخلوق ہیں “۔ ( انّ الذین کفروا من اھل الکتاب و المشرکین فی نار جھنم خالدین فیھا اولٰئک ھم شر البریة)۔ ” کفروا“ کی تعبیر دین اسلام کے مقابلہ میں ان کے کفر کی طرف اشارہ ہے ، ورنہ ان کا پہلے کا کفر و شرک کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ ” اولٰئک ھم شر البریة“ ( وہ بد ترین مخلوق ہیں ) کی تعبیر ایک لرزہ خیز تعبیر ہے ، جو اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ تمام چلنے پھر نے والی مخلوق ، اور نہ چلنے پھر نے والی مخلوق میں سے ، ان لوگوں سے بڑھ کر مردود اور دھتکاری ہوئی مخلوق اور کوئی نہیں ہے ، جنہوں نے حق کے واضح ہوتے ہوئے اور اتمام حجت کے بعد سیدھی راہ کو چھوڑ دیا اور ضلالت و گمراہی کی راہ اختیار کرلی ۔ اور یہ بات حقیقت میں اسی چیز کے مشابہ ہے جو سورہ انفال کی آیہ ۲۲ میں بیان ہوئی ہے : ان شر الدواب عند اللہ الصم البکم الذین لایعقلون:” خدا کے نزدیک بد ترین جاندار وہ لوگ ہیں جو نہ سننے والے کان رکھتے ہیں ، نہ گویا زبان اور نہ ہی بیدار فکر و اندیشہ“ یا جو کچھ سورة اعراف کی آیہ ۱۷۹میں بیان ہوا ہے ، جہاں دوزخیوں کے گروہ کو ان ہی اوصاف کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد فرماتاہے : اولٰئک کالانعام بل ھم اضل اولٰئک ھم الغافلون: وہ چوپاوٴں کی طرح ہیں ۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ اور غافل ہیں ۔ زیربحث آیت کا مطلب ان سے بھی کچھ آگے ہے کیونکہ یہ ان کا بد ترین مخلوق ہونے کے ساتھ ان کا تعارف کراتی ہے اور حقیقت میں ان کے جہنم کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کی ایک دلیل کے طور پرہے ۔ وہ بد ترین مخلوق کیوں نہ ہوں گے جب کہ سعادت کے تمام دروازے ان کے سامنے کھلے ہوئے تھے لیکن وہ کبر و غرور اور عناد و ہٹ دھرمی کی وجہ سے جان بوجھ کر مخالفت کے لیے کھڑے ہوگئے ۔ اس آیت میں بھی ” اہل کتاب“ کو مشرکین پر مقدم رکھنے کی وجہ بھی ممکن ہے یہ ہو کہ وہ کتابِ آسمانی کے حامل او ر دانشمند تھے ۔ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نشانیاں ان کی کتابوں میں صراحت کے ساتھ آئی تھیں ۔ اس بناء پر ان کا مخالفت کرنا زیادہ قبیح و بد تر تھا۔ بعد والی آیت میںدوسرے گروہ کی طرف ، جو ان کے مخالف نقطہٴ مقابل اور قوس صعودی میں واقع ہوئے ہیں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوںنے اعمال صالح انجام دیئے ہیں ، وہ خدا کی بہترین مخلوق ہیں “: (انّ الذین امنوا و عملوا الصالحات اولٰئک ھم خیر البریة)۔ اس کے بعد ان کی جزا اور پاداش کو چند مختصر سے جملوں میں اس طرح بیان کرتا ہے ، : ان کی جزا ان کے پرورگار کے پاس بہشت کے جاودانی باغات میں ، جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں ، اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے“ ( جزاوٴھم عند ربھم جنات عدن تجری من تحت الانھار خالدین فیھا ابداً)۔ ” خدا بھی ان سے خوش اور راضی ہے ، اور وہ بھی خدا سے خوش اور راضی ہیں “ ۔(رضی اللہ عنھم و رضو عنہ)۔ ” یہ بلند و والا مقام اور اہم و بے نظیر جزائیں اس شخص کے لئے ہیں جو اپنے پر وردگار سے ڈرے“۔ (ذالک لمن خشی ربہ)۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ مومنین کے بارے میں اعمال صالح کی گفتگو بھی درمیان آئی ہے ، جو حقیقت میں ایمان کے درخت کا پھل ہے ۔ اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایمان کا دعویٰ کرنا اکیلا کافی نہیں ہے ، بلکہ انسان کے اعمال بھی اس کے ایمان پرگواہ ہونا چاہئیں ، لیکن کفر اکیلا ہی ، چاہے اس کے ساتھ غیر صالح اعمال نہ بھی ہوں، سقوط و بد بختی کا سبب ہے ۔ اس سے قطع نظر کفر عام طور پر انواع و اقسام کے گناہوں ، جرائم اور غلط اعمال کا مبداء بھی ہوتا ہے ۔ ” اولٰئک ھم خیر البریة“ کی تعبیر اچھی طرح اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ مومن اور اعمال صالح بجالانے والے انسان فرشتوں تک سے بھی بالاتر ہیں ، کیونکہ آیت مطلق ہے ، اور اس میں کسی قسم کا استثناء نہیں ہے۔ قرآن کی دوسری آیات بھی اسی معنی کی گواہ ہیں مثلاً: فرشتوں کے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کی آیات ، اور آیہ و لقد کرمنا بنی آدم ( اسراء ۷۰) بہرحال اس آیت میں پہلے تو ان کے مادی و جسمانی صلہ ، جو جنت کے پر نعمت باغات ہیں، کا ذکر کرتا ہے ، اور اس کے بعد ان کی معنوی و روحانی جزاء کو بیان کرتا ہے کہ خدا بھی ان سے راضی ہے اور وہ بھی خدا سے راضی اور خوش ہیں ۔ وہ خدا سے راضی اور خوش ہیں کیونکہ جو کچھ وہ چاہتے تھے وہ اس نے انہیں دیا ہے ، اور خدا ان سے راضی اور خوش ہے چونکہ وہ جو کچھ چاہتا تھا وہ انہوں نے انجام دیا ، اور اگر ان سے کوئی لغزش ہوبھی گئی تو اس نے اپنے لطف و کرم سے اس سے صرف نظر کی ، اس سے بڑھ کر اور کون سی لذت ہو سکتی ہے کہ اسے اس بات کا احساس ہوجائے کہ اس کے کاموں کو معبود نے قبول کرلیا ہے اور اس کا محبوب اس سے راضی اور خوش ہے ۔ اور اسے اس کی لقاء حاصل ہوگئی ہے ۔ دارند ہر کس از تو مرادے ومطلبے مقصود ما ز دنیا عقبیٰ لقایء تو است ” ہر شخص تجھ سے کوئی نہ کوئی خواہش اور مطلب رکھتا ہے لیکن ہمارا مقصد دنیا میں تیری لقاء ہے “۔ ہاں ! انسان کے جسم کی جنت تو اس جہاں کے جاودانی باغات ہیں ، لیکن اس کی روح کی بہشت خدا کی رضا اور لقائے محبوب ہے ” ذٰلک لمن خشی ربہ“ کا جملہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ ان تمام برکات کا سر چشمہ خدا کا خوف ، خشیت اور ڈر ہے ، کیونکہ یہی خوف ہی ہر قسم کی اطاعت ، تقویٰ اور اعمال صالح کی طرف حرکت کرنے کا سبب بنتا ہے ۔ بعض مفسرین نے اس آیت کو سورہٴ فاطر کی آیہ ۲۸ ۔انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء” صرف علماء ہی خد اسے ڈرتے ہیں “ کے ساتھ ملا کر یہ نتیجہ نکالاہے کہ بہشت پر حقیقتاًعلماء اور آگاہ دانش مند لوگوں کا مسلمہ حق ہے ۔ البتہ اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ خشیت اور خوفِ خدا کے کئی درجے اور مرتبے ہوتے ہیں اور علم و دانش و آگاہی میں بھی کئی درجے اور مرتبے ہوتے ہیں اس بات کا مفہوم واضح اور روشن ہو جاتا ہے ۔ ضمنی طور پربعض کا نظر یہ یہ ہے کہ ” مقام خشیت“ مقام ِ خوف سے بالاترہوتا ہے ، کیونکہ خوف تو ہر قسم کے ڈر پر بولاجاتا ہے ، لیکن خشیت اس خوف کو کہتے ہیں جو تعظیم و احترام کے ساتھ ہو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 98:6-8
۲۔ عبادت میں خلوص نیت لازم ہے
اصول فقہ کے بعض علماء نے آیہ ” وما امرو الا لیعبدون ا اللہ مخلصین لہ الدین“ سے عبادات میں قصدِ قربت کے لازم ہونے پر استدلال کیاہے اور یہ اوامر میں اصل ان کا تعبدی ہونا ہے نہ کہ توصلی ہونا۔ اور یہ اس سے وابستہ ہے کہ یہاں ” دین “ کا معنی عبادت ہو، تا کہ یہ عبادات میں خلوص کے لازم ہونے کی دلیل بنے اور ” امر“ کو ہم اس آیت میں مطلق قرار دیں ، تاکہ اس کامفہوم تمام اوامر میں قصدِ قربت کا لازم ہوناہے ، ( سوائے ان موارد کے جو دلیل کی وجہ سے خارج ہوں ) حالانکہ آیت کا مفہوم ، ظاہر کے اعتبار سے ، ان میں سے کوئی بھی نہیں ہے ، بلکہ اس سے مقصود شرکِ کے مقابلہ میں توحید کا اثبات ہے ۔ یعنی انہیں توحید کے سوال اور کسی چیز کی دعوت نہیں دی گئی ہے اور اس حال میں اس کا احکام فرعی کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 98:6-8
۳۔ انسان کی عجیب قوسِ صعودی و نزولی
اس سورہ کی آیات سے اچھی طر ح معلوم ہوتا ہے کہ عالم میں کسی بھی مخلوق کے قوس صعودی و نزولی کا فاصلہ انسان کے قوس صعودی و نزولی کے برابر نہیں ہے ۔ اگر انسان ایمان لے آئے اور اعمالِ صالح بجالائے( اس بات پر توجہ رہے کہ ” عملوا الصالحات“ تمام اعمال صالح کو شامل ہے ، نہ کہ بعض کو)) تو وہ خدا کی مخلوق میں سے زیادہ افضل اور بر ترہوجاتا ہے ، لیکن اگر وہ کفر و ضلالت اور ہٹ دھر می اور عنادکا راستہ اختیار کرلے ، تو اتنا گر جاتا ہے کہ خدا کی مخلوق میں سب سے زیادہ بد تربن جاتا ہے !انسان کے ” قوس صعودی“ و نزولی“ کا یہ عظیم، فاصلہ اگر چہ ایک حساس اور خطر ناک مسئلہ ہے لیکن یہ نوع بشر کے مقام عظمت اور اس کے تکامل و ارتقاء کی قابلیت پر دلالت کرتا ہے ، اور یہ ایک طبیعی و فطری چیز ہے کہ اس قسم کی حد سے زیادہ قابلیت و استعداد کے ہوتے ہوئے ، تنزل و سقوط کا امکان بھی حد سے زیادہ ہو۔ خدا وندا ! ہم ” خیر البریہ“ کے بلند مقام تک پہنچنے کے لیے تیرے لطف و کرم سے مدد طلب کرتے ہیں ۔ پروردگارا ! ہمیں اس عظیم اور بزرگ ہستی کے شیعوں اور پیروکاروں میں سے قرار دے جو اس کے لیے سب سے زیادہ لائق اور شائستہ ہے ۔ بار الٰہا ! ہمیں اس قسم کا خلوص مرحمت فرماکہ ہم تیرے سوال کسی کی پرستش نہ کریں اور تیرے غیر سے محبت نہ رکھیں ۔ آمین یا رب العالمین