وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا
By the sun and her forenoon splendour,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 91:1
[Pooya/Ali Commentary 91:1] For verses 1 to 6 see commentary of Muddaththir: 32 to 35 for calling in evidence the signs which manifest Allah's glory, wisdom and might in nature by which the cosmic harmony is maintained. So far man's knowledge about the physical aspects of the sun is limited, but there is no doubt that it is a source, of light for us. The moon follows or acts as substitute to the sun for illuminating our world with reflected light and therefore may be called the sun's vicegerent. Aqa Mahdi Puya says: Tala means to follow a thing or person as a principal source in consequence of total adherence. The follower derives his strength from him who is followed. See commentary of Hud: 17. Some commentators say that the sun stands for the Holy Prophet and the moon represents All ibn abi Talib. Day and night are periods of time. The day reveals the sun's glory and the night conceals it from our sight according to our subjective reception of light, but the light is there, all the time. As the night ends, the sleeping creatures are once again resurrected. One day Allah shall bring about the final sleep (death) after which the final day of resurrection shall appear. The regulated harmony in the outer space controlled by the omnipotent will of Allah gives us rain, one of many known benefits available to man, and then the earth gives food to all the created beings. In addition to food there are rivers, oceans, mountains, valleys and several types of minerals etcetera, in the wide expanse of the earth which serve man and other created beings in many ways. Verses 7 and 8 refer to the soul of man, with its capabilities and faculties, endowed with the power of distinguishing between good and evil, right and wrong. See commentary of Balad: 8 to 20. Then the conclusion is stated in verses 9 and 10 that he who purifies himself achieves success (see commentary of Muminum: 1 to 10); and he who corrupts it fails and becomes a loser.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 91:1-15
Clear.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 91:1-10
تہذیب نفس کے بغیر نجات ممکن نہیں
یہ سورہ جوحقیقت میں ” تہذیب ِ نفس“ اور دلوں کو آلائشوں اور ناپاکیوں سے پاک کرنے والا سورہ ہے ، اسی معنی کے محور پر گر دش کرتاہے البتہ اس سورہ کے آغاز میں ۔ اس مطلب کوثابت کرنے کے لئے کہ فلاح و رست گاری تہذیبِ نفس کی مرہون منت ہے ، عالم ِخلقت کے گیارہ اہم موضوعات اور خدا کی ذاتِ پاک کی قسم کھائی گئی ہے ۔ اور قرآ ن مجید کی بیشتر قسموں کو مجموعی طور پر اپنے اندر سمو لیا ہے ۔ اور سورہ کے آخر میں باغی اور سر کش قوموں میں سے ایک کا ذکر ” جو تہذیب نفس کو ترک کرنے کی بناء پر ابدی او ر دائمی شقاوت و بد بختی میں ڈوب گئی تھی، اور خدا نے اسے شدید عذاب میں گرفتار کیا تھا ، یعنی قوم ” ثمود “ ۔ بطور نمونہ پیش کرتا ہے ، اور ایک مختصر سے اشارہ کے ساتھ ان لوگوں کی سر نوشت کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ حقیقت میں یہ مختصر سا سورہ بشرکی زندگی کے سر نوشت ساز مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ کو موضوع بناتا ہے اور انسانوں کے لئے اسلام کے قابل قدر نظام کو مشخص کرتاہے ۔ اس سورہ کی فضیلت کے بارے میں بس اتنا ہی کافی ہے کہ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیاہے : ” من قراٴھا فکانما تصدق بکل شیء طلعت علیہ الشمس و القمر “ ” جو شخص اس سورہ کو پرھے گا تو گویا اس نے ان تمام چیزوں کو تعداد میں جن پر سورج اور چاند طلوع کرتے ہیں ، صدقہ دیا ہے ۔ ۱ اور مسلّمہ طور پر یہ عظیم فضیلت اس شخص کے لئے ہے ، جو اس چھوٹے سے سورہ کے عظیم مطالب پر دل و جا ن سے عمل کرے اور تہذیب نفس کو اپنا قطعی وظیفہ سمجھے ۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۱۔ و الشّمس و ضحٰھا ۔ ۲۔ و القمر اذا تلٰھا ۔ ۳۔ و النّھار اذا جلّٰھا ۔ ۴۔ و السّماءِ اذا یغشٰھا ۔ ۵۔و السّماءِ و ما بنٰھا۔ ۶۔ و الارض و ما طحٰھا ۔ ۷۔ و نفسٍ و ما سوّٰھا۔ ۸۔ فالھمھا فجورھا و تقوٰھا ۹۔ قد افلح مَنْ زکّٰھا ۱۰۔ و قد خاب مَنْ دسّٰھا ۔ ترجمہ شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے ۱۔ سورج اور اس کی روشنی کے پھیلنے کی قسم ۔ ۲۔ اور چاند کی جب کہ وہ اس کے پیچھے آئے ۔ ۳۔ اور دن کی جب کہ وہ صفحہٴ زمین کو روشن کرے ۔ ۴۔ اور قسم ہے رات کی جب کہ صفحہٴ زمین کو ڈھانپ لے ۔ ۵۔ اور قسم ہے آسمان کی اور جس نے اسے بنایا ۔ ۶۔ اور قسم ہے زمین اور جس نے اسے بچھایا ۔ ۷۔ اور قسم ہے انسان کے نفس کی اور جس نے اسے درست کیا۔ ۸۔ پھر اسے فجو ر و تقویٰ ( خیر و شر)کاالہام کیا۔ ۹۔ کہ جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا وہ فلاح پاگیا ( اور رست گار ہوا۔ ۱۰۔اور جس نے اپنے نفس کو معصیت اور گناہ سے آلودہ کیاوہ ناامید اور محروم ہوا۔ ۱۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰، ص ۴۹۶۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 91:1-10
۲۔ سورج کا عالم ِ حیات میں نقش و اثر
سورج کے بارے میں ، جو نظام شمسی کا مرکز ہے اور اس کے کواکب کا رہبر و سالار ہے، دو مباحث ہیں ، ایک تو اس کے عظیم ہونے کی بحث کے بارے میں ہم پہلے بحث کرچکے ہیں ، اور دوسری بحث اس کی بر کتوں اور آثار کے بارے میں ہے ، جس کے لئے خلاصہ کے طور پر اس طرح کہا جاسکتا ہے ۔ ۱۔ انسان اور دوسرے موجودات کی زندگی کے لئے پہلے مرحلے میں حرارت اور روشنی کی ضرورت ہے ، زندگی کے یہ دونوں امر اس آتشیں کرہ کے ذریعے کامل طور پر اعتدال کے ساتھ مہیا ہوئے ہیں ۔ ۲۔ تمام غذائی اشیاء سورج کی روشنی کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں ، یہاں تک کہ وہ موجودات جو سمندروں کی گہرائیوں میں زندگی بسر کرتے ہیں ایسی نباتات سے استفادہ کرتے ہیں ، جو سمندروں کی سطح پر نور ِ آفتاب کے سائے میں اور پانی کی موجوں کے درمیان پرورش پاتے ہیں نیچے بیٹھ جاتے ہیں، یا اگرزندہ موجودات ایک دوسرے سے استفادہ کرتے ہیں تو پھر ان میں سے ایک گروہ کی غذا نباتات ہی ہے ، جو سورج کی روشنی کے بغیر پر ورش نہیں پاتی ۔ ۳۔ وہ تمام رنگ ، زیبائیاں اور جلوے ، جنہیں ہم عالم ِ طبیعات میں دیکھتے ہیں ،ایک طرح سے سورج کی چمک کے ساتھ ارتباط رکھتے ہیں اور یہ معنی مختلف علوم کے ذریعے خصوصاً فزکس میں ثابت ہوچکے ہیں ۔ ۴۔ حیات بخش بارشیں بادلوں سے برستی ہیں ، اور بادل وہی بخارات ہیں جو سمندروں کی سطح پر سورج کے چمکنے سے وجود میں آتے ہیں ، اس بناء پر پانی کے تمام منابع جو بارش سے غذا حاصل کرتے ہیں ، چاہے وہ دریا ہوں یا چشمے ، نہریں ہوں یا کھال ، یاگہرے کنویں ، سب سورج کی روشنی کی برکات سے ہیں ۔ ۵۔ وہ ہوائیں جن کا کام فضا کو معتدل کرنا ، بادلوں کو مختلف جگہوں تک پہنچانا، نباتات کی تلقیح اور پیوند لگانا ، اور گرمی اور سردی کو گرم علاقوں سے سرد علاقوں کی طرف ، اور سرد علاقوں سے گرم علاقوں کی طرف منتقل کرنا ہے ۔ آفتاب کے نور اور روشنی کے زیر اثر روئے زمین کے مختلف منطقوںکے درجہ حرارت کے بدلنے سے وجود میں آتی ہیں ۔ اور اس طرح سے و ہ بھی سورج سے سرمایہ حاصل کرتی ہیں ۔ ۶۔ انرجی پیدا کرنے والے مادے اور منابع ، چاہے وہ آبشار ہوں ، یا وہ بڑے بڑے بندہوں ، جنہیں کوہستانی علاقوں میں بنایا جاتا ہے ، پیٹرول اور تیل کے منابع ، اور پتھر کوئلے کی کانیں ، یہ سب کے سب ایک طرح سے سورج کے ساتھ پیوند رکھتے ہیں ، کہ اگر وہ نہ ہو تا تو ان منابع میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تا اور صفحہٴ زمین میں تمام حرکتیں سکوت میں بدل جاتیں ۔ ۷۔ نظام شمسی کی بقاء جاذبہ و واقعہ کے اعتدال کی بناء پر ہے ، جو ایک طرف تو کرّہ آفتاب کے درمیان اور دوسرے ان سیاروں کے درمیان ، جو اس کے گردش کرتے ہیں ، وجود رکھتا ہے۔ اس طرح سے سورج ان سیروں کے اپنے مداروں میں محفوظ رہنے میں بہت موٴثر نقش و اثر رکھتا ہے ۔ اس ساری گفتگو سے معلوم ہوتا ہے ، کہ اگر خدا نے پہلی قسم کی ابتداء سورج سے کی ہے ، تو اس کی کیا وجہ تھی ؟ اسی طرح سے چاند اور دن کی روشنی ، اور رات کی تاریکی کرّہٴ زمین میں سے ہر ایک انسان اور غیر انسان کی زندگی میں ایک اہم نقش و اثر رکھتے ہیں ، اسی بناء پر ان کی قسم کھائی گئی ہے اور ان سب سے بڑھ انسان کی روح اور اس کا جسم ہے ، جو ان سب سے زیادہ اسرار آمیز اور حیرت انگیز ہے ۔ تہذیب نفس کے بارے میں ہم اس سورہ کے آخر میں ایک بحث کریں گے ۔ ۱۱۔ کذ بت ثمود بطغوٰھآ ۱۲۔ اِذِ انْبَثَ اشقٰھا۔ ۱۳۔ فقال لھم رسول اللہِ ناقة اللہِ و سُقیٰھَا ۔ ۱۴۔ فکذّ بوہ فعقروھا فدمدم علیھم ربھم بذنبھم فسَوٰھا۔ ۱۵۔ ولایخاف عقبٰھَا۔ ترجمہ ۱۱۔ قوم ثمود نے سر کشی کی وجہ سے ( اپنے پیغمبر کی ) تکذیب کی ۔ ۱۲۔ جب کہ ان کا ایک شقی ترین آدمی اٹھ کھڑا ہوا۔ ۱۳۔ اور خدا کے بھیجے ہوئے رسول ( صالح) نے ان سے کہا: اللہ کے ناقے کو اس کے پانی پینے کے لئے چھوڑ دو ( اور اس کی مزاحمت نہ کرو)۔ ۱۴۔ لیکن انہوں نے اس کی تکذیب کی ، اور ناقہ کی کونچیں کاٹ دیں ، اور اسے ہلاک کردیا ، لہٰذا ان کے خدا نے انہیں اس گناہ کی بناء پر جسکے وہ مرتکب ہوئے تھے تباہ کردیا ، اور ان کی زمین کو ہموار کردیا۔ ۱۵۔ اور وہ ہر گز اس کام کے انجام دینے سے نہیں ڈرتا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 91:1-10
۱۔ قرآنی قسموں کا ان کے نتائج کے ساتھ ربط
ان گیارہ انتہائی قسموں کا ، اس حقیقت کے ساتھ جس کے لئے قسم کھائی ہے ، کیا رابطہ ہے ؟ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ خدا وند تعالیٰ کی طرف سے اس حقیقت کو بیان کرنا مقصود ہے کہ میں نے تم انسانوں کی سعادت و خوش بختی کے لئے تمام مادی و معنوی و سائل فراہم کئے ہیں ۔ ایک طرف تو سورج اور چاند کے نور اور روشنی سے تمہاری زندگی کے میدان کو روشن کردیا ہے اور تمہاری رات دن کے حرکت و سکون کے نظام کو منظم کرکے زمین کو تمہاری زندگی کے لئے ہر جہت سے آمادہ کیا ہے ۔ دوسری طرف تمہاری روح کو تمام صلاحیتو ں کے ساتھ خلق کیا ہے ۔ بیدار و وجدان تمہیں عطا کیا ہے ، اور اشیاء کے حسن و قبح کا تمہیں الہام کیاہے ۔ اس بناء پر سعادت کی راہ کو طے کرنے کے لئے تمہارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے ۔ اس حال میں تم اپنے نفس کا تزکیہ کیوں نہیں کرتے؟ اور شیطان کے بہکانے میں کیوں آتے ہو؟