لَّيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَى وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ مَا عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِن سَبِيلٍ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
There is no blame on the weak, nor on the sick, nor on those who do not find anything to spend, so long as they are sincere to Allah and His Apostle. There is no [cause for] blaming the virtuous, and Allah is all-forgiving, all-merciful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:91
[Pooya/Ali Commentary 9:91] Those who can rightly be exempted from going to war are described in these verses. There were seven men of the ansar who came to the Holy Prophet and told him that they did not have suitable provisions for going with him on the expedition of Tabuk. On hearing from the Holy Prophet that there was nothing left with him after providing others, they went away weeping.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:91-93
وہ معذور جو عشق جہاد میں آنسو بہاتے تھے
تمام گروہوں کی کیفیت واضح کرنے کے لئے ان آیات میں جہاد میں شرکت کے لحاظ سے ان کے معذور ہونے ی انہ ہونے کے بارے میں ایک واضح تقسیم بند کی گئی ہے ۔ ان میں پانچ گروہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ان میں سے چار تو واقعاً معذور ہیں اورایک گروہ منافق اور غیر معذور ہے ۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے : وہ لوگ جو ضعیف و ناتوان ہیں (بڑھاپے کے سبب بینائی نہ ہونے کے باعث یا ایسی کسی اور وجہ سے )اسی طرح بیمار اور وہ لوگ جن کے پاس میدان جہاد میں شرکت کے لئے وسائل نہیں ہے ان پرکوئی اعتراض نہیں کہ وہ اس واجب اسلامی پروگرام میں شرکت نہ کریں (لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَاءِ وَلاَعَلَی الْمَرْضَی وَلاَعَلَی الَّذِینَ لاَیَجِدُونَ مَا یُنفِقُونَ حَرَجٌ )۔ ان تین گروہوں کے لئے ہر قانون میں معافی ہے اور عقل و منطق بھی اس کی تائید کرتی ہے اور مسلم ہے کہ اسلامی قوانین کسی مقام پربھی عقل و منطق سے جدانہیں ہیں ۔ لفظ ”حرج “اصل میں کسی چیز کے مرکز اجتماع کے معنی میں ہے اور چونکہ اجتماع اور جمیعت کا تنگی ضیق ِ مکان اور جگہ کی تنگی سے تعلق ہے لہٰذا یہ لفظتنگی ، ناراضی اور مسئولیت کے معنی میں آیا ہے ۔ زیربحث آیت میں یہ لفظ آخری معنی یعنی مسئولیت، جوابدہی اور ذمہ داری کے معنی میں آیا ہے ۔ اس کے بعد ان کی معافی کے حکم کے لئے ایک اہم شرط بیان کی گئی ہے ، ارشاد ہوتا ہے : یہ اس صورت میں ہے کہ وہ خدااور اس کے رسول کے لئے کسی مخلصانہ خیر خواہی سے دریغ نہ کریں ( إِذَا نَصَحُوا لِلَّہِ وَرَسُولِہِ)۔یعنی اگرچہ وہ ہتھیار ہاتھ میں لیکرمیدان جنگ میں نہیں جاسکتے ۔ لیکن وہ یہ تو کرسکتے ہیں کہ اپنی گفتار وہ عمل سے مجاہدین کے شوق کو ابھاریں اور جہاد کے ثمرات و نتائج شمار کرکے ان کے جذبات کو تقویت پہنچائیں اور اس کے برعکس جتنا ہو سکے دشمن کے دلوں کو کمزور کریں اور ان کی شکست کے مقدمات کی فراہمی میں کوتا ہی نہ کریں ۔ یہ مفہوم اس لئے ہے کہ کیونکہ لفظ ” نصح “ جو اصل میں اخلاص کے معنی میں ہے ایک جامع لفظ ہے ۔ اس میں ہر قسم کی خیر خواہی اور مخلصانہ اقدام کا مفہوم پنہاں ہے اور چونکہ یہاں جہاد کا معاملہ در پیش ہے لہٰذا اس سے مراد ایسی کو ششیں ہیں جو اس سلسلے میں درکار ہیں ۔ بعد میں اس امر کی دلیل بیان کرتے ہوئے کہاگیا ہے :ایسے افراد نیک لوگ ہیں اور نیکوکاروں کے لئے ملامت، سر زنش ، سزا اور مواخذہ کا کوئی راستہ نہیں ہے ( مَا عَلَی الْمُحْسِنِینَ مِنْ سَبِیلٍ)۔ آیت کے آخرمیں خدا تعالیٰ کی دوعظیم صفات بیان کی گئی ہیں یہ بھی دراصل ان تین گروہوں خی معافی کی ایک دلیل کے طور پر بیان ہو ئی ہیں ارشاد ہوتا ہے : خدا غفور اور رحیم ہے ( وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ)۔ ”غفور “ ”غفران“ کے مادہ سے مستور او رپوشیدہ کرنے کے معنی میں ہے یعنی خدا اس صفت کے تقاضا کی بنا پر معذور او رناتواں افراد کے کام پر پردہ ڈال دیتاہے اور ان کے عذر قبول کرلیتا ہے ۔ اور خدا کا ”رحیم“ ہونا مقتضی ہے کہ وہ شاق او رمشکل ذمہ داری کسی پر نہ ڈالے او راسے معاف رکے یہ لوگ اگر میدانِ جہاد میں حاضر ہونے پر مجبور ہوتے تھے یہ امر خدا کی غفوریت اور رحمیت سے مناسبت نہ رکھتا۔ یعنی غٖور و رحیم خدا انھیں یقینا معاف رکھے گا ۔ چند ایک روایات جو مفسرین نے اس آیت کے ذیل میں نقل کی ہیں ، ان سے اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ معذور لوگوں کو نہ صرف یہ کہ اس ذمہ داری سے رخصت دی گئی ہے اور ان سے سزا بر طرف کردی گئی ہے بلکہ میدان جہاد میں شرکت کے لئے انھیں جو قدر اشتیاق ہے اس کے حساب سے وہ جز اثواب اور اعزازات میں بھی مجاہدین کے ساتھ شریک ہیں جیسا کہ پیغمبر اکرم سے منقول ایک حدیث میں بھی ہے کہ جس وقت آپ جنگِ تبوک سے واپس آئے اورمدینے کے قریب پہنچے تو فرمایا : اس شہر میں تم کچھ ایسے افراد کو چھوڑ گئے تھے جو تمام راستے میں تمہارے ساتھ ساتھ جو قدم تم نے اٹھا او رجو مال تم نے اس راہ میں خرچ کیا اور جس زمین سے تم گذرے وہ تمہارے ہمراہ تھے ۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ جس طرحہمارے ساتھ تھے جب کہ وہ مدینہ میں تھے ۔ رسول اللہ نے فرمایا : اس بنا پر کہ وہ کسی عذر کی وجہ سے جہاد میں شرکت نہیں کرسکے ( لیکن ان کے دل ہمارے ساتھ تھے )۔۱ اس کے بعد چوتھے گروہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جسے جہاد میں شرکت سے معافی دی گئی ہے ، فرمایا گیا ہے : اسی طرح اس گروہ پر بھی کوئی اعتراض نہیں جو تیرے پاس آیا تو انھیں میدانِ جہاد میں شرکت کے لئے سواری فراہم کردے اور تونے کہا کہ میرے پاس کوئی سواری نہیں کہ جس پر تمہیں سوار کرتوں تو مجبوراً وہ تیرے پاس سے اس حالت میں گئے کہ ان کی آنکھیں اشکبار تھیں اور یہ آنسو اس غم میں تھے کہ ان کے پاس راہ خدا میں خرچ کرنے کےلئے کچھ نہ تھا ( وَلاَعَلَی الَّذِینَ إِذَا مَا اٴَتَوْکَ لِتَحْمِلھُمْ قُلْتَ لاَاٴَجِدُ مَا اٴَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ تَوَلَّوا وَاٴَعْیُنُھُمْ تَفِیضُ مِنْ الدَّمْعِ حَزَنًا اٴَلاَّ یَجِدُوا مَا یُنفِقُونَ )۔ ”تفیض “ ”فیضان “ کے مادہ سے ہے اس کا معنی ہے پر ہونے کے نتیجہ میں گرنا ۔ جب انسان کو تکلیف ہوتی ہے اگر اس کی تکلیف او دکھ زیادہ شدید نہ ہو تو آنکھیں آنسووٴں سے پر ہو جاتی ہیں لیکن آنسوجاری نہیں ہوتے لیکن اگر دکھ اور تکلیف شدید ہو جائے تو اشک رواں ہوجاتے ہیں ۔ یہ صورت نشاندہی کرتی ہے کہ یہ اصحاب ِ پیغمبر جہاد کے اس قدر مشتاق اور عاشق تھے کہ نہ صرف معافی مل جانے پر خوش نہ تھے بلکہ اس طرح آنسو بہارے تھے جیسے ان کا کوئی بہترین عزیز اور دوست کھو گیا ہو۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ یہ چوتھا گروہ تیسرے سے علٰیحدہ نہیں جس کا ذکر گذشتہ آیت میں ہوا ہے لیکن اس کا ایک خاص امتیاز ہے اور اس گروہ کی قدر دانی کے لئے مستقل ایک آیت میں ان کی کیفیت کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ ان کا امتیاز یہ تھا کہ ! ۱۔ انھوں اس پر قناعت نہیں کی کہ ان کے پاس جہاد میں شرکت کے وسائل نہیں تو بیٹھ رہیں بلکہ وہ رسول کے پاس آئے اور سواری کے لئے ان سے اصرار کیا۔ ۲۔ جب رسول اللہ نے انھیں نفی میں جواب دیا تو نہ صرف یہ کہ معافی ملنے پر وہ خوش نہیں ہوئے بلکہ بہت دکھی او رپریشان ہوئے ۔ ان دو وجوہ کی بناء پر خدا تعالیٰ نے ان کا خاص طور پر الگ سے ذکر کیا ہے ۔ آخری آیت میں پانچویں گروہ کی حالت بیان کی گئی ہے یعنی وہ کہ جن کے پاس بار گاہ الہٰی کے لئے کوئی عذر نہیں تھا ، فرما یا گیا ہے : مواخذہ اور سزا کی راہ صرف ان لوگوں کے سامنے کھلی ہے جو تجھ سے اجازت چاہتے ہیں کہ جہاد میں شرکت نہ کریں جب کہ اس کا م کے لئے ان کے پاس کافی اور ضروری وسائل موجود ہیں اور وہ بالکل بے نیاد ہیں ( ( إِنَّمَا السَّبِیلُ عَلَی الَّذِینَ یَسْتَاٴْذِنُونَکَ وَہُمْ اٴَغْنِیَاءُ )۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : ان کے لئے یہ ننگ و عار کافی ہے کہ وہ اس بات پر راضی ہیں کہ ناتواں ، بیمار او رمعذور افراد کے ساتھ مدینہ میں رہ جائیں اور جہاد میں شرکت کے اعزاز سے محروم رہیں ( رَضُوا بِاٴَنْ یَکُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ)۔ اور یہ سز ابھی ان کے لئے کافی ہے کہ خدا نے ان کے برے اعمال کی وجہ سے فکر و ادراک کی قدرت ان سے چھین لی او ران کے دلوں پر مہر لگادی اور اس بناء پر وہ کچھ نہیں جانتے ( وَطَبَعَ اللهُ عَلَی قُلُوبِھِمْ َھُمْ لاَیَعْلَمُونَ)۔ ۱۔المیزان جلد ۹ صفحة ۳۸۶ بحوالہ در المنثور۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:91-93
چندقابل توجہ نکات
مجاہدین کا جذبہ و شہادت: ان آیات سے مجاہدین اسلام کے قوی اور عالی جذبے کا اظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح ان کے دلوں میں جہاد و شہادت کا عشق موجزن تھا وہ اس اعزاز کو ہر اعزاز پرمقدم سمجھتے تھے ۔ اسی سے اس وقت اسلام کی تیز رفتار پیش رفت اور اس وقت ہماری پسماندگی کی اہم عوامل سامنے آتے ہیں ۔ ہم کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ جہاد میں شرکت سے معافی پرجن کی آنکھوںمیں بر سات کی جھڑیا لگ جاتی ہیں ان کے ان لوگوں کے برابر ہو جائیں جو جہاد میں شر کت نہ کرنے کے لئے بہانے تراشتے ہیں ۔ اگر ایمان کی وہی روح آج بھی زندہ ہو جائے ، عشق اور جذبہ شہادت دلوں میں پھر سے موجزن ہو جائے تو آج بھی کامیابی اور پیش رفت اسی طرح سے ہو جیسے آغاز اسلام میں تھی بدبختی یہی ہے کہ ہم نے فقط اسلام کا ظاہری لباس پہن رکھا ہے ، اور اسلام ہمارے وجود کی گہرائیوں میں نہیں اترا۔ پھر بھی ہم اپنے آپ کو آغاز اسلام کے مسلمانوں کی طرح کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ۲۔ جہا کے کئی مراحل ہیں : زیر بحث آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص کو مجاہدین کی ہمکاری سے مکمل طور پر معافی نہیں مل سکتی۔ یہاں تک کہ ج وافراد بیمار ہیں یا نابینا ہیں یا فطری طور پر ہتھیار اٹھانے اور میدان ِ جہاد میں شرکت کی طاقت نہیں رکھتےانھیں بھی چاہئیے کہ وہ زبان سے یا کسی اور طرح سے تبلیغ کے ذریعے مجاہدین کو شوق دلائیں اور ان کی معاونت کریں ایسے لوگوں کو بھی اپنی ذمہ داری کو فراموش نہیں کرنا چاہئیے او ربالکل ایسے امور سے کنارہ کش نہیں ہو نا چاہیئے۔ در حقیقت جہاد کے کئی مرحلے ہیں اور اس کے ایک مرحلے سے معذور ہونا دوسرے مراحل سے معذور ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔ ۳۔ ایک وسیع قانون کا سر چشمہ : ” ما علی المحسنین من سبیل “ ( نیکو کاروں سے مواخذہ کی کوئی راہ نہیں )یہ جملہ فقہی مباحث میں ایک وسیع قانون کا سر چشمہ ہے اس قانون سے علماء نے بہت سے احکام اخذکئے ہیں ۔ مثلاً اگر کسی امین شخص کے ہاتھ سے کوئی امانت بغیر کسی افراط و تفریط کے تلف ہو جائے تو ایسا شخص نقصان کا ذمہ دار نہیں ہو سکتا۔ اس سلسلے میں دیگر دلائل کے علاوہ اس آیت کو بھی پیش کیا جاتا ہے ۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ یہ آیت مجاہدین کے بارے میں ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ آیت کا کسی ایک واقعہ کے بارے میں ہونا اس کی عمومیت کو ختم نہیں کرتا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی ایک مسئلہ کے بارے میں ہونا اسے ہر گز اسی میں محدود نہیں کرتا ۔ ۹۴۔ یَعْتَذِرُونَ إِلَیْکُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَیْھِمْ قُلْ لاَتَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَکُمْ قَدْ نَبَّاٴَنَا اللهُ مِنْ اٴَخْبَارِکُمْ وَسَیَرَی اللهُ عَمَلَکُمْ وَرَسُولُہُ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَی عَالِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۔ ۹۵۔ سَیَحْلِفُونَ بِاللهِ لَکُمْ إِذَا انقَلَبْتُمْ إِلَیھِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْھُمْ فَاٴَعْرِضُوا عَنْھُمْ إِنّھُمْ رِجْسٌ وَمَاٴْوَاھُمْ جَھَنَّمُ جَزَاءً بِمَا کَانُوا یَکْسِبُونَ ۔ ۹۶۔ یَحْلِفُونَ لَکُمْ لِتَرْضَوْا عَنْھُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنھُمْ فَإِنَّ اللهَ لاَیَرْضَی عَنْ الْقَوْمِ الْفَاسِقِینَ۔ ترجمہ ۹۴۔ جس وقت تم ان کی طرف ( جنھوں نے جہاد سے تخلف کیا ہے ) لوٹ کر آئے تو تم سے عذر خواہی کریں گے کہہ دو کہ معذرت نہ کرو ہم ہر گز تم پر ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ اللہ نے ہمیں تمہاری خبروں سے آگاہ کیا ہے اور خدا اور اس کا رسول تمہارے اعمال دیکھتا ہے پھر تم اس کی طرف پلٹ جاوٴ گے جو پنہاں اور آشکار سے آگا ہ ہے اور تمہیں اس سے آگاہ کرے گا (اور اس کی جزا دیگا ) جو کچھ تم انجام دیتے تھے ۔ ۹۵۔ جب تم ان کی طر ف لوٹ کر گئے تو وہ تمہارے لئے قسم کھائیں گے ان سے اعراض( اور صرف ِ نظر) کرو ۔ تم ان سے اعراض کرو ( اور منہ پھیر لو)کیونکہ وہ پلید ہیں اور ان کے رہنے کی جگہ جہنم ہے ، ان کے اعمال کی سزا میں جو وہ انجام دیتے تھے ۔ ۹۶۔ قسم کھا کے تم سے چاہتے ہیں کہ ان سے راضی ہو جاوٴ اگر تم ان سے راضی ہو جاوٴ تو خدا فاسقین کے گروہ سے راضی نہیں ہوگا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:91-93
شان نزول
پہلی آیت کے بارے میں منقول ہے کہ پیغمبر اکرم کے مخلص اصحاب میں سے ایک نے آپ سے عرض کیا : میں ایک بوڑھا ، نابینا اور عاجز شخص ہوں یہاں تک کہ میرے پاس کوئی ایسا شخص بھی نہیں جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے میدان جہاد میں لے جائے تو کیا میں جہاد میں شرکت نہ کروں تو معذورہوں ؟ پیغمبر اکرم خاموش رہے تو پھر پہلی آیت نازل ہوئی جس میں ایسے افراد کو اجازت دی گئی ہے اس شانِ نزول سے معلوم ہوتا ہے کہ نابینا افراد تک پیغمبر اکرم کو اطلاع دئے بغیرجہاد میں شرکت سے پہلو تہی نہیں کرتے تھے اور اس احتمال کی بنا پر کہ شاید ان کا وجود اس حالت میں بھی مجاہدین کی تشویق یا کثرت ِ لشکر کے لئے مفید ہو وہ رسول اللہ سے اپنی ذمہ داری کے بارے میں پوچھتے تھے ۔ دوسری آ یت کے بارے میں بھی روایات میں ہے کہ غریب انصار سے سات افراد رسول اللہ کی خدمت میں حاضرہوئے اور تقاضا کیا کہ انھیں جہاد میں شرکت کے لئے وسائل مہیا کئے جائیں لیکن چونکہ پیغمبر اکرم کے پاس انھیں مہیا کرنے کے لئے وسائل نہ تھے تو آپ نے انھیں نفی میں جواب دیا۔ وہ اشک آلودہ نگاہوں سے آپ کی بار گاہ سے گئے او ربعد میں ” بکاوٴن“ ( رونے والے ) کے نام سے مشہور ہوئے ۔