وَجَاءَ الْمُعَذِّرُونَ مِنَ الْأَعْرَابِ لِيُؤْذَنَ لَهُمْ وَقَعَدَ الَّذِينَ كَذَبُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ سَيُصِيبُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
Some of the Bedouins who sought to be excused came, so that they may be granted leave [to stay back]; while those who lied to Allah and His Apostle sat back. Soon there shall visit the faithless among them a painful punishment.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:90
[Pooya/Ali Commentary 9:90] The desert Arabs were of two classes. One of them, the weak-spirited, the timid-hearted, came to the Holy Prophet and gave him false excuses for their staying at home, and the other class, growing large everyday, consisted of hypocrites-see commentary of verse 86 and 87 of this surah.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 9:90-99
God describes the three classes of Bedouins of Arabia during the Prophet’s regime: 1. Who lagged to participate in the crusade and became infidels to befit Divine punishment by telling falsehood before God and His Prophet. 2. Others considered payment of tithe as tax and awaited Divine disaster on His Prophet. 3. Are faithful seeking therein (payment of tithe) Divine Proximity and the Prophet’s blessings. He then exonerates the weak, the sick, and the poor, who have no resources to accompany the long journey to undertake the crusade. 4. He lays blame on the rich who intentionally avoid crusade for luxurious living of the world to put forth lame excuse and then swear falsely to please the Prophet, who even if he was pleased, God would never be pleased with them. 5. They wanted to fan sedition during the absence of the Prophet of going to Tabuk. So, the Prophet, to subdue these rebels, he left Ali behind him at Medina. The hypocrites seizing this opportunity propagated false propaganda against Ali in which the Prophet was displeased with Ali, and this was the reason why he did not take him with himself. Ali went to the Prophet to declare the insurgents had in view when the Prophet said, “Ali, your position near me is that of Aaron to Moses, except the Prophetship ends with me under Divine Wisdom. 6. All our acts are present before God, Prophet, and other Divine Lights, his successors. This should be carefully borne in mind by every faithful and avoid unlawful and advise and support the right cause against false, however mighty it be.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:90
تفسیر
گذشتہ مباحث بہانہ جو اور عذر تراش منافقین کے بارے میں تھیں اسی مناسبت سے اس آیت میں جہاد میں پیچھے رہ جانے والے دو گروہوں کی کیفیت کی طرف اشارہ ہواہے ۔ پہلا گروہ وہ ہے جس نے بغیر کسی عذر کے سر کشی کے طور پر اس عظیم ذمہ داری سے رو گردانی کی ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے : بادیہ نشین اعراب کا ایک گروہ جو میدان جہاد میں شرکت سے معذور تھا تیرے پاس آیا ہے تاکہ اسے اجازت دی جائے اور معاف رکھا جائے ( وَجَاءَ الْمُعَذِّرُونَ مِنْ الْاٴَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَھُمْ )۔ ان کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جنھوں نے خدا اور اس کے رسول کے سامنے جھوٹ بولا ہے اور بغیر کسی عذر کے اپنے گھر میں بیٹھ گئے ہیں اور میدان میں نہیں گئے( وَقَعَدَ الَّذِینَ کَذَبُوا اللهَ وَرَسُولَہُ )۔ آیت کے آخر میں دوسرے گروہ کو شدت کے ساتھ تہدید کی گئی ہے ارشاد ہوتا ہے : ان میں سے جو کافر ہوا ہے عنقریب وہ دردناک عذاب میں گرفتار ہو گا ( سَیُصِیبُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْھُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ)۔ جو کچھ ہم نے آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے یہی مفہوم آیت میں موجود قرائن سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے کیونکہ ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے مد مقابل قرار دئیے گئے ہیں اور دوسری طرف لفظ ” منھم “ نشاندہی کرتا ہے کہ یہ دونوں گروہ تمام کے تمام کافر نہیں تھے ان میں دو قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ ”معذرون “ حقیقی معذور تھے ۔ لیکن اس تفسیر کے مقابلے میں اس آیت کی دو اور تفسیریں بھی کی گئی ہیں : پہلی یہ کہ ” معذرون“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو جہا د سے فرار کے لئے فضول ، بے ہودہ ار جھوٹے بہانے تراشتے تھے ، اور دوسرے گروہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو عذر تراشی کی بھی زحمت نہیں دیتے تھے اور جہاد کے بارے میں کھل کے حکم خدا کی نافرمانی کرتے تھے چاہے وہ سچے ہوں یا جھوٹے۔ مگر قرائن نشاندہی کرتے ہیں کہ ’معذرون “ میراد حقیقی معذور ہی ہیں ۔ ۹۱۔ لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَاءِ وَلاَعَلَی الْمَرْضَی وَلاَعَلَی الَّذِینَ لاَیَجِدُونَ مَا یُنفِقُونَ حَرَجٌ إِذَا نَصَحُوا لِلَّہِ وَرَسُولِہِ مَا عَلَی الْمُحْسِنِینَ مِنْ سَبِیلٍ وَاللهُ غَفُورٌ رَحِیمٌ۔ ۹۲۔ وَلاَعَلَی الَّذِینَ إِذَا مَا اٴَتَوْکَ لِتَحْمِلھُمْ قُلْتَ لاَاٴَجِدُ مَا اٴَحْمِلُکُمْ عَلَیْہِ تَوَلَّوا وَاٴَعْیُنُھُمْ تَفِیضُ مِنْ الدَّمْعِ حَزَنًا اٴَلاَّ یَجِدُوا مَا یُنفِقُونَ ۔ ۹۳۔ إِنَّمَا السَّبِیلُ عَلَی الَّذِینَ یَسْتَاٴْذِنُونَکَ وَہُمْ اٴَغْنِیَاءُ رَضُوا بِاٴَنْ یَکُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللهُ عَلَی قُلُوبِھِمْ َھُمْ لاَیَعْلَمُونَ۔ ترجمہ ۹۱۔ ضعفاء ، بیمار اور وہ جو ( جہاد کی راہ میں ) خرچ کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں رکھتے ان پر کوئی اعتراض نہیں ( کہ انھوں نے میدانِ جہاد میں شرکت نہیں ہے جب وہ خڈا اور اس کے رسول سے خیرخواہی کریں ( اور جو کچھ طاقت رکھتے ہیں اس سے دریغ نہ کریں کیونکہ ) کیونکہ نیکو کار لوگوں سے موٴاخذہ نہیں ہو سکتااور خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے ۔ ۹۲۔ نیز ان پر بھی اعتراض نہیں ہو جو جب تیرے پاس آئے کہ تو انھیں ( میدان جہاد کے لئے ) مرکب پر سوار کرے تو تونے کہا کہ میرے پاس سواری نہیں ہے کہ جس پر تمہیں سوار کرو ں تو وہ ( تیرے پاس سے)اس حالت میں لوٹے کہ ان کی آنکھیں اشک بار تھیں کیونکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے وہ راہ خدا میں خرچ کرتے۔ ۹۳۔ موٴخذہ کی راہ ان کے لئے کھلی ہے جو تجھ سے اجازت چاہتے ہیں جب کہ وہ بے نیاز ہیں (اور کافی وسائل رکھتے ہیں ) وہ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہ جانے پر راضی ہو گئے ہیں اور خدا نے ان کے دلوں پرمہر لگادی ہے ۔ لہٰذا وہ کچھ نہیں جانتے۔