وَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ أَنْ آمِنُوا بِاللَّهِ وَجَاهِدُوا مَعَ رَسُولِهِ اسْتَأْذَنَكَ أُولُو الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَقَالُوا ذَرْنَا نَكُن مَّعَ الْقَاعِدِينَ
When a surah is sent down [declaring]: ‘Have faith in Allah, and wage jihad along with His Apostle, the affluent among them ask you for leave, and say, ‘Let us remain with those who sit back.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:86
[Pooya/Ali Commentary 9:86] The possessors of opulence, in their utter cowardice and extreme impudence, used to stay at home like womenfolk; and because of their habits of cowardice and hypocrisy their hearts were sealed. Refer to the commentary of Baqarah: 8 to 20. Aqa Mahdi Puya says: The verses of this surah, the last revealed in Madina, indicate that the number of the hypocrites was steadily increasing, and continued to multiply during the next two years, particularly after the covenant the Holy Prophet took from all the Muslims at Ghadir Khum (see commentary of Ma-idah: 67). It was due to their influence and growing power that even the close companions refused to comply with the order of the Holy Prophet when he asked for pen and paper to write down his final directions. See commentary of Nisa: 65 for hadith al qartas. Ibn Sad says that they also refused to accept Usamah ibn Zayd as their commander when the Holy Prophet asked all his companions including Abu Bakr and Umar ibn Khattab to go to war under his leadership. The Holy Prophet said: "You opposed his father as you are opposing him. In my opinion his father deserved command more than others, and likewise he (Usamah) is more dear to me than others". (Sahih Bukhari vol.2, p.283) The hypocrites did not suddenly disappear after the Holy Prophet, as the Muslim historians give impression in their books, but took total control in their hands, deprived Ali and Fatimah and their children, the progeny of the Holy Prophet, of their rights, persecuted them and killed them during their long reign.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:86-89
پست ہمت افراد اور سچے مومنین
ان آیات میں بھی منافقین کے بارے میں گفتگو ہے البتہ یہاں ان کی بد کاریوں کا سچے مومنین کے نیک کاموں سے موازنہ کیا گیا ہے اور اس سے ان کا انحراف اور بے چارگی زیادہ واضح ہوتی ہے ۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے : جس وقت کو ئی سورت جہاد کے بارے میں نازل ہوتی ہے اور لو گوں کو خدا پر ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے ( یعنی کہتی ہے کہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہو اور اسے مستحکم کرو) اور پیغمبر کے سامل کر جہاد کرو تو ایسے موقع پر صاحب ِ قدرت منافقین کہ جو جسمانی اور مالی طور پر میدان جنگ میں شر کت کی استعداد رکھتے ہیں تجھ سے اجازت چاہتے ہیں کہ میدان ِ جہاد میں شر کت نہ کریں او رکہتے ہیں کہ ہمیں بیٹھ رہنے والوں (کہ جہاد میں شرکت سے معذور رہیں ) کے ساتھ رہنے دیجئے( وَإِذَا اٴُنزِلَتْ سُورَةٌ اٴَنْ آمِنُوا بِاللهِ وَجَاھِدُوا مَعَ رَسُولِہِ اسْتَاٴْذَنَکَ اٴُوْلُوا الطَّوْلِ مِنْھُمْ وَقَالُوا ذَرْنَا نَکُنْ مَعَ الْقَاعِدِینَ)۔ ”طول “ ( بروزن ”قول“) مالی وسائل کے معنی میں آیا ہے اس بنا پر ” اولوا الطول“ سے مراد وہ افراد ہیں جو میدان ِ جنگ میں شرکت کے لئے کافی مادی طاقت رکھتے تھے ۔ مگر اس کے باوجود وہ چاہتے تھے کہ ان ناتوان افراد کے ساتھ رہ جائیں جو جنگ میں شرکت کے لئے مالی او رجسمانی طور پر کافی طاقت نہیں رکھتے تھے ۔ اس لفظ کی اصل ”طول“ ( بروزن ”پول “) ہے جوکہ ”عرض“ کی ضد ہے اوران دونوں معانی کی آپس میں مناسبت واضح ہے ۔ کیونکہ مالی اور جسمانی توانائی ایک طرح سے طاقت اور قدرت کی کششِ دوام اور طول کو ظاہر کرتی ہے ۔ اگلی آیت میں قرآن ان کی اس جملے کے ذریعے مذمت و ملامت کرتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہیں ( رَضُوا بِاٴَنْ یَکُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ)۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیاہے ”خوالف“ ”خالفة“ کی جمع ہے اس کا مادہ ” خلف “ ہے جس کا منعی ہے پشت سر۔ اسی بنا پر عورتوں کو جو مردوں کے کے گھر سے باہر چلے جانے کے بعد گھر میں باقی رہ جاتی ہیں ” خالفہ “ کہا جاتا ہے ۔ زیر بحث آیت میں ” خوالف “ سے مراد تمام لوگ ہیں جو کسی وجہ سے میدا ن جنگ میں شرکت کرنے سے معذور ہیں چاہے وہ عورتیں ہوں یا بوڑھے مرد، بیمار ہوں یا بچے ۔ بعض احادیث میں جو اس آیت کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں وہ بھی اس مار کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : گناہ اور نفاق کے زیر اثر وہ اس مر حلہ تک پہنچ گئے ہیں کہ ان کے دلوں پر مہر لگی ہوئی ہے اسی بنا پر وہ کچھ نہیں سمجھتے ( وَطُبِعَ عَلَی قُلُوبِھِمْ فَھُمْ لاَیَفْقھُونَ)۔ سورہ بقرہ کی ابتدا میں ہم نے دل پر مہر لگانے کے مفہوم پر بحث کی ہے ۔ ( تفسیر نمونہ جلد اول ص۱۰۰ ( اردو ترجمہ ) اگلی آیت میں اس کے مد مقابل گروہ کی صفات و خصوصیات کا ذکر ہے جو کہ بالکل منافقین کی صفات و خصوصیات کے بر عکس ہیں ۔ ار شاد ہوتا ہے : ؛لیکن رسول اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں انھوں نے اپنے جان و مال سے راہ خدا میں جہاد کیا ہے ( لَکِنْ الرَّسُولُ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ جَاھَدُوا بِاٴَمْوَالِھِمْ وَاٴَنفُسِھِمْ )۔ اور ان کا انجام کار یہ ہوا کہ طرح طرح کی سعادتین ، کامیابیاں او ردونوں جہانوں کی مادی و روحانی خیرات انھیں نصیب ہوئیں (وَاٴُوْلَئِکَ لھُمْ الْخَیْرَاتُ )اور یہی لوگ کامیاب ہیں (وَاٴُوْلَئِکَ ھُمْ الْمُفْلِحُونَ)۔ لفظ ” الخیرات “ جمع کا صیغہ ہے جس پر ” الف لام “ بھی ہے اور اس سے عمومیت کا استفادہ ہوتا ہے یہ ایک ایسی جامع تعبیر ہے کہ جو ہر قسم کی کامیابی ، نعمت او رخیر کا مفہوم لئے ہوئے ہے چاہے وہ مادی ہو یا روحانی ۔ علم معانی بیا ن میں جو قواعد بیان ہوئے ہیں ان کے مطابق ان دونوں جملوں کی تعبیرات گواہی دیتی ہیں کہ کامیاب صرف یہی لوگ ہیں اور اسی طرح جو ہ رقسم کی خیرو سعادت کا استحقاق رکھتے ہیں صرف یہی لوگ ہیں ، وہی جو اپنے پورے وجود اور وسائل کے ساتھ جہاد کرتے ہیں ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایمان او رجہاد اکھٹے ہو جائیں تو پھر ہر طرح کی خیرو برکت اس کے ساتھ ہو گی اور ان دونوں کے بغیر نہ کوئی راستہ فلاح کی طرف جاتا ہے نہ ہی مادی و معنوی نعمات میں کوئی حصہ ملتا ہے ۔ یہ نکتہ بھی لائق توجہ ہے کہ ان دونوں گروہوں کی صفات کے تقابل سے معلوم ہو تا ہے کہ منافق فقدانِ ایمان اور گناہ میں بہت زیادہ آلودگی کی وجہ سے نادان اور جاہل ہیں اور اسی بنا پر عالی ہمتی سے محروم ہیں جو کہ فہم ، شعور اور آگہی کی پیدا وار ہے وہ اس بات پر راضی ہیں کہ بیماروں اور بچوں کے ساتھ رہ جائیں اور میدانِ جہاد میں شرکت کے فضائل اور افتخارات کے باوجود اس کا انکار کردیں ۔ جب کہ ان کے مقابلے میں اہل ایمان ایسی روشن نگاہی، فہم وادراک اور عالی ہمتی رکھتے ہیں کہ مشکلات سے نجات کی راہ تمام تر وسائل کے ساتھ جہاد میں شرکت میں سمجھتے ہیں ۔ یہ وہی عظیم درس ہے جو قرآن نے اپنی بہت ہی آیات میں ہمیں دیا ہے اور پھر بھی ہم اس سے غافل ہیں ۔ زیر بحث آیت میں دوسرے گروہ کی کچھ اخروری جزاوٴں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : خدا نے ان کے لئے باغاتِ بہشت تیا ر کررکھے ہیں جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری کی گئی ہیں ( اٴَعَدَّ اللهُ لَھُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِھَا الْاٴَنْھَارُ )۔تاکیداً فرمایا گیا ہے کہ یہ نعمت اور عنا یات عاریتاً اور فنا پذیر نہیں ہے بلکہ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے (خَالِدِینَ فِیھَا)۔ اور یہ عظیم کامیابی ہے ( ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ)۔ ”اعدلھم “ ( خدا نے ان کے لئے تیار کیا ہے ) یہ تعبیر موضوع کی اہمیت کی دلیل ہے اور اس احترام کی نشانی ہے جو اس گروہ کو خدا کے نزدیک حاصل ہے یعنی اس نے پیلے سے یہ نعمات و عنا یات ان کے لئے تیار کرکھی ہیں ۔ ۹۰۔ وَجَاءَ الْمُعَذِّرُونَ مِنْ الْاٴَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَھُمْ وَقَعَدَ الَّذِینَ کَذَبُوا اللهَ وَرَسُولَہُ سَیُصِیبُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْھُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ۔ ترجمہ ۹۰۔ اور اعراب میں سے معذور لوگ ( تیرے پاس ) آئے ہیں کہ انھیں جہاد سے تخلف کی اجازت دی جائے لیکن وہ لوگ جنھوں نے خدا اور اس کے پیغمبر کے ساتھ جھوٹ بولا ہے ( بغیر کسی عذر کے اپنے گھرمیں ) بیٹھ گئے ہیں ۔ عنقریب ان لوگوں کو جو کافر ہو گئے ہیں ( اور معذور نہیں تھے ) اور درد ناک عذاب پہنچے گا ۔