وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ
And never pray over any of them when he dies, nor stand at his graveside. They indeed defied Allah and His Apostle and died as transgressors.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:84
[Pooya/Ali Commentary 9:84] The prohibition is-not to pray for any hypocrite or infidel that dies, nor to stand at his grave. To pray for the believers or to stand at their graves is permissible. It was in vogue during the lifetime of the Holy Prophet and had never been forbidden. The story that the Holy Prophet attended the funeral prayers of Abdullah bin Obayy is doubtful, firstly because he died after the revelation of this verse (al Mizan vol. 9 page 385) and secondly on account of what has been stated in the commentary of verse 80 of this surah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:84-85
منافقین کے بارے میں زیادہ اقدام
جب منافقین نے کھلے بندوں جہاد سے منہ موڑ کر خود پردے چاک کردئے اور ان کامعاملہ واضح ہو گیا تو خدا تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ وہ زیادہ صریح اور زیادہ مستحکم طریقے سے اقدام کریں تاکہ دوسروں کے دماغ سے ہمیشہ کےلئے نفاق او رمنافق سازی کی فکر نکل جائے او رمنافقین بھی جان لیں کہ اسلامی معاشرے میں ان کے لئے کوئی جگہ او رمقام باقی نہیں رہا ۔ لہٰذا قرآن فرماتا ہے ۔( منافقین میں سے ) جو کوئی بی مر جائے اس کی نامز کبھی نہ پڑھو(ولا تصل علی احد منھم مات ابداً)۔ اور کبھی بھی اس کی قبر کے پاس طلب بخشش کے لئے کھڑا نہ ہو ( ولا تقم علی قبرہ)۔ فی الحقیقت یہ منافقین سے ایک قسم کی منفی اور موٴثر جنگ ہے کیونکہ ان وجوہ سے پاک کرنے کا حکم نہیں دے سکتے تھے لیکن انھیں کافی حد تک بے اعتبار کرنے ، کنارہ کش کرنے اور اسلامی معاشرے سے نکال باہر پھینکنے کے لئے مقابلے کے ایسے منفی طریقے بہت موٴثر تھے ۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک سچا مومن زندگی میں بھی محترم ہے موت کے بعد بھی اس لئے اسلام نے اس کے غسل ، کفن اور دفن کا حکم دیا ہے تاکہ اسے زیادہ اور خاص احترامات کے ساتھ سپرد ِ خاک کیا جائے یہاں تک کہ اسے دفن کرنے کے بعد اس کی قبر کے پاس آکر اس کے احتمالی گناہوں اور لغزشوں کی خدا سے بخشش طلب کرنے کا حکم دیاگیا ہے ۔ اب یہ مراسم اگر کسی شخص کے لئے انجام نہ دئے جائیں تو یہ گویا اسے اسلامی معاشرے سے باہر نکال کر پھینکنے کے مترادف ہے اور اگر اس شخص کو مسترد کردینے والی شخصیت پیغمبر اکرم کی ہو رو اس مسترد شدہ شخص کے مقام پر ایک سخت ضرب ہو گی ۔ در حقیقت یہ سردجنگ اور مقابلے کا ایک چچا تلا طریقہ ہے۔ دور حاضر میں بھی منافقین کے بارے میں مسلمانوں کو ایسے طریقوں سے کام لینا چا ہئیے یعنی جب تک کچھ افراد اظہار اسلام کرتے ہیں اور ظواہر اسلام کے پابند ہیں تو ان سے ایک مسلمان جیسا سلوک کیا جائے اگر چہ ان کا باطن کچھ اور ہو ۔ لیکن اگر وہ خود پردے چاک کردیں اور اپنا نفاق ظاہر کردیں تو پھر ان سے اسلام سے بیگانہ افراد کا سا سلوک کرنا چاہیئے ۔ آیت کے آخر میں ایک بار پھر اس حکم کی دلیل واضح کی گئی ہے او ر فرمایا گیا ہے : ” یہ حکم اس بنا پر ہے کہ انھوں نے خدا اور اس کے رسول سے کفر اختیار کیا ہے “(إِنّھُمْ کَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِہِ )۔” اور جب یہ لوگ دنیا سے گئے ہیں تو فاسق اور فرمان ِ خدا کے مخالف تھے “ وہ نہ اپنے کئے پر پشیمان ہو ئے او رنہ ہی توبہ کے پانی سے انھو ں نے اپنا گناہ آلودہ دامن دھو یا ہے ( وَمَاتُوا وَھُمْ فَاسِقُونَ )۔ مککن ہے اس مقام پر مسلمانوں سے یہ سوال کیا جائے کہ اگر منافقین سچ مچ رحمت الہٰی سے اس قدر ہیں اور مسلمانوں کو چاہئیے کہ ان سے محبت او رلگاوٴ رکھیں تو پھر خدا نے ان سے اس قدر اظہار محبت کیوں کیا ہے اور یہ سب مال اور اولاد ( اقتصادی اور افرادی قوت) انھیں کیوں دی ہے ۔ اگلی آیت میں روئے سخں پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے خدا تعالیٰ نے اسی سوال کا جواب دیا ہے : ان کے اموال و اولاد تمہیں کبھی بھی معلوم نہ ہوں (وَلاَتُعْجِبْکَ اٴَمْوَالھُمْ وَاٴَوْلَادُھُمْ )۔کیونکہ ظاہر بین لوگانھیں خوش بختی کی علامت سمجھتے ہیں لیکن ” خدا چاہتا ہے کہ انھیں ان کے ذریعے دنیا میں سزا دے اور ول حالت ِ کفر میں مریں (إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ اٴَنْ یُعَذِّبَھُمْ بِھَا فِی الدُّنْیَا وَتَزْھَقَ اٴَنفُسُھُمْ وَھُمْ کَافِرُونَ) ۔ اس آیت کی نظیر اسی سورہ کی آیہ ۵۵ بھی ہے یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اقتصادی اور افرادی وسائل غیر صالح افراد کے ہاتھ میں ہوں تو نہ صرف سعادت بخش نہیں ہیں بلکہ اکثر اوقات دردِ سر ، مصیبت اور بد بختی کا سبب بھی ہیں کیونکہ ایسے نہ اپنے مال کو بر محل صرف کرتے ہیں کہ ان سے مفید اور اصلاحی نفع حاصل کر سکیں اور نہ ہی ان کی اولادصحیح راہ پر چلنے والی ، صاحب ایمان اور تربیت یافتہ ہوتی ہے کہ جو ان کی آنکھوں کا نور بن سکے اور ان کی زندگی کی مشکلات حل کر سکے ان کے اموال زیادہ تر ہلا ک کردینے والی سر کش ہوا و ہوس کے لئے فتنہ و فساد پید اکرنے کے لئے اور ظلم کے ستونوں کو مستحکم کرنے کے لئے صرف ہوتے ہیں ۔ یہ در اصل خدا فراموشی اور زندگی کے بنیادی مسائل سے غفلت کے سبب ہے ان کی اولادبھی ظالموں اور فاسدلوگوں کی خدمت میں لگ جاتی ہے اورآخر کار مصیبت ہی کا باعث ہوتی ہے ۔ البتہ جو لوگ دولت اور افرادی قوت کو بنیاد ی چیز خیال کرتے ہیں اور ان کے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ اسے کس طرح صرف کرنا چاہیئے دور سے تو ان کی زندگی بڑی دلفریب معلوم ہوتی ہے لیکن اگر ان کی اصل زندگی کو ہم قریب سے دیکھیں اور اس حقیقت کی طرف بھی توجہ رکھیں کہ ان وسائل سے کس طرح استفادہ کیا جانا مقصود ہے تو ہم تصدیق کریں گے کہ وہ خوش بخت لوگ نہیں ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:84-85
چند توجہ طلب نکات
۱۔ دوسرے جہاد میں شرکت کی حقیقت: اس میں شک نہیں کہ اگر یہ منافقین جہاد سے ایک مرتبہ منہ موڑنے کے بعد پشمان ہوتے ، توبہ کرلیتے اور اپنے سابقہ گناہوں کی تلافی کے لئے دوسرے جہاد میں شرکت کی پیش کش کرتے تو خدا تعالیٰ ان کی پیش کش قبول کرلیتا اور رسول اللہ ان کی درخواست رد نہ کرتے۔ اس بنا پر معلوم ہوتا ہے کہ پیش کش بھی ایک طرح کی شیطنت اور منافقت تھی ۔ در اصل یہ اپنے مکر وہ چہرے کو چھپانے اور سابقہ اعمال جاری رکھنے کی ایک تکنیک تھی ۔ ۲۔لفظ ”خالف“ کا مفہوم : یہ لفظ ’ متخلف“ کے معنی میں ہے جو کہ ایسے اشخاص کی طرف اشارہ ہے کہ جوعذرو معذرت کے ساتھ یا بغیرکسی عذرکے میدان جہاد میں شرکت نہیں کرتے تھے ۔ بعض نے یہ بھی کہا کہ ”خالف“ مخالفت کے معنی میں ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ تم بھی چلے جاوٴ اور مخالفوں کے ہم آواز بن جاوٴ اس لفظ کا ایک مفہوم ” فاسد“ بھی بیان کیا گیا ہے کیونکہ ”خلوف“ -”-فساد “کے معنی میں ہے اور ” خالف“ لغت میں ”فاسد“ کے معنی میں آیا ہے ۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ مندرجہ بالاآیت میں اس لفظ سے تمام مذکورہ معانی مراد ہوں کیونکہ منافقین اور ان کے ساتھی ان تمام صفات رذیلہ کے حامل تھے ۔ ۳۔ دور حاضر میں ہماری ذمہ داری او رمنافقین کی روش:اس امت کی ہم دوابرہ یاد دہانی ضروری سمجھتے ہیں کہ دور حاضر کے مسلمان بھی اپنے معاشرے کے منافقین جو گذشتہ ادوارکے منافقین کی روش پر گمامزن ہیں کے بارے میںرسول اللہ کے اسی محکم طریقے کی پیروی کریں اور ایک دفعہ ان کے دام ِفریب میں آنے کے بعد دوسر مرتبہ ان سے دھو کا نہ کھائیں اور ان کے مگر مچھ کے آنسووٴ ں کو کوئی اہمیت نہ دیں کیونکہ : ” کیونکہ ایک مسلمان ایک ہی جال میں دو مرتبہ نہیں پھنستا“۔ ۸۴۔ وَلاَتُصَلِّ عَلَی اٴَحَدٍ مِنْھُمْ مَاتَ اٴَبَدًا وَلاَتَقُمْ عَلَی قَبْرِہِ إِنّھُمْ کَفَرُوا بِاللهِ وَرَسُولِہِ وَمَاتُوا وَھُمْ فَاسِقُونَ ۔ ۸۵۔ وَلاَتُعْجِبْکَ اٴَمْوَالھُمْ وَاٴَوْلَادُھُمْ إِنَّمَا یُرِیدُ اللهُ اٴَنْ یُعَذِّبَھُمْ بِھَا فِی الدُّنْیَا وَتَزْھَقَ اٴَنفُسُھُمْ وَھُمْ کَافِرُونَ ۔ ترجمہ ۸۴۔ ان میں سے جو بھی مر جائے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھو اور اس کی قبر پر( دعا اور طلب ِ بخشش کے لئے ) کھڑا نہ ہو کیونکہ انھوں خدا اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور جب وہ دنیا سے گئے ہیں تو فاسق تھے ۔ ۸۵۔ ان کے اموال اور اولاد تیرے لیے باعث تعجب نہ ہو ں(کیونکہ یہ ان کے لیے نعمت نہیں بلکہ )خدا چاہتا ہے کہ ان کے ذریعے انھیں دنیا میں عذاب کرے اور ان کی روحیں اس حالت میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:84-85
چند قابل توجہ نکات
۱۔ شان نزول کی اختلافی روایات: پہلی آیت کی شانِ نزول کے بارے میں تعدد روایات وارد ہوئیں ہیں جو باہم اختلاف رکھتی ہیں ۔ ان میں سے کچھ روایات سے معلوم ہوتاہے کہ جب مشہو رمنافق عبد اللہ بن ابی مرگیا تو پیغمبر نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور اس کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر دعا کی ۔ یہاں تک کہ اپنا پیراہن کفن کے طور اسے پہنا یا توآیت نازل ہوئی اور پیغمبر اکرم کو ایسے عمل کی تکرار سے روکا گیا ۔ جب کہ دوسری روایات سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ رسول اللہ اس کی نماز جنازہ پڑھنا چاہتے تھے کہ جبرئیل نازل ہوئے اور آپ کے سامنے اس آیت کی تلاوت کی اور آپ کو اس کا م سے منع کیا۔ کچھ اور روایات سے ظاہر ہوتا ہے نہ تو رسول اللہ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی او رنہ ہی آپ ایسا کوئی ارادہ رکھتے تھے بلکہ عبد اللہ کے خاندان کی تشویق کے لئے صرف اپنا پیراہن کفن کے طور بھیجاجب لوگوں نے پوچھاکہ آپ نے یہ کام کیوں کیا ہے جبکہ وہ بے ایمان شخص ہے تو آپ نے فرمایا : میرا پیراہن اس لئے کے عذاب الہٰی سے نجات کا باعث نہیں ہو گا لیکن مجھے امید ہے کہ اس عمل کی وجہ سے بہت سے لوگ مسلمان ہوجائیں گے ۔ اور ایسا ہی ہوا کہ اس واقعہ کے بعد قبیلہ خزرج کے بہت سے افراد مسلمان ہو گئے یہ روایات چونکہ آپس میں بہت اختلاف رکھتی ہیں اس لئے ہم ان سے شانِ نزول کی حیثیت سے صرف نظر کرتے ہیں خصوصاً جبکہ بعض مفسرین کے بقول عبد اللہ بن ابی کی موت ۹ھئمیں واقع ہوئی او رزیر نظر آیات تقریباً ۸ ھء میں نازل ہو ئیں ۔ ( المیزان جلد ۹ ۳۸۵)۔ لیکن جو بات قابل انکار نہیں ہے وہ یہ ہے کہ آیت کے لب و لہجہ سے یوں لگتا ہے کہ رسول الہ اس کے نزول سے پہلے منافقیین کی نماز جنازہ پڑھتے تھے اور ان کی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تھے کیونکہ وہ ظاہراً مسلمان تھے ۔ ۲ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد بھی منافقین کی نماز جنازہ پڑھتے تھے مگر صرف چار تکبیرریں کہتے تھے یعنی آخری تکبیر جو میت پردعا کرنے سے مربوط ہے اس سے صرف نظر کرلیتے تھے ۔ یہ روایت اس صورت میں قابل قبول ہو سکتی ہے کہ محل آیت میں ” لاتصل “ کا معنی ”دعا نہ کرو “ لیا جائے ۔ لیکن اگر اس کا مطلب ہے ” نماز نہ پڑھو “ تو پھر یہ روایت مخالف ِ قرآن ہے اس لئے قابل قبول نہیں ہے ۔ اس بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ” لاتصل “ کا ظاہری معنی ” نماز نہ پڑھو“ ہی ہے لہٰذا ہم اسلامی حکم کی رو سے ایسے افراد کی نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتے جن کا نفاق ظاہر ہو اور ایک ایک مہم روایت کی وجہ سے ہم مندرجہ بالا آیت سے دست بردار نہیں ہو سکتے ۔ مگر اس آیت کے نزول کے بعد یہ طریقہ بالکل متروک ہوگیا ۔ ۲۔ مومنین کی قبروں کے پاس کھڑے ہونا اور دعا کرنا : زیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مومنین کی قبروں کے پاس کھڑے ہونا اور ان کے لئے دعا کرنا جائز ہے آیت میں نہی منافقین کے ساتھ مخصوص ہے اس بنا پر آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ مومنین کی قبور کی زیارت کرنا یعنی ان کی قبروں کے پاس کھڑے ہونا اور دعا کرنا جائز ہے ۔ البتہ زیر بحث آیت مومنین کی قبور سے متوسل ہو نے اور ان کی برکت سے خدا سے کسی حاجت کا تقا ضا کرنے کے مسئلے میں خاموش ہے اگرچہ اس امر کا جائز ہو روایات ِ اسلامی کی نظر سے مسلم ہے ۔ ۸۶۔ وَإِذَا اٴُنزِلَتْ سُورَةٌ اٴَنْ آمِنُوا بِاللهِ وَجَاھِدُوا مَعَ رَسُولِہِ اسْتَاٴْذَنَکَ اٴُوْلُوا الطَّوْلِ مِنْھُمْ وَقَالُوا ذَرْنَا نَکُنْ مَعَ الْقَاعِدِینَ۔ ۸۷۔ رَضُوا بِاٴَنْ یَکُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطُبِعَ عَلَی قُلُوبِھِمْ فَھُمْ لاَیَفْقھُونَ۔ ۸۸۔ لَکِنْ الرَّسُولُ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ جَاھَدُوا بِاٴَمْوَالِھِمْ وَاٴَنفُسِھِمْ وَاٴُوْلَئِکَ لھُمْ الْخَیْرَاتُ وَاٴُوْلَئِکَ ھُمْ الْمُفْلِحُونَ۔ ۸۹۔ اٴَعَدَّ اللهُ لَھُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِنْ تَحْتِھَا الْاٴَنْھَارُ خَالِدِینَ فِیھَا ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ۔ ترجمہ ۸۶۔ اور جب کوئی سورت نازل ہو کہ خدا پر ایمان لے آوٴ اور اس کے رسول کے ساتھ مل کر جہاد کرو تو ان ( منافقین ) میں سے جو توانائی رکھتے ہیں تجھ سے اجازت چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بیٹھ رہنے والوں ( جن پر جہاد معاف ہے ) کے ساتھ چھوڑ دیجئے۔ ۸۷۔ وہ اس بات پر راضی ہیں کہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوں اور ان کے دلوں پ رمہر لگادی گئی ہے لہٰذا وہ نہیں سمجھے۔ ۸۸۔ لیکن رسول اور وہ افراد جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں انھوں نے اپنے مال او رجان کے ساتھ جہاد کیا ہے اور سب نیکیاں ان کے لئے اور وہی کامیاب ہیں ۔ ۸۹۔ الہ نے ان کے لئے جنت کے باغات تیار کر رکھے ہیں کن درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں وہ اس میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے اور یہ بہت بڑی اور عظیم کامیابی ہے ۔